عنکبوت

شموئل احمد

عنکبوت

شموئل احمد

MORE BYشموئل احمد

    وہ اب کیفے جاتا تھا۔۔۔

    گھر پر چَٹنگ مشکل تھی۔ نجمہ بھی دل چسپی لینے لگی تھی۔ وہ نِٹ پر ہوتا اور جھنجھلا جاتا۔ نجمہ کسی نہ کسی بہانے آ جاتی اور اسکرین پر نظریں جمائے رہتی۔ اس دن اس نے ٹوک بھی دیا تھا۔ ’’یہ لیڈی ڈائنا ٹو تھاوزنڈ کیا کہہ رہی ہے۔؟‘‘ وہ فوراً سائن آؤٹ (sign out) کر گیا تھا۔ وہ اس وقت لورز لین (lovers lane) میں تھا اور لیڈی ڈائنا سے اس کی سکس چَٹنگ چل رہی تھی۔ نجمہ نے پھر کچھ پوچھا نہیں تھا اور اس کو یہ سوچ کر راحت ملی تھی کہ وہ چَٹنگ کی نوعیت کو بھانپ نہیں سکی تھی۔

    وہ کیفے پہلے بھی جاتا تھا چَٹنگ کی لت وہیں پڑی لیکن وہاں فری محسوس نہیں کرتا تھا۔ خاص کر پرون سائٹ سے پوری طرح لطف اندوز ہونا مشکل تھا۔ لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ہر کوئی جھانکتا کہ کیبن خالی ہے کہ نہیں؟ کیفے کا مالک بھی ہر گھنٹے کھٹ کھٹ کرتا اور سارا مزہ کرکرا ہو جاتا۔ آخر اس نے کمپیوٹر خرید لیا اور انٹر نیٹ کا کنکش بھی لے لیا۔ لیکن اب نجمہ۔۔۔

    نجمہ کو پہلے کمپیوٹر سے دل چسپی نہیں تھی۔ بی اے کی طالبہ تھی تو شادی ہو گئی تھی۔ وہ امور خانہ میں طاق تھی اور گھر کی چہار دیواری میں رہنا پسند کرتی تھی۔ کمپیوٹر آیا تو بس خوش ہوئی کہ گھر میں نئی چیز آ گئی۔ اس نے دلچسپی کا ایسا مظاہرہ نہیں کیا لیکن جب نِٹ کا کنکشن لگا اور امریکہ میں بڑے بھائی سے باتیں ہونے لگیں تو وہ حیران رہ گئی۔ حیرت اس بات پر تھی کہ سات سمندر پار ایک شخص بیٹھا جو بھی ٹائپ کرتا ہے وہ اسکرین پر اگ آتا ہے۔ یہ جان کر وہ اور بھی خوش ہوئی کہ اس طرح امریکہ بات کرنے میں ٹیلی فون کا بل بھی نہیں کے برابر ہوگا۔ نجمہ نے ذرا دلچسپی دکھائی تو اس نے کچھ تکنیکی باتیں سمجھائیں۔

    ’’کمپیوٹر چلانا بہت آسان ہے نجمہ ۔ بس تمہیں کھولنا اور بند کرنا آنا چاہیے۔‘‘

    ’’اور چَیٹنگ۔۔۔؟‘‘

    ’’چَیٹنگ تو اور بھی آسان ہے ۔ اس کے لیے نٹ پر آنا ہوتا ہے۔‘‘

    اس نے بتایا کہ کمپیوٹر کس طرح آن کرتے ہیں۔

    ’’پہلے بیٹری آن کرو اور یہ ہے کمپیوٹر کا بٹن۔ اسے دباؤ۔ بس کمپیوٹر آن ۔!لیکن بٹن دبا کر بند نہیں کرنا چاہیے بلکہ شٹ ڈاؤن کرتے ہیں۔ اس کاطریقہ ہے۔ یہ ہے ماؤس (mouse) ۔۔۔اسے چلاؤگی تو کر سر (curser) چلےگا ۔۔۔‘‘

    اس نے نجمہ کا ہاتھ ماؤس پر رکھا۔

    ’’یہ دیکھو کرسر چل رہا ہے۔اسے اسٹارٹ بٹن پر لاؤ، یہاں۔۔۔ اب کلک (click) کرتے ہیں۔ اس نے اپنی انگلی سے نجمہ کی بائیں انگلی دبائی ’’کلک‘‘ دیکھو ۔ ایک فہرست سامنے آئی۔ اب تم کیا چاہتی ہو؟ اگر پروگرام میں جانا چاہتی ہو تو پروگرام کلک کرو، اس طرح۔۔۔ دیکھو! کمپیوٹر پوچھتا ہے۔۔۔ وہاٹ یو وانٹ کمپیوٹر ٹو ڈو۔۔۔؟ تمہیں بند کرنا ہے تو یہ ہے شٹ ڈاؤن کے لیے اوکے بٹن (O. K. button) کلک۔ ’’اوکے‘‘کمپیوٹر بند۔

    نجمہ کو لطف آیا۔ اس نے کمپیوٹر کھولنا اور بند کرنا جلد ہی سیکھ لیا ۔ پھر اس نے نٹ لگانا بتایا اور چَیٹنگ کے بھی اصول سمجھائے۔ وہ یہ کہ اس کے لیے ضروری ہے ایک ’’آئی ڈی۔‘‘

    آئی ڈی اسے ہمیشہ سے پراسرار لگی تھی لیکن شروع شروع میں یہ بات بھی اس کی سمجھ سے پرے تھی کہ لوگ اپنے اصل نام کی جگہ فرضی آئی ڈی کیوں اپناتے ہیں۔۔۔؟

    اس نے چَٹنگ سِفی ویب سائٹ سے شروع کی تھی اور اپنی وہی آئی ڈی (ID) رکھی جو اس کا نام تھا۔۔۔ محمد صلاح الدین انصاری۔۔۔! ایک دوست نے سمجھایا کہ سب سے پہلے اے۔ اس۔ ال (asl) پوچھتے ہیں یعنی ایج سکس اور لوکیشن۔

    پہلے پہلے وہ سِفی(sify) کے لورز لین(lovers lane) میں داخل ہوا تو وہاں سو سے زیادہ چیٹرز اپنے فرضی نام کے ساتھ موجود تھے۔ اس نے ہائی ہیلو بھی کہا لیکن کسی نے گھاس نہیں ڈالی تھی۔ تب وہ چَٹنگ کے گُر سے پوری طرح واقف بھی نہیں تھا۔ اس کے دوست نے جب یاہو میسنجر (yahoo messinger) لوڈ (load) کیا تو اس کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ اس نے جانا کہ چٹنگ کا مطلب سائبر سکس(syber sex) سے لطف اندوز ہونا ہے اور یہ کہ صرف یاہُو ہی نہیں کسی بھی ویب سائٹ کا چیٹنگ روم اسی مقصد کے لیے ہوتا ہے۔ یاہُو میں تو اس کی بھرمار تھی بلکہ یہاں ہر طرح کے جنسی رجحانات کو خاطر میں لایا گیا تھا۔ ہم جنسی عورتوں کے لیے لسبیئن لاونج (lesbian lounge) اور مردوں کے لیے گے مینز روم (gay man's room) شادی شدہ لوگوں کے لیے میرڈ اینڈ فلرٹ (married and flirt) نام کے روم کی سہولت تھی اور پھر سنگل اگین (single again) ڈسکو انفرو (disco infro)، لَو سکسٹیز (love 60s) لَو ففٹیز (love 50s) لَوفورٹیز (love 40s) جیسے سینکڑوں روم تھے جہاں کھل کر سائبر ہوتا تھا۔

    دوست نے مشورہ دیا کہ اپنی آئی ڈی بدلے۔

    ’’تمہاری آئی ڈی واعظ کی داڑھی کی طرح لگتی ہے۔۔۔ اسپائڈر مین (spider man) سکس ہنٹر (sex hunter) پین کلر (pain killer) لائنس جنگل (lions jungle)، سکسی پرنس(sex prins) ریڈ ہارٹ لیڈی (red hart lady) اور ہائی وولٹ ٹو تھاؤزنڈ (high volt 2000)کے درمیان صلاح الدین انصاری۔۔۔؟‘‘

    دوست خوب ہنسا۔

    ’’یہی وجہ ہے کہ تم چَٹنگ روم میں کلک کرتے رہتے ہو اور کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔‘‘

    پھر اس نے سائبر کلچر پر ایک لمبی تقریر کی اور آئی ڈی کی اہمیت سمجھائی کہ آئی ڈی کا مطلب ہے ’’تم جو ہو وہ نہیں ہو۔ بلکہ وہ ہو جو نہیں ہو سکتے۔! یہی صارفی کلچر کا تقاضا ہے۔ اس کلچر میں وہی دکھنا ہے جو تم نہیں ہو۔‘‘

    بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تو اس نے مزید سمجھایا کہ سائبر کی دنیا میں جھوٹ اور سچ گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ تم انہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتے۔ یہ دنیا جتنی جھوٹی ہے اتنی سچی بھی ہے۔ تم جب اپنی آئی ڈی وضع کرتے ہو تو تم ایک جھوٹ خلق کرتے ہو اور سائبر کی دنیا میں ہر جھوٹ ایک سچ ہے۔

    وہ کچھ دنوں تک ادھیڑ بن میں رہا کہ اپنے لیے کون سی آئی ڈی منتخب کرے۔ ایک دن غنودگی کے عالم میں ایک نام ذہن میں ابھرا۔ ’ٹائیگر اووڈ(tiger wood)وہ خوش ہوا اور حیران بھی کہ داخلیت کے کس گوشے میں اس کی یہ پہچان چھپی بیٹھی ہے۔؟ اس کو لگا ’ٹائیگر وؤڈ‘ اس کی ذات کے پہلو سے طلوع ہوا ہے۔ وہ واقعی ٹائیگر ہے۔ چَیٹنگ کے جنگل میں شکار ڈھونڈتا ہوا۔

    ’’ہائی۔!‘‘

    ’’ہائی۔!‘‘

    ’’اے اس ال پلیز۔!‘‘

    ’’میل تھرٹی۔انڈیا۔‘‘

    ’’ہائی!‘‘

    ’’ہائی!‘‘

    اب میل اور میل سے کیا چَٹنگ ہوتی۔ چَیٹنگ ہوتی ہے میل اور فمیل میں۔!

    شروع شروع میں اس کو کامیابی نہیں ملی۔ بات اے اس ال سے آگے نہیں بڑھ پاتی لیکن خدا شکّر خوے کو شکّر دیتا ہے۔ وہ لسبین لاونج تھا جہاں شکّر کے کچھ دانے اس کی ہتھیلی پر گرے۔’’ہائی۔‘‘

    ’’ہائی!‘‘

    ’’آر یو میل۔؟‘‘

    ’’یس۔۔‘‘

    ’’وہاٹ یو آر ڈوینگ ان لسبین روم۔؟‘‘

    ’’لُکنگ فور اے پارٹنر۔۔‘‘

    ’’گو ٹو گے مینز روم۔۔‘‘

    ’’آئی ایم ناٹ گے۔‘‘

    ’’او کے۔‘‘

    ’’آر یو فمیل؟‘‘

    ’’یس۔!‘‘

    ’’لسب۔؟‘‘

    ’’نو۔۔‘‘

    ’’وہائے ہیر۔؟

    ’’سیم از یو۔۔‘‘

    ’’وی کین بکم فرینڈ۔؟‘‘

    ’’شیور۔‘‘

    ’’یور گڈ نیم پلیز۔؟‘‘

    ’’مادھری سکسینہ۔‘‘

    ’’لوکیشن۔؟‘‘

    ’’کیلی فورنیا۔ بٹ آئی ہیل فرام انڈیا۔‘‘

    ’’واو ۔می ٹو۔‘‘

    ’’آر یو میرڈ مادھری۔؟‘‘

    ’’ڈائیورسی۔!‘‘

    ’’کین آئی ایڈ یو۔؟‘‘

    ’’شیور۔‘‘

    چَیٹنگ ونڈو (window) کے پلس(plus) کے نشان پر اس نے کلک کیا ۔ یہ پہلی فمیل آئی ڈی (female ID) تھی جو اس کی مسنجر لسٹ میں آئی لیکن زیادہ بات نہیں ہو سکی۔ اس نے بتایا کہ اس کا بیٹا آ گیا ہے اور بیٹے کی موجودگی میں وہ زیادہ چَیٹنگ نہیں کر سکتی لیکن کل اسی وقت آئےگی۔ نجمہ بھی اسکول سے آگئی تھی۔ اس نے بھی سائن آؤٹ کرنا بہتر سمجھا۔

    وہ خوش تھا۔ ایک دوست تو ملی۔ اب چَیٹنگ ہوگی لیکن عمر کا فاصلہ ہے۔ اس کے پاس جوان بیٹا ہے۔ وہ چالیس کی ہوگی اور خود تیس کا ہے۔ اس نے عمر پوچھی تو چالیس ہی بتائے گا اور نام۔؟ نام برجیش ملک۔! وہ مسکرایا ۔ سائبر کی دنیا میں ہر جھوٹ ایک سچ ہے۔

    وہ دوسرے دن بھی آئی۔ نجمہ پڑوس میں گئی ہوئی تھی۔ وہ گھر پر اکیلا تھا۔ ہائی ہیلو کے بعد اس نے پوچھا کہ وہ انڈیا میں کہاں رہتا ہے۔ اس نے جھوٹ کہا کہ دلّی میں۔ پھر یہ سوچ کر مسکرا یا کہ دلّی میں رہنا اسٹیٹس سمبل ہے۔ اس نے پوچھا وقت کیا ہوا ہے؟

    ’’وہائٹ از ٹائم دیئر؟‘‘

    ’’ٹین پی ایم۔‘‘

    ’’الیون اے ایم ہیئر۔‘‘

    اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ سیکس کی باتیں کیسے شروع کرے۔؟ یہ مشکل بھی مادھری نے آسان کر دی۔ اس نے پوچھا:

    ’’ آر یو ایلون ۔؟‘‘

    ’’یس۔ اینڈ یو۔؟‘‘

    ’’ آئی ایم آلویز یلون۔۔‘‘

    ’’ آئی ایم وِد یو۔!‘‘

    ’’تھینکس۔‘‘

    ’’یو آر لولی۔۔‘‘

    ’’ یو ٹو۔۔‘‘

    ’’کین آئی کِس یو۔؟‘‘

    ’’شیور۔!‘‘

    ’’تھینکس۔‘‘

    ’’ٹیکنگ یو ان مائی آرمس۔۔‘‘

    ’’اوہ یس۔‘‘

    ’’پریسنگ یو ر ہارٹ اگینسٹ مائی چیسٹ۔۔‘‘

    ’’ونڈر فل۔‘‘

    ’’یو آر ہینگنگ ان مائی آرمس۔۔‘‘

    ’’اوہ ہ ہ ۔۔‘‘

    ’’یور فیٹ ریز ابو گراؤنڈ۔۔‘‘

    ’’یس ڈارلنگ۔ کیری آن۔‘‘

    ’’ٹک یو ٹو بیڈ۔‘‘

    ’’نائس۔.!‘‘

    ’’لے ینگ سائیڈ بائی سائڈ۔۔‘‘

    ’’واو۔!‘‘

    ’’کسنگ یور نک۔ یور ایر لابس۔۔‘‘

    ’’آہ۔آئی لائک اِٹ۔۔‘‘

    ’’کیپنگ مائی لپ اپن یور لپس۔۔‘‘

    ’’ام م م م م۔‘‘

    ’’پشنگ مائی ٹنگ ان ۔‘‘

    ’’اوہ ہ ہ۔‘‘

    اس نے سنسنی سی محسوس کی۔ سائبر جادو جگا رہا تھا۔ جس طرح وہ رسپانس کر رہی تھی تو اس کو لگا واقعی اس کے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر ثبت ہیں۔

    ’’ان زپنگ یور برا۔‘‘

    اور پھر فاصلے مٹنے لگے تھے۔ وہ تھرتھراتی انگلیوں سے ٹائپ کر رہا تھا۔ نظر اسکرین پر تھی۔ الفاظ جسم میں بدل رہے تھے اور خون کی گردش تیز ہو رہی تھی۔

    چَیٹنگ کے آخر میں وہ کسی ملبے کی طرح اس کے جسم پر پڑا تھا۔

    ’’ریلیکسنگ۔‘‘

    ’’یو آر ہاٹ۔۔‘‘

    ’’یو ٹو۔۔‘‘

    اس کو حیرت ہوئی کہ اتنا لطف تو عملی سیکس میں بھی نہیں آتا۔اَیز گڈ اَیز ریل سیکس۔

    کچھ ادھر ادھر کی باتیں بھی ہوئیں۔ مثلاً اس نے بتایا کہ وہ یوپی کی رہنے والی ہے ۔ کیلی فورنیا میں مڈ وائفری کر رہی ہے۔ اس نے خود کو ایک بزنس مین بتایا اور یہ کہ اس کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے۔ مادھری نے اپنی عمر اڑتیس بتائی، اس نے چالیس۔

    اس کو پتا نہیں چلا کہ نجمہ کب گھر آئی۔ وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی وہ سائن آؤٹ کر گیا لیکن اس نے پوچھا تھا کہ کس سے باتیں ہو رہی تھیں تو وہ ٹال گیا تھا۔ اس نے جاننا چاہا کہ بھائی جان سے کس طرح باتیں ہوں گی۔

    ’’دن اور وقت مقرر کرلو اور بھائی جان کو آف لائن میسج بھیجو کہ لاگ اِن کریں۔‘‘ پھر اس نے سمجھایا کہ یاہُو میں آف لائن میسج کس طرح بھیجتے ہیں؟

    وہ خوش تھا، دفتر میں رہ رہ کر مکالمے یاد آرہے تھے۔ وہ کس طرح رسپانس کررہی تھی۔؟ ایسا تو بستر پر بھی نہیں ہوتا۔

    مادھری کے ای میل بھی آنے لگے لیکن اس میں رومانس کی باتیں کم ہوتی تھیں ۔وہ زیادہ گھر کا دکھڑا روتی تھی۔ اس کی بیٹی ڈیپارٹمنٹل سٹور میں سیلز گرل تھی۔ اس کا کوئی بوائے فرینڈ تھا، وہ اس سے ہر دم پیسے مانگتا تھا۔ پیسے نہیں ملنے پر بےرخی دکھاتا۔ تناؤ سے بچنے کے لیے اسے پیسے دینے پڑتے تھے۔ اس طرح اس کی آدھی تنخواہ بوائے فرینڈ لے لیتا تھا۔ بیٹے کا بھی یہی حال تھا۔ اس کی بھی ایک گرل فرینڈ تھی۔ کبھی کبھی وہ گھر سے غائب ہو جاتا اور مادھری پریشان ہو جاتی۔ مادھری نے لکھا تھا کہ بیٹا اس کی کمزوری ہے۔ وہ اس سے جدا نہیں رہ سکتی بل کہ بیٹے کے آگے گڑگڑاتی تھی کہ گرل فرینڈ کو لے کر گھر میں رہے وہ مادھری کے میل کا جواب پابندی سے دیتا تھا۔ تسلی دیتا کہ وقت آنے پر سب ٹھیک ہو جائےگا۔

    اب شکار ملنے لگے تھے۔ لو فورٹیز (love 40s) اس کا پسندیدہ روم تھا اور دیکھتے دیکھتے فہرست میں کئی آئی ڈی جڑ گئی تھی۔ لیڈی ڈائنا ٹو تھاؤزنڈ۔۔۔ ایشین کوئین (asian queen، پرپل کلاوڈ (purple cloud)، پرمیلا گرگ، شکیلہ عارف، مونا لزا تھاؤزنڈ (monalisa 1000)۔ ان سے سکس چَیٹنگ ہوتی تھی لیکن جو رغبت مادھری سے تھی وہ دوسروں سے نہیں ہو سکی۔ مادھری اس کا پہلا پیار تھی۔۔۔ فرسٹ سائبر لَو۔۔۔

    وہ چَیٹنگ کے گر سے جلد واقف ہوگیا۔ آئی ڈی سے عمر کا اندازہ لگا لیتا۔ آئی ڈی جو اصل نام کی طرح لگتی تھی پختہ عمر عورتوں کی ہوتی تھی جیسے پرمیلا گرگ یا شکیلہ عارف۔۔۔ٹین ایجرز عجیب و غریب آئی ڈی رکھتی تھیں مثلاً خوشبو گم نام، تنہا دل وغیرہ ۔خوشبو گم نام سے اس کی ملاقات ایشین کنکشن (asian connection) میں ہوئی تھی۔ وہ بنگلور کی تھی لیکن دبئی میں رہتی تھی ۔میاں سوفٹ ویئر ایجینئر تھا وہ دن بھر گھر میں اکیلی نٹ پر بیٹھی رہتی، یہاں تک کہ آدھی رات کو بھی چَیٹنگ روم میں دیکھی گئی تھی لیکن جنسی گفتگو سے اس کی زیادہ دل چسپی نہیں تھی۔ اسے ایک دوست کی تلاش تھی جس سے اپنے جذبات شیئر کر سکتی۔ اس نے بتایا کہ اس کا میاں شکّی تھا۔ دفتر جاتا تو دروازے میں تالا لگا کر جاتا اور وہ ذلّت کی آگ میں جلتی رہتی۔ اس نے پوچھا تھا کہ دیر رات تک وہ چَیٹنگ کرتی تو میاں آبجکٹ کرتا ہوگا۔ اس کا جواب تھا کہ اس بات سے میاں کی دلچسپی نہیں تھی کہ وہ نٹ پر کیا کرتی ہے ؟ اس کو اپنی نیند سے مطلب تھا۔ ہم بستری کے بعد وہ گدھے کی طرح سوتا تھا اور دن میں اٹھتا تھا۔ پھر اس نے ایک نجی بات بتائی۔ وہ یہ کہ اس کا میاں گھوڑے کی طرح۔۔۔!!

    اس نے خوشبو گم نام سے پیچھا چھڑایا۔ اس کے ساتھ سائبر نہیں ہو سکتا تھا لیکن پرمیلا گرگ اسے پسند تھی وہ ہارنی (harny) تھی اور رائیڈنگ(riding)پسند کرتی تھی۔ اس نے اپنی عمر تیس بتائی تھی لیکن اسے یقین تھا کہ چالیس کے ا وپر ہوگی۔ اس کے دو بچے تھے، شوہر بینکر تھا۔ وہ پہلی ملاقات میں کھل گئی۔ اس نے جب پرمیلا کو اپنی بانہوں میں کھینچا تو وہ اس کے اوپر گری تھی۔ ’’آئی ول رائیڈ یوہنی(I will ride You honey)‘‘

    ’’اوہ۔ شیور۔!‘‘

    ’’ آئی ایم الویز آن ٹاپ۔‘‘

    ’’ویل کم۔‘‘

    پرمیلا کھلاڑی لگی۔وہ خود کو اناڑی محسوس کرنے لگا۔اسکرین پر الفاظ سانپ کی طرح لہرانے لگے ۔سمندر شریانوں میں گردش کرنے لگا، پرندے شور مچانے لگے۔۔۔ وہ سوینگ کرتی۔ سائیڈوائز۔۔۔ سرکلر۔۔۔ وہ ہوش کھو بیٹھا۔ ایسا تجربہ مادھری کے ساتھ بھی نہیں ہوا تھا۔ بہت دنوں تک اس پررائیڈنگ کا نشہ چھایا رہا لیکن پر میلا پھر نظر نہیں آئی۔ اس نے بہت ڈھونڈا۔ مہینوں چیٹنگ روم کی خاک چھانتا رہا، کئی بار آف لائن مسیج بھیجا لیکن اس کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ دوسری بہت ملیں۔ سب کے ساتھ رائیڈنگ بھی ہوئی۔۔۔ مادھری کے ساتھ بھی۔۔۔ لیکن پرمیلا جیسی جست کسی میں نہیں تھی۔

    شکیلہ عارف کو اس نے اسلامی روم میں دیکھا تھا۔ یاہُو کے ریلی جن اینڈ بلیف سکشن میں مذہبی روم تھے۔ بودھ، ہندو، یہودی، کرشچن اور اسلامی روم۔ اس نے چیٹنگ کی۔ شکیلہ اسلامی روم کے کونے میں پڑی ملی۔ اس کو شریک حیات کی تلاش تھی، وہ چھتیس کی تھی اور اردو میں بات کرنا پسند کرتی تھی۔

    ’’سلام۔‘‘

    ’’وعلیکم السلام ۔‘‘

    ’’آپ مسلم ہیں؟‘‘

    ’’جی ہاں!‘‘

    ’’شیعہ یا سنّی؟‘‘

    ’’سنّی۔‘‘

    ’’عمر؟‘‘

    ’’چالیس۔‘‘

    ’’میں چھتیس کی ہوں۔‘‘

    شادی ہو گئی؟‘‘

    نہیں! اور آپ کی ۔؟‘‘

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’آپ نے شادی کیوں نہیں کی؟‘‘

    ’’کوئی ملا نہیں۔‘‘

    ’’مجھے بھی لڑکی نہیں ملی۔‘‘

    ’’آپ کو ایڈ کرلوں؟‘‘

    ’’کیجیے۔‘‘

    دونوں نے ایک دوسرے کو ایڈ کیا۔

    ’’ایک بات کہوں؟‘‘

    ’’کیا؟‘‘

    ’’آپ کو چوم سکتا ہوں؟‘‘

    ’’آپ احمق ہیں کیا ؟‘‘

    ’’احمق تو آپ ہیں کہ موقع کھو رہی ہیں ۔۔‘‘

    ’’معاف کیجئےگا۔ میں اس لیے نہیں آئی۔‘‘

    ’’پھر کس لیے آئی ہیں ؟‘‘

    ’’مجھے رفیق حیات کی تلاش ہے۔‘‘

    ’’آپ دھوکہ اٹھائیں گی۔‘‘

    ’’کیوں؟‘‘

    ’’یہ سائبر ورلڈ ہے۔‘‘

    اس نے چیٹنگ بند کردی اور شکیلہ کی آئی ڈی بھی میسنجر لسٹ سے ڈی لٹ کر دی۔

    گرچہ وہ آفس سے سیدھا گھر آتا تھا لیکن چائے پی کر کیفے چلا جاتا۔ کبھی کبھی نجمہ کسی کام سے باہر گئی ہوتی تو گھر پر چَیٹنگ کرتا۔ اکثر آدھی رات کو بھی اٹھ کر نِٹ پر بیٹھ جاتا لیکن اس وقت محتاط رہتا۔۔۔ نجمہ کی جب نیند کھلتی تو اٹھ کر اسکرین پر نظریں گڑانے لگتی اور اس کو سائن آؤٹ کرنا پڑتا۔

    ایک دن آفس سے آیا تو نجمہ خوش تھی اس نے بتایا کہ اس کی بھائی جان سے چَیٹنگ ہوئی ہے وہ اگلے ماہ ہندوستان آ رہے ہیں۔ اسی دن مادھری کا بھی میل آیا۔ اس کا بیٹا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ دو دن رہ کر چلا گیا۔ دونوں دن بھر لڑتے تھے اور کمرے میں بند ہو جاتے تھے۔ یہ سب دیکھ کر وہ نہیں چاہتی تھی کہ ان کی شادی ہو۔ اس نے جواب میں لکھا کہ یہ سیڈو مسوچسٹک ریلیشن (sadomasochistic relation) ہے اس کے بغیر وہ سیکس کر بھی نہیں سکتے اور وہ اگر نہیں چاہتی کہ شادی ہو تو وجہ یہی ہے کہ وہ بیٹے کی گرل فرینڈ سے جلنے لگی ہے۔

    ایک بار کسی سروج انڈیا نے لسبین لاونج میں اسے مخاطب کیا، عمر پچیس بتائی اور یہ کہ بائی سیکسوئل ہے۔اس سے چیٹنگ دلچسپ رہی ،لیکن کچھ نئے پن کا احساس ہوا۔ وہ ڈاگی (doggie) پسند کرتی تھی ۔ البواینڈ نی آن بیڈ (elbo and knee on bed)۔ فیس ڈاون وارڈ (face downward) چَٹنگ کے آخر میں جب وہ ریلیکس (relax) کر رہا تھا تو سروج انڈیا نے انکشاف کیا کہ وہ میل ہے اور اس کو چوتیا بنا رہا تھا۔ اس کو غصہ بہت آیا لیکن جب تک وہ سائن آوٹ کر چکا تھا ۔ اس کو حیرت ہوئی کہ وہ دھوکا کیسے کھا گیا ؟ لیکن چَیٹنگ کتنی ریَل (real) تھی۔؟کیا پتا پرمیلا گرگ بھی میل ہو۔؟ اور مادھری۔؟ کیا مادھری بھی میل ہے؟ لیکن مادھری کی باتوں میں اسے صداقت محسوس ہوتی تھی۔ جس طرح وہ گھر کی باتوں سے واقف کراتی تھی اور نجی مسائل شیئر کرتی تھی تو اسے اچھا لگتا تھا۔ کبھی موڈ میں ہوتی تو چہکتی اور پرانی فلموں کے گانے سناتی۔ وہ بھی گلے سے گلے ملاتا اور دونوں سیکس کرتے اور اسے لگتا وہ کیفے میں نہیں مادھری کے گھر میں ہے۔

    اس نے سوچا اب ویب کیم (webcame) استعمال کرےگا۔ کیم ٹو کیم (cam2cam) کیمرے کے سامنے دھوکا دینا مشکل تھا لیکن کیفے میں وہ ویب کیم پر کپڑے نہیں اتار سکتا اور گھر پر نجمہ تھی۔

    لیکن آہستہ آہستہ چَیٹنگ سے اکتاہٹ بھی محسوس ہونے لگی۔ نئی آئی ڈی کے ساتھ الفاظ وہی پرانے ہوتے۔ ان کی وہی یکسانیت۔اوہ۔۔۔آہ!ریزنگ یور لیگس۔ اسے لگتا الفاظ مرے ہوئے پرندے کی طرح اسکرین پر تیر رہے ہیں ۔اس نے سوچا چَیٹنگ ترک کر دےگا۔ اس نے جانا بھی کم کر دیا لیکن علّت ہمیشہ اپنا حصہ مانگتی ہے۔ کچھ دنوں کے وقفے پر وہ امپلس محسوس کرتا اور گھنٹوں کیفے میں بیٹھا رہتا۔

    ایک بار فلرٹ روم میں وہ ایسے ہی پھیکے پن کے احساس سے دوچار تھا کہ اسکرین پر نئی آئی ڈی ابھری۔ بیوٹی ان چین۔‘‘(beauty in chain) آئی ڈی اسے پر کشش لگی۔ وہ ہیلو کیے بغیر نہیں رہ سکا۔

    ’’ہیلو۔!‘‘

    ’’ہائی۔!‘‘

    ’’آر یو بیوٹی۔؟‘‘

    ’’یس۔!‘‘

    ’’ آئی ایم بیسٹ۔۔۔‘‘

    ’’ہا۔ہا۔ہا۔بیوٹی اینڈ بیسٹ۔۔۔‘‘

    ’’لوکیشن پلیز۔؟‘‘

    ’’سٹی آف لو۔‘‘

    ’’واو۔می فرام سٹی آف ڈک۔!‘‘

    ’’از اٹ اے بگ سیٹی؟‘‘

    ’’یس ہنی۔!‘‘

    ’’فائن۔!‘‘

    ’’وانٹ ٹو سی اٹ۔۔۔؟‘‘

    ’’کیم!‘‘

    ’’نو کیم!‘‘

    ’’ہاو ٹو سی ۔؟‘‘

    ’’ہولڈ اٹ۔! فیل اٹ۔!‘‘

    ’’ آئی ایم ان چین ٹائیگر۔!‘‘

    ’’اوکے ہنی۔آئی ان چین یو۔!‘‘

    ’’او کے۔۔۔‘‘

    ’’اَن زپنگ یور برا۔۔۔‘‘

    ’’سی مول بٹوین دیم۔۔۔‘‘

    ’’یس سی اٹ۔‘‘

    ’’پٹ یور لپس آن اٹ۔۔۔‘‘

    ’’آئی ڈو۔‘‘

    ’’اوہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔!‘‘

    اسے حیرت ہوئی اتنی جلدی ایسا رسپانس اس کو کسی سے نہیں ملا تھا۔ کی بورڈ پر اس کی انگلیاں میکانکی انداز میں چل رہی تھیں اور الفاظ خارش زدہ کتے کی طرح سر اٹھا رہے تھے۔ ادھر سے گرم جوشی کا اظہار تھا، لیکن اداسی اس پر غالب ہو رہی تھی۔ اس نے چاہا گفتگو کا رخ بدلے۔

    ’’آر یو سنگل۔؟‘‘

    ’’آئی ایم ہاؤس وائف۔!‘‘

    ’’یور ہسبنڈ۔؟‘‘

    ’’مسٹ بی چَیٹنگ سم وہیر۔۔۔‘‘

    بیوٹی ان چین بھی کھلاڑی نظر آئی۔ کبھی ڈاگی ہو جاتی ۔کبھی سکسٹی نائن بتاتی۔ اس کو شدت سے احساس ہوا کہ سائبر کلچر سیکس کلچر ہے جہاں تیسری دنیا کا آدمی پانی میں نمک کی طرح گھل رہا ہے ۔ہر کوئی اپنے لیے ایک اندام نہانی ڈھونڈتا ہوا۔۔۔!

    وہ بوجھل قدموں سے گھر لوٹا۔ نجمہ خوش نظر آ رہی تھی۔

    ’’ابھی بھائی جان لاگ ان کریں گے۔‘‘

    ’’تمہیں کیسے معلوم؟‘‘

    ’’میں نِٹ پر تھی۔ ان کا آف لائن مسیج ملا۔‘‘

    ’’تم روز نٹ پر بیٹھتی ہو ۔؟‘‘

    ’’کبھی کبھی نجمہ مسکرائی۔

    اس نے نِٹ لگایا۔ اس کے جی میں آیا برجیش ملک کے نام سے نئی آئی ڈی کھولے۔ رجسٹریشن کے لیے اس نے جیسے ہی بی ٹائپ کیا تو باکس میں بیوٹی ان چین کی آئی ڈی ابھر آئی۔ اسے حیرت ہوئی کہ یہ آئی ڈی کمپیوٹر کی میموری میں کیسے آ گئی؟اس نے ایک نظر نجمہ کی طرف دیکھا اور اچانک اس کا چہرہ سفید ہو گیا۔ اس کو لگا وہ کمرے میں نہیں کسی گٹر میں ہے جہاں نجمہ کسی کیڑے کی طرح کلبلا رہی ہے۔ اس کی مٹھیاں تن گئیں اور آنکھیں جیسے شعلہ اگلنے لگیں۔ وہ ایک ٹک نجمہ کو گھورنے لگا۔

    ’’کیا ہوا آپ کو؟‘‘ نجمہ نے گھبرا کر پوچھا۔

    وہ خاموش اسی طرح گھورتا رہا۔

    ’’اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں ؟‘‘

    اس کے لب سلے تھے اور جسم کانپ رہا تھا ۔

    ’’خاموش کیوں ہیں؟ نجمہ کی گھبراہٹ بڑھ گئی لیکن جیسے ایک پر اسرار سی دھند اس پر چھائی ہوئی تھی۔ وہ خاموش کھڑا کانپتا رہا۔ نجمہ کا چہرہ اس کو کمپیوٹر اسکرین کی طرح نظر آ رہا تھا جس پر بیوٹی ان چین کی آئی ڈی چھپکلی کی طرح رینگ رہی تھی۔

    ’’کچھ بولتے کیوں نہیں ؟‘‘ نجمہ نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے پوچھااور وہ اچانک جیسے نیند سے جاگا۔

    ’’ہائی۔‘‘ وہ مسکرایا۔ نجمہ کو اس کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔

    ’’ہائی بیوٹی ان چین۔!‘‘ اور نجمہ کا چہرہ کالا پڑ گیا۔

    ’’ٹائیگر اووڈ ہیئر۔‘‘ وہ چیتے کی چال سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی۔

    ’’کم آن ڈارلنگ! آئی ول ان چین یو۔! اس نے نجمہ کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن اس نے ہاتھ چھڑا لیا۔

    ’’یہ آپ کو کیا ہو گیا ہے۔؟‘‘

    ’’ہولڈ مائی ڈک۔!‘‘

    نجمہ خوف سے کانپنے لگی۔

    ’’فیل اِٹ۔‘‘وہ چیخا۔

    ’’ان زپ یو ر برا۔‘‘اس کا گریبان پکڑ کر اس نے زور سے اپنی طرف کھینچا۔ بلوز کے بٹن ٹوٹ گئے۔ نجمہ کی چھاتیاں جھولنے لگیں۔اس نے زور کا قہقہہ لگایا۔

    ’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔ یور راونڈ بوبس۔۔‘‘

    ’’آئی سی مول بٹون دیم۔‘‘

    ’’یور نیپل ایرّاریکٹ۔‘‘

    ’’کم آن۔‘‘

    ’’ہوش میں آئیے۔‘‘نجمہ بلبلاتی ہوئی بولی۔

    ’’کم آن۔بی ڈاگی۔‘‘ اس نے نجمہ کو زور کا دھکہ دیا۔ نجمہ زمین پر گر پڑی۔ اس کی ساری جانگھ تک اٹھ گئی۔ یور ایلبواینڈ نی آن بیڈ ۔فیس ڈاون وارڈ۔!‘‘

    نجمہ نے ہاتھ جوڑ لیے۔۔

    ’’پلیز میں نجمہ ہوں ۔!‘‘

    ’’نو۔!‘‘

    ’’پلیز۔!‘‘

    ’’نو۔نو۔نو۔!‘‘

    ’’آپ کو کیا ہو گیا ہے؟‘‘

    ’’یو آر بیوٹی ان چین۔!‘‘

    ’’میں نجمہ ہوں۔نجمہ۔!‘‘

    ’’کم آن ۔اس نے نجمہ کی ٹانگیں پکڑ کر زور کا جھٹکا دیا۔

    ’’سپریڈ یور لیگس۔!‘‘

    ’’میں نجمہ ہوں۔ پلیز!‘‘

    وہ زور سے چیخا۔ ’’نجمہ از ڈیڈ۔ڈیڈ۔ڈیڈ۔ڈیڈ۔!!‘‘

    نجمہ نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY