Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ادبی جیلر!

محمد شہزاد

ادبی جیلر!

محمد شہزاد

MORE BYمحمد شہزاد

    وہ ایک سخت گیر اور بارعب جیلر تھا۔ چھ فٹ تین انچ قد، چوڑا چکلہ سینہ۔ جسم کا ہر مسل ابھرتا ہوا۔ پیٹ اندر۔ لمبی گھنی مونچھیں۔ کشادہ پیشانی۔ بڑی بڑی کالی آنکھیں۔

    ادب اردو ہو یا انگریزی سب ہی اسکی دسترس میں تھے۔ اس کا مطالعہ بصیرت انگیز تھا۔ وہ جملہ پڑھتا اور اس پر غور وفکر کرتا۔ اسے لغت سے بھی شغف تھا۔ پڑھتے وقت اگر کوئی ایسا لفظ سامنے آ جاتا جس کے معنی اسے نہ آتے، وہ پڑھنا ترک کر دیتا۔ لغت میں معنی دیکھے بغیر آگے نہ بڑھتا۔ عالمی ادب وہ اردو میں پڑھنے کا قائل نہ تھا۔ وجہ غیر معیاری ترجمہ! غیر ملکی ادب وہ انگریزی ہی میں پڑھتا۔ لڑکپن میں ہی وہ شیکسپیر ازبر کر چکا تھا۔ مقابلے کا امتحان پاس کرتے وقت ساری دنیا کا ادب اس کی انگلیوں پر تھا۔

    سکول اور کالج میں استادوں اور بزرگوں کے مشوروں پر عمل کرتے ”پانی کا دریا“، ”گداز نسلیں“، ”راجا گدھا“ وغیرہ پڑھ چکا تھا۔ چونکہ وہ ان سے پہلے دوستووسکی، ٹالسٹائی، وکٹر ہیوگو، شیکسپیر، وائلڈ، چیخوف، گوگول، ڈکنز، اورویل، فورسٹر، جین آسٹن وغیرہ پڑھ چکا تھا لہذا اسے اردو کے یہ ناول پڑھ کر شدید مایوسی ہوئی۔ اس کے خیال میں یہ ادھر ادھر کی بکواس اور انتہائی بے کار پھکڑ فلسفے کے علاوہ کچھ اور نہ تھے۔

    مگر بزرگوں اور استادوں نے چونکہ بال دھوپ میں ہی سفید کیے ہوئے تھے، ساری عمر جھک ماری تھی، لہذا انہیں اس کی باتیں سمجھ نہ آئیں۔ اس نے ان سے کئی بار پوچھا کہ جی بتائیے ان ناولوں میں خاص کیا ہے؟ کہانی کیا ہے؟ پلاٹ کیا ہے؟ فلسفہ کیا ہے؟ تُن کر ادھر ادھر کی بکواس کیوں ہے؟ یہ بزرگ اور اساتذہ کوئی جواب دے نہ سکے کیونکہ یہ بیچارے رعایتی نمبروں سے میڑک سے لے کر ایم اے اردو میں کامیاب ہوئے اور پھر سترہ گریڈ میں لیکچرر بھرتی ہو گئے اور اٹھارہ انیس میں ریٹائرڈ۔۔۔ لفظ ریٹارڈڈ (retarded) زیادہ مناسب ہوگا!

    سوچنے سمجھنے اور سوال کرنے کی صلاحیت سے یہ عاری تھے۔ انہوں نے اسے یہ کہہ کر خاموش کرا دیا کہ تم ابھی بچے ہو، بڑے ہونے پر جب مزید عقل، علم، تجربہ آئے گا تب یہ ناول سمجھ میں آئینگے۔ یہ ان سے پوچھتا کیا یہ لوگ ٹالسٹائی، دوستوسکی یا شیکسپیر سے بھی عظیم ہیں۔ شیکسپیر اور وائلڈ کتنا مشکل لکھتے ہے۔ وہ تو اسکی سمجھ میں آ جاتے ہے۔ غالب اور مشتاق یوسفی اس کی سمجھ میں آ جاتے ہیں۔ یہ لوگ کیوں نہیں آتے!

    ان باتوں کا بھی کوئی جواب نہ ہوتا بزرگوں اور استادوں کے پاس۔ کیسے ہو سکتا تھا؟ یہ لوگ ایک جملہ تو پڑھ نہ سکتے تھے انگریزی میں۔ مایوس ہو کر اس نے اردو ادب پڑھنا چھوڑ دیا اور اپنی تمام تر توجہ انگریزی اور عالمی ادب پر مرکوز کر دی۔

    مقابلے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ پولیس سروس جوائن کی۔ اب وہ صوبے کی سب سے بڑی جیل کا جیلر تھا۔ جیل میں ہزاروں قیدیوں کی زندگی کا مالک۔۔۔ سیاہ و سفید کا ان داتا۔

    لیکن دیانتدار افسر تھا۔ کسی سے ناانصافی نہ کرتا۔ جیل میں سختی سے ڈسپلن قائم کیے ہوئے تھا۔ بڑے بڑے پھنے خانوں کو اس نے نتھ ڈال کر رکھی ہوئی تھی۔ مارشل آرٹ کا بھی ماسٹر تھا۔ ایک دن کسی بدمعاش نے اسے چیلنج کر دیا کہ یہ اکیلا آئے تو اس کو سبق سکھا کر رکھ دے۔ یہ وردی اتار کر اکیلا میدان میں کود پڑا اور جو دھنائی کی اس کی کہ بس رہے نام اللہ کا۔ وہ بدمعاش تو ساری عمر سیدھا ہو کر چل نہ سکا۔ اس کا انجام دیکھ کر باقی بدمعاشوں کو عبرت ہوئی۔ نتیجتاً جیل میں مستقل بنیادوں پر امن و سکون قائم ہو گیا۔

    جیل کی نوکری میں ایک فائدہ تھا۔ پڑھنے کے لیے وقت بہت مل جاتا۔ اسے خیال آیا اب عمر، تجربہ اور مطالعہ مزید بڑھ چکا ہے، اردو ادب دوبارہ پڑھا جائے۔ اسے انٹرنیٹ پر بہت سے ادبی ناقدین۔۔۔ جو خود بھی لکھاری تھے۔۔۔ کے تجزیے ملے جن کے مطابق ”پلاؤ“، ”نیلام باغ“، ”لے کھانس بھی آہستہ“، ”کئی سانڈ تھے زیر زمین“، ”شیطان کی بستی“ وغیرہ اردو ادب کے لازوال اور شاہکار ناول تھے۔ جیلر نے وہ سب پڑھے۔ پڑھنے کے بعد اک بڑی سی ڈسٹ بن میں زور سے پٹخ دیے۔

    وجہ یہ تھی کہ ناقدین نے ان ناولوں کی شان میں زمین آسمان ایک کیا۔ تجزیوں کے زور پر ان کے لکھنے والوں کو ادب کا خدا بنایا۔ ان کے لکھے کو الہامی قرار دیا اور یہ فتوی بھی صادر فرمایا کہ جنہوں نے یہ ناولز نہیں پڑھے انہوں نے زندگی میں کچھ نہیں پڑھا۔

    سب ناقدین کے تجزیے ایک جیسے ہی تھے، لفاظی سے بھرپور۔ کوئی یہ بتانے سے قاصر تھا کہ ناول کا خلاصہ کیا ہے۔ کہانی کیا ہے۔ پلاٹ کیا ہے۔ دراصل تجزیے نہیں چاپلوسی کے مقالے تھے جنہیں پڑھ کر کوفت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوتا۔ ناول کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلتا۔ کچھ پتہ چلتا تو یہ ہی کہ تجزیہ کرنے والا ناول نگار کا لونڈا، برخوردار، چمچہ، چاپلوس وغیرہ ہے۔ اور تجزیے بھی عجیب و غریب۔ مثلاً ان کا ناول پڑھتے ہی میں اچھل پڑا۔ ناول نہ ہوا ہزار وولٹ کا کرنٹ ہو گیا۔ اس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انکے ناول نے میرے کمرے میں برف جما دی۔ پھر وہ پگھل کر پانی بن گئی۔ پانی کمرے میں پھیل گیا۔ پھر پانی پر تصویریں بن گئیں! ایک ہی تجزیہ ایسا آفاقی تھا کہ ہر ناول کے لیے استعمال ہو سکتا تھا بس عنوان بدلنے کی دیر تھی۔

    جیلر اردو ادب سے مزید متنفر ہوا اس یقین کے ساتھ کہ کائنات کا سب سے جھوٹا، چاپلوس اور خوشامدی طبقہ کوئی اور نہیں ادبی ناقدین ہیں۔ اگر ناقدین لکھاریوں کو خدا نہ بناتے بلکہ انسانوں کی طرح پیش کرتے تو وہ ان سے اتنی توقعات وابستہ نہ کرتا۔ انہیں انسان سمجھ کر پڑھتا اور بس! ناقدین کی باتوں پر جب اس نے ادبی خداؤں کو پرکھا تو سب بونے دکھائی دیے۔

    اک دن عجب واقعہ ہوا۔ جیلر کی جیل میں چوٹی کے ادبی ناقدین کا ایک گروہ آ گیا۔ یہ سب نشے میں دھت پکڑے گئے تھے۔ اسی حالت میں مشاعرہ شروع ہو گیا۔ نشے میں انسان سچ بولتا ہے۔ تو سب نے ایک دوسرے پر سرقے کا الزام لگانا شروع کر دیا۔ پھر شراب اور بئیر کی بوتلوں کا آزادانہ استعمال ہوا۔ انہیں سزا ہوئی۔ زیادہ طویل نہیں۔۔۔ بس چند ماہ کی۔ کل ملا کر یہ نو ناقدین تھے۔ جیلر نے انہیں ایک ہی بیرک میں ڈال دیا یہ سوچ کر کہ مشاعرے کرتے رہیں گے۔ شراب تو ہو گی نہیں۔ دماغ ٹھکانے ہو گا۔ تو ایک دوسرے کی بکواس پر واہ واہ کرتے رہیں گے اور وقت گذر جائے گا۔

    کچھ دن تو سکون سے گذرے۔ جب ان لوگوں کے پاس اشعار کا محدود ذخیرہ ختم ہو گیا، سب ایک وفد کی صورت میں جیلر کے سامنے پیش ہوئے۔

    ”کھانے میں کچھ پرابلم ہے؟ دال میں کنکر تو نہیں؟“ جیلر نے ان سے پوچھا۔

    ”نہیں مائی باپ کھانا تو بہت اچھا ہے آپ کی جیل میں۔“ ناقد میدا شیدا بولا۔ یہ ناقدین کا بھانڈ مانا جاتا تھا۔ یہ ادب کے ہر گنگوے تیلی کو راجہ بھوج بنانے میں ملکہ رکھتا تھا۔ اسے پچھلے برس ”ادب کی چسنی“ کا ایوارڈ ملا جو یہ ہر وقت گردن میں فخر سے لٹکائے پھرتا تھا اور گاہے بگاہے جیب سے اک چھوٹی سی شہد کی شیشی نکالتا۔ ایوارڈ پر شہد ملتا اور بڑے انہماک سے چسنی چوسنے لگتا۔

    ”روٹی جلی ہوئی تو نہیں مل رہی؟“

    ”نہیں سرکار۔ روٹی زبردست ہے!“ سچا جھوٹا بولا۔ یہ ناقدین کا فلسفی اور دانشور تھا۔ یہ ہر ٹٹ پونجیے کو خدا بنانے کا قائل نہ تھا۔ اسکا فلسفہ خوشامد سمجھ بوجھ پر مبنی تھا۔ یہ ادب کےصرف کنگ سائز خداؤں کی چاپلوسی کیا کرتا تھا۔ یا پھر افسر شاہی سے تعلق رکھنے والے وہ وڈے افسران جن سے فوائد اور مراعات سمیٹی جا سکیں۔ انہیں فضول قسم کی شاعری لکھ کر دیتا جو وہ اپنے نام سے چھپواتے۔ پھر اسی شاعری پر کالم لکھ لکھ کر انہیں ”مرزا غالب“ بنا دیتا۔

    ”پھر کیا مسئلہ ہے؟“

    ”سرکار آپکو تو معلوم ہے ہم سب وسیع المطالعہ ادبی شخصیات ہیں۔ ہم تو باتھ روم بھی ہاتھ میں کتاب لے کر جاتے ہیں۔ آپکی جیل میں تو اخبار تک نہیں ملتا۔ اگر ہمیں چند اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے مل جائیں تو تمام عمر آپکو دعائیں دینگے۔“ میدا شیدا بولا۔

    ”اچھا تو یہ بات ہے۔ ٹھیک ہے۔ مل جائینگی!“ جیلر نے کہا اور انہیں ڈس مس کا حکم دے دیا۔

    *

    ”یہ کیا بکواس اٹھا کر لے آیا جیلر؟“ ناقد ڈاکٹر مالش بھوپالی بولا۔ یہ ادبی خداؤں کا مسخرہ تھا۔ ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھا۔ معتبر ہونے کے لیے ادبی ناقد بن گیا۔

    کیا لے آیا؟“ میدے شیدے نے پوچھا۔

    ”سالے سے کتابوں کی ریکوسٹ کی تھی۔۔۔“

    ”تو کیا یہ کتابیں نہیں؟“ میدا شیدا مالش بھوپالی کی بات کاٹتے بڑبڑایا۔

    ”ہیں تو مگر ہم نے مطالعے کے لیے مانگی تھیں کہ کچھ مزا آئے اور وقت آسانی سے گذر سکے۔ یہ بھی کوئی کتابیں ہیں پڑھنے کی؟“ مالش بھوپالی بولا۔

    ”دکھا تو۔۔۔“ میدے شیدے نے کتابوں کا پیکٹ مالش بھوپالی کے ہاتھ سے چھپٹتے کہا۔

    ”ہائے یہ کیا ظلم کیا!“ میدے شیدے نے خاص بھانڈوں والے لہجے میں تالی مارتے کہا اور پھر بولا، ”ظالم جیلر نے سب بکواس ترین ناول بھیج دیے۔۔۔“ پانی کا دریا“، ”گداز نسلیں“، ”راجہ گدھا“، ”پلاؤ“، ”نیلام باغ“، ”لے کھانس بھی آہستہ“، ”کئی سانڈ تھے زیر زمین“، ”شیطان کی بستی” وغیرہ وغیرہ۔“

    ”کون احمق پڑھے گا انہیں! چلو جیلر کے پاس اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں!“

    *

    ”کیا پرابلم ہے ان ناولوں میں؟“ جیلر نے پوچھا۔

    ”مائی باپ یہ بھی کوئی پڑھنے والے ناول ہیں؟ انہیں پڑھنے سے بہتر بندہ زہر کھا کر مرجائے!“ مالش بھوپالی بولا تو جیلر نے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے کہا، ”یہ پڑھ اپنی بکواس۔ تو نے اس مضمون میں یہ لکھا ہے کہ تو یہ ناولز ننانوے بار پڑھ چکا ہے اور تیرا دل نہیں بھرتا۔ ہر صبح تو اس کی قرات کرتا ہے۔ میں نے سوچا تیری سینچری پوری کرا دیتا ہوں۔ اسی لیے لایا۔ بول انکاری ہے اپنے اس تبصرے سے؟“

    ”نہیں مائی باپ یہ آدھا سچ ہے۔ تبصرہ میرا ہی ہے لیکن میں نے ان سب کو کبھی ہاتھ بھی نہ لگایا۔ میں تو انکی جسامت دیکھ کر ہی غش کھا گیا۔ بس ادارہ ارباب خوشامد و چاپلوسی کا حکم تھا ان پر دھانسو قسم کا تبصرہ لکھنا ہے۔ پیسے اچھے ملے تو لکھ دیا۔ قسم اللہ کی میں نے تو انہیں کبھی کھول کر دیکھا بھی نہیں!“

    ”چل مرغا بن جا پھر۔ تیری یہ ہی سزا ہے۔“ جیلر نے کہا۔ اور مالش بھوپالی ایک کونے میں مرغا بن گیا۔

    ”ہاں بھئی تو۔۔۔ شیدے میدے۔ تو بہت ہی خاص چمچہ ہے اس ادب کا۔تو نے ان پر تھوک کے حساب سے تجزیے لکھے ہیں۔ اب کیا تکلیف ہے تجھے انہیں پڑھنے میں۔“

    ”سرکار وہ تبصرے میں نے نہیں لکھے۔ وہ کالج کے لونڈوں نے مجھے لکھ کر دیے تھے۔ سرکار آپ کا کوئی ناول ہے تو مجھے دیجئے۔ میں آپکو ادب کا سب سے بڑا خدا کھڑے کھڑے بنا دونگا۔“ میدا شیدا جیلر کی چاپلوسی کرنا شروع ہوا تو اس نے کہا، ”پتر میدے شیدے تیرے جیسے مراثیوں کو اوقات میں لانا میں جانتا ہوں۔ تو میرے ناول پر کھڑے کھڑے نہیں مرغا بن کر تبصرہ لکھے گا۔ جا کھڑا ہو جا مالش بھوپالی کے ساتھ اور مرغا بن جا۔ یہ کہنے کی دیر تھی کہ باقی سب ناقدین بغیر جیلر کے حکم جہاں جہاں کھڑے تھے وہیں مرغا بن گئے۔

    جیلر خدا ترس تھا۔ چند منٹوں بعد سب کو کھڑا ہونے کا حکم دیا اور پوچھا کہ وہ سچ سچ بتائیں کیا پڑھنا چاہتے ہیں۔ سب کے سب فلمی رسائل (باتصویر) تک رسائی چاہتے تھے!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے