بہرام کا گھر

شموئل احمد

بہرام کا گھر

شموئل احمد

MORE BYشموئل احمد

    اب آنگن میں پتے نہیں سرسراتے تھے۔ درو دیوار پر کسی سائے کا گمان نہیں گزرتا تھا۔ بڑھیا کے آنسو اب خشک ہو چکے تھے۔ وہ روتی نہیں تھی۔ بیٹے کا ذکر بھی نہیں کرتی تھی۔ وہ اب دور خلا میں کہیں تکتی رہتی تھی۔ کبھی کبھی اس کے دل میں ہوک سی اٹھتی تو ہائے مولا کہہ کر چیخ اٹھتی اور پھر خاموش ہو جاتی۔ پاس پڑوس والے بھی اب بیٹے کی بابت کچھ پوچھتے نہیں تھے۔

    اس دن بھی وہ ہائے مولا کہہ کر چیخ اٹھی تھی۔ پھر دو ہتھڑ سینے پر مارا تھا اور بیہوش ہو گئی تھی۔ شہر میں دنگا اسی دن بھڑکا تھا اور بیٹا گھر لوٹ کر نہیں آیا تھا۔ جب دوسرے دن بھی گھر نہیں لوٹا تو بڑھیا بے تحاشہ نیک نام شا ہ کے مزار کی طرف دوڑ پڑی تھی۔

    بیٹے کو جب بھی کچھ ہوتا وہ نیک نام شاہ کا مزار پکڑ لیتی۔ یہ نیک نام شاہ کا ہی ’’فیض‘‘ تھا کہ بیس سال پہلے اس کی گود بھری تھی۔ ورنہ کہاں کہاں نہیں بھٹکی تھی، کس کس مزار پر چلّہ نہیں کھینچا تھا۔ کیسی کیسی منّتیں نہیں مانی تھیں۔ آخرکار نیک نام شاہ کی بندگی راس آ گئی تھی اور اس کی گود میں چاند اتر آیا تھا۔ تب سے بلا ناغہ ہر جمعرات کو مزار پر اگر بتی جلاتی آئی تھی اور بیٹے کی خیر و عافیت کی دعائیں مانگتی رہتی تھی۔

    لیکن اس دن آسمان کا رنگ گہرا سرخ تھا اور زمین تنگ ہو گئی تھی۔ وہ مزار تک پہنچ نہیں سکی۔ دنگائیوں نے راستے میں گھیر لیا تھا۔ اس پر نیزے سے حملے ہوئے تھے۔ بڑھیا سخت جان تھی، مری نہیں۔۔۔ نیزے کھا کر بھی زندہ رہی۔ عین وقت پر پولیس کا گشتی دل پہنچ گیا اور وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچا دی گئی تھی۔

    بڑھیا اسپتال سے اچھی ہو کر آ گئی، لیکن بیٹا نہیں آیا۔ وہ دیوانوں کی طرح سب سے اس کا پتہ پوچھتی رہی۔ محلے کی عورتوں سے لپٹ کر روتی رہی۔ مزار پر سر پٹکتی رہی۔۔۔ لیکن۔۔۔۔

    تلاش مرتی نہیں ہے۔ ۔ ۔ تلاش آنکھوں میں رہتی ہے۔۔۔ آنکھوں سے گزرتی ہوئی دل کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہے۔۔۔ تب آنکھیں دور خلا میں کہیں تکتی رہتی ہیں۔۔۔ اور بڑھیا کی آنکھیں۔۔۔

    محلّے ٹولے کو فکر تھی کہ بڑھیا کا کیا ہوگا۔۔۔ ؟ ایک ہی بیٹا تھا۔۔۔ بھری جوانی میں اٹھ گیا۔۔۔ کم سے کم لاش بھی مل جاتی تو صبر آ جاتا۔۔۔ اور اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی کہ دنگے میں مارا گیا ہے تو ہرجانے کی رقم بھی مل جاتی۔ رقم کثیر تھی۔۔۔ ایک لاکھ روپے۔۔۔ رشتہ داروں کو فکر ہوئی کہ لاش کا کیا ہوا۔۔۔؟

    ماموں نے تھانے میں سانحہ درج کرا دیا۔ سانحہ میں بتایا گیا کہ اس دن وہ گھر سے بانکا کے لئے روانہ ہوا تھا۔ سرخ رنگ کی شرٹ اور سیاہ پتلون پہنے ہوئے تھا۔ دائیں ہاتھ کی انگلی میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی جس میں انگریزی کا حروف ’’اے‘‘ کندہ تھا۔

    شہر میں جیسے جیسے امن لوٹنے لگا اڑتی پڑتی خبریں بھی ملنے لگیں۔ کسی نے بتایا کہ اس دن وہ علی گنج میں دیکھا گیا تھا۔ دوستوں نے بہت روکا مت جاؤ۔ خطرہ ہے۔۔۔ لیکن وہ یہی کہتا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ وہ رات بہرام کے ہاں رک جائےگا اور صبح تڑکے اپنے گھر چلا جائےگا۔۔۔

    پھر خبر ملی کہ ڈی وی سی چوک کے قریب موب نے اس کو گھیر لیا تھا۔ محلے والے بھاگ کر بہرام کے ہاں چھپ گئے تھے، لیکن وہ۔۔۔

    بتانے والے نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ سرخ رنگ کی شرٹ میں ملبوس تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بریف کیس بھی تھا۔۔۔ پھر یہ کہتے کہتے رکا تھا کہ لاش چوک کے قریب ہی ایک کنوئیں میں۔۔۔

    ماموں نے علاقہ کا چکر کاٹا۔ ڈی وی سی چوک سے شمال کی طرف جانے والی سڑک پر دور تک گئے۔ ایک جگہ ان کا ماتھا ٹھنکا۔ آم کے باغیچہ کے قریب ایک کنویں کی منڈیر پر دوچار گدھ منڈلا رہے تھے۔ قریب جا کر کنویں میں جھانکا تو بدبو کا ایک بھبھکا سا آیا۔ ایک گدھ اڑ کر پیڑ پر بیٹھ گیا۔ آس پاس کے مکانوں کی کھڑکیاں کھل گئیں راہ گیر رک رک کر دیکھنے لگے۔ پھر ان میں چہ میگوئیاں بھی ہونے لگیں تو ماموں کو محسوس ہوا کہ فضا میں تناؤ پھیلنے لگا ہے۔ وہ وہاں سے ہٹ گئے۔

    محلے میں خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ لاش مل گئی ہے۔ عورتیں بڑھیا کے گھر جمع ہو گئیں۔ ممانی چیخ چیخ کر روئی۔ سر کے بال نوچے، گریباں پھاڑا۔ بڑھیا ایک ٹک خلا میں کہیں تکتی رہی۔

    ماموں نے تھانے میں عرضی دی کہ لاش کا پتہ چل گیا ہے اور یہ کہ لاش بر آمد ہونے پر علاقہ میں تناؤ پھیل سکتا ہے۔ اس لئے پولیس کی ایک ٹولی ساتھ کی جائےگی تاکہ لاش کنویں سے باہر نکالی جا سکے۔ ایس پی نے ایک دن ٹال مٹول کیا اور پھر اجازت دے دی اور ایک حوالدار اور چند کانسٹیبل ساتھ کر دیئے۔

    ماموں کنویں پر پہنچے۔ ساتھ میں کچھ رشتہ دار اور محلے کے چند نوجوان بھی تھے۔ مزدوروں کو بھی ساتھ لیا گیا ٹھرے کی بوتلیں بھی لی گئیں۔

    کنویں پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ اندر جھانکا۔

    ’’بہت بدبو ہے‘‘

    ’’صاحب۔۔۔ ٹھرا منگائیں۔۔۔‘‘ ایک مزدور بولا۔

    ماموں نے جھولے سے ٹھرے کی بوتل نکالی۔

    ’’موب نے اس چوک پر گھیرا تھا۔‘‘ ایک رشتہ دار نے سامنے اشارہ کیا۔

    ’’دوستوں نے بہت روکا لیکن۔۔۔ ‘‘

    ’’وہ گھر سے باہر کیوں نکلا۔۔۔ ؟‘‘

    ’’بانکا جانے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ ؟‘‘

    مزدور ٹھرا پی کر کنویں میں اترے۔

    ’’جنابر ہے۔۔۔ ‘‘ ایک مزدور وہاں سے چلایا۔

    ’’جناور کہاں سے آ گیا۔۔۔ ؟‘‘

    ماموں جھلا اٹھے۔ ایک بار پھر سب نے ایک ساتھ کنویں میں جھانکا۔

    ’’کوئی بیگا ہوگا صاحب۔ ‘‘دوسرا مزدور بولا۔

    ’’جانور ہی ہے۔ ‘‘

    ’’سور مرل با۔۔۔ ‘‘

    ماموں نے غور سے دیکھا۔ سور ہی تھا۔

    ’’یہ تو سراسر بدمعاشی ہے۔ ‘‘

    ایک رشتہ دار نے آس پاس مکانوں کی طرف دیکھا۔

    ’’یہ لوگ نہیں چاہتے کہ لاش نکالی جائے۔۔۔‘‘

    ’’لاش نکل گئی تو سب پھنس جائیں گے۔۔۔‘‘

    ’’کوئی پھنستا وستا نہیں ہے۔ آج تک نہیں سنا کہ کسی دنگائی کو پھانسی ہوئی ہے۔۔۔‘‘

    ’’صاحب۔۔۔ پہلے سور نکالے کے پڑی۔۔۔‘‘

    ’’سور نہیں۔۔۔ پہلے لاش نکالو۔۔۔‘‘

    ’’لاش کا کچھ پتہ با۔۔۔‘‘

    ایک مزدور نے رسی نیچے لٹکائی۔ عورتیں چھت پر چڑھ کر دیکھنے لگیں۔ ایک سپاہی کھینی ملنے لگا۔

    ’’بیچارے کی حال میں منگنی ہوئی تھی۔‘‘

    ’’وہ گھر سے باہر کیوں نکلا؟‘‘

    ’’جب جانتا تھا کہ شہر میں تناؤ ہے تو۔۔۔‘‘

    ’’کیا معلوم تھا دنگا اسی دن بھڑکےگا۔‘‘

    ’’موت تھی۔۔۔ ‘‘

    ’’قسمت کا لکھا۔۔۔ بڑھیا بچ گئی۔ اکلوتا جوان بیٹا اٹھ گیا۔‘‘ ماموں نے سرد آہ بھری۔

    ’’بہت کچرا ہے اندر۔۔۔‘‘مزدور کنویں کے اندر سے چلایا۔

    ماموں کنویں کے قریب گئے۔ محلے کے ایک نوجوان نے آہستہ سے پوچھا۔

    ’’ٹھیک پتہ ہے کہ لاش اسی کنویں میں۔۔۔‘‘

    ماموں نے اثبات میں سر ہلایا۔ پھر آہ بھرتے ہوئے بولے:

    ’’ظالموں نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینکا ہے۔۔۔‘‘

    ’’علی گنج میں رک جاتا۔۔۔‘‘

    ’’موت کھینچ کر لائی۔۔۔‘‘

    ’’کہتا تھا بہرام کے گھر جاؤں گا۔۔۔ بیچارہ چوک پر ہی پکڑا گیا۔۔۔‘‘

    سپاہی نے کھینی کو تال دیاتو ایک کوّا پیڑ سے اڑ کر سامنے ایک مکان کی چھت پر لگے اینٹا پر بیٹھ گیا۔

    نیچے جو مزدور تھا اس نے سور کی ٹانگوں کو رسی سے باندھا لیکن اوپر سے کھینچنے میں نہیں بن پڑا، تب ایک اور مزدور نیچے اترا۔ دونوں نے مل کر سور کو اوپر اٹھایا۔ باقی مزدوروں نے کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہو کر رسّی اوپر کی طرف کھینچی۔۔۔ سور کی لاش باہر آئی تو پیڑ پر کوؤں کا شور بڑھ گیا۔ سور کا پیٹ پھولا ہوا تھا۔

    سڑک کی طرف سے ایک کتا بھاگتا ہوا آیا اور قریب آکر بھونکنے لگا۔

    ’’ہش‘‘ سپاہی نے زور سے ایک پاؤں زمین پر پٹکا۔ کتا کچھ دور پیچھے بھاگا اور پھر بھونکنے لگا۔ سپاہی نے جھک کر پتھر اٹھا یا تو کتا بھاگ کر سڑک پر چلا گیا اور وہاں سے زور زور سے بھونکنے لگا۔

    کچرا باہر نکالنے کے لئے ایک ٹوکری نیچے لٹکائی گئی۔ ماموں نے بیڑی سلگائی اور زمین پر بیٹھ کر دم مارنے لگا۔

    کچرے کی صفائی میں یکایک قمیص برآمد ہوئی۔ قمیص کے ساتھ لپٹا ہوا ہاتھ کا ایک بازو بھی تھا، سبھی چونک کر دیکھنے لگے۔ قمیص کیچڑ میں لت پت تھی، خون کے دھبے جگہ جگہ سیاہ ہو گئے تھے۔ ماموں نے غور سے دیکھا۔ قمیص کا رنگ سرخ معلوم ہوا۔

    ’’پتلون بھی ہو گی۔۔۔‘‘ ایک رشتہ دار بولا۔

    ’’پنجہ دیکھو۔۔۔ پنجہ۔۔۔‘‘

    ’’بازو کے ساتھ پنجہ نہیں ہے۔۔۔‘‘ ماموں نے کنویں میں جھانک کر کہا۔ حولدار نے ہدایت دی کہ بازو اور قمیص کو کچرے سے الگ رکھا جائے ماموں نے چادر بچھائی اور لکڑی کے ایک ٹکرے سے قمیض کو بازو سمیت اٹھا کر چادر پر رکھا۔

    کچرے کی ٹوکری پھر باہر آئی تو ایک کٹی ہوئی ٹانگ بر آمد ہوئی۔

    ’’پنجہ کہاں گیا؟‘‘ ماموں نے پھر کنویں میں جھانکا۔

    ’’اندر دھنس گیا ہوگا۔۔۔‘‘

    ’’تھوڑی اور صفائی کی ضرورت ہے۔‘‘

    ’’تھوڑا اور کچرا باہر نکالو۔۔۔‘‘

    اس بار کچرے کے ساتھ پنجہ بر آمد ہوا۔ ماموں نے دیکھا۔۔۔ پنجہ ہی تھا۔ لیکن انگوٹھی نہیں تھی۔ انگلیاں مڑی ہوئی بالکل سیاہ ہو رہی تھیں۔

    ’’انگوٹھی نہیں ہے۔۔۔‘‘ ماموں آہستہ سے بڑ بڑائے۔ پھر غور سے دیکھا۔

    ’’یہ تو بائیں ہاتھ کا پنجہ ہے۔۔۔‘‘

    ’’دائیں ہاتھ کا پنجہ کہاں ہے؟‘‘

    ’’اندر سجھائی نہیں دیتا صاحب۔۔۔‘‘

    ماموں نے بے چینی سے ادھر ادھر دیکھا۔ شام ہو چلی تھی۔ سارا وقت تو سور نکالنے میں لگ گیا تھا۔

    ’’دیکھو۔۔۔ کوشش کرو۔ دائیں ہاتھ کا پنجہ چاہئے۔۔۔‘‘

    ’’اب چلئے۔۔۔‘‘حولدار نے ڈنڈے سے اشارہ کیا۔

    ’’حولدار صاحب۔۔۔ تھوڑی اور کوشش کر لینے دیجئے۔۔۔ ‘‘

    ماموں نے پھر کنویں میں جھانکا۔ مزدور باہر نکل رہے تھے۔

    ’’کیا ہوا؟‘‘

    ’’اب ٹائم نہیں ہے۔۔۔‘‘

    ’’پنجہ ضروری ہے۔۔۔‘‘

    ’’اندر سجھائی نہیں دیتا ہے تو کیا کریں۔۔۔؟‘‘

    ’’چلئے۔۔۔‘‘ حولدار نے زمین پر ڈنڈا کھٹکھٹایا۔

    ماموں نے چادر سمیٹی۔۔۔سب جیپ پر بیٹھے۔ جیپ آگے بڑھی۔ یکایک چوک پر بڑھیا نظر آئی۔ ماموں کو حیرت ہوئی۔ جیپ رکوائی اور جھنجھلاتے ہوئے نیچے اترے۔ بڑھیا کسی سے کچھ پوچھ رہی تھی۔

    ’’تم یہاں کیا کر رہی ہو بوا؟‘‘ ماموں قریب جاکر بولے۔

    ’’بہرام کا گھر دیکھتی۔۔۔‘‘

    ’’اب بہرام کا گھر دیکھ کر کیا ہوگا۔۔۔؟‘‘ ماموں کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی۔

    ’’بچہ کہتا تھا بہرام کے گھر جاؤں گا۔ سب بہرام کے گھر میں چھپے تھے۔۔۔ ذرا دیکھتی۔ کتنی دور اس کا گھر رہ گیا تھا۔۔۔؟‘‘

    ماموں نے چہرہ کا پسینہ پونچھا۔ بڑھیا حسرت سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اور دفعتاً اس کی آنکھوں میں بجھی ہوئی لَو کا دھواں تیرنے لگا تھا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY