آؤ ہم اس دنیا سے نکل چلیں

علی سردار جعفری

آؤ ہم اس دنیا سے نکل چلیں

علی سردار جعفری

MORE BYعلی سردار جعفری

    स्टोरीलाइन

    یہ ایک تمثیلی کہانی ہے جس میں محبوب اپنی محبوبہ سے کہتا ہے، آؤ اس مکار اور فریبی دنیا سے باہر کہیں دور نکل چلیں۔ یہ دنیا جس کے ہر ہر پہلو میں شر اور فساد ہے، اس سے دور کہیں اپنا آشیانہ بنائیں اور اپنے سینوں کو محبت سے بھر لیں اور اسی جگہ لوٹ چلیں جہاں سے ہم آئے ہیں۔

    آؤ ہم اور تم محبت کے شور انگیز دریا کو تیر کر دوسرے ساحل پر جا اتریں۔ اس ریتیلے ساحل کو جس پر ہم کھڑے ہوئے ہیں، سفید دیمک نے کھوکھلا کر دیا ہے۔ آؤ۔۔۔ آؤ ہم اس دریا کو تیر چلیں جس کی گہرائیوں میں چھوٹی چھوٹی آنکھوں والے نہنگ شکار کی تاک میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ یہ فضول سوال مت کرو کہ ہمارے پاس ایک ٹوٹی ہوئی کشتی بھی نہیں، ہم اس طوفانی دریا کو کیسے پار کریں گے۔ آؤ ہم تیر کے نکل چلیں گے۔ نہیں۔ میں غلط کہہ رہا ہوں ہمارے پاس عزم و استقلال کی کشتی ہے، جس پر محبت اور وفا کے بادبان چڑھے ہوئے ہیں۔ یہ دریا کیا ہے، ہم تو آگ کے بھی دریا کو پار کر سکتے ہیں۔

    آؤ ہم ایک ایسے جزیرے میں چلیں گے جس کے ساحل مونگے کے ہیں، جہاں کھجور کے ٹھنڈے سایہ دار درخت لگے ہوئے ہیں، جن کے نیچے پہاڑوں سے اترنے والے قافلے آرام کرتے ہیں۔ یہ تھکے ماندے مسافر جو منزلیں طے کر کے چلے آرہے ہیں، ان کے نیچے سو جاتے ہیں اور اپنی ناکام محبت کے خواب دیکھتے ہیں۔

    آؤ ہم اس باغ سے باہر نکل چلیں جس کے پھولوں کی سنہری پنکھڑیوں میں ڈنک مارنے والی مکھیاں سو رہی ہیں، جن کی گہری کٹوریوں میں بجائے شہد کے زہر بھرا ہوا ہے۔ یہاں درختوں کی صندلی شاخوں سے زہریلے سانپ لپٹے ہوئے ہیں، جن کے بدن نقرئی اور پھن سنہری ہیں۔ یہاں شہتوت کے سایوں میں بہت سے ایسے بچھو آرام کر رہے ہیں جو کہربا کی طرح زرد ہیں اور جن کے ڈنک انگاروں کی طرح سرخ ہیں۔ یہ جہاں رہتے ہیں وہاں کی زمین جھلسی ہوئی ہے۔ سنبل کی زلفوں میں کتنے ہی سیہ بخت عاشقوں کی لاشیں لٹک رہی ہیں۔ نرگس کے سفید پھول سادہ لوح عشاق پر ڈورے ڈالتے ہیں اور جب وہ ان کے قریب جاتے ہیں تو ان پھولوں کےدل سے ایک چنگاری اٹھتی ہے، جو ان بدنصیبوں کو جلا کر خاک کر دیتی ہے۔

    بید مجنوں کے نیچے ہزاروں حسرت نصیب عاشقوں کی قبریں ہیں جن پر بجائے پھولوں کے احمریں چوٹیوں والی ناگنیں لہراتی ہیں۔ لمبی لمبی سبز گھاس میں زرد آنکھیں والے شیر ببر سو رہے ہیں، ان کی زندگی کا مدار محض عاشقوں کے گرم خون پر ہے۔ یہ اپنے خونی پنجوں سے محبت کرنے والے سینوں کو پھاڑ ڈالتے ہیں، اور دھڑکتے ہوئے دلوں کو چبا جاتے ہیں۔ آؤ ہم ان درندوں کی آنکھوں میں خاک ڈال کے یہاں سے نکل چلیں۔ آؤ ہم سوسن کی ان کلیوں کو کچلتے ہوئے یہاں سے نکل جائیں جو پیر پڑتے ہی شعلوں کی طرح بھڑک اٹھتی ہیں اور انگاروں کی طرح دہکنے لگتی ہیں۔ آؤ۔ آؤ ہم اس آتشیں طوفان سے باہر نکل چلیں۔

    ہم ان چشموں کی طرف نگاہ بھی نہ کریں گے جن کا صاف و شفاف پانی زہر آلود ہے، یہ اگر آگ کے اوپر ڈال دیا جائے تو وہ اور بھڑک اٹھے۔ ہم ان شفاف حوضوں کے پاس بھی نہ جائیں گے جن میں تیرنے والی سبز و سرخ مچھلیاں جب اپنی دمیں ہلاتی ہیں تو ان میں سے روشنی پیدا ہوتی ہے، جو پاس کھڑے ہونے والوں کے دامنوں کو جلا دیتی ہے۔ بس ہم اس لہو بھرے کانٹے کو اٹھا لیں گے جسے کسی عاشق نے اپنے دل سے نکال کر پھینک دیا ہو۔ ہم ان آہنی دیواروں کو توڑ دیں گے جو ہمیں گھیرے ہوئے ہیں اور حدود سے باہر ہو جائیں گے۔

    آؤ اس باغ سے ملا ہوا ایک اور باغ ہے۔ ہم اس میں چلیں۔ اس کی دیواریں حنا کی ہیں جو برسات میں پھولوں سے لد جاتی ہیں، جن پر اودے بھونرے اپنے شیریں نغمے گاتے ہیں۔ یہاں آموں کے سایوں میں مست مور اپنا سینہ نکالے ہوئے پھرا کرتے ہیں۔ جب بادل گھر کر آتے ہیں تو وہ اپنے رنگین سینوں کو اور ابھار دیتے ہیں اور ان کی دمیں زمین سے اچھلنے لگتی ہیں۔ یہاں گلاب کی ٹہنیوں پر بیٹھ کر بلبلیں پھولوں سے راز و نیاز کی باتیں کرتی ہیں۔ کوئل کی رسیلی کوک اور پپیہے کی بدمست آواز پر گھاس میں دبک کر بیٹھ جانے والے چھوٹے چھوٹے کیڑے رقص کرنے لگتے ہیں۔ یہاں کی نقرئی پنکھڑیوں والے پھول جن کے کنارے طلائی ہیں، کبھی نہیں کمھلاتے۔ ان پر بیٹھ کر وہ مکھیاں خواب دیکھتی ہیں جن کی دمیں شہد کی ہیں۔

    یہاں کے ہرے بھرے کنجوں میں رومان کی دنیا آباد ہے۔ آؤ ہم بھی ان سایوں میں چل کر آرام کریں۔ جب یہاں کی ٹھنڈی ہوائیں تمہارے بھیگے ہوئے رخساروں کو خشک کردیں گی، تو ہم اور تم مل کر محبت کے گیت گائیں گے اور اس باغ کو ایک دنیائے نغمہ بنا دیں گے۔ ہماری زمین موسیقی کی ہوگی، ہمارا آسمان موسیقی کا ہوگا اور ہم سراپا محبت۔ اس طرح ہم فضا پر غنودگی طاری کردیں گے۔ وہ عالم گیر راگ جس کا زیر و بم ہماری ہستیوں پر حاوی ہے، ہمارا مطیع ہو کر رہ جائے گا۔

    آؤ۔ آؤ ہم اپنے کو نغموں کے اس لافانی سیلاب میں ڈال دیں جو لہریں لے لے کر بڑھ رہا ہے۔ آؤ ہم اپنی ہستی کو ان موجوں کے سپرد کر دیں جو عناصر اربعہ کو جذب کر لیتی ہیں۔ پھر ہم کالے کالے بادلوں کی شکل میں امڈ امڈ کر آئیں گے اور جس جگہ برسیں گے وہاں ایسے پھول کھلیں گے جن کی خوشبوؤں کو ایک مرتبہ سونگھ لینے والا لازوال محبتوں کا مالک بن جائے گا۔

    آؤ۔ ہم اس دنیا ہی سے نکل چلیں جہاں قسمت کی چیرہ دستیوں نے ہمیں پریشان کر دیا ہے۔ ہمارے پاس پیار کرنے کے لیے لب ہیں۔ ہمارے پاس محبت کرنے کے لیے دل ہیں۔ ہمارے پاس جذبات سے بھرے ہوئے سینے ہیں اور حرارت سے بھرے ہوئے پہلو۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں ہیں۔ پھر بھی ہم اندھے ہیں۔ قید و بند حیات کی آہنی زنجیروں نے ہماری روحوں کو جکڑ دیا ہے۔ آؤ ہم اور تم اپنی نگاہوں سے ان زنجیروں کو توڑ دیں۔ بے جا فرائض کا وہ وزن جس نے ہمیں گراں بار بنا دیا ہے، ہمارے کندھوں کو توڑے ڈالتا ہے۔ آؤ ہم اور تم مل کر اسے پھینک دیں۔ تنہا تو صرف خدا ہی کام کر سکتا ہے۔

    آؤ ہم بے ہودگیوں کے اس جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں ، جس کے اندر دنیا والوں نے مذہب کی روح کو قید کر رکھا ہے۔ آؤ ہم اس بھاری پتھر کو ہٹا دیں جو انسانیت کے سینے کو کچلے ڈال رہا ہے۔ پھر ہم آزاد ہوں گے۔ جس طرح چاہیں گے پیار کریں گے۔ جیسے چاہیں گے محبت کریں گے۔ آؤ ہم اس دنیا سے نکل چلیں اور ایک ایسی جگہ چلیں جہاں نہ یہاں کےسے ہنگامے ہیں اور نہ شور و غل۔ وہاں بس سکون ہی سکون ہے۔

    آؤ ہم ستاروں کی بستی میں چلیں جہاں ثوابت ہمیں حیرت سے دیکھیں گے، سیارے ہمارے گرد طواف کریں گے، سورج ہماری پیشانیوں سے طلوع ہوگا، چاند ہمارے لاتعداد بوسوں کی روشنیوں کو دنیا پر نچھاور کرے گا۔ جلتے ہوئے دلوں کو اس سے ٹھنڈک پہنچے گی اور دکھے ہوئے دل راحت پائیں گے۔

    پھر ہم اس جادوانی راستے پر گامزن ہوں گے جسے انسانی نگاہیں نہیں دیکھ سکتیں، جو بل کھاتا ہوا کہکشاں کے سینے پر سے گزر گیا ہے۔ وہاں ہم اس راستے پر خوش خوش چلیں گے۔ سرکش ستاروں کو جو ہمیں دیکھ دیکھ کر آج مسکراتے ہیں، اپنے پیروں سے روند ڈالیں گے۔ دم دار ستاروں کا روشن عصا ہمارے ہاتھ میں ہوگا جسے آسمانوں پر ٹیکتے ہوئے ہم اس چمک دار راستے پر جا رہے ہوں گے، جس نے افلاک نیلمیں کو گھیر رکھا ہے۔ اور اس مقدس مقام کے قریب سے اپنی پیشانئی نیاز جھکا کر آگے نکل گیا ہے، جہاں بار گاہ جلال قدرت کے ستونوں پر قائم ہے۔ محبت کی دنیا اس کے بھی آگے ہے۔

    آؤ۔ آؤ ہم ہستی کا زرکار نقاب اپنے چہروں سے الٹ دیں تاکہ ہمارے چہرے زیادہ تابناک اور درخشندہ ہوجائیں۔ روح ہستی کے بوجھ سے دبی جا رہی ہے۔ آؤ ہم اپنی روحوں کو آزاد کرلیں اور اس معطر فضا میں چل کر سانس لیں جہاں عشق ہی عشق ہے۔ پھر ہم لافانی ہوجائیں گے۔ جب شعلہ حیات بھڑک اٹھے گا، جب ہستی کی گرہیں کھل جائیں گی، جب موت کی آخری ٹھوکر خوابیدہ روح کو جگا دے گی تو یہ طلسم زندگی ٹوٹ جائے گا۔ پھر محبت کی فتح ہوگی اور ہم اور تم، دو بھونرے، ایک ہی پھول پر منڈلائیں گے۔ دو قمریاں ایک ہی سر پر نغمہ زنی کریں گی۔ جب ساز حیات کے تار نغمہ کی بلندی سے ٹوٹ جائیں گے، جب رگ دل خون کی زیادتی سے پھٹ جائے گی تو ہستی کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ پھر عشق کی فتح ہوگی اور ہم اور تم نغمۂ جاوید کی آخری تان ہوں گے۔

    آؤ ہم اس آلام اور مصائب کی زندگی کا خاتمہ ہی کیوں نہ کر دیں اور ایک نئی زندگی کی ابتدا کریں۔ ہماری محبت کا آفتاب پہلی بار آسمان پر چمکے گا اور تمام اجرام فلکی اس کے سجدے کے لیے جھک جائیں گے۔ تمہیں وہ پیمان یاد ہوگا جو ہم سے روزِ ازل لیا گیا تھا۔ پہاڑوں نے اس بار کے اٹھانے سے انکار کردیا۔ آسمان اور زمین اس کےخیال ہی سے چیخ اٹھے، مگر ہم نے وعدہ کر لیا، دیوانے انسان نے اس بوجھ کو اٹھایا۔ آہ! ہم اس عہد کی صدائے بازگشت ہیں۔ آؤ ہم اپنے سینوں کو محبت سے بھر لیں اور اسی جگہ لوٹ چلیں جہاں سے ہم آئے ہیں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY