aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vabaa"
کتنا عرصہ لگا ناامیدی کے پربت سے پتھر ہٹاتے ہوئےایک بپھری ہوئی لہر کو رام کرتے ہوئےناخداؤں میں اب پیچھے کتنے بچے ہیںروشنی اور اندھیرے کی تفریق میں کتنے لوگوں نے آنکھیں گنوا دیںکتنی صدیاں سفر میں گزاریںمگر آج پھر اس جگہ ہیں جہاں سے ہمیں اپنی ماؤں نےرخصت کیا تھااپنے سب سے بڑے خواب کو اپنی آنکھوں کے آگے اجڑتے ہوئےدیکھنے سے برا کچھ نہیں ہےتیری قربت میں یا تجھ سے دوری پہ جتنی گزاریتیری چوڑیوں کی قسم زندگی دائروں کے سوا کچھ نہیں ہےکہنیوں سے ہمیں اپنا منہ ڈھانپ کر کھانسنے کو بڑوں نے کہا تھاتو ہم ان پہ ہنستے تھے اور سوچتے تھے کہ ان کو ٹشو پیپروں کی مہک سے الرجی ہےلیکن ہمیں یہ پتا ہی نہیں تھا کہ ان پہ وہ آفات ٹوٹی ہیںجن کا ہمیں اک صدی بعد پھر سامنا ہےوبا کے دنوں میں کسے ہوش رہتا ہےکس ہاتھ کو چھوڑنا ہے کسے تھامنا ہےاک ریاضی کے استاد نے اپنے ہاتھوں میں پرکار لے کریہ دنیا نہیں دائرہ کھینچنا تھاخیر جو بھی ہوا تم بھی پرکھوں کے نقش قدم پر چلواور اپنی حفاظت کروکچھ مہینے تمہیں اپنے تسمے نہیں باندھنےاس سے آگے تو تم پہ ہے تم اپنی منزل پہ پہنچو یا پھر راستوں میں رہواس سے پہلے کہ تم اپنے محبوب کو وینٹیلیٹر پہ دیکھوگھروں میں رہو
کلیجہ پھنک رہا ہے اور زباں کہنے سے عاری ہےبتاؤں کیا تمہیں کیا چیز یہ سرمایہ داری ہےیہ وہ آندھی ہے جس کی رو میں مفلس کا نشیمن ہےیہ وہ بجلی ہے جس کی زد میں ہر دہقاں کا خرمن ہےیہ اپنے ہاتھ میں تہذیب کا فانوس لیتی ہےمگر مزدور کے تن سے لہو تک چوس لیتی ہےیہ انسانی بلا خود خون انسانی کی گاہک ہےوبا سے بڑھ کے مہلک موت سے بڑھ کر بھیانک ہےنہ دیکھے ہیں برے اس نے نہ پرکھے ہیں بھلے اس نےشکنجوں میں جکڑ کر گھونٹ ڈالے ہیں گلے اس نےبلائے بے اماں ہے طور ہی اس کے نرالے ہیںکہ اس نے غیظ میں اجڑے ہوئے گھر پھونک ڈالے ہیںقیامت اس کے غمزے جان لیوا ہیں ستم اس کےہمیشہ سینۂ مفلس پہ پڑتے ہیں قدم اس کےکہیں یہ خوں سے فرد مال و زر تحریر کرتی ہےکہیں یہ ہڈیاں چن کر محل تعمیر کرتی ہےغریبوں کا مقدس خون پی پی کر بہکتی ہےمحل میں ناچتی ہے رقص گاہوں میں تھرکتی ہےبظاہر چند فرعونوں کا دامن بھر دیا اس نےمگر گل باغ عالم کو جہنم کر دیا اس نےدرندے سر جھکا دیتے ہیں لوہا مان کر اس کانظر سفاک تر اس کی نفس مکروہ تر اس کاجدھر چلتی ہے بربادی کے ساماں ساتھ چلتے ہیںنحوست ہم سفر ہوتی ہے شیطاں ساتھ چلتے ہیںیہ اکثر لوٹ کر معصوم انسانوں کو راہوں میںخدا کے زمزمے گاتی ہے چھپ کر خانقاہوں میںیہ ڈائن ہے بھری گودوں سے بچے چھین لیتی ہےیہ غیرت چھین لیتی ہے حمیت چھین لیتی ہےیہ انسانوں سے انسانوں کی فطرت چھین لیتی ہےیہ آشوب ہلاکت فتنۂ اسکندر و دارازمیں کے دیوتاؤں کی کنیز انجمن آراہمیشہ خون پی کر ہڈیوں کے رتھ میں چلتی ہےزمانہ چیخ اٹھتا ہے یہ جب پہلو بدلتی ہےگرجتی گونجتی یہ آج بھی میداں میں آتی ہےمگر بد مست ہے ہر ہر قدم پر لڑکھڑاتی ہےمبارک دوستو لبریز ہے اب اس کا پیمانہاٹھاؤ آندھیاں کمزور ہے بنیاد کاشانہ
اک اشارے سے دیوار دل کی دراڑوں میں تو نے جو روشن کیے تھے چراغان کے بجھنے کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں طرفآج بھی یاد ہے دور سے تیری آواز کانوں میں پڑتی تو کچھ بھی سنائی نہ دیتاکاش تو اپنے زنداں سے مجھ کو رہائی نہ دیتاکون بیتے ہوئے خواب پر خاک ڈالےکون اتنی غلط فہمیوں کا ازالہ کرےکس سے پوچھیں وبا اور وفا میں بنائے ہوئے بے تکلف تعلقکی عمریں اگر مختصر ہیں تو کیوں ہیںکون بھولے اماوس کی راتوں سی زلفوں کی رعنائیاںکون دل سے حیا دار آنکھوں کی یادیں مٹا دےدوست کس کو مفر ہے یہاں بے یقینی کے سیل بلا سےدوست کشتی سنبھالی نہیں جا رہی اب ترے نا خدا سےمیں نے تیری رفاقت میں جتنی گزاری مرے ساتھ تیرے دلاسے کی برسات اور تیرے بولے ہوئے لفظ کی ہر تسلی ہمیشہ رہی ہےمیں نے تاریک رہداریوں میں کبھی تیری آنکھوں کی کرنوں کی بے فیضگی کا گلہ کر لیامونس جان ایسا بھی کیا کر لیاغم تو تب تھا کہ میں تیرے جانے کا غم بھی نہ کرتامیرے دن میری راتیں ترے سامنے ہیںبتا ہاتھ کب تھامنے ہیں
لا یعنی ہیں مرگ و زیستبے معنی ہیں سب الفاظبے حس ہے مخلوق خداہر انساں اک سایہ ہےشادی غم اک دھوکا ہےدل آنکھیں لب ہاتھ دماغایک وبا کی زد میں ہیںاپنے زوال کی حد میں ہیں
اور کس موسم میں جب طاعون ہے پھیلا ہواذرہ ذرہ ہے وبا کے خوف سے سمٹا ہوا
وبا کے دنوں میں محبت کرنے والے لوگالوداعی بوسے کا حق کھو دیتے ہیں
وبائے عام سے مرنے کا خوف اپنی جگہکواڑ کھول کے دیکھو بہار آئی ہے
دل ربا لالہ ہو فضا تیریمجھ کو بھائی نہ اک ادا تیریلطف سے بڑھ کے ہے جفا تیریواہ رے ہندوستاں وفا تیریمیں نہ مانوں کبھی ترا کہنامیں نہ بخشوں کبھی خطا تیریبرتر از خار ہے ترا گلشنزہر سے کم نہیں ہوا تیریخالی از کیفیت تری ہر چیزبات ہر ایک بے مزا تیریدرد دل میں تڑپ کے مر جاؤںمیں نہ ڈھونڈوں کبھی شفا تیریکون سی بات تیری لطف آمیزکون سی چیز دل کشا تیریتجھ کو جنت نشان کہتے ہیںہم جہنم کی جان کہتے ہیںتجھ کو کس بات پر ہے ناز بتاکیا نہیں اور ملک تیرے سواتیری آب و ہوا لطیف سہیتجھ سے بڑھ کر سپین کا خطہتجھ کو اپنی زمین کا ہے گھمنڈتجھ سے افضل کہیں ہے امریکہحسن پر اپنے ناز ہے تجھ کوحسن تجھ سے سوا اطالیہ کاتجھ کو گنگا کا اپنی دھوکا ہےتو نے دیکھا نہیں ہے سین کو جاموسیقی پر تجھے ہے ناز بہتاس میں جز درد و غم دھرا ہے کیافلسفہ تیرا اگلے وقتوں کافلسفہ دیکھ جا کے یورپ کاتجھ میں پھر آن کیا رہی باقیتیری محفل نہ کچھ نہ کچھ ساقیہاں مروت کا تجھ میں نام نہیںہاں اخوت کا تجھ میں نام نہیںتجھ سے بد نام عشق سا استاداور محبت کا تجھ میں نام نہیںآشتی سیکھے تجھ سے آ کے کوئیہاں خصومت کا تجھ میں نام نہیںتیری ہر بات میں صفائی ہےاور کدورت کا تجھ میں نام نہیںتجھ کو اور حریت سے کیا نسبتاس ضرورت کا تجھ میں نام نہیںشاد ہیں تیرے اپنے بیگانےاور شکایت کا تجھ میں نام نہیںتیری تہذیب تجھ کو موجب فخرہاں جہالت کا تجھ میں نام نہیںبات دنیا سے ہے جدا تیریواہ اے ہندوستاں ادا تیریتیرے رسم و رواج نے مارااس مرض کے علاج نے ماراتیری غیرت نے کر دیا بربادخاندانوں کے لاج نے ماراکیا کریں ہر گھڑی یہی ہے فکرروز کی احتیاج نے ماراآئے دن کال کا ہے ذکر اذکاراک ذرا سے اناج نے مارااور سب پر وبا کا اک طرہاس انوکھے خراج نے مارابخت برگشتہ آرزوئیں بہتہوس سیم و عاج نے مارانہ کریں کام کچھ تو کھائیں کیاروز کے کام کاج نے ماراتو تو رہنے کا کچھ مقام نہیںتجھ میں انسانیت کا نام نہیںقید تو نے کیا حسینوں کومہ جبینوں کو نازنینوں کوزیور علم سے رکھا عاریتو نے قدرت کے ان نگینوں کواختیار و پسند کی اے ہندکیا ضرورت نہ تھی حسینوں کوخوب پہچانی تو نے قدر ان کیخوب سمجھا تو ان خزینوں کوکنویں جھنکوائے نازنینوں سےزہر کھلوایا مہ جبینوں کوڈوبے جاتے ہیں کون آ کے بچائےبحر ہستی کے ان سفینوں کوتو مکاں تھا مکان ہو کے دیاخوف آرام ان مکینوں کوتجھ پہ تہذیب طعن کرتی ہےتجھ پہ الزام خلق دھرتی ہےآرزو ہے تجھے حکومت کیجاہ و ثروت کی شان و شوکت کیکیوں نہ ہو تجھ میں ہمت عالیدھوم ہر سو ہے تیری جرأت کیتو نے کسب فنون جنگ کیاسب میں شہرت ہے تیری قوت کیقسمیں کھاتے ہیں لوگ دنیا میںتیری ملت تری اخوت کیملک داری میں ملک گیری میںواہ کیا پیدا قابلیت کیتو تو استاد سے بھی بڑھ نکلاحیرت انگیز تو نے محنت کیآپ عالم میں تو ہے اپنی مثالآدمیت کی اور شجاعت کیہم سری کی کسی کو تاب نہیںترا آفاق میں جواب نہیںداغ دل کے کسے دکھائیں ہمایسا مشفق کہاں سے لائیں ہمدل میں ہے اپنے ہم نشیں اک روزآپ رو کر تجھے رلائیں ہماس طبیعت کو کس طرح بہلائیںدل کو کس چیز سے لگائیں ہمکب تلک روز کے کہیں صدمےکب تلک آفتیں اٹھائیں ہمزہر کیوں اے فلک نہ ہم کھا لیںجی سے اپنے گزر نہ جائیں ہمجو شکایت ہو کیوں نہ لب پر آئےایک دکھ ہو اسے چھپائیں ہماے تمدن کے راحت و آرامہائے کس طرح تم کو پائیں ہملوگ اٹھاتے ہیں زندگی کے مزےہم اٹھاتے ہیں ناخوشی کے مزے
زمین گونگی ہو رہی ہےپرندے چپ سادھےاجڑی شاخوں پہ بیٹھے نوحہ کناں ہیںرات کے بدن پہنیند کے پیالے اوندھے پڑے بلک رہے ہیںعورتوں کے رحم میںزندہ لاشوں کے گلنے سڑنے سے تعفن پھیل رہا ہےخواب بستیاں اجڑ رہی ہیںسمندروں نے دیکھاموت دانت نکوستی دندناتی پھرتی ہے
تنہائی کے جوتے پہنےہم سیکنڈ ہینڈ قبروں میں رہ رہے ہیںہمیں اکیلے پن کی مشینوں میں ڈال کرسکھایا جا رہا ہےکہ موت سے جنگ ہو جائے توکمر پر گولی کھا کر میدان سے بھاگنا نہیں ہےہمارے سینے پرچم کی طرحلہرا رہے ہیںبرسات کا موسم نہیںمگر موت پوری شدتوں کے ساتھتمام شہروں پر برس رہی ہے
نا مبارک تھا بہت ہند میں آنا تیراقحط آیا تیرے ہمراہ وبا بھی آئی
خود فریبی میں مدہوش ہوتے ہوئےاضطراب نظریوں مرض بن گیااک وبا کی طرح پھیلتا ہی گیانفسیاتی گرہ جب الجھنے لگیاپنی تشہیر کا سر میں سودا لیےآپ اپنا تماشہ لگایا گیااور دکھاوے کے بے سود قرطاس پرنقش در نقش خود کو مٹایا گیاروپ بہروپ صورت میں لایا گیاخال و خد گم ہوئےشخصیت کے سبھی رنگ اڑتے گئےاور بے چہرگی عکس ہونے لگی
میں اپنے شہر تصور میں ایک مدت سےجہان بھر کے مسائل سے کٹ کے بیٹھا تھاوبائے موت ادھر سے گزر کے جا بھی چکیمیں بے خبر ترے غم سے لپٹ کے بیٹھا تھا
غم کے ذروں کو سمیٹوں کہ بڑے کام کے ہیںیہ سمٹ جائیں تو ہو جائے ہمالہ پیدادرد کی آگ کو سینے میں وبا رہنے دوجب یہ بھڑکے گی تو کر دے گی اجالا پیدا
میں وبائے عام سے تجھ کو بچاتا رہ گیاتجھ کو کتنے قیمتی شربت پلاتا رہ گیاتجھ کو رانی کھیت کے ٹیکے لگاتا رہ گیامیرے انجکشن تجھے لطف فنا دینے لگےجن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
گھروں میں رہیےوبا بدن سے نکل کے آنکھوں تک آ گئی ہےہوا کے تیور بدل گئے ہیںپرندے پیڑوں سے ڈر گئے ہیںہزاروں انسان مر گئے ہیںنماز جمعہ کا سارا منظر بدل گیا ہےطواف کعبہ بھی رک گیا ہےاور ایسا لگتا ہےیہ زمیں اب کے اپنی حجت تمام کرنے میں لگ گئی ہےمرے عزیزواب ایسے موسم میںاس وبا کا علاج وہ ہےجو میرے آقا نے آج سے چودہ صدیوں پہلے بتا دیا تھاکہ جو جہاں ہے وہیں پہ ٹھہرےسو یاد رکھیےگھروں میں رہیےقیام کیجےکہ ایسا کرنے سے عین ممکن ہےآپ لاکھوں ہزاروں جانیں بچا گئے ہوں
وبا کے دنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہےباتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹہنسی میں چھپا اجتماعی تأسف دکھاتی ہےہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیںچہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیںہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ہیںبستر کی گرمی سے لپٹے ہوئے خود کو محفوظ کہتے ہیںخوابوں کی ویکسین سے دل تسلی کا سامان کرتے ہوئےاک محبت کے دونوں کنارے ملاتے ہیںلیکن بہلتے نہیں ہیںوبا کے دنوں میں ہم اپنے گھروں سے نکلتے نہیں ہیں
ہاتھ ملانے کی رسمتب ایجاد ہوئیجب ہتھیار پھینکناسیکھا جا چکا تھااور بغلوں میں چھریاںعام ہونے لگی تھیںزندگیوں میں بدلاؤ آیاجاپانیوں نے دور سے جھک کر سلام کہنا سیکھادشمن اور دوست سے مناسب فاصلہہمیشہ بنائے رکھاایٹمی طاقت سے تباہ کیے گئےزندگیوں میں بدلاؤ آیااہل فارس نے چوہے سےطاعون کا تعلق پہچانانعش کو کاٹ کر اعضا کا نقشہ بنایاپہلی جراحی کیاور مردوں کی بے حرمتی کی پاداش میںبوعلی سینا کو سزا دیزندگیوں میں بدلاؤ آیافرانسیسیوں نے چالیس دن کا کوارنٹائن ایجاد کیابندرگاہوں پر بیماریوں کا ویزا کینسل ہواصحت مند انسانوں کو ویزا ملنے لگازندگیوں میں بدلاؤ آیایہود کی منڈی میںسونے کے سکے انسانوں سے کم پڑ گئےکاغذ کا نوٹ ایجاد ہوااور پھر سب ادیان کیاعتبار کی آیات کونوٹوں پر لکھ دیا گیازندگیوں میں بدلاؤ آیااگلے نئے بدلاؤ کے لیےاسٹیج تیار کرنے میںوبا کی مدد کرو
نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہےبلائے جان آدمی نشان بزدلی ہے یہزوال آدمی ہے یہ وبال آدمی ہے یہاگر کہوں درست ہے کہ مرگ آدمی ہے یہیہ گندگی کا ڈھیر ہے غلاف میں ڈھکا چھپایہ خوفناک زہر ہے مٹھاس میں ملا جلاوبائے ہولناک ہے بلائے ہولناک ہےیہ چلتی پھرتی آگ ہے دیار و ملک و شہر میںنفاق سے خدا بچائے روگ یہ خبیث ہےلباس جسم آدمی میں کوڑھ ہے چھپا ہوامنافقوں کی خصلتیں عجیب ہیں غریب ہیںزباں پہ کچھ ہے دل میں کچھ کہیں گے کچھ کریں گے کچھزباں پہ دوستی کا راگ آستین میں چھریدلوں میں بغض ہے بھرا مگر لبوں پہ ہے ہنسیزبان پر خدا کی رٹ دلوں میں فکر شیطنتیہ اپنے آپ ہیں خدا غرض کو پوجتے ہیں یہیہ نفس کے غلام ہیں مفاد کے غلام ہیںیہ اپنے آپ مقتدی یہ اپنے خود امام ہیں
مان لی سرکار نے جب مانگ شعرستان کیشاعروں نے سانس لی تب جا کے اطمینان کیپرکشش تھا اس قدر ان کے لئے تازہ وطنچھوڑ کر آبائی گھر جانے لگے اہل سخنامنؔ ملاؔ عرشؔ ساغرؔ وجدؔ جذبیؔ اور فراقؔاپنا اپنا قافلہ لے کر چلے با طمطراقبند کر دی ساحرؔ و سردارؔ نے فلمی دکاںلے کے نکلے انقلابی شاعروں کا کارواںساتھ علویؔ کو لیے نکلے خلیلؔ و شہریارؔآگے پیچھے کل جدیدی تھے قطار اندر قطارگنگناتے گیت گاتے بیکلؔ اتساہی چلےطنزیہ اشعار کہتے فرقتؔ و واہیؔ چلےیوں ہی سارے ملک سے کل شاعران ہر زباںسوئے منزل چل پڑے لے لے کے اپنی ٹولیاںسال بھر میں شاعروں سے ملک خالی ہو گیاانخلا ان کا مکمل اور مثالی ہو گیاعام تخمینے کے رو سے ان کی تعداد و شمارطول و عرض ملک میں تھی دو کروڑ اکسٹھ ہزارنقل آبادی کے اس تاریخ ساز اقدام سےکچھ مسائل حل ہوئے کچھ مسئلے پیدا ہوئےاٹھ گئی جب ملک سے اشعار سازوں کی براتکچھ غذائی مشکلوں سے قوم نے پائی نجاتدفعتاً بے روزگاری کی وبا بھی کم ہوئیزور شورش کا گھٹا سرکار مستحکم ہوئیفیملی منصوبہ بندی کی ضرورت گھٹ گئیباپ ماں پر تھی جو پابندی وہ فوراً ہٹ گئی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books