aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "vikalp"
گریشم کی دل فریب راتریکیا ہوڑ لگا کر کھلے ہیں املتاس اور مدھو مالتیرنگ اور سگندھ آج ڈھو رہے ہیں تمہاری یادوں کی پالکیاس سڑک سے اتنی بار گزرا ہوں کہ آہٹ کو پہچاننے لگے ہیں کتےمجھے اپنے اتنے قریب دیکھ کر بھی ان میں کوئی حرکت کوئی سگبگاہٹ نہیںغالباً اب انہیں بھی مجھ سے کوئی توقع کوئی راہ نہیں رہیبہت سگھن ہے تمہاری پرتکشامیرا وکلپ آوارگی
سنا ہے ایک عمر ہےمعاملات دل کی بھیوصال جاں فزا تو کیافراق جاں گسل کی بھی
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نورسنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گامبدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستورنشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرامجگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلنکسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیںکہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئیابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیںابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئینجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئیچلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
کہہ بھی دے اب وہ سب باتیںجو دل میں پوشیدہ ہیںسارے روپ دکھا دے مجھ کوجو اب تک نادیدہ ہیںایک ہی رات کے تارے ہیںہم دونوں اس کو جانتے ہیںدوری اور مجبوری کیا ہےاس کو بھی پہچانتے ہیںکیوں پھر دونوں مل نہیں سکتےکیوں یہ بندھن ٹوٹا ہےیا کوئی کھوٹ ہے تیرے دل میںیا میرا غم جھوٹا ہے
آنکھوں میں سوال تھے ہزاروںہونٹوں پہ مگر وہی تبسم!چہرے پہ لکھی ہوئی اداسیلہجے میں مگر بلا کا ٹھہراؤآواز میں گونجتی جدائیبانہیں تھیں مگر وصال ساماں!
تمہارے نام تمہارے نشاں سے بے سروکارتمہاری یاد کے موسم گزرتے جاتے ہیںبس ایک منظر بے ہجر و وصل ہے جس میںہم اپنے آپ ہی کچھ رنگ بھرتے جاتے ہیں
آج پھر درد و غم کے دھاگے میںہم پرو کر ترے خیال کے پھولترک الفت کے دشت سے چن کرآشنائی کے ماہ و سال کے پھولتیری دہلیز پر سجا آئےپھر تری یاد پر چڑھا آئےباندھ کر آرزو کے پلے میںہجر کی راکھ اور وصال کے پھول
قلب و نظر کی زندگی دشت میں صبح کا سماںچشمۂ آفتاب سے نور کی ندیاں رواں!حسن ازل کی ہے نمود چاک ہے پردۂ وجوددل کے لیے ہزار سود ایک نگاہ کا زیاں!سرخ و کبود بدلیاں چھوڑ گیا سحاب شب!کوہ اضم کو دے گیا رنگ برنگ طیلساں!گرد سے پاک ہے ہوا برگ نخیل دھل گئےریگ نواح کاظمہ نرم ہے مثل پرنیاںآگ بجھی ہوئی ادھر، ٹوٹی ہوئی طناب ادھرکیا خبر اس مقام سے گزرے ہیں کتنے کارواںآئی صدائے جبرئیل تیرا مقام ہے یہیاہل فراق کے لیے عیش دوام ہے یہیکس سے کہوں کہ زہر ہے میرے لیے مئے حیاتکہنہ ہے بزم کائنات تازہ ہیں میرے واردات!کیا نہیں اور غزنوی کارگہ حیات میںبیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات!ذکر عرب کے سوز میں، فکر عجم کے ساز میںنے عربی مشاہدات، نے عجمی تخیلاتقافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیںگرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات!عقل و دل و نگاہ کا مرشد اولیں ہے عشقعشق نہ ہو تو شرع و دیں بتکدۂ تصورات!صدق خلیل بھی ہے عشق صبر حسین بھی ہے عشق!معرکۂ وجود میں بدر و حنین بھی ہے عشق!آیۂ کائنات کا معنئ دیر یاب تو!نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو!جلوتیان مدرسہ کور نگاہ و مردہ ذوقجلوتیان میکدہ کم طلب و تہی کدو!میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو!باد صبا کی موج سے نشو و نمائے خار و خس!میرے نفس کی موج سے نشو و نمائے آرزو!خون دل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورشہے رگ ساز میں رواں صاحب ساز کا لہو!فرصت کشمکش میں ایں دل بے قرار رایک دو شکن زیادہ کن گیسوئے تابدار رالوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب!گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب!عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغذرۂ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب!شوکت سنجر و سلیم تیرے جلال کی نمود!فقر جنیدؔ و بایزیدؔ تیرا جمال بے نقاب!شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا اماممیرا قیام بھی حجاب !میرا سجود بھی حجاب!تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئےعقل، غیاب و جستجو! عشق، حضور و اضطراب!تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے!طبع زمانہ تازہ کر جلوۂ بے حجاب سے!تیری نظر میں ہیں تمام میرے گزشتہ روز و شبمجھ کو خبر نہ تھی کہ ہے علم تخیل بے رطب!تازہ مرے ضمیر میں معرکۂ کہن ہوا!عشق تمام مصطفی! عقل تمام بو لہب!گاہ بحیلہ می برد، گاہ بزور می کشدعشق کی ابتدا عجب عشق کی انتہا عجب!عالم سوز و ساز میں وصل سے بڑھ کے ہے فراقوصل میں مرگ آرزو! ہجر میں لذت طلب!عین وصال میں مجھے حوصلۂ نظر نہ تھاگرچہ بہانہ جو رہی میری نگاہ بے ادب!گرمئ آرزو فراق! شورش ہائے و ہو فراق!موج کی جستجو فراق! قطرہ کی آبرو فراق!
میں کیا لکھوں کہ جو میرا تمہارا رشتہ ہےوہ عاشقی کی زباں میں کہیں بھی درج نہیںلکھا گیا ہے بہت لطف وصل و درد فراقمگر یہ کیفیت اپنی رقم نہیں ہے کہیںیہ اپنا عشق ہم آغوش جس میں ہجر و وصالیہ اپنا درد کہ ہے کب سے ہم دم مہ و سالاس عشق خاص کو ہر ایک سے چھپائے ہوئے''گزر گیا ہے زمانہ گلے لگائے ہوئے''
دل سے پیہم خیال کہتا ہےاتنی شیریں ہے زندگی اس پلظلم کا زہر گھولنے والےکامراں ہو سکیں گے آج نہ کلجلوہ گاہ وصال کی شمعیںوہ بجھا بھی چکے اگر تو کیاچاند کو گل کریں تو ہم جانیں
بہت دنوں بعدتیرے خط کے اداس لفظوں نےتیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبومری رگوں میں انڈیل دی ہےبہت دنوں بعدتیری باتیںتری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیںاجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میںوصال وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کرشریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیورسکھا گئی ہیںترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریںبہت دنوں بعد پھر سےمجھ کو رلا گئی ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تکترے زمانے لکھے ہوئے ہیںسبھی فسانے لکھے ہوئے ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ تیری یادوں کی کرچیاںمجھ سے کھو گئی ہیںترے بدن کی تمام خوشبوبکھر گئی ہےترے زمانے کی چاہتیںسب نشانیاںسب شرارتیںسب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میںخیال تھیں خواب ہو گئی ہیںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیاکہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوںبچھڑ کے تجھ سےکئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوںمیں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورتہوا میں تحلیل ہو گیا ہوںنہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزےکہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میںوہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کراداس رہ کرنہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوںبچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھینہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوںبہت دنوں بعدمیں نے سوچا تو یاد آیا
جہاں زادوہ حلب کی کارواں سرا کا حوض، رات وہ سکوتجس میں ایک دوسرے سے ہم کنار تیرتے رہےمحیط جس طرح ہو دائرے کے گرد حلقہ زنتمام رات تیرتے رہے تھے ہمہم ایک دوسرے کے جسم و جاں سے لگ کےتیرتے رہے تھے ایک شاد کام خوف سےکہ جیسے پانی آنسوؤں میں تیرتا رہےہم ایک دوسرے سے مطمئن زوال عمر کے خلافتیرتے رہےتو کہہ اٹھی: 'حسن یہاں بھی کھینچ لائیجاں کی تشنگی تجھے!'(لو اپنی جاں کی تشنگی کو یاد کر رہا تھا میںکہ میرا حلق آنسوؤں کی بے بہا سخاوتوںسے شاد کام ہوگیا!)مگر یہ وہم دل میں تیرنے لگا کہ ہو نہ ہومرا بدن کہیں حلب کے حوض ہی میں رہ گیانہیں، مجھے دوئی کا واہمہ نہیںکہ اب بھی ربط جسم و جاں کا اعتبار ہے مجھےیہی وہ اعتبار تھاکہ جس نے مجھ کو آپ میں سمو دیامیں سب سے پہلے 'اپ 'ہوںاگر ہمیں ہوں تو ہو اور میں ہوں پھر بھی میںہر ایک شے سے پہلے آپ ہوں!اگر میں زندہ ہوں تو کیسے آپ سے دغا کروں؟کہ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد،ایسی الجھنیں ہیںجن کو آج تک کوئی نہیں 'سلجھ' سکاجو میں کہوں کہ میں 'سلجھ' سکا تو سر بسرفریب اپنے آپ سے!کہ عورتوں کی ساخت ہے وہ طنز اپنے آپ پرجواب جس کا ہم نہیں(لبیب کون ہے؟ تمام رات جس کا ذکرتیرے لب پہ تھاوہ کون تیرے گیسوؤں کو کھینچتا رہالبوں کو نوچتا رہاجو میں کبھی نہ کر سکانہیں یہ سچ ہے میں ہوں یا لبیب ہورقیب ہو تو کس لیے تری خود آگہی کی بے ریا نشاط ناب کاجو صد نوا و یک نوا خرام صبح کی طرحلبیب ہر نوائے ساز گار کی نفی سہی!)مگر ہمارا رابطہ وصال آب و گل نہیں، نہ تھا کبھیوجود آدمی سے آب و گل سدا بروں رہےنہ ہر وصال آب و گل سے کوئی جام یا سبو ہی بن سکاجو ان کا ایک واہمہ ہی بن سکے تو بن سکے!
تمہارا کہنا ہےتم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہوتمہاری چاہتوصال کی آخری حدوں تکمرے فقط میرے نام ہوگیمجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہےمگر قسم کھانے والے لڑکے!تمہاری آنکھوں میں ایک تل ہے!
مگر نہ جانےوہ راستہ کیوں چنا تھا میں نےکہ جس پہ خود سے وصال تک کا گماں نہیں ہے؟وہ راستہ کیوں چنا تھا میں نےوہ رک گیا ہے دلوں کے ابہام کے کنارے؟وہی کنارا کہ جس کے آگے گماں کا ممکنجو تو ہے میں ہوں!مگر یہ سچ ہے،میں تجھ کو پانے کی (خود کو پانے کی) آرزو میں نکل پڑا تھااس ایک ممکن کی جستجو میںجو تو ہے میں ہوںمیں ایسے چہرے کو ڈھونڈھتا تھاجو تو ہے میں ہوںمیں ایسی تصویر کے تعاقب میں گھومتا تھاجو تو ہے میں ہوں!میں اس تعاقب میںکتنے آغاز گن چکا ہوں(میں اس سے ڈرتا ہوں جو یہ کہتاہے مجھ کو اب کوئی ڈر نہیں ہے)میں اس تعاقب میں کتنی گلیوں سے،کتنے چوکوں سے،کتنے گونگے مجسموں سے، گزر گیا ہوںمیں اس تعاقب میں کتنے باغوں سے،کتنی اندھی شراب راتوں سے،کتنی بانہوں سے،کتنی چاہت کے کتنے بپھرے سمندروں سےگزر گیا ہوںمیں کتنی ہوش و عمل کی شمعوں سے،کتنے ایماں کے گنبدوں سےگزر گیا ہوںمیں اس تعاقب میں کتنے آغاز کتنے انجام گن چکا ہوںاب اس تعاقب میں کوئی در ہےنہ کوئی آتا ہوا زمانہہر ایک منزل جو رہ گئی ہےفقط گزرتا ہوا فسانہتمام رستے، تمام بوجھے سوال، بے وزن ہو چکے ہیںجواب، تاریخ روپ دھارےبس اپنی تکرار کر رہے ہیںجواب ہم ہیں جواب ہم ہیںہمیں یقیں ہے جواب ہم ہیںیقیں کو کیسے یقیں سے دہرا رہے ہیں کیسے!مگر وہ سب آپ اپنی ضد ہیںتمام، جیسے گماں کا ممکنجو تو ہے میں ہوں!
چلا آ رہا ہوں سمندروں کے وصال سےکئی لذتوں کا ستم لیےجو سمندروں کے فسوں میں ہیںمرا ذہن ہے وہ صنم لیےوہی ریگ زار ہے سامنےوہی ریگ زار کہ جس میں عشق کے آئنےکسی دست غیب سے ٹوٹ کررہ تار جاں میں بکھر گئے!ابھی آ رہا ہوں سمندروں کی مہک لیےوہ تھپک لیے جو سمندروں کی نسیم میںہے ہزار رنگ سے خواب ہائے خنک لیےچلا آ رہا ہوں سمندروں کا نمک لیے
مرے صحن میں ایک کمسن بنفشے کا پودا ہےطیارہ کوئی کبھی اس کے سر پر سے گزرےتو وہ مسکراتا ہے اور لہلہاتا ہےگویا وہ طیارہ، اس کی محبت میںعہد وفا کے کسی جبر طاقت ربا ہی سے گزرا!وہ خوش اعتمادی سے کہتا ہےلو دیکھو، کیسے اسی ایک رسی کے دونوں کناروںسے ہم تم بندھے ہیں!یہ رسی نہ ہو تو کہاں ہم میں تم میںہو پیدا یہ راہ وصال؟مگر ہجر کے ان وسیلوں کو وہ دیکھ سکتا نہیںجو سراسر ازل سے ابد تک تنے ہیں!جہاں یہ زمانہ ہنوز زمانہفقط اک گرہ ہے!
خوشبو کی آواز سنیغنچہ لب کے کھلتے ہیپانی پر کچھ نقش بنےپرتو شاخ کے ہلتے ہیساری باتیں بھول گئےاس سے آنکھیں ملتے ہی
وہ بچھڑا ہے تو یاد آیاوہ اکثر مجھ سے کہتا تھامحبت وہ نہیں ہے جو یہ نسل نو سمجھتی ہےیہ پہروں فون پر باتیںیہ آئے دن ملاقاتیںاگر یہ سب محبت ہےتو تف ایسی محبت پرمحبت تو محبت ہےوصال و وصل کی خواہش سے بالاترکہا کرتامحبت قرب کی خواہش پہ آئے تو سمجھ لیناہوس نے سر اٹھایا ہےہوس کیا ہےفقط جسموں کی پامالی فقط تذلیل روحوں کیکہا کرتا محبت اور ہوتی ہےہوس کچھ اور ہوتی ہےسو جب بھی قرب کی خواہش پہ آ جائے محبت توسنو پھر دیر مت کرنا وہیں رستہ بدل لیناوہ بچھڑا ہے تو یاد آیا
فراق صبحوں کی بجھتی کرنیںوصال شاموں کی جلتی شمعیںزوال زرداب خال و خد سے اٹے زمانےیہ ہانپتی دھوپ کانپتی چاندنی سے چہرےہیں میرے احساس کا اثاثہبہار کے بے کنار موسم میں کھلنے والےتمام پھولوں سے پھوٹتے رنگوحشتوں میں گھرےلبوں کے کھلے دریچوں سے بہنے والے حروف میری نشانیاں ہیں
وہ نہیں تھی تو دل اک شہر وفا تھا جس میںاس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھیاس کے انکار پہ بھی پھول کھلے رہتے تھےاس کے انفاس سے بھی شمع جلی جاتی تھی
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books