Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سیلفی

سلمان ثروت

سیلفی

سلمان ثروت

MORE BYسلمان ثروت

    نارسیسس کے پہلو میں بیٹھے ہوئے

    عکس اپنا ہی تالاب میں دیکھ کر

    کتنی صدیوں سے اپنی ہی الفت میں گم

    خود پسندی کے مارے ہوئے لوگ تھے

    خود نمائی کے زیر اثر آ گئے

    آئینے کا فسوں اس قدر بڑھ گیا

    خود کو تصویر کرنے کی خواہش اٹھی

    اپنے ہاتھوں میں اپنی ہی آنکھیں لیے

    مختلف زاویوں سے نظر خود پہ کی

    بے یقیں ہو گئے

    خود فریبی میں مدہوش ہوتے ہوئے

    اضطراب نظریوں مرض بن گیا

    اک وبا کی طرح پھیلتا ہی گیا

    نفسیاتی گرہ جب الجھنے لگی

    اپنی تشہیر کا سر میں سودا لیے

    آپ اپنا تماشہ لگایا گیا

    اور دکھاوے کے بے سود قرطاس پر

    نقش در نقش خود کو مٹایا گیا

    روپ بہروپ صورت میں لایا گیا

    خال و خد گم ہوئے

    شخصیت کے سبھی رنگ اڑتے گئے

    اور بے چہرگی عکس ہونے لگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے