Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

باندھ

بلونت سنگھ

باندھ

بلونت سنگھ

MORE BYبلونت سنگھ

    کہانی کی کہانی

    پنجابی لڑکی رانو کی کہانی، جو جانتی ہے کہ وریا مواس سے محبت کرتا ہے، پر وہ اسے چھوڑ کر کیہر سنگھ کے پیچھے لگی رہتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ کیہر سنگھ اس سے محبت نہیں کرتا ہے۔ پھر بھی وہ اس کے ارد گرد چکر لگاتی رہتی ہے۔ اسی میں وہ کیہر سنگھ سے حاملہ ہو جاتی ہے۔ مگر وریامو تب بھی اس سے خاموش محبت کرتا رہتا ہے۔ اسی محبت کی وجہ سے وہ اس کے گھر کو سیلاب سے بچانے کے لیے تنہا ہی بارش میں بھیگتا ہوا باندھ بنا دیتا ہے۔

    شام اونگھ رہی تھی۔

    وقت زیادہ نہیں ہوا تھا، لیکن آکاش میں دفعتاً کالی گھٹا چھا جانے سے گہری شام کا دھوکا ہونے لگا تھا۔ وسیع گھٹا دبے پاؤں آئی اور پھر نیلے آکاش پر اپنے گہرے مٹیالے رنگ کا پلستر کر دیا۔ یہ گھٹا اپنی جھولی میں ہوا کا ایک جھونکا تک نہیں لائی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہر پیڑ اور ہر پودا ساکت کھڑا تھا۔ آک کے پتے یوں دکھائی دیتے تھے جیسے وہ ہتھیلیاں پھیلائے بارش کا دان مانگ رہے ہوں۔ ایک تو گرمی کی حدت دوسرے ہوا کی غیر موجودگی سے فضا میں گھٹن سی پیدا ہو گئی تھی۔

    گاؤں سے آدھ میل دور بیاس دریا سے نکلنے والی چوڑی نہر جو بجائے خود چھوٹے موٹے دریاس ے کم نہیں تھی، چپ چاپ بہہ رہی تھی۔ اس کے دونوں کنارے بل کھاتے ہوئے دور کھیتوں میں گم ہوتے دکھائی دے رہے تھے۔ نہر کے کنارے پر شیشم اور ببول کے پیڑ سر اٹھائے کھڑے تھے۔ جو مسافر نہر کی پٹری پٹری سفر کرتے، ان کو ان پیڑوں کی چھاؤں سے کافی آرام ملتا۔

    ہاتھوں میں ٹیڑھی چھڑیاں پکڑے ڈھیلے ڈھالے تہبند لہراتے کچھ لڑکے نہرکی پٹری پر گھوم پھر رہے تھے۔ ان کے مویشی کچھ فاصلے پر گھاس چر رہے تھے۔ یکایک دو لڑکے پٹری پر رک گئے اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ٹوٹتے ہوئے کنارے کو دیکھنے لگے۔ جس مقام سے کنارا کمزور ہو گیا تھا وہاں پر نہر کی لہریں گھوم گھوم کر آتیں اور بار بار سر ٹکراتیں جس سے کنارا گھل گھل کر نہرمیں گر رہا تھا۔ ان لڑکوں کی دیکھا دیکھی باقی ساتھی بھی وہاں آ گئے۔ ٹوٹتے ہوئے کنارے کا منظر دیکھ کر ان کے بدن میں کپکپی سی پیدا ہوئی۔ آنے والے خطرے کا احساس کر کے وہ ایک دم ہی گاؤں کی طرف بھاگ نکلے۔ وہ زور زور سے چلا رہے تھے۔ چلاتے چلاتے ان کے کان لال ہو گئے اور ان کے گلے کی نیلی نیلی رگیں ابھر آئیں۔

    گاؤں کے باہر دھریک کے پیڑوں کے جھنڈ تلے چار پائیوں پر بوڑھے بوڑھے اونگھ رہے تھے یا شطرنج چوپڑ وغیرہ کھیل رہے تھے۔ تین بجے ان کے آرام کرنے کا وقت تھا۔ شاید اب تک وہ کھیتوں کو جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ لیکن آسمان پر چھائی ہوئی گھٹا نے فضا میں کالی کالی دھول پھیلا دی تھی۔ چنانچہ وہ بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔

    دور سے لڑکوں کے چلانے کی آوازیں سن کر پہلے تو یہی سمجھے کہ شاید جوہڑ میں گھسی کسی گائے کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ جلد ہی ان الجھی ہوئی آوازوں کے الفاظ صاف سنائی دینے لگی۔۔۔ ’’نہروکنڈ ٹڈا اے پیا۔‘‘

    نہر کا کنارا ٹوٹ رہا ہے۔ اتنا سنتے ہی وہ سب ہڑ بڑا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

    اسی وقت بادل اس قدر زور سے اور اتنے طویل وقفے تک گڑ گڑائے جیسے کسی غیبی ہاتھ نے آسمان کو ٹاٹ کی طرح ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھاڑ دیا ہو۔ موٹی موٹی بوندوں کے پھالے آڑے ترچھے دھرتی پر گرے تو ایک بار دھول پھڑ پھڑا کر اوپر کو اٹھی، لیکن لگاتار پانی برسنے سے دھول جیسے اٹھی تھی ویسے ہی بیٹھ گئی۔

    گاؤں کے ایک سرے پر بنے ہوئے کچے مکان میں سوئی ہوئی رانو بھی ہڑبڑاکر اٹھ بیٹھی۔ پہلے تو اس کی نظر صحن کی طرف گئی، جہاں اس کی ماں چارپائیاں اٹھا اٹھا کر انہیں چھپر کے نیچے دیوار کے ساتھ ٹکا رہی تھی۔ پھر رانو اٹھ کر بھدی سی کھڑکی کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ اس کھڑکی میں لوہے کی سلاخوں کی جگہ چوکور لکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ رانو نے اپنی موٹی موٹی آنکھوں پر سے سوجے ہوئے پپوٹوں کو اوپر اٹھایا اور دیکھا کہ ہر چہار جانب سے لوگ نہر کی طرف بھاگے جا رہے ہیں۔ بعضوں نے پگڑیاں سر پر جلدی میں باندھنے کی بجائے بغلوں میں دبا رکھی تھں۔ انہوں نے تہبند ایک ہاتھ سے اوپر اٹھا رکھے تھے تاکہ دوڑنے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اور بعضوں نے تہبند اتار کر کندھوں پر ڈال لیے تھے اور محض کچھے پہنے دوڑے جا رہے تھے جن کے ازار بند لہرا لہرا کر ان کے گھٹنوں سے سر پٹخ رہے تھے۔

    دیکھتے ہی دیکھتے بہتیرے لوگ نہر کے کنارے پر جا پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ نہر کا کنارا اتنا کٹ چکا تھا کہ اب اسے ایک دم بند کرنا ناممکن تھا۔ نہر کا لہراتا ہوا پانی کنارے کو یوں ٹکریں مار رہا تھا جیسے پرانے زمانے میں بڑے بڑے ہاتھی قلعہ کا دروازہ توڑنے کے لیے اس سے ٹکریں مارا کرتے تھے۔

    سب کی نظریں ٹوٹتے ہوئے کنارے پر جمی ہوئی تھیں۔ دفعتاً کنارہ کانپا۔ دھرتی میں تھرتھراہٹ سی پیدا ہوئی۔ پھر ٹوٹتے ہوئے کنارے کا جبڑا دھیرے دھیرے چرنے لگا اور پھر پھٹ پڑا۔

    پانی بپھر کر دھڑدھڑاتا ہوا باہر کی طرف لپکا۔ اس کے بہاؤ میں آک اور پپولیوں کے کمزور پودے جڑ سے اکھڑ گئے اور پھرجھاگ اڑاتے ہوئے پانی میں ڈوب ڈوب کر ابھرنے اور ابھر ابھر کر ڈوبنے لگے۔

    جو لوگ ابھی نہر کے کنارے پر نہیں پہنچ پائے تھے، انہوں نے جب گڑگڑاتے ہوئے پانی کے ریلے کو دیکھا تو ایک دم گھوم کر یوں سرپٹ بھاگے جیسے پاگل ہاتھی ان کا پیچھا کر رہا ہو۔ رانو نے دور پھٹتے ہوئے کنارے پانی ابلتے دیکھا تو اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور زیادہ پھیل گئیں، جہاں تک نظر جاتی تھی وہاں تک پھیلے ہوئے کھیتوں میں لوگ بے مہار بھاگے جا رہے تھے۔ کسی کے سر کا جوڑا کھل گیا، کسی کا پاؤں رپٹ گیا اور کسی کی ٹانگیں گیلے تہبند میں الجھ گئیں۔ اچانک ہی رانو نے محسوس کیا کہ جب پانی گاؤں کے قریب پہنچے گا تو سب سے پہلے انہی کے مکان سے ٹکرائےگا۔ کیوں کہ ان کا مکان نہ صرف گاؤں کے سرے پر تھا بلکہ دوسرے مکانوں کی بہ نسبت بہت نیچی سطح پر بھی تھا۔ ممکن ہے پانی ان کے مکان کے اندر تک گھس آئے۔ خوف زدہ ہو کر اس نے منہ ڈھیلا چھوڑ دیا اور ایک چیخ نما آواز حلق سے نکالی۔ ’’ماں!‘‘

    اگر اس وقت بادل کی گرج، بجلی کی کڑک اور بارش کا شور نہ ہوتا تو اس کی چیخ گاؤں کے دوسرے سرے تک پہنچتی— ماں اس کی چیخ کا سبب نہیں سمجھ پائی۔ وہ بھاگی بھاگی اندر آئی۔

    ’’کیوں گلا پھاڑ رہی ہو! میں صحن ہی میں تو کھڑی ہوں آخر ہوا کیا ہے؟‘‘

    رانو منہ سے کچھ نہیں بولی۔ اس نے ہاتھ اٹھا کر نہر کی طرف اشارہ کیا۔ بڑی نہر کے پھٹے ہوئے کنارے میں سے لپک لپک کر بہتے ہوئے پانی کو اس کی ماں نے بھی دیکھا۔

    اب اس کی سمجھ میں آیا کہ رانو کیوں اس قدر زور سے چلائی تھی۔ بڑی نہر میں پانی کی کمی نہیں تھی۔ اس لیے ٹوٹے ہوئے کنارے سے جو پانی نکلا تو تھوڑی دیر میں ہی ایک جھیل سی بن گئی جو لمحہ بہ لمحہ وسیع ہوتی جا رہی تھی۔ رانوں کے مکان کے آگے ایک چوڑا کچا راستہ تھا۔ راستے کے دوسرے کنارے پر ریت کی مینڈھ تھی۔ اس وقت گھر کے مرد کچھ سامان لینے کے لیے شہر کو گئے ہوئے تھے۔ چنانچہ ماں بیٹی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ فرش پر رکھے ہوئے لکڑی کے بھاری صندوقوں اور دوسرے متفرق سامان کو پانی آ جانے کی صورت میں کیسے اٹھا کر اونچی جگہ پر رکھ سکیں گی۔

    ماں جس پریشانی سے اندر آئی تھی اسی پریشانی سے باہر صحن کی طرف نکل گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ کیا نہ کرے۔ رہی سہی کسر بارش نے پوری کر دی تھی۔ ایشور کو بھی مینہ برسانے کا یہ اچھا موقع ملا تھا۔

    رانو اپنے ہاتھوں سے کھڑکی کی سلاخوں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھی۔ وہ دور بہتے ہوئے پانی کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے وہ اس کے ریلے کو اپنی سرمیلی آنکھوں کے جادو سے آگے بڑھنے سے روک دے گی۔ نہر پر کھڑے مردوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا۔ ٹوٹے ہوئے کنارے کو پاٹنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ پہلے تو لکڑی کو موٹی موٹی بلیاں اس شگاف میں گاڑ دی جائیں۔ جب بہت سی بلیاں آگے پیچھے گڑ جائیں تو پھر ان میں پکی اینٹوں کے ٹکڑے ڈالے جائیں۔ یہ سب کچھ ہو چکے تو پھر تسلے بھر بھر کر مٹی ڈالی جائے تو پانی رک سکتا تھا۔

    اتنا طے کرنے کے بعد انہوں نے چار چار چھ چھ آدمیوں کی ٹولیاں بنا دیں اور ان سب کو الگ الگ کام سونپ دیے۔ کچھ لوگ بلیاں لینے گئے۔۔۔ کچھ اینٹوں کے ٹکڑے اور کچھ مٹی اور تسلے وغیرہ لینے دوڑے۔

    بارش نے الگ ایک مصیبت کھڑی کر رکھی تھی۔ لوگوں کے کپڑے تربتر ہو رہے تھے۔ ان کے لیے چلنا پھرنا اور دوسرے کام کرنا دوبھر ہو رہا تھا۔

    سارے مردوں کا جمگھٹ نہر کے قریب ہی ہو رہا تھا۔ البتہ کام کرنے والے لوگ ادھر ادھر بکھر گئے تھے۔ رانو نے اتنا تو سمجھ لیا کہ آنے والے پانی کے ریلے کو روکنا ناممکن تھا۔ کیوں کہ نہر کا کنارہ جہاں سے پھٹا تھا اسے پاٹنے میں کافی وقت درکار تھا۔ کمرے کے باہر اسے اپنی ماں کی گھبرائی ہوئی بے تکی آوازیں اور ادھر ادھر پڑتے ہوئے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔

    رانو اپنے سامنے کھیتوں میں ہوتی ہوئی بارش کو اس انداز سے گھور رہی تھی جیسے وہ کوئی اصلیت نہ ہو محض خواب ہو۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ اسے باہر جا کر اپنی ماں کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ یہ طے کر کے باہر جانے کو اس کے قدم اٹھے ہی تھے کہ راستے کے اس پار کھیت میں اسے ایک آدمی دکھائی دیا، جو اپنے کندھوں پر لکڑی کی گز گز بھر لمبی بلیوں اور پکی اینٹوں کے ٹکڑے اٹھائے ہوئے تھا۔ رانو پہلے تو یہی سمجھی کہ وہ آدمی اس سامان کو نہر پر لے جا رہا ہے۔ لیکن جب اس نے دیکھا کہ اس نے سارا سامان وہیں پٹخ دیا ہے تو وہ جاتے جاتے رک گئی۔ یہ دیکھ کر اسے اور بھی تعجب ہوا کہ اس نے کھیت کی مینڈ پر بلیاں گاڑنی شروع کر دیں۔ ان پروہ پھاوڑے کی الٹی طرف سے چوٹیں لگانے لگا۔

    رانوں نے ہونٹ دانتوں تلے دبا لیا۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں پل بھر کو رقص کرتی رہیں۔ مگر سوچنے کی بات تو یہ تھی کہ وہ آدمی تھا کون، جو سب کام چھوڑ کر اس کے مکان کو پانی کو ریلے سے بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس بات کا جواب دینا مشکل تھا۔ کیوں کہ اب موسلا دھار بارش ہونے لگی تھی اور تیز ہوا بھی چلنے لگی تھی۔ دھرتی سے آکاش تک دھواں دھار ہو جانے کے کارن سب چیزیں دھندلی دھندلی دکھائی دینے لگی تھیں اور پھر اس مرد کی پگڑی کا ایک شملہ کان پرسے ہوتا ہوا نیچے لٹک رہا تھا۔ جس کی اوٹ میں اس کے چہرے کا بیشتر حصہ چھپا ہوا تھا۔ ہاں اس کی ٹھڈی پر اگی ہوئی داڑھی کی جھلک ضرور دکھائی دے رہی تھی۔

    رانو نے آنکھیں پھاڑ کر اسے پہچاننے کی کوشش کی۔ جیسے آنکھیں پھاڑکر وہ شملے کے آر پار ہی تو دیکھ لےگی۔

    اتنے میں اس کی ماں اندر آئی اور جب اس نے بالکل قریب پہنچ کر کچھ کہنا چاہا تو رانو نے اسے ٹوک دیا اور سرگوشی میں بولی۔ ’’دیکھو ماں نہ جانے کون کھیت کے کنارے بلیاں گاڑ رہا ہے۔ وہ اپنے ساتھ اینٹوں کے ٹکڑے بھی لایا ہے، وہ اسی کوشش میں ہے کہ پانی ہمارے مکان تک نہ پہنچنے پائے۔ مگر ماں! یہ ہے کون؟‘‘

    ماں نے چندھی آنکھیں اس مرد پر گاڑ دیں پر شاید وہ آدمی پھاوڑہ چلاتے چلاتے تھوڑا سا دائیں بائیں گھوما۔ اسی اثناء میں وہ اسے پہچان گئی۔ بولی۔ ’’ہوتا کون؟ یہ تو اپنے گاؤں کا ہی دریاموں ہے۔۔۔‘‘

    رانو کو ماں کا چہرہ کچھ عجیب سا لگا۔ اس نے گھوم کر ماں کے چہرے پرنظر ڈالنی چاہی لیکن ماں نے فوراً منہ پھیر لیا اور اپنے گیلے سلیپر پھٹپھٹاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

    یہ نام رانو کے کانوں میں گونجا، اس کے دماغ میں گونچا اور پھر اس کے سارے بدن میں گونجا۔ کچھ دیر تک وہ سمجھ ہی نہ پائی کہ وہ کیا محسوس کرے، اسے خوش ہونا چاہیے یا طیش میں آنا چاہیے۔ اسے کھڑکی بند کر دینی چاہیے یا اسے اداس ہو جانا چاہیے۔ وہ ان سب باتوں میں سے کچھ بھی نہ کر پائی۔

    سیدھی سی بات تھی۔ دریاموں اس کی طرف دیکھا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ رانو کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کیوں کہ ان کے گاؤں یا آس پاس کے دیہات میں کون ایسا نوجوان تھا جس کے پاس سے وہ گزرے اور اسے نظر بھر کر نہ دیکھے۔ پھر بھی دریاموں کا ڈھنگ سب سے نرالا تھا۔ دوسرے لوگ تو اسے بھوکی نظروں سے دیکھتے۔ ان کے ہونٹوں پر شرارت ہوتی تھی اور ان کے انگ انگ سے ہوس پھوٹتی دکھائی دیتی تھی۔ لیکن دریاموں کی آنکھوں میں ویرانی ہی ویرانی دکھائی دیتی تھی۔ اس کے ہونٹ بے رس اور خشک دکھائی دیتے تھے۔ اس کا سارا جسم یوں نظر آتا جیسے اس میں جان ہی نہ ہو۔ جیسے وہ اپنی ٹانگوں پر نہیں بلکہ لکڑی کی دو بلیوں کے سہارے کھڑا ہو۔

    جب بھی رانو، دریاموں کو اس حالت میں دیکھتی تو اس کادل ڈوبنے لگتا۔ اس کا جی چاہتا کہ یا تو آندھی آئے اور اسے دریاموں سے کہیں دور، بہت دور جا پھینکے، یا دھرتی پھٹ جائے، اور دریاموں اس کی گہرائیوں میں ڈوب کر ہمیشہ کے لیے اس کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ کبھی کبھی راستہ چلتے چلتے رانو کو یکا یک محسوس ہونے لگتا کہ اسے کوئی چپ چاپ دیکھ رہا ہے، جب وہ گھبرا کر ادھر اُدھر نظر دوڑاتی تو کسی گوشہ میں دریاموں دکھائی دے جاتا۔ اسے یوں لگتا جیسے کوئی ناگ پھن پھیلائے اپنی پتھرائی ہوئی آنکھیں اس پر گاڑے ہو۔

    رفتہ رفتہ اسے دریاموں سے نفرت ہونے لگی وہ نہ تو منہ سے کچھ کہتا تھا نہ کوئی ایسی ویسی حرکت کرتا۔ نہ دل کا حال سناتا۔ حالانکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ دریاموں کیا چاہتا تھا اس سے۔ پھر بھی اکثر وہ اپنی سہیلیوں سے پوچھتی کہ یہ دریاموں کا بچہ اس سے کیا چاہتا تھا؟

    ایک وقت وہ بھی آیا جب اسے دریاموں بالکل بھوت معلوم ہونے لگا۔ اس کے دل و دماغ میں ایک الجھن سی رہنے لگی۔ جیسے اس کے کونےمیں کسی مکڑی نے جالا تان رکھا ہو اس جالے میں مکھیاں پھنس پھنس کر بھنبھناتی ہوں۔ یہ عجیب سا گھناؤنا سا، گندہ سا کھیل اس کے دماغ کے گوشے میں سدا ہی جاری رہتا۔ وہ اس جالے کو مکڑی اور مکھیوں سمیت اپنے دماغ سے پونچھ کر پرے پھینک دینا چاہتی تھی۔ مگر پھینک نہیں پاتی تھی۔

    اگر دریاموں مختلف بھی ہوتا تو اسے کیا فرق پڑ سکتا تھا۔ یہ تو ناممکن تھا کہ وہ رانو کے دل میں جگہ پا لیتا۔ کیوں کہ رانوں کے دل پر تو کسی اور نے قبضہ جما رکھا تھا اور وہ تھا۔ کیہر سنگھ۔

    کیہر سنگھ کا نہ تو رنگ گورا تھا اور نہ اس کا ناک نقشہ بہت اچھا تھا۔ پھر بھی بحیثیت مجموعی وہ بھلا ہی لگتا تھا۔ جوانوں میں جوان ایسا کہ ایک ہزار جوانوں میں کھڑا وہ الگ دکھائی دیتا تھا۔ اپنے قد، سینے کی چوڑائی اور لمبی بانہوں کے اٹھے اٹھے پٹھوں کے کارن اس کے جما میں شیر کی سی طاقت معلوم ہوتی تھی۔ رانو نے دو برس پہلے اسے دیکھا تو معاً اسے یوں لگا جیسے اس کے سینے سے دل بےاختیار نکل گیا ہو اور اس کی جگہ بےکراں درد نے لے لی ہو۔ وہ پہلا واقعہ یوں پیش آیا۔

    اس سے گاؤں والوں نے دور سے ڈھول بجنے کی آوازیں سنیں تو وہ گھروں سے باہر نکل آئے اور رانو کے مکان کے سامنے قطار بنا کر کھڑے ہو گئے۔ ڈھول بجانے والوں کا جلوس ان کے مکان کے آگے سے گزرنے والا تھا۔ دور سے کچھ لوگ ایک جلوس کی شکل میں چلے آ رہے تھے۔ انہیں دو کوس آگے جانا تھا، جہاں سنت پیارا سنگھ کی سمادھی پر میلا لگا ہوا تھا۔ جلوس کے آگے بھنگڑہ ناچنے والے نوجوانوں کا گروہ تھا۔ وہ دھاری دار کرتے اور رنگین تہبند لہراتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ ان کی لال یا کالی واسکٹوں پر سیپ کے بٹنوں کی بھر مار تھی۔ کلف لگی پگڑیاں سر پر، جن کے دو طرے تھے۔ ایک بائیں کو چومتا ہوا اور دوسرا پگڑی کے اوپر لگے کبوتر کی دم کی طرح پھیلا اور اکڑا ہوا۔ پاؤں میں دیسی جوتے جنہیں سرسوں کے تیل میں اچھی طرح چپڑ دیا گیا تھا۔ کانوں میں بالے، موٹے موٹے بالوں والی کلائیوں پر لوہے کے بھاری کڑے، ڈھول پیٹنے والے پیچھے پیچھے تھے