aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ڈر

MORE BYرام سروپ انکھی

    جب کبھی وہ ’’گدھے‘‘ کو چھاتی سے لگاکر، باہوں میں بھر کر دباتی یا اس کا منہ چوم لیتی تو ’’گدھے‘‘ کو بخار چڑھ جاتا، ٹٹیاں لگ جاتیں اور وہ الٹیاں کرنے لگتا۔ وہ روٹی کی طرف منہ اٹھاکر نہ دیکھتا، بیمار پڑجاتا۔ اس کی ساس سر پیٹ لیتی، ’’تمہیں کئی بار کہا ہے، بہو۔ لڑکے کو گلی میں نہ لے جایا کر۔ بری نظر کیا پتھروں کو نہیں پھاڑ کر رکھ دیتی۔ بے چارے کی عمردراز ہو۔ ہمیشہ بیمار، ہمیشہ بیمار۔‘‘

    شرن پال کوپتہ تھا، اس کا’’گدھا‘‘ کیوں بیمار ہوجاتا ہے لیکن وہ کیا کرتی۔ اس کے کلیجے سے تو ہوک اٹھتی تھی۔ وہ تو بے ہوش سی ہوجاتی۔ ایک ولولے کے ساتھ اپنے ’’گدھے‘‘ کو بازو سے پکڑتی، چھاتی سے لگاتی اور اس کامنہ چوم لیتی۔ پھر جیسے کچھ یاد آجاتاہو۔ وہ فوراً ہی اسے اپنے سے الگ کرتی اور ایک جھٹکے کے ساتھ دور کردیتی۔ جیسے وہ کوئی بے گانہ بیٹا ہو۔ جیسے اس سے کوئی بھول ہوگئی ہو۔

    اس سال پھر وہی نامراد بخار لوگوں کو چڑھنا شروع ہوگیا۔ جب بھی کسی کوبخار آتا، بڑے زور کاچڑھتا۔ کئی کئی دن اترتا ہی نہ۔ نہ ملیریا۔ نہ ٹائیفائڈ۔ کوئی اسے وائرل کہتا کوئی ڈونگو۔

    لوگوں میں عام چرچا تھا کہ پنجاب کے گاؤں میں دھان کی فصل زیادہ بوئے جانے کی وجہ سے یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ دھان پانی میں کھڑا رہتاہے۔ پانی سڑ جاتا ہے، پھر مچھر پیدا ہوجاتا ہے۔ مچھر بھی ایسا کہ پہلے کبھی کسی نے ایسا کبھی دیکھا ہی نہیں۔ اس مچھر پر کوئی کیڑے مارنے والی دوائی بھی اثر نہ کرتی۔ لوگ ہنستے بھی۔ وہ کہتے جیسے زیادہ افیم کھانے والے عملی کو کتنی بھی افیم کھلادو، وہ مرے گا نہیں، اسی طرح یہ مچھر بھی عملی ہوگیا ہے۔ ڈی ڈی ٹی جیسی دوائیاں تو اب اس مچھر کے لیے نشہ پانی جیسی ہی ہیں۔

    بخار چڑھنے سے پہلے مریض کے ہاتھ پاؤں ٹوٹتے، اور پھر آنکھیں لال ہوجاتیں۔ کسی کو سردی لگ کر بخار آتا، کسی کو بغیر سردی لگے ہی۔ الٹی اور دست شروع ہوجاتے۔ دوچار دنوں میں ہی مریض کا لہو نچڑ جاتا۔ اٹھنے بیٹھنے کی ہمت ختم ہوجاتی۔ سب ڈاکٹر ایک ہی قسم کی دوائی دیتے۔۔۔ گولیاں اور پینے والی دوائی۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور تجربہ کار وید حکیم کی بات ہی کیا۔ چھوٹے چھوٹے آر ایم پی بھی سرخاب کے پنکھ لگاکر بیٹھتے۔ وارے نیارے ہوجاتے۔ اس دھندے والوں کے جن سے کوئی بھی ایس پروکی گولی بھی نہیں لے جاتا تھا، وہ دھنونتروید بن بیٹھتے۔ وہ کہتے، ہمارا سیزن ہے۔ دھڑا دھڑموتیں ہو رہی تھیں۔ گاؤں کے گاؤں اٹھ کر شہر کی طرف چل دیے، ٹرالیوں میں رکھے پلنگ اور چارپائیاں، اور ان پر اَدھ مرے مریض۔

    شرن پال کو بخار نہیں چڑھا تھا۔ گوردیو سنگھ اور اس کی ماں اپنی باری دے چکے تھے۔ کہتی تھی۔۔۔ تو بچ کے رہ۔۔۔ اب تیری باری ہے۔

    چل۔ میرا تو کچھ نہیں۔ چڑھتا ہے تو چڑھ جائے۔ جھیل لوں گی اس کی مار میں تو۔ ’’گدھا‘‘ راضی رہے۔۔۔ شرن پال کہنا چاہتی مگر وہ بولتی نہ۔ ایسا بولنے سے تو ’’گدھے‘‘ کے ساتھ اس کا پیار ظاہر ہوتا تھا۔

    اور پھر ایک دن ’’گدھے‘‘ کو بھی بخار چڑھ گیا۔ پوری شدت سے۔ آنکھیں لال سرخ، چارپائی پر پڑا وہ ٹانگیں مارتا۔ دادی نے گاؤں کے ڈاکٹر سے گولیاں لاکر دیں۔ بخار تو ڈھیلا ہوگیا لیکن الٹیاں شروع ہوگئیں۔ پانی کی بوند بھی ہضم نہیں ہوتی۔ الٹی کرنے کے بعد اسے بڑی تکلیف ہوتی۔ دادی اس کا سرزور سے پکڑتی اور پھر قے کے ساتھ اندر سے تو کچھ نہ نکلتا، صرف لیس لیس سا سفید پانی۔ جیسے لڑکے کا کلیجہ پھٹ کر باہر آرہاہو۔

    لڑکا پانچ چھ سال کا ہوچکا تھا۔ اسکول جاتاتھا۔ اس کی دادی نے اسے پالا تھا۔ شرن پال نے تو صرف جنم دیا تھا۔ اس نے تو اسے دودھ بھی زیادہ عرصے تک نہیں پلایا تھا۔ جب وہ دودھ پی رہا ہوتا تو وہ اس کی طرف نہ دیکھتی۔ منہ دوسری طرف کیے رکھتی۔ ڈرتی تھی کہ کہیں اس کے دل میں لڑکے کے لیے پیار کی کوئی چنگاری روشن نہ ہوجائے۔ اب جب وہ بیمار تھا، دادی ہی اسے سنبھال رہی تھی لیکن وہ موت کے منہ میں آگیا لگتا تھا۔ گاؤں کے ڈاکٹروں کی گولیوں نے کوئی خاص اثر نہیں کیا تھا۔ اس کی یہی حالت رہی تو وہ مر بھی سکتا ہے۔

    شرن پال کے کلیجے سے ہوک اٹھتی۔ وہ اپنے آپ کو بہت سنبھال کر رکھنے کی کوشش کرتی۔ یہ ہوک اٹھتی تو اس کا جسم کانپ کانپ جاتا۔ اسے لگتا جیسے اس کی ساس لڑکے کی دیکھ بھال اچھی طرح نہیں کر رہی۔ جب وہ قے کرتا ہے تو وہ اس کے بعد اسے زور سے چھاتی سے لگاکر کیوں نہیں رکھتی۔ کبوتری جیسا معصوم ’’گدھا‘‘ کیسے تڑپ تڑپ پڑتا ہے۔ لیکن وہ بے بس تھی۔ اس نے ’’گدھے‘‘ کو خود سنبھالا تو یہ بڑی خطرناک بات ہوگی۔ ’’گدھا‘‘ الٹیاں کرتا تو وہ حال سے بے حال ہوجاتا۔ شرن پال اس کی طرف دیکھتی تک نہ۔ کہیں دور جاکر بیٹھ جاتی اور لڑکے کی حالت کو بھولنے کی کوشش کرتی۔

    گوردیو سنگھ گھر پر نہیں تھا۔ باہر سے آیا تو ’’ہیپی‘‘ کی اتنی بری حالت دیکھ کر ماں سے اس کے بارے میں پوچھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ شرن پال اس کے آس پاس نہیں تھی۔ دور کہیں پتہ نہیں کہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے اس پر غصہ آیا۔ اس کادل کہا کہ تھپڑوں سے اپنی بیوی کا منہ توڑ کر رکھ دے۔ لڑکے کی یہ حالت ہے اور اسے کوئی خیال ہی نہیں۔ کتنی بے رحم عورت ہے۔ ایسی کمینی عورت کو کیا پتہ ہے کہ اولاد کیا ہوتی ہے۔ بیاہ کے چار سال بعد مشکل سے کہیں جاکر یہ لڑکا ہوا۔ ایک اکیلا ہی تو ہے۔ اس کے بعد کوئی لڑکا نہیں۔ یہی تو ایک چراغ ہے گھر کا۔

    گوردیو سنگھ کو غصہ چڑھ رہا تھا۔ پیٹ سے پیدا کی ہوئی اولاد کو بھی کوئی اس طرح بھلاکر رکھتا ہے لیکن جلد ہی اس کا غصہ ٹھنڈا ہونے لگا۔ اسے پچھلی ساری باتیں یاد آئیں۔ جب سے وہ بیاہ کر آئی تھی، ایک دن بھی اس نے اس سے سیدھے منہ بات چیت نہیں کی تھی۔ اب تک اس کی ماں ہی اسے تھالی میں روٹی رکھ کر دیتی، کپڑے بھی ماں ہی دھوتی۔ شرن پال تو شروع سے ہی چپ چاپ رہتی تھی۔ وہ کبھی لڑی جھگڑی بھی نہیں تھی گوردیو سنگھ کے ساتھ۔ کبھی پل دوپل بیٹھ کر وہ پیار کی باتیں بھی نہیں کرتی تھی۔

    گوردیو سنگھ گھر کے کسی مسئلے پر ناراض ہوتا تو روٹھ کر بیٹھ جاتا۔ روٹی ہی نہ کھاتا۔ گھر کے سب لوگ روٹی کھاچکے ہوتے۔ گوردیو سنگھ کی ماں اسے روٹی کھانے کے لیے کئی بار کہتی لیکن اس کا غصہ ویسے ہی قائم رہتا۔ اس کا اندر سے کہیں دل کرتا کہ شرن پال تھالی میں روٹی رکھ کر لائے اور اس کی منتیں سی کرے۔ اسے عاجز کرے۔ ہنسی مذاق میں ہی ایک لقمہ توڑ کر اس کے منہ میں ڈال دے اور پھر وہ ساری روٹی کھالے۔ لیکن شرن پال تو اس کے نزدیک بھی نہیں آتی تھی۔ اسے تو جیسے یہ یاد ہی نہیں رہتا تھا کہ خود کھانا کھاتے وقت اس کے دل میں یہ بات بھی آئے کہ اس کے پتی نے کھانا کھایا ہے یا نہیں۔ وہ تو روٹی کھاتی، برتن ورتن سمیٹتی اور چارپائی پر جاکر لیٹ جاتی۔

    گوردیو سنگھ سوچتارہتا کہ شرن پال کے مائیکے گاؤں میں سہیلیاں نہیں تھیں کیا؟ کچھ سہیلیاں اس سے پہلے بیاہی گئی ہوں گی۔ بیاہ کے بعد مائیکے کے گاؤں میں آکر لڑکیاں اپنی سہیلیوں کو باتیں سنایا کرتی ہیں۔ کیا کسی سے شرن پال نے یہ نہ سنا ہوگا کہ نئے بیاہے لڑکے لڑکی کے درمیان گرم جوشی بھرا پیار اور اندھے لاڈ یا چاؤ کیا ہوتے ہیں؟ یا کیا اس نے یہاں پر سسرال کے گاؤں میں دوسری عورتوں سے اپنے مردوں کی باتیں کبھی نہیں سنی ہیں؟ اپنے مردوں کے ساتھ وہ کیسے لڑتی جھگڑتی ہیں اور پھر کیسے مل کر یک جان ہوجاتی ہیں۔ گوردیو سنگھ فیصلہ کرتا، اس کی عورت تو بدھو ہے، بے عقل، جانور، بھینس ہے پوری۔ اس پر زمانے کا کوئی اثر نہیں۔ اسے پتہ نہیں کہ عورت کیا ہوتی ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ مرد کس ذات کا ہوتا ہے۔ مرد کا دل رجھانے کے لیے عورت کے پاس کیا کیا ہنر ہوتا ہے۔ کیسے کیسے تریا چرتر ہوتے ہیں۔

    شرن پال کی تین بہنیں تھیں۔ دواس سے چھوٹی۔ ایک ان کا بھائی سب سے چھوٹا۔

    بھائی تب دس برسوں کا رہا ہوگا، جب اس کا باپ پرلوک سدھار گیا۔ گھر میں آدمی نہ ہو تو عورت کی کیا وقعت۔ آدمی ایک بھی ہو تو گھر کا ستون ہوتا ہے۔ وہ شرن پال کو بے حد پیارا تھا۔ بھائی کس کے لیے پیارا نہیں ہوتا لیکن شرن پال کے لیے تو وہ اس کی جند جان تھا۔ جان سے پیارا تھا۔ ہر وقت وہ اسے اپنے پاس رکھتی۔ ایک پل کے لیے بھی اسے اپنے سے الگ نہ کرتی۔ دس سال کا ہونے کے باوجود وہ اس کے ساتھ سوتا۔ ایک ہی تھالی میں وہ دونوں کھاناکھاتے۔ صبح وہ اسے نہلاتی اور اسکول چھوڑ کے آتی۔ ہر چیز وہ شرن پال سے ہی مانگتا۔ ماں کو وہ کچھ پوچھتا ہی نہیں۔ ماں کے پاس وہ اٹھتا بیٹھتا بھی نہیں تھا۔

    ایک بار اس کو ٹائیفائڈ ہوگیا۔ اس کا بہت علاج کیا گیا لیکن بخار ٹوٹتا ہی نہیں تھا۔ شرن پال اس کے پورے جسم کو دباتی۔ اس کی موت خود مرمر جاتی۔ ساری رات سوتی ہی نہ۔ اسے چھاتی سے لگا کر لیٹ جاتی لیکن وہ بچ نہ پایا۔ شرن پال نے روپیٹ کر سر کے بال نوچ لیے۔ دیواروں سے ٹکریں ماریں۔ دونوں چھوٹی بہنیں ایسے میں اسے سنبھالنے لگیں۔ کہیں وہی نہ اپنے آپ کو ختم کرلے۔

    اور پھر ان کے گھر ایک لڑکا آنا شروع ہوا۔ پڑوس میں سے تھا۔ وہ بھُوا کے پاس رہتا تھا اور شہر کے کالج میں پڑھنے جاتا تھا۔

    شرن پال نے دسویں پاس کرکے پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ دونوں چھوٹی اسکول جاتی تھیں۔

    گھر میں آتا، وہ لڑکا ان کے چھوٹے موٹے کام کردیتا۔ شہر سے سودا سلف لادیتا۔ ماں بیمار رہتی تھی۔ ہر مہینے بعد اس کے لیے شہر سے پینے والی دوائی کی بوتل لاکر دیتا۔ شرن پال کے پاس بیٹھ کر چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا۔

    ماں کو لگتا جیسے ان کا مرچکا بیٹا ان کو واپس مل گیا ہو۔ شرن پال کو لگتا جیسے وہ اس کا بھائی تھا۔ وہ بھائی جیسا ہی اس کو پیار کرنے لگی۔ دوطرفہ پیار۔ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اس پاک پوتر موہ پیار کے رشتے میں گرم جوشی اور لطافت بھرتی گئی۔ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔

    شرن پال کو اپنے بھائی کی یاد بھولنے لگی اور پھر جیسے پتہ ہی نہ لگا ہو، ان کے پاس پاک پوتر رشتے کا رنگ بدل گیا۔

    وہ کسی رنگیلے مستقبل کے منصوبے بنانے لگے۔ شرن پال سے یہ خوشی سنبھالی نہیں جاری تھی۔ یہ لڑکا تو کتنااچھاہے۔ ہمارے گھر کو سنبھال لے گا۔ اس کی چھوٹی بہنوں کے لیے بھی سہارا بنے گا۔ ماں کو سکھ دے گا۔ وہ اسے یہیں اپنے گھر میں رکھے گی۔ ان کے پاس بہت زمین ہے۔ وہ موجیں کریں گے۔ چھوٹی بہنوں کے ماں باپ بن کر رہیں گے۔

    شہر نزدیک ہی تھا۔ لڑکا سائیکل پر کالج پڑھنے جایا کرتا تھا۔ ایک دن بارش ہوئی۔ بڑے جھکڑ کی بارش تھی۔ سڑک پر کھڑے کتنے ہی درخت ٹوٹ گئے۔ بسوں، ٹرکوں، مٹاڈوروں کے لیے چلنا مشکل ہوگیا۔ ایک جگہ ایک شیشم کا پیڑ اکھڑا اور اس کا موٹا تنا سڑک پر جاگرا تھا۔ عین اسی جگہ لڑکے کے سائیکل پر ٹرک آکر چڑھ گیا۔ اس کے سر میں زبردست چوٹ لگی تھی اور تھوڑی دیر بعد ہی وہ تڑپ تڑپ کر مرگیا۔

    شرن پال کا سنسار اجڑ گیا۔ بس وہ دن، اور آج کا دن۔ شرن پال کے دل میں ایک گانٹھ پڑگئی کہ وہ جس کسی سے دل سے پیار کرتی ہے، وہ مرجاتا ہے۔ پہلے اس کا بھائی، پھر وہ۔

    شرن پال کا لڑکا بے حد کمزور ہوچکا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اٹھتا بیٹھتا، آہستہ آہستہ بولتا، جیسے بالکل ہی جسم میں دم نہ رہ گیا ہو۔ شرن پال اس کے نزدیک سے نکلتی تو وہ بٹر بٹر اس کی طرف جھانکتا۔

    شرن پال کا جی کرتا کہ وہ اپنے ’’گدھے‘‘ کو چھاتی سے لگالے لیکن پھر اسے یاد آتا کہ وہ اپنے بھائی کو، جب وہ ٹائیفائڈ سے اسی طرح بیمار تھا، چھاتی سے لگاکر رکھتی تھی۔

    شرن پال نے اپنے اٹیچی میں کپڑے رکھے اور ساس سے بولی، ’’بے جی۔ میں ماں کے پاس جارہی ہوں، ہفتہ بھر رہ کے آجاؤں گی۔‘‘

    ’’بھئی بہو۔ لڑکے کی طرف تو دیکھو۔ تمہیں جانے کی بات کیسے سوجھی۔ لڑکے کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔ گاؤں گاؤں میں لوگ مر رہے ہیں۔ کچھ تو سوچ بھئی۔ اتنی جلدی کاہے کی پڑگئی تمہیں جانے کی۔‘‘

    ’’بخار ہی تو ہے۔ خود ہی اترجائے گا۔ کیا ہوا اسے؟‘‘ شرن پال نے روکھا سا جواب دیا۔

    ساس کہنے لگی، ’’کتنی بے عقل ہے تو۔ تمہاری جیسی کی کیوں ہری ہوگئی بیل۔۔۔ تو مری اتنی بے رحم ہرموہی جس نے بیٹے کو نہیں جانا، اور کوئی اس کا کیا لگتا ہے۔ تم نہیں، تو ہم تو ہیں ہی۔‘‘

    ساس کے مندے بول سن کر جیسے شرن پال کے سینے میں ٹھنڈ سی پڑگئی۔ اب تو اس کے لعل کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔ اس نے اٹیچی اٹھائی اور ’’گدھے‘‘ کی طرف دیکھے بغیر گھر سے باہر نکل گئی۔

    مأخذ:

    نمائندہ پنجابی افسانے (Pg. 156)

      • ناشر: اردو اکادمی، دہلی
      • سن اشاعت: 1993

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے