الہ دین کا چراغ

عذرا نقوی

الہ دین کا چراغ

عذرا نقوی

MORE BYعذرا نقوی

    شادی میں آئے ہوئے سارے مہمان رخصت ہو چکے تھے ،آج ہماری روانگی تھی۔اس بار اماں نے اپنے میکے کے گاؤں سے ایک بچے کو ہمارے ساتھ جانے پر راضی کر لیا تھا۔ ا س بار منو بھی ہمارے ساتھ جا رہا تھا ۔ ڈیوڑھی کے پاس سب سامان بندھا ہو ا رکھا تھا، باہر جیپ تیار کھڑی تھی۔منو برآمدے کے ستون سے لپٹا کھڑا تھا، اس کی ماں وہیں قریب میں فرش پر ُ اکڑوں بیٹھی اسے سمجھا رہی تھی۔

    ’’ ارے دلہن بہت اچھے سے رکھہیں ، اسکول ماں بھرتی کریہیں، جا منوا ، کونو پریسانی کی بات ناہیں ہے۔‘‘

    وہ نیچی نظریں کئے کھٹرا رہا۔دبلا پتلا سا ، کا لی رنگت والا یہ لڑکا شاید دس برس کا ہوگا۔ اس کی ماں کو بھی اس کی صحیح عمر بھی نہیں معلوم تھی۔میں نے اس کا ہاتھ پکٹر کر اپنے پاس پلنگ پر بٹھا لیا۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر دلاسا دیا۔

    ‘‘ دیکھو ہم تمکو گھمانے لے جا رہے ہیں ۔ خوب کھانا پینا ، طاقتوراور موٹے ہوجاؤ گے۔ اسکول میں بھرتی کرایءں گے، اور پھر تم روز ٹی وی بھی دیکھنا۔ تھوڑے دن بعد گھوم پھر کر آجانا اپنی اماں کے پاس‘‘۔وہ یوں ہی سر جھکائے کھڑ ا رہا۔

    میری پا نچ سالہ بیٹی آفرین کے لئے یہ سب کچھ بہت دلچسپی کا سامان تھا۔وہ اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولی۔

    ’’ سنو ہمارے پاس ایک خرگوش اور ایک بلی بھی ہے۔ تم اس سے کھیلنا ‘‘ ۔

    اس کی ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔

    ’’ جا بچو ا ! تہری زندگی بن جائی ، دلہن اور چچی بہوت ہی اچھی ہیں، یہاں تہرے چھ ٹھو بھائی بہن ہیں، پیٹ بھر کھائے کو بھی نہ ملی ‘‘۔

    جیپ میں پیچھے بیٹھا منو بہت دیر تک مسجد کے سامنے والے نیم کے پیڑ کے نیچے کھڑے اپنے کئی بھائی بہنوں کو ہاتھ ہلاتا رہا۔اس کاایک چھوٹا ننگ دھڑنگ بھائی، کافی دور تک گاؤں کے کئی اور لڑکوں کیساتھ جیپ کے پیچھے پیچھے دوڑتا رہا۔

    علی گڑھ تک ٹرین کے لمبے سفر کے دوران وہ مستقل کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر جھانکتا رہا۔ آفرین اس کی موجودگی میں بہت دلچسپی لے رہی تھی ۔

    ’’ا می اس کا ایڈمیشن ہمارے اسکول میں ہوگا ‘‘۔

    اسلم نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔‘‘ دیکھا جائے گا۔ ‘‘

    ’’ مگرابو، یہ ایڈمیشن ٹسٹ پاس کرلے گا، اسے ساری اے بی سی ڈی آتی ہے؟سو تک گنتی آتی ہے ؟ کون سی کلاس میں جائے گا، امی؟‘‘

    ’’امی !یہ کون سے کمرے میں رہے گا۔میرے کمرے میں؟‘‘

    ’’ افوہ! بھئی تم تو دماغ کھا گئیں ، جب گھر پہنچیں گے تو دیکھا جائے گا۔‘‘

    میں نے اس کی کلرنگُ بک اور اور رنگین پنسلوں کا ڈبہ بیگ سے نکال کر دیں تاکہ اس کے سوالات سے تھوڑی دیر کیلئے چھٹکارا ملے۔

    مگر سوالات تو بہت سے ہمارے سامنے تھے۔منو کے بارے میں جو کشمکش اور مکا لمے میرے اور اسلم کے دماغ میں چل رہا تھے ۔ اسے ہم دونوں جانتے تھے لیکن ایک دوسرے سے کچھ کہتے ہوئے ڈر رہے تھے۔

    میں بظاہر ریل کی کھڑکی سے با ہر دیکھ رہی تھی لیکن دل ہی دل میں خود سے الجھ رہی تھی ۔۔۔ اس طرح کسی کی اولاد کو ماں باپ سے چھڑا کر گھر کے کام کاج کے لئے ساتھ لے جانا ۔۔۔۔ جب اس کی ماں اس کا ہاتھ پکڑ کر تقریباََ اسے گھیٹتی ہوئی لائی تھی تو مجھے ایسا لگا تھا جیسے کسی بکرے کو قربانی کے لئے لے جایا جا رہا ہو۔

    اونہہ ! میں نے سر جھٹک کر سوچا کہ آخر ہمارے پڑوس میں اشرف عالم صاحب کی بیوی بھی تو ایک سات آٹھ سال کے بچے کو لے کر آئیتھیں۔ تین سال سے ان ہی کے پاس ہے ، دن بھر ِ پھرکی کی طرح’کام کرتا ہے۔ مسز عالم کے گھر ملنے جاؤ تو وہ کیسے مزے سے بیٹھی باتیں کرتی رہتی تھیں اور وہ دس برس کا بچہ چائے کی ٹرے سجا کر لاتا تھا۔ جب آیا تھا تو سوکھا مارا تھا اب اچھا خاصہ ہو گیا ہے،تن پر بوٹی چڑھ گئی ہے۔۔

    ۔ میں نے اپنے دل کو دلاسہ دیا ،منو بھی تو اتنا دبلاپتلا سا ہے، کم سے کم ہمارے گھر اسے پیٹ بھر کھانے کو تو مل جائے گا۔ ہم اس کو پڑھائیں گے ضرور، کسی قا بل بنا دیں گے، کوئی ہنر سکھوا دیں گے ورنہ یہ نہ جانے کہاں قسمت پھوڑے گا۔ اس کی ماں تو اسے بمبئی اپنے بھائی کے پاس بھیجنے والی تھی۔۔۔وہاں جاکر کون سا تیر مار لیتا ، کسی چائے خانے یا ڈھابے میں میزیں صاف کر تا اور برتن دھوتا ،ہو سکتا ہے کسی غلط کام میں پھنس جاتا ۔۔۔میرے دماغ میں وہ ساری فلمیں گھوم گئیں جو ایسے بچوں کے بارے میں دیکھی تھیں۔۔۔۔ منو کو تو گھر کے فرد کی طرح رکھیں گے ہم لوگ ۔ یہ سب سوچ کر میرے دل کو ذرا سکون ہوا ۔

    گھر پہنچتے ہی منو کی میزبانی کی ذمہ داری آفرین نے لے لی، اسے اپنی کتابیں دکھائیں، بلی اور خر گوش سے ملوایا۔ دو پہر کو کھانے کے وقت جب سب لوگ میز پر بیٹھے تو آفرین نے منو کو بھی کھانے کے لئے آواز دی۔ میں نے اور اسلم نے گڑبڑاکر ایک دوسرے کو دیکھا ، اماں نے آفرین سے کہا ۔

    ’’ باولی ہوئی ہو، اس کا کیا کام ہے یہاں، وہ کھا لے گا بعد میں وہیں باورچی خانے میں بیٹھ کر‘‘۔

    مجھ سے نہیں رہا گیا، ایک پلیٹ میں کھانا نکال کر منو کو دیا ، وہ باروچی خانے میں بیٹھ کر کھانا کھانے لگا۔ رات کے کو کھانے کے وقت آفرین نے اپنی پلیٹ اٹھائی اور باروچی خانے میں منو کے پاس جا کر کھانا کھانے لگی۔ اماں نے اس ڈانٹ کر واپس میز پر بلایا۔ میں اور اسلم سر جھکائے کھانا کھاتے رہے۔

    ہمارے گھر میں ایک بوا صبح شام آگر روٹی پکاتی تھیں اور برتن دھوتی تھیں۔ باقی کھانا میں خود بناتی تھی ۔ مہترانی آکر جھاڑو پونچھا کرتی تھی۔ ایک پارٹ ٹائم مالی آکر لان کی دیکھ بھال کرتا تھا۔ گھر میں ہم دونوں میاں بیوی، ہماری بیٹی آفرین کے علاوہ اسلم کی ماں اور چھوٹا بھائی اختربھی رہتا تھا جو یونیورسٹی میں انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کررہا تھا اسلم جب سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ ہوئے تھے تو روز شام کو اور اتوار کے پورے دن ان سے ملنے جلنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا ، مستقل چائے بنانا ہوتا تھا۔اور پھر اختر کے دوست احباب کا مستقل آنا جانا تھا۔ اماں کے بھی بہت سے چھوٹے موٹے کا م تھے جن کے لئے مجھے دن بھر دوڑنا پڑتا تھا۔ جب آفرین چھوٹی تھی تو دن میں اس کی دیکھ بھال کے لئے بو ا کی لڑکی صابرہ آتی تھی ۔ دن میں اس سے اماں کو بھی دوسراہت ہو جاتی تھی اور وہ اپنے خیال میں اس کی تربیت بھی کرتی رہتی تھیں۔

    اب آفرین اسکول جانے لگی ہے اور صابرہ کی بھی شادی ہو گئی اور وہ اپنے سسرال چلی گئی۔ اب دن میں جب میں اسکول چلی جاتی تھی تو اماں بالکل اکیلی ہو جاتی تھیں۔ بوا محلے کے ایک اور گھر میں بھی اوپر کا کام کرتی تھیں اس لئے وہ ہمارے گھر بس دو گھنٹے کے لئے دن میں آتی تھیں۔ مسز عالم نے ہی اماں کو راہ دکھائی تھی کہ وہ بھی ا پنے گاؤں سے کوئی چھوٹا سالڑکا لے آئیں اسے ٹرینڈ کرلیں ۔ان کے کہنے پر اماں نے اپنے میکے کے گاؤں سے ایک لڑکے کا انتظام کیا۔ منو کا باپ اماں کے گھر ہی پلا بڑھا تھا۔ وہ فصل کے زمانے میں کھیتوں پر مزدوری کرتا تھا۔

    ہمارے گھر میں منو کے ذمے بہت سے چھوٹے بڑے کام خود بخود سپرد ہوتے چلے گئے ۔فرج میں ٹھنڈے پانی کی بوتلیں بھر کر رکھنا۔اخترکے جوتوں پر پالش کرنا، جب وہ گاڑی لے کر باہر جائیں توگیٹ کھولنا اور بند کرنا،اختر کے لئے بازار سے دوڑ دوڑ کر سگریٹ لانا ۔نہ جانے اس کے آنے سے پہلے یہ کام کیسے ہوتے تھے۔ منو کو سارا گھر اپنے خیال میں ٹرینڈ کرنے لگا۔ اختر اسے چا ئے بنانا سکھانا چاہتے تھے تاکہ وہ وقت بے وقت ان کے ان کے دوستوں کے لئے چائے بنا سکے۔ ارشد اسے گاڑی دھوناسکھانا چاہتے تھے، میں اسے گھر کے فرنیچر کے جھاڑ پونچھ کرنا سکھانا چاہتی تھی۔آفرین اس کے ساتھ کھیلنا چاہتی تھی۔اماں چاہتی تھیں کہ وہ انکے پاؤں دباتا رہے ۔لیکن منوکا سب سے پسندیدہ کام بازار سے سودا لانا تھا۔

    وہ اپنے آپ بھی بہت کچھ دھیرے دھیرے سیکھ رہا تھا۔ اس نے خود ہی برآمدے میں لگے ہوئے بڑے کلاک میں وقت دیکھنا سیکھ لیا یا شاید آفرین نے قابلہ بن کر سکھا دیا ہوگا۔ منو کو یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ٹی وی پر کون ساپروگرام کب اور کون سے دن آتا ہے۔

    دن گذرتے گئے ، دیکھتے دیکھتے چھ مہینے گذر گئے، روز مجھے خیال آتا کہ اس کی پڑھائی کا کچھ نہیں ہوا۔ ہر بار میں اپنے دل کو تسلی دیتی کہ ابھی تو وہ یہاں کے طور طریق سکیھ رہا ہے۔ذرا ایڈجسٹ ہوجائے تو شروع کریں گے۔ادوسرا مسئلہ یہ تھا کہ وہ پڑھے گا کہاں؟ چنگی کا اسکول بہت دور تھا اور اس کے علاوہ وہ صبح کے وقت تو اسکول جا بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اماں کے اکیلے رہنے کا مسئلہ تھا۔ شام کی شفٹ میں کوئی اسکول آس پاس نہیں تھا۔

    محلے میں ایک مسجد میں شام کو بچے قرآن شریف پڑھتے تھے۔ میں نے منو کو وہاں بھیجنا شروع کر دیا ۔وہاں اس کا بغدادی قائدہ شروع ہوا۔گنتی تو دس تک اسے آتی تھی میں نے سوچا تھا کہ حساب اسے خود سکھا دوں گی۔شروع شروع میں کئی بار اس سے اس کا سبق سنا تو فر فر’’الف‘‘ سے انار سے لے کر’’ ی‘‘ سے یکہ تک سنا دیتا تھا لیکن اگر درمیان میں سے کسی حروف تہجی پر انگلی رکھ کر پوچھو تو گونگے کا گڑ کھا کر بیٹھ جاتا۔

    کئی بار سوچا کہ کہیں سے خوبصورت سے رنگین قاعدہ ڈھونڈ کر لا دوں گی،لیکن میرا اپنا اسکول کا ہی اتنا کام ہوتا تھا کہ فرصت ہی ملتی تھی ۔ منو اکثر آفرین کے ساتھ اس کی پکچر ڈکشنری میں تصویریں بہت شوق سے دیکھتا تھا لیکن جب ا ماں آفرین کو منو کے ساتھ سر جوڑے بیٹھے دیکھتی تھیں تو فوراََ منو کو ڈانٹ کر کسی کام کے لئے بلالیتی تھیں۔

    تم یہاں تصویریں دیکھنے آئے ہو یا کام کرنے آئے ہو‘‘۔

    وہ مجھے سمجھانے لگیں۔ ’’ لڑکی کا معاملہ ہے، یہ گاؤں کے لڑکے بہت گنوں والے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی یوں ڈھیل دو گی تو کھیل میں پڑ جائے گا ، بالکل چوپٹ ہو جائے گا۔‘‘

    ایک دن اختر نے کہا۔

    ’’ بھابھی یہ جو آپ منو کو اپنے خیال میں مسجد میں قاعدہ پڑھنے بھیجتی ہیں یہ حضرت وہاں جاتے ہی نہیں۔ ادھر ادھر مڑگشت کرتے رہتے ہیں۔‘‘

    ُ ُبو ا نے منو سے شروع ہی سے حریفانہ رویہ اختیار کرلیا تھا۔وہ اس بارے میں کیوں نہ گل افشانی کرتیں۔

    ’’ بیگم صاحب ، کون سا کلکٹر لگ جائے گا پڑھ کر یہ ، میں نے خود میرے تیرے گھر برتن مانجھ کر اپنے چھوٹے والے لونڈے کوا سکول میں بھرتی کرایا تھا ، اب دسویں کا امتحان پاس کرکے ڈنڈے بجا رہا ہے ۔ رکشہ وہ اب کھینچے گا نہیں، میں نے کہا میڈیکل کالج کے سامنے چائے کا ڈھابا لگا لے تو اس کی انسلیٹ ہوتی ہے ، کھانے کو اسے اچھا چاہئے ، پتلون ، بشٹ کے علاو ہ کپڑا نہیں پہنے گا لاٹ صاحب۔‘بس کہتا ہے کہ یونسٹی (یونیورسٹی) میں چپراسی کی نوکرے لگے کی تو بس وہی کروں گا‘‘‘

    ۔’’اور کیا، آدھا تیتر آدھا بٹیر کس کا م کا۔ ارے و یسے بھی منو کا تو دماغ ہی بند ہے۔ پڑھنے والا ہوتا تو کب کا سیکھ گیا ہوتا۔بس روز شام کو پڑھنے کے بہانے دو گھنٹے کے لئے غائب ‘‘ ۔اماں نے ہاں میں ہاں ملائی

    مجھے معلوم تھا کہ مسجد کے مولوی صاحب مغرب کی نماز کے بعد نیم اندھیرے کمرے میں دس بارہ بچوں کو ڈانٹ ڈانٹ کرقاعدہ پڑھاتے ہیں ا ور بچے جھوم جھوم کر سبق رٹتے رہتے ہیں۔ مولوی صاحب شرارت کرنے پر بچوں کو قبر کے عذاب سے بھی ڈراتے رہتے ہیں ۔

    منو کی تعلیم کے سلسلے میں میرا احساس جرم پھر تھوڑی دیر کے لئے جاگا تو میں اس کے لئے ڈھونڈ کر چکنے کا غذ والا رنگین اردو کا قاعدہ، پنسل اور کاپی لائی ۔ آفرین نے اسے اپنا ایک اچھا سے پنسل باکس ، ربڑ اور شارپنر بھی دے دیا اور اس کا سار ا پڑھائی لکھائی کا سامان ا پنے ایک پرانے بستے میں رکھ دیا۔

    میں نے کئی دن بیٹھ کر منو کو پڑھایا ، حروف تہجی کو جوڑ کر دو حرفی الفاظ پڑھنا سکھا نے شروع کئے ا و ر سوچا کہ گنتی لکھناسکھا دوں تو بعد میں اسے سودا سلف کا حساب لکھنا آجائے گا تو مجھے ہی فائدہ ہوگا۔ وہ کاپی پر لکھتے میں کبھی لائن پر نہیں لکھتا تھا، گھڑی گھڑی پنسل چھیلتا رہتا تھا ۔میں اسکول میں بچوں کو پڑھا کر دن بھر تھک جاتی تھی ، منو سے سر کھپانے کا نہ وقت ہوتا تھا نہ طاقت۔ اماں سے کہا کہ آپ ہی اردو پڑھا دیا کریں مگر ان کو تو دن بھر نماز اور وظیفوں سے فرصت نہیں ہوتی تھی۔

    اماں مجھے سمجھاتی تھیں ’’ ارے یہُ گھنا ہے۔ عمر اس کی کم نہیں ہے۔ اچھا خاصہ بارہ سال کا ہوگا، کاٹھی ایسی ہے کہ بچہ لگتا ہے۔ ارے اس کا باپ بھی ایسا ہی کڑھ مغز تھا۔‘‘

    اختر سے کہا کہ ایک آدھ گھنٹہ روز اسے پڑھا دیا کرے تو وہ مذاق میں ٹال گئے ۔

    ’’اچھا بھابی ! پہلے یہ بتا کہ ڈاکٹر بنے گا یا میری طرح انجینئر بنے گا‘‘۔

    گرمی کی چھٹیوں میں جب ہم لوگ کچھ دن کے لئے گاؤں جاتے تو وہ بھی ساتھ جاتا اور اپنی ماں سے مل آتا ۔ اس کی کوئی لگی بندھی تنخواہ نہیں تھی۔ اس کی ماں گاؤں میں ہمارے جیٹھ سے غلہ لیا کرتی تھی۔ ہم گاہے بگاہے ہزار پانچ سو روپے اس کے گھر بھیج دیاکرتے تھے۔

    ہمارا بیٹا جمال پیدا ہوا، سارے گھر کی توجہ اس کی طرف مبذول ہوگئی۔ آفرین نے اسکول میں نئی سہیلیاں بنا لیں تھیں۔ اب منو کا جی بھی آفرین کے ساتھ کھیلنے میں نہیں لگتا تھا۔ ا وہ زیادہ تر بازار کے کام کرنے کے چکر میں رہتا تھا ایک کام کو بھیجو تو سمجھو کہ گھنٹے بھر کی چھٹی ہوجاتی تھی۔ ٹی وی پر وہ اپنے آپ گانوں کے ویڈیو والا چینل لگا لیتا تھا۔ سارے فلمی اداکاروں اور اداکاراؤں کے نام اسے یاد ہو گئے تھے۔

    منو کا قد بھی بڑھتا جا رہا تھا اس کے کاموں کی لسٹ بھی طویل ہوتی جارہی تھی۔ میں نے اسے کپڑوں پر استری کرنا بھی سکھا دیا تھا ۔ ٹوسٹر میں توس سینکنے سکھا دئے ۔ آملیٹ بھی وہ بنا لیتا تھا، اس کی وجہ سے مجھے صبح اسکول جاتے وقت کی بھاگ دوڑ سے نجات مل گئی۔ منو میز پر برتن لگا تا، آملیٹ بناتا، توس سینکتا گرم گرم چائے بنا کر دیتا اور ہم سب تیار ہوکر ناشتہ کرکے اپنے اپنے کا م پر چلے جاتے۔ وہ ہی جھوٹے برتن سمیٹا، میز صاف کرتا، ڈرائنگ روم کی جھاڑ پونچھ کرتا، اور اگر مہترانی نہ آئے تو سارے گھر میں جھاڑو اورپوچھا لگاتا تھا۔ قصائی کی دکان سے گوشت بھی وہی لانے لگا تھا۔ دوپہر کو کھانے کے برتن لگا کر تیار رکھتا تھا۔ کھانے کے بعد میز صاف کرتا تھا۔ اسکول میں بھی استانیاں مجھ سے کہنے لگیں تھیں کہ اب میں کافی ریلکس لگتی ہوں ۔ شام کو میں اسے سودا سلف لانے بھیج دیتی تھی۔ سودے کے پیسوں کا حساب وہ کسی نہ کسی طرح ٹھیک سے کر لیا کرتا تھا۔ہمارے گھر کا ٹیلی فون نمبر، رشتہ داروں کے ٹیلی فون نمبر ا س نے خوب یادکر لئے تھے۔

    وقت یوں ہی دبے پاؤں گذرتا گیا۔آفرین اب ہائی اسکول میں آگئی تھی اور جمال تیسری کلاس میں آگیا تھا۔ میں اسکول کی ہیڈ مسٹرس ہو گئی ۔منو جوان ہو گیا تھا۔ اکثر لہک لہک کر فلمی گانے گاتا۔ آئینے کے سامنے بار بار جاکر بال بناتا۔اماں کو اس کی یہ ادائیں سخت زہر لگتی تھیں۔مردم شماری کے لئے سرکاری کارندے گھر گھر جاکر شمار کررہے تھے۔ منو کو آفرین نے اردو میں اپنا نام لکھنا سکھا دیا تھا لہذا اس کے نام کے ساتھ پڑھے لکھا درج کیا گیا۔

    دوسرے دن میں نے اسے جمال کے نئے کمپیوٹر کی جھاڑ پونچھ کرنا سکھاتے ہوئے سوچا کہ میں منو کے لئے یونیورسٹی کے تعلیمِ بالغاں کے شعبے سے جاکر ایک اردو پڑھانے کاتعلیمی Kit لے آؤ ں گی ۔ایک مہینے بعد وہ کٹ آیا ، ایک مہینے میں اسے کہیں رکھ کر بھول گئی۔ اس کے بعد ہمارے اسکول میں استانیوں کے لئے بچوں کے پڑھانے کے نئے اور دلچسپ طریقوں کے بارے میں ورک شاپ شروع ہوگئی تو پورا مہینہ اس مصروفیت میں گذر گیا ۔

    میری نند ریحانہ امریکہ سے اپنے بچوں کے ساتھ آگئیں۔گھر میں خوب چہل پہل ہوگئی ۔ ایک اتوار کی صبح ہم سب ناشتے کی میز پرجمع تھے کہ ایک دم ریحانہ کو اپنے بچپن کی یاد آگئی جب وہ صبح صبح گرم گرم جلییاں کھاتی تھی ۔ میں نے منو کو فوراََ باز ار بھیجا اور وہ سائیکل پر گیا او ر دس منٹ میں گرم گرم جلیبیاں میز پر موجود تھیں۔

    ریحانہ نے کہا۔

    ’’ بھابھی انڈیا میں یہ ہی تو ٹھاٹ ہیں، منو تو آپ کے لئے الہ دین کے چراغ والا جن ہے ۔ رات دن حاضر ہے سب کا حکم بجانے کیلئے‘‘۔

    اماں نے دھیرے سے کہا۔

    ’’ ارے ذرا آہستہ بولو ورنہ اس کا دماغ خراب ہو جائے گا۔بچپن سے اب تک ہم نے اسکی ٹریننگ کی ہے، کوئی آسان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY