فعل متعدی

فہمیدہ ریاض

فعل متعدی

فہمیدہ ریاض

MORE BYفہمیدہ ریاض

    ٹھیک دس بج کر تیرہ منٹ پر میں نے یہ آواز سنی۔

    ”تو اے عورت! اب کیا ہونا چاہیے اور اس کے لیے کیا کرنا لازم ہے۔“

    جیسا کہ آپ نے پہلے ہی بخوبی اندازہ لگا لیا کہ یہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ اسی شے کی تھی جسے راجندر سنگھ بیدی نے اپنے ایک افسانے میں انتر آتما کا نام دیا۔ حیرت انگیز طور پر یہ آواز غیرنسوانی تھی۔ وہ مجھے ”اے عورت“ بھی محض عادتاً کہہ رہی تھی۔ تو کیا عورت کی آتما، جس میں کہ انتر آتما ہوتی ہے، عورت نہیں ہوتی؟ میں نے اسی لمحے کچھ حیرت سے سوچا۔ ایسا ناچیز کا خیال نہیں۔ ناچیز کا خیال تو یہ ہے کہ عورت کی آتما بالکل عورت ہی کی شکل و صورت کی ہوتی ہے۔ یعنی اگر آپ اِسے شکل و صورت دے سکیں تو وہ عورت ہی جیسی بن سکتی ہے۔ لیکن یہاں تو معاملہ انتر آتما کا تھا۔

    تو یہ کوئی ”سیکس لیس“ سی شے تھی۔ اس موضوع پر غور کرنا چھوڑ کر میں نے اس کے پوچھے ہوئے سوال پر غور کرنا شروع کیا۔

    میں اردو ڈکشنری بورڈ کے بڑے کمرے میں ایک بڑی میز کے سامنے بڑی کرسی پر بیٹھی تھی۔ مجھے اس کا مدیر اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ میں نے ہاتھ جوڑ کر عرض گذاری تھی کہ اردو ڈکشنری بنانا میرے بس کی بات کیوں کر ہوسکتی ہے، جب کہ مجھے تو یہ علم بھی نہیں کہ فعل متعدی کیا بلا ہے۔ میرے علم کے مطابق تو صرف بیماریاں متعدی ہوتی ہیں جو شامل فعل نہیں ہوتیں۔

    میرے ایک ذہین و ہونہار جواں سال دوست نے ماتھے پر علامہ اقبال کی طرح انگلی رکھ کر سوچتے ہوئے کہا تھا۔

    ”جو فعل متعدد بار کیا جائے وہ فعل متعدی ہوسکتا ہے۔“

    ”نہیں“ میں نے اسے درست کیا تھا۔ ”وہ فعل متعددی ہو گا۔“

    ”یا تو پھر فعل بد یا فعل قبیح ہوتا ہے“ اس نے کہا۔

    ”شش!“ میں نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا۔ ”یہ سرکاری دفتر ہے۔ یہاں واہیات باتیں نہ کرو۔“

    ”اچھا! باہر نکل کر کریں گے۔“

    ”شش!“ میں نے اسے پھر چپ کرایا۔

    ”امید ہے کہ ڈکشنری میں اس قسم کے فعلوں کا ہر گز کوئی تذکرہ نہ ہو گا۔” میں نے کہا۔

    وہ تو چائے پی کر اور کراچی کی نم ہواؤں سے بھورے پانی میں تبدیل ہو جانے والے بسکٹ کھا پی کر چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد میں نے تسلی کے لیے ڈکشنری کی جلدیں کھول کھول کر افعال قبیح کو چیک کیا۔ تمام کے تمام اپنی جملہ تفصیلات کے ساتھ موجود تھے بلکہ اسناد کے طور پر اردو کی قدیم ترین کتابوں سے لیے ہوئے اشعار بھی درج تھے۔

    جس پر ”اے عورت“ نے پرمسرت قہقہہ لگایا۔ ہنس کر، ٹشو پیپر سے چہرہ پونچھ کر اور ایک گلاس پانی پی کر میں ڈکشنریوں کی ورق گردانی کرنے لگی۔ کسی دوسرے دفتر میں ایک مضمون لکھنے کے سلسلے میں اس کی ایک آدھ جلد کو میں نے دیکھا تھا۔ لیکن اس وقت یہ پوری کی پوری اکیس جلدیں میرے سامنے تھیں اور میں جستہ جستہ ان کے اوراق پڑھ رہی تھی۔

    تھوڑی ہی دیر میں ”اے عورت“ کی انتر آتما متحرک ہو گئی۔ سکتے کے سے عالم میں بیٹھی تھی میں وہاں، کیسا عجیب اتفاق! ریوڑیوں کی طرح عہدے بانٹنے کی اندھا دھندی کہیے، ادھر میری ملازمت حاصل کرنے کی ضرورت کی مجبوری، لیکن تقدیر کے کسی پھیر نے مجھے مولوی عبدالحق کی کرسی پر لا بٹھایا تھا اور میرے سامنے تھیں ان کی آغاز کردہ ڈکشنری کی اکیس جلدیں۔ وہ ڈکشنری جو قدیم گریٹر آکسفورڈ ڈکشنری کے تاریخی یا لسانی اصولوں کے تحت بنائی گئی تھی، جس کے مطابق زبان کے تمام یا تقریباً تمام الفاظ اپنے آغاز اور بدلتے ہوئے یا وسعت پذیر معنوں کے ساتھ، اس طرح درج تھے کہ مختلف ادوار کی کتابوں اور مخطوطات، غرض ہر دستیاب تحریر سے لفظ کے استعمال اور معنی کی اسناد بھی مندرجات میں شامل تھیں۔

    اے اللہ پاک! میں نے کہا۔ (ایسے موقعوں پہ یہ ملحد و مشرک کافر عورت اس نوعیت کے کلمات لب پر لاتی ہے۔) کبھی کسی نے ایک شاندار کارنامہ کرنے کی ٹھانی تھی۔ ایک شاندار خواب دیکھا تھا اور وہ پورا ہو رہا ہے! ایک مسلسل ناکام ہوتی ہوئی ریاست میں۔۔۔ جس کی کوئی کل سیدھی نہیں رہی، جس سے کسی خیر کی توقع بھی کوئی اب نہیں کرتا۔۔۔ وہاں یہ کام ہوتا رہا اور ہوتا رہا، اور اب تکمیل پانے والا ہے۔ اس کو کسی چھوٹے ہوئے معجزے کا نام دیا جا سکتا ہے۔

    پل کی پل میں وہ مضحکہ خیز طور پر بڑا کمرہ، اس کے گرد آلود پیلے پردے، بدرنگ قالین، مضحکہ خیز طور پر بڑی جسامت کی میز اور اس پر رکھا ہوا سستا، واہیات دفتری سامان، سب کچھ غائب ہو گئے۔ اب یہاں بیتی ہوئے زمانوں کی خوشبو تھی۔ گم گشتہ صدیوں کی روح تھی۔ چلے جانے والوں کی ارواح اس کمرے میں گردش کر رہی تھیں اور بہت قدیم کتابوں کے زرد مسکتے کاغذوں کی مہک!

    ”اس ڈکشنری کی جلدوں میں“ چار دن بعد وزارت سے آنے والے بندے سے میں نے کہا۔

    ”ہندوستان کا ہزار سالہ تمدن اور تہذیب محفوظ ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ۔۔۔!“

    یہ صاحب جو وزارت سے آئے تھے، انہیں وزارت کی اصطلاح میں اب ”بندہ” کہا جاتا ہے۔ یہ پنجابی کا لفظ ہے۔ شاید علامہ اقبال نے پہلی بار اردو میں استعمال کیا تھا۔

    تعجب ہے کہ اب تک ہمارے کراچوی کانوں کو عجیب سا لگتا ہے۔ شروع میں تو سمجھے بھی نہیں تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب لڑکپن میں، میں نے اقبال کا یہ شعر پڑھا تھا۔

    جمہوریت اِک طرز حکومت ہے کہ جس میں

    بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

    تو میرے ذہن میں ”بندوں“ کا مطلب یہی بیٹھا تھا کہ علامہ اللہ کے بندوں کا ذکر کر رہے ہیں، کیونکہ ہماری طرف کی اردو میں تو بندے صرف اللہ ہی کے ہوتے ہیں۔ ”ارے بھئی، اللہ کے بندے! میری بات تو سنو۔“ اس طرح کہا جاتا ہے، لیکن یہ صاحب یا شخص تو کچھ کچھ بندے جیسے لگ بھی رہے تھے۔ یعنی وہ بندہ جو پنجابی میں ہوتا ہے جسے اس طرح کہتے ”ہمارا ایک بندہ آئے گا۔“ بغیر استری کے عوامی سوٹ میں ملبوس اور چہرے پر ایسا دیہاتی تاثر جسے کلوز شیو کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔ لیکن پھر بھی میری مدد کرنے آئے تھے اس لیے میرا کراچوی دل انہیں بندہ کہنے پر آمادہ نہیں تھا۔

    ان صاحب نے ہزار سالہ تاریخ کے الفاظ سن کر کہا۔ ”اتنی پرانی تو خیر اردو نہیں۔“

    ”جی ہاں، مگر جو کچھ لکھا گیا، جب سے لکھا گیا، وہ تو پرانے زمانوں کے نہ صرف بارے میں تھا بلکہ پرانے زمانے میں وہ چیزیں بھی موجود تھیں۔ داستانوں ہی کو لیجیے۔ اب شہزادی نے کردھنی پہن رکھی ہے۔ تو کیا کردھنی ہزار برس پہلے نہ تھی؟“

    پھر کچھ مورتیاں یاد کرتے ہوئے میں نے اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا۔

    ”بالکل موجود تھی۔ ٹیکسلا کے فریسکوز میں بعض عورتوں نے کردھنی پہن رکھی ہے۔“

    مولوی عبدالحق اردو کے شیدائی تھے۔ ڈکشنری کی ورق گردانی کرتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ بعض جگہوں پر خالص ہندوستانی الفاظ کو دیوناگری رسم الخط میں لکھا گیا تھا تاکہ پڑھنے والا بالکل صحیح تلفظ سے واقف ہوسکے۔ دیوناگری میں! پور ڈیئر اولڈ سول! ان کو کیا پتہ، بھولے بھالے انسان کو، اردو سے عشق کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے کہ آگے چل کر اس رسم الخط کو قابل نفرت قرار دیا جا سکتا ہے جو اسلام اور نظریۂ پاکستان کے حق میں زہر قاتل مانا جائے۔

    ایسا کچھ میں سوچ رہی تھی۔ تب عورت نے اضافہ کیا۔

    ”جس طرح ہندوستان میں اردو کے رسم الخط کو ہندو دھرم اور ہندوستان کی اکھنڈ ایکتا کے خلاف سمجھا گیا جس سے کہ پوتر ہندو دھرم فی الفور بھرشٹ ہو جائے! تو انسان اتنے تنگ دل ہیں۔ اتنے کم ظرف ہیں۔ تعصب ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ دل کو کشادہ نہیں کرتے۔ دل کو کشادہ!“

    مجھے یاد آ رہا تھا۔ چند برس پہلے اسلام آباد میں ہونے والی کئی روزہ اردو کانفرنس میں اس قسم کی قرارداد پیش کی جا رہی تھی۔ اردو میں پاکستان کی دوسری قومی زبانوں، مثلاً پنجابی، پشتو وغیرہ کی شمولیت کی ہمت افزائی کی جائے۔ یہ سن کر مجھے کتنی سخت کوفت ہوئی تھی۔ ہمت افزائی کرنا کیا معنی! بھئی جو الفاظ آ جائیں گے سو آ جائیں گے۔ میں سوچ رہی تھی۔ بس یہ کسر رہ گئی ہے کہ قرارداد میں یہ شق بھی شامل کر دی جائے کہ ٹکسالی زبان درست لہجے میں بولنے پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    مگر میں کچھ بولی نہیں تھی۔ بس چپ بیٹھی رہی تھی۔ تو کیا میں دل کو کشادہ نہیں کر رہی تھی۔ واہ یہ بھی بھلی چلائی۔ دل کو کشادہ کرنے کے لیے ہم ہی رہ گئے ہیں؟ ہونہہ، پھر دل ہی دل میں تحریک پاکستان چلانے والے یو پی، سی پی، بہار کے جلوسوں کا منھ بھی چڑایا تھا (ب) اور بنایئے اردو کو پاکستان کی قومی زبان! بقول پنجابی محاورہ ہور چوپو! اب بنوایئے اردو کی درگت! یہاں پھول کو پول کہیں گے اور بھائی کو پائی یا بائی، اور کہنے پر کیا مقدور ہے، کچھ دنوں میں یہی لکھا بھی جانے لگے گا۔ اِسی اردو کو بچانے کے لیے بنوایا تھا پاکستان؟ یہاں تو کوئی سوچنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ عظیم الشان ملک کی قومی زبان جائے بھاڑ میں، اس آبادی میں اب کوئی کروڑ بھر لوگوں کی مادری زبان بھی تو ہے اردو۔۔۔

    اس وقت تو یہی خیالات دماغ میں آئے تھے۔

    عین ان گھڑیوں میں شاید تمام زبانوں کے ان گنت الفاظ اپنی بولیوں سے نکل نکل کر دوسری بولیوں میں کھٹا کھٹ داخل ہو رہے تھے۔ انھیں نہ قرارداد کی ضرورت تھی اور نہ کسی پروانۂ راہداری کی حاجت۔ آدمی بول رہے تھے۔ گلیوں اور بازاروں میں رُلتے کھلتے آدمی، گھروں میں ملازماؤں سے بتیاتی عورتیں، ڈانٹتی پھٹکارتی، دلار کرتی۔ انسانوں کی جہد ، ہمیشہ کی طرح سماجی عمل سے بے نیاز اور مخالف!

    ”ہم جو چاہتے ہیں تو بے نیاز ہوتے ہیں کہ ہم اس کے اُلٹ ہی عمل کرتے ہیں۔” عورت نے مشاہداتی بیان جاری کیا۔

    اور پھر اردو! اجی صاحب کیا بات ہے اردو کی۔۔۔

    عورت نے سنجیدگی بھر تخفیف تبسم سے یاد کیا۔

    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    تو لکھوا دیا جائے یہ شعر اس عمارت کے ماتھے پر؟ پھر سوچا، نہیں اوچھا پن لگے گا۔ اردو اور دوسری زبانوں کے لسانی پہلوان رانوں پر ہاتھ مارتے اکھاڑے میں اتر آئیں گے اور دھر دھر کے پٹخیں گے ایک دوسرے کو۔ یہ تصور کر کے عورت ہنسنے لگی۔

    وزارت سے آنے والے صاحب حیران ہوئے کہ یہ جو بیٹھی ہیں تو کردھنی پر کیوں ہنس رہی ہیں۔

    ”کر۔۔۔ دھنی۔” انہوں نے تذبذب سے کہا۔

    ”جی ہاں۔۔۔ ایک بار میں نے بھی خریدی تھی۔”

    ”چاندی کی تھی۔۔۔” اسے یاد آ رہا تھا، یہ تقریباً پچھلے جنم کی بات تھی۔ مگر کتنی خوبصورت!

    ”پھر کیا ہوا؟“ ان صاحب نے پوچھا۔

    ”ہونا کیا تھا۔۔۔ کچھ دنوں تک پہنی۔“

    وہ پھر اپنے خیالوں میں گم۔

    ”ارے بھئی ریختہ میں شاعری کرنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ اپنے فارسی دارسی میں کہہ کہا لیجیے۔“

    کیا غالب نے کسی نا لایق شاگرد کو مشورہ دیا تھا؟ ریختہ کے تمھیں استاد نہیں ہو غالب، تو گویا اردو میں کوئی خاص بات تھی؟ بہت ہی خاص بات! محاورے کا مزہ۔ کہنے کا خاص انداز۔ جی ہے کہ اُمڈا آتا ہے۔۔۔ کھائیں گے تو گھی سے نہیں تو جائیں گے جی سے۔ کیسا جی ہو رہا ہے؟ جی نہیں چاہتا۔

    اچھا؟ تو گویا نہایت ہی گنگا جمنی تھی اردو۔۔۔ (پھر وہی گنگا پھر وہی جمنا۔) یعنی ہندوستانی بوٹا جس میں فارسی شاخوں کی پیوندکاری کی گئی۔ تو اس نہایت ہندوانہ لفاظی کو صرف مسلمانوں کے ملک کی قومی زبان بنانے کی کیا تک تھی؟

    اس نے سوچا۔ پھر خود ہی جواب دیا۔ ”تک تھی رسم الخط۔ جو فارسی تھا۔ یعنی عربی کی ایک شکل اور عربی قرآن شریف کی زبان ہے۔“

    اب تک وہ صاحب جو کہ وزارت سے آئے تھے نہ جانے کیا کچھ سوچ کر اداس ہو چکے تھے اور زیرلب کہہ رہے تھے، ”اب پنجابی زبان کو دیکھیے، ہمارے ہاں ایک لفظ ہے ”ون“ انھوں نے نون کی آواز میں ڑے کو گھول کر کہا۔ ”اب اسے ہم کیسے لکھیں گے؟

    عورت نے کاغذ پر سندھی کا رونڑ بنایا اور کہا۔

    ”سندھی میں اس طرح لکھتے ہیں۔ نون کے پیٹ میں طوے بنا دیتے ہیں۔“

    ”اور ایک لفظ ہے ”جنا“ (پھر ڑے کی آواز نون میں شامل تھی) جس کا مطلب ہے کوئی پچیس سے تیس تک کا بڑا تگڑا جوان۔ اس کا تو کوئی متبادل ہی نہیں اردو میں۔ اور اردو اسکرپٹ میں تو اسے لکھا ہی نہیں جا سکتا۔“

    ”آپ لوگوں کو۔۔۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے یعنی۔۔۔ آپ سندھی رسم الخط اپنا سکتے ہیں۔“

    پھر اضافہ کیا۔ ”اردو سے یہ آوازیں نکل گئیں۔۔۔ یہ ایک شہری زبان ہے دراصل۔۔۔“

    پھر یہ سوچ کر کچھ گھبرائی اور کچھ شرمندہ ہوئی کہ اس کی کہی ہوئی بات سے ایک عجب قسم کا احساس برتری اور سرپرستانہ تفاخر تو نہیں جھلک رہا، جلدی سے ان صاحب کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اتنے حساس نہ تھے۔ یوں نہیں لگ رہا تھا جیسے انھوں نے برا منایا ہو۔ وہ کچھ متفکر لگ رہے تھے۔ مگر وہ اس کی مہمانداری پر خوش تھے اور اسے پسند کر رہے تھے۔ عورت بے حد مشکور ہوئی۔ کیسا پیارا سا آدمی تو بیٹھا تھا اس کے سامنے۔ ساری جوانی، وزارت میں بتا کر اس نے پبلک ایڈمنسٹریشن کے ان گنت قوانین یاد کیے تھے۔ وہ اس کی مدد کرنے آیا تھا۔ عورت کی درخواست پر اس نے بہت ہمدردی اور فخر سے اس کے لیے اس ڈکشنری بورڈ کا نیا آرگینو گرام بنا دیا تھا۔ عورت کو تو نہیں پتہ تھا نا کہ کون سے عہدے کو کس بی ایس گریڈ میں ہونا چاہیے۔ پھر پروموشن کے لیے کون سے دوسرے عہدے ہونے چاہئیں۔ کتنے فیصد باہر سے لیے جائیں اور کتنے پروموشن کے ذریعہ بھریں، وغیرہ۔

    پنڈی گھیب میں کہیں ان کا گاؤں تھا، نہیں، پوٹھوہار نہیں۔۔۔ یہ مرکزی خاص الخاص پنجاب ہے۔ اس نے بتایا تھا۔ کوئی گاؤں، جس میں وہ درخت ہوں گے جن کا نام وہ لے رہا تھا، اور جہاں گبھرو جوان رہتے ہیں۔ جیسا وہ خود کبھی رہا ہوگا۔ اس نے وزارت کی راہداریوں اور دم گھونٹ دینے والے ایئرکنڈیشنڈ کمروں کو یاد کیا، جن کو اس نے کبھی دیکھا تھا۔ یہ ایسے کیوں ہو گئے ہیں؟ کیا یہ ہر ملک میں ایسے ہی ہوتے ہیں؟ جیسے کافکا کے تخیل نے وہاں انسانوں کو کیچوا بنتے دیکھا؟

    وہ وزارت کے صاحب کو چھوڑنے ایئرپورٹ تک آئی، تھینک یو۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ تھینک یو سو مچ!

    تو اس طرح میں اس چیستان میں داخل ہوئی۔ کیوں اور کیسے؟ جاننا چاہیں تو آگے پڑھ لیجیے۔

    قسمت کے اس عجیب و غریب چکر نے مجھے اس کرسی پر لا بٹھایا اور ایسے دروازے کھولے اور اس دنیا میں جھانکنے کے سوا کوئی راستہ نہ چھوڑا جو میرے خواب و خیال میں بھی کبھی نہیں تھا۔ میں نے تو سوچا تھا کہ ملازمت مل گئی تو کچھ دن سکون کے گذاروں گی اور پھر وہ کام کروں گی جو میں کرنا چاہتی ہوں کبیر! مگر یہ کیا! یہ تو کچھ اور ہی دنیا نکلی۔ ماسوا اس عجیب اتفاق کے، کہ عبد الحق اس ڈکشنری کا نام ”لغت کبیر“ رکھنا چاہتے تھے۔ جیسے رومی کے دیوان شمس تبریز کو دیوان کبیر کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ پڑھ کر آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ پورا صفحہ بھیگ گیا کبیر، پھر مجھے لگا جیسے ہوا کے جھونکے کی طرح تم کمرے میں آ گئے ہو اور ہنس رہے ہو، اور کہہ رہے ہو، ”سی مام! آئی ایم وِد یو۔“

    اچھا تو کبیر، یوں ہی سہی، تو اب سنو۔

    مولوی عبد الحق نے ڈکشنری پر کام تو بہت پہلے شروع کر دیا تھا، پاکستان بننے سے بھی پہلے لیکن بعد میں جب وہ پاکستان آ گئے تو کچھ عرصہ انجمن ترقی اردو کے ساتھ کام کرتے رہے۔ پھر 8591 میں اردو ڈیولپمنٹ بورڈ بنا اور ڈکشنری کا کام باقاعدہ شروع ہوا۔ اس کی لائبریری میں جو قدیم کتابیں اور مخطوطات ہیں وہ غالباً مولوی صاحب نے ہی جمع کی تھیں۔ اپنی کتابوں کا ذخیرہ وہ ہندوستان سے ساتھ لے آئے تھے۔

    پھر ایوب خاں کا دور شروع ہوا اور پاکستان کا دارالخلافہ نو تعمیر شہر (یا چھاؤنی) اسلام آباد لے آیا گیا۔ کراچی میں رہ جانے والا یہ ادارہ اس کے بعد عجیب کس مپرسی کا شکار رہا۔ عشرہ بعد عشرہ اس کے عہدے ختم کیے جاتے رہے۔ اردو کے متعدد عالم بہرحال اس سے چمٹے رہے، رفتہ رفتہ ان میں کئی دنیا سے رخصت ہوئے لیکن ڈکشنری کا کام آہستہ آہستہ جاری رہا۔ گو اسلام آباد میں وزارت تعلیم کو اس سے چنداں دلچسپی نہیں رہی تھی۔ وہ اسے ایک خواہ مخواہ کا ادارہ سمجھنے لگے، اپنے بجٹ پر ایک فضول بوجھ! یہاں اب جو لوگ آ چکے تھے وہ اکتا کر پوچھتے تھے کہ آخر ڈکشنری ختم کیوں نہیں ہو رہی؟ کیا یہ بڈھے جان بوجھ کر کام کو لمبا نہیں کیے جا رہے؟ سوچتے ہوں گے ڈکشنری ختم ہو گی تو ان کی نوکریاں بھی ختم ہو جائیں گی۔

    رفتہ رفتہ اس ادارے کا تمام تر انتظامی ڈھانچہ ختم کر دیا گیا، حتیٰ کہ یہاں کسی اکاؤنٹینٹ تک کی ضرورت نہیں سمجھی گئی، مالی، نائب قاصدوں اور لوئر ڈویژن کلرک کے علاوہ اب یہاں صرف لغت نویس تھے۔ چند ڈسٹری بیوٹر اور کمپوزیٹر تھے جو اس زمانے میں رکھے گئے تھے جب ابھی دھات کے حروف سے چھپائی ہوتی تھی۔

    کئی برس تک لغت نویس اکاؤنٹینسی کرتے رہے اور ملازمین کی چھٹیوں کا حساب رکھتے رہے۔

    تب عورت نے کچھ کارکنوں کو طلب کیا۔ وہ سہمے ہوئے داخل ہوئے۔

    ”اے وہ شخص، جس نے کل مجھے بجٹ دکھایا تھا، سچ بچ بتاؤ، تم کون ہو؟“

    ”میں کمپیوٹر آپریٹر ہوں حضور۔“ نوجوان نے ادب سے جواب دیا۔

    ”یعنی کمپیوٹر پر کمپوز کرتے ہو؟“

    ”نہیں تو۔۔۔!“ اس نے کہا۔

    ”پھر کیا کرتے ہو؟“

    ”اے جی پی آر میں ہر مہینہ اخراجات کی برابری کرتا ہوں۔ بجٹ بناتا ہوں، یعنی اکاؤنٹینسی کا تمام کام کرتا ہوں۔“

    ”اور تم؟“ عورت نے ایک لغت نویسہ سے پوچھا۔

    ”جی میں۔۔۔ ایسا ہے کہ میں انتظامیہ کے دیگر امور نمٹاتی ہوں، منسٹری سے خط و کتابت بھی تو کرنی پڑتی ہے۔“

    ”وہ انگریزی میں ہوتی ہے ناں؟ لیکن تمہیں تو انگریزی ٹھیک سے نہیں آتی۔“

    ”باہر سے لکھوا لیتی ہوں محترمہ۔۔۔“ لغت نویسہ نے رو کر کہا۔

    ”تم بھی باہر سے کام کرواتے ہو؟“ عورت نے کمپیوٹر آپریٹر سے پوچھا۔

    ”نہیں۔۔۔“ اس نے کہا۔ ”میں تو سیکھ ہی گیا سب کام، جب سرپر پڑتی ہے تو کرنا ہی پڑتا ہے۔“

    عورت نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ ایک اچھی شخصیت کا نوجوان تھا۔ ہنس مکھ، توانائیوں سے مملو، آگے بڑھنے کا مشتاق۔

    تب اس نے ایک لمبا سانس بھر کر کہا۔ ”اب آپ جا سکتے ہیں۔“

    گویا ”تخلیہ“ کہہ کر تالی بجائی۔

    پھر اس نے مولوی صاحب کو جادو سے بلایا۔

    ”میں فعل متعدی سے ناواقف ہوں۔“ اس نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا۔ ”لیکن جو میں کر سکتی ہوں وہ اب کرنے جا رہی ہوں۔“

    اتنا کہہ کر وہ وزارت تعلیم کے سیکرٹری کو خط لکھنے بیٹھ گئی۔

    ”یہ بات ناقابل یقین ہے کہ سالہا سال سے ایک ادارے کی یہ درگت بنا دی گئی ہے کہ اس کے انتظامی ڈھانچے کو بالکل ختم کر کے رکھ دیا گیا۔ فوری طور پر۔۔۔ بالکل فوری طور پر اس کو ری اسٹرکچر کیا جائے۔۔۔ ورنہ!”

    تب انہوں نے فون کیا تھا ”ہمارا ایک بندہ آ رہا ہے۔“

    اور یہ لغت نویسہ تھی کہ جب سے میں آئی تھی روئے چلی جا رہی تھی۔ میرے آنے سے پہلے وہ قائم مقام مدیر اعلیٰ تھی۔ اسے امید دلائی گئی ہو گی کہ بالآخر وہ سچ مچ ترقی دے کر مدیر اعلیٰ بنا ہی دی جائے گی کہ اچانک مجھے اس پر نازل کر دیا گیا۔ لہٰذا وہ اپنی پرانی کرسی پر بیٹھی روئے جا رہی تھی۔

    عورت نے دوسری عورت کو ڈانٹا۔ ”اب بند کرو یہ رونا دھونا۔ تمہارے کوئی بھی اختیارات ختم نہیں کیے جا رہے۔ تمہاری پہلی حیثیت برقرار ہے۔ اب روئیں تو اے سی آر خراب کر دوں گی۔“

    ”میں نے بتیس برس یہاں کام کیا ہے۔“ لغت نویسہ نے سہم کر کہا۔

    ”بتیس برس!“ عورت نے مرعوب ہو کر دہرایا۔

    ”تو میں تمہاری پروموشن کرواتی ہوں۔ اس کے لیے اِس ادارے میں نئی پوسٹ بنانی پڑے گی۔“

    دوسری عورت خاموشی سے باہر چلی گئی اور نئی آنے والی کے خلاف خاموش سازشوں میں سے مصروف ہو گئی۔

    ”شاباش ! کچھ تو کرو۔“ میں نے کہا۔ ”اِٹ اِز اونلی نیچرل!“

    اس کے آگے گلیاں تھیں اور گلیارے۔۔۔ اور ہر گلی ایک بند گلی تھی، جن میں گاڑھا کہرا اتر رہا تھا۔

    ”یہاں کچھ پروموشنز کیے جائیں۔ نئی پوسٹیں دیجیے۔“

    ”مگر یہ پرانے سروس رُولز میں نہیں آتے۔“

    ”تو نئے سروس رولز بنا لیتے ہیں۔“

    ”آپ بنائیں گی ؟“

    ”ہاں! آپ کی مدد سے۔“

    ”تو یہ کاغذات لے جایئے۔ پھر ہمیں خط لکھیے گا۔“

    ”پھر آپ مجھے خط لکھیں گے۔ پھر میں آپ کو خط لکھوں گی۔ یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ تب تک یہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ میں خط و کتابت کی شوقین نہیں۔ سروس رولز اسی دفتر میں، آپ کی موجودگی میں بنا لیتے ہیں۔“

    سیکشن آفیسر سخت گھبرایا۔

    ”نہیں جی۔ یہ یہاں نہیں بن سکیں گے۔“

    ”تو کہیں اور چلتے ہیں۔“

    اس پر پاس کھڑا نائب قاصد، یعنی کبوتر ہنس پڑا۔

    سیکشن آفیسر خوب شرمایا، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ وہ عورت کے ساتھ بیٹھ کر نئے سروس رولز بنانے پر تیار ہو گیا۔

    چار پانچ دن میں سروس رولز بن گئے۔

    عورت انہیں لے کر خوشی خوشی سیکرٹری ایجوکیشن کے پاس پہنچی۔ سیکرٹری ایجوکیشن ایک نازک ڈیل ڈول کے انسان تھے۔ ان کے نقوش بھی نازک اور دلچسپ تھے۔ گھنے ابرو اور پلکیں، چمکتی آنکھیں ، خوب فراخ دہانہ، لمبی سی ستواں ناک جو اوپر کی طرف مڑی ہوئی تھی۔ گویا ان کا ایک ولندیزی قسم کا چہرہ تھا۔ عورت کو یہ بات دلچسپ لگتی تھی۔ اس نے پنجاب میں چند ایسے دوسرے چہرے بھی دیکھے تھے۔ پنجاب میں نسلیں کسی درجہ مخلوط ہیں۔ اس نے سوچا اور سروس رولز ان کی طرف بڑھائے۔ سیکرٹری ایک خوش مزاج بھلے مانس تھے۔ وہ عورت سے شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ انہوں نے ہمدردی سے کاغذات پر نظر ڈالی اور کہا۔

    ”آپ نئے عہدے مانگ رہی ہیں۔ پرانے عہدوں کی ہی خیریت نہیں۔“

    پھر انھوں نے کہا۔

    ”آپ فنانس اور اسٹیبلشمنٹ سے ملیے۔“

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا مینجمنٹ اور سروسز پر، یعنی وِنگ۔ ہر وزارت کئی پروں سے اڑتی ہے۔

    جوائنٹ سیکرٹری ایک مائل بہ فربہی، چالیس کے پہئے میں، ایک اداس اور کچھ فلسفیانہ خو بو کی شخصیت نکلے۔

    انہوں نے اداسی سے مجھے دیکھا۔

    ”کیا آپ اس ادارے کی پنشنوں کی ادائیگی کے لیے آئی ہیں؟“

    ”نہیں۔۔۔ لیکن وہ بھی ہو جائے تو کیا ہرج ہے۔ وہ فائل بھی لائی ہوں۔“

    ”لیکن محترمہ۔۔۔ یہ ادارہ تو بائیس برس سے ہمارے نزدیک۔۔۔ وجود نہیں رکھتا۔“

    ”وجود نہیں رکھتا؟ مگر یہ تو ہے۔“

    ”کیا ثبوت ہے۔“

    ”بھئی یہ باقاعدہ ہے۔ کوئی پچپن لوگ کام کر رہے ہیں یہاں۔“

    ”یہ وجود کا ثبوت نہیں۔“

    ”تو پھر کیا ہے؟“

    ”بائیس برس پہلے، یعنی 1986میں وزارت تعلیم نے اس کے کارکنوں کے وجود کے تسلسل کے لیے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔“

    ”اور تب سے اب تک نہیں کیا؟“

    ”نہیں۔۔۔ لہٰذا جہاں تک ہمارا تعلق ہے، مالی سے لے کر لغت نویسوں تک، کوئی عہدہ وجود نہیں رکھتا۔“

    ”نہیں رکھتا۔۔۔! لیکن انھیں ہر سال بجٹ مل جاتا ہے۔ اس میں سب کی تنخواہیں ہوتی ہیں۔”

    ”اس کے لیے وزارت معیشت سے پوچھیے۔“ جوائنٹ سیکرٹری نے اضمحلال سے کہا۔

    مشیر وزارت معیشت گہرے سانولے چہرے پر تھکن کے آثار۔۔۔ چہرے کے موزوں نقوش پر قبل از وقت بڑھاپے کی پرچھائیں۔ کمرے کے در و دیوار سے فائلیں گویا اُگ رہی تھیں۔ ہر گوشے میں اور تمام میزوں پر فائلوں کے انبار تھے۔ ان کا ایک نیم دیہاتی پختون اسسٹنٹ ایک قدیم صوفے پر براجمان۔

    ”میں ذرا وضو کرنے جا رہا ہوں۔“

    عورت نے سینے پر ہاتھ رکھ کر آمنّا اور صدقّنا کہا۔

    انتظار طویل نکلا۔۔۔ دراصل وہ نماز پڑھنے گئے تھے، کہتے ہوئے ہچکچائے۔ اس ہچکچاہٹ کی عورت نے دل سے قدر کی۔ بالآخر وہ واپس پہنچے۔

    ”مینجمنٹ اور سروسز ونگ سے کاغذات ہمارے پاس آتے ہیں، چونکہ وہاں نہیں پہنچے، اس لیے ہمارے نزدیک بھی بائیس برس سے اس ادارے کا وجود نہیں ہے۔“

    ”لیکن آپ ہر سال انہیں تنخواہیں دیتے ہیں۔“

    ”ہمارے پاس کسی کمپیٹنٹ اتھارٹی نے یہ ہدایات نہیں بھیجی ہیں کہ بجٹ دینا بند کر دیا جائے۔ اس لیے بجٹ جاری کرتے رہتے ہیں۔“

    عورت چکرا کر انہیں دیکھتی رہی۔

    ”مگر تنخواہوں میں اضافہ یا پروموشن۔۔۔ یا نئے عہدے۔۔۔ اس کے لیے وجود کا ثبوت درکار ہے۔“ انھوں نے کہا۔

    عورت مبہوت ہو کر جوائنٹ سیکرٹری کو تکتی رہی۔ پھر اسے شدید غصہ آیا۔ یقیناً یہ تو اردو سے دشمنی تھی۔ ”اردو سے یہ بہ اکھیای“ اس کے دماغ نے سوچا جس میں سندھی بھری تھی۔ تب ہی جوائنٹ سیکرٹری نے کہا۔

    ”ہمارے پاس ایسا ہی ایک دوسرا کیس ہے۔“

    ”کون سا کیس؟“

    ”سندھ مدرسہ۔“

    سندھ مدرسہ! عورت مبہوت ہو کر رہ گئی۔ مسٹر جناح کا اسکول! تو یہ اردو دشمنی نہیں تھی۔ یہ تو کوئی دیگر چیستان تھا!

    ”جی ہاں۔ بائیس برس سے ہمارے نزدیک اس کا بھی وجود نہیں ہے لہٰذا کوئی پروموشن یا تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہو سکتا“

    یا اللہ! عورت نے ایک لمبی سانس بھری۔ یہ جناح کا اسکول تھا؟ اس کی یہ درگت !! اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حالانکہ اس نے پہلے کبھی مسٹر جناح کے بارے میں کبھی نہ سوچا تھا۔ لیکن اس گھڑی، برنس روڈ کے1947 سے بنتے ہوئے میرٹھی پایوں اور لکھنوی کبابوں کے دکانوں سے گھرے، سنگ خارا کی اس خوبصورت پر تمکین عمارت کی محرابیں اور ستون اس کی نظر میں گھوم رہے تھے جہاں محمد علی نامی ایک دبلا پتلا پڑھاکو لڑکا گھومتا پھرتا ہوگا، اور جس نے اس بے پناہ برصغیر میں مسلمانوں کی بے چینی اور بے قراری کو ایک راستہ دیا تھا۔

    ”قائد اعظم کے اسکول کے ساتھ یہ سلوک کرتے آپ کو شرم نہ آئی۔۔۔ کس قدر تو مختلف حکومتیں قائد اعظم کے نام پر بک بک کرتی ہیں! جبکہ حقیقت یہ ہے؟“

    یہ زوردار ڈانٹ وہ پلانا چاہتی تھی، لیکن ایسا کچھ بھی اس نے نہ کیا۔ اس کا فائدہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ خاموش بیٹھی دانت پیستی رہی۔

    ”بہرحال ہم آپ کی کوشش کی قدر کرتے ہیں اور آپ کو خط لکھیں گے۔“

    قصہ ختم اور پیسہ ہضم! بقول محاورہ۔ عورت ٹکٹکاتی ہوئی واپس آ گئی۔

    چیزوں کا ہونا یا نہ ہونا۔۔۔ کسی ثبوت پر منحصر ہے کہ کس نے ان کو کیا۔ کسی نے تو کیا ہوگا۔ اپنے آپ سے تو نہیں ہو گیا ہوگا! لیکن ایسا ریکارڈ میں نہیں ہے۔

    کیوں نہیں ہے؟

    کوئی افسر کاغذ فائل کرنا بھول گیا اور اس طرح وجود غیر قانونی ہو گیا۔

    بائیس برس پہلے۔۔۔ اب بائیس برس پہلے کیوں کر پہنچا جا سکتا ہے۔

    بائیس برس کی فائلوں کی چھان بین کا آغاز۔

    وزارت فنانس کے سوال

    (1) کون سی کمپیٹنٹ اتھارٹی نے اسے کب بنایا

    (2) اس کا ثبوت کیا ہے؟

    (3) وہ خط کہاں ہے جس سے اس کا ہونا ثابت ہو؟ ہمارے پاس تو نہیں

    اب دیکھیے! اپنی سی تو کوشش میں کر ہی رہی ہوں، مولوی عبد الحق صاحب!

    مولوی عبد الحق! وہ بچارے مولوی کسی طرح اور کسی طرف سے بھی نہیں تھے۔ یہ تو مشرقی مدرسوں کی ایک ڈگری ہوتی تھی جیسے ادیب فاضل ہوتا تھا۔ میری آپا نے شادی کے بعد اور ایک بچے کی پیدائش کے بعد ادیب فاضل کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ شام کی کلاسیں ہوتی تھیں اور پچاس کے عشرے میں، حیدرآباد میں ایک زنانہ باغ میں کھولی گئی تھیں۔ تقسیم سے پہلے یہ ایک چھوٹا سا پارک تھا جسے لیڈیز پارک کہا جاتا تھا۔ پھر شام کو یہاں آنے والی ہندو خواتین چلی گئیں۔ یہ جگہ دن کے وقت ایک اسکول کو دے دی گئی اور شام کو یہاں ادیب اور ادیب فاضل کی کلاسیں ہونے لگیں۔ مجھے یاد ہے کیونکہ ایک برس تک جب میری آپا ریشمی کالا برقعہ اوڑھے ، اپنے گل گوتھنے بچے کو گود میں لیے ان کلاسوں میں جاتی تھیں تو میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی تا کہ وہ راستے میں اکیلی نہ ہوں۔ پھر یہ کلاسیں اور یہ طرز تعلیم رفتہ رفتہ ختم ہو گیا۔ مولوی، جس کا مطلب حضرت آقا، آقائے نامدار ہوتا ہو گا، لوگوں کی یادداشت سے محو ہو گیا اور شاید بعد میں لوگوں نے عبد الحق صاحب کو مسجد کا مولوی ہی سمجھا چونکہ یہ تو اب ان کے نام کا حصہ ہو گیا تھا۔

    عبد الحق جیسا کہ میں اب پڑھ رہی تھی، علی گڑھ یونیورسٹی کے اثر میں سرسید کی طرح تقریباً ”نیچری“ تھے۔ رہائش گاہ کی کھڑکی کھول کر جھومتے تھے جیسے پیے ہوئے ہوں۔ ہاں وہ اردو کے دل و جان سے دلدادہ تھے۔ اردو ۔۔۔ جیسا کہ عبدالحق اسے جانتے تھے۔ اردو سے ان کے عشق کی جڑیں تیس اور چالیس کے عشرے میں یو پی سی پی میں ہونے والے اردو ہندی تنازع میں تھیں۔ پاکستان میں نہیں تھیں۔ عبد الحق کے اجداد عرب یا ترک یا ایرانی مہاجر نہیں تھے۔ وہ خالص برہمن تھے اور مغلوں کے دور سے قانون گوئی ان کا موروثی پیشہ بن گیا تھا۔ تب ہی ان میں سے چند مسلمان ہوئے، شاہجہاں، یا شاید جہانگیر کے زمانے میں۔ شاید یہی برہمن اور نو مسلم دھیرے دھیرے اردو کی تشکیل کر رہے تھے۔ بیتی صدیوں میں کیا ہوا اور کیسے ہوا، اس کے بارے میں مکمل یقین سے کیا دعویٰ کیا جا سکتا ہے، پھر بھی یہ لگاؤ مذہبی نہیں بلکہ تہذیبی معلوم ہوتا ہے۔

    میری عبد الحق سے پرانی بچپن کی پہچان تھی۔ جب میں اسکول میں پڑھتی تھی تو ہماری اردو کی نصابی کتاب میں ان کا ایک مضمون یا قلمی خاکہ ”نام دیومالی“ بھی تھا۔ یہ ایسے مالی کی کہانی تھی جو اپنے کام میں دل و جان سے غرق رہتا تھا۔ ایک دن شہد کی مکھیوں کا ایک جھنڈ کا جھنڈ اس پر حملہ آور ہوا۔ نام دیو پودوں کی دیکھ بھال میں ایسا ڈوبا ہوا تھا کہ اسے شہد کی مکھیوں کے آنے کی خبر بھی نہ ہوئی۔ مکھیوں نے اسے اس بری طرح کاٹا کہ نام دیو سخت بیمار ہو گیا اور پھر جانبر نہ ہوسکا۔ مولوی عبد الحق نے اس کہانی میں لکھا تھا۔ ”میری نظر میں نام دیو ایک شہید ہے۔“

    یہ کہانی مجھے اتنی اچھی لگی تھی کہ آج تک یاد ہے۔ اس کہانی کی سادہ اور دل نشیں زبان نام دیو مالی کا چمن، اس کی موتیا چنبلی اور موگرے کی جھاڑیاں اور کیاریوں پر جھکا، کھرپی سنبھالے نام دیو مالی۔۔۔ سب کچھ جیسے زندہ معلوم ہوتے ہیں۔ پھر زندگی بھر میں نے ان کی کوئی دوسری تحریر نہیں پڑھی اور اب۔۔۔ جب خود میری زندگی ختم ہو رہی ہے، یا اب ایسا ہونا چاہیے، کتنی عجیب بات کہ میں ان کو سمجھنے اور بوجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔

    وزارت کے نام ڈکشنری بورڈ کا خط۔۔۔

    محترم سیکرٹری صاحب

    آداب!

    میں 22؍ جولائی 2009 کو اسلام آباد سے کراچی پہنچی۔ اسلام آباد میں آپ سے مشاورت کے ساتھ میں نے وزارت تعلیم کے افسران اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکرٹری، منسٹری آف فنانس اور فنانشل ایڈوائزر سے اردو ڈکشنری بورڈ کے بارے میں بات چیت کی۔

    آپ سب نے جس خلوص اور خندہ پیشانی سے میرے ساتھ تعاون کیا اس کا تہہ دل سے شکریہ قبول کیجیے۔ آپ لوگوں کی رہنمائی میں، میں ادارے کے لیے نئے سروس رولز بنا سکی۔ اس کے لیے میں خصوصاً محکمے کے دیگر افسران کی ممنون ہوں۔

    لیکن اب یہ نیا الجھاؤ سامنے آیا ہے کہ ماضی کی کسی کوتاہی کے باعث، پروموشن اور نئے عہدے تو برطرف، اس ادارے کے موجودہ عہدوں کے تسلسل کا بھی کوئی قانونی ثبوت موجود نہیں ہے گویا،

    مت کیجیو اعتبار ہستی

    ہرچند کہیں کہ ہے نہیں ہے

    اس صورت میں یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ پھر اتنے برس اسے بجٹ کیونکر دیا جاتا رہا اور ”غیر موجود” عہدوں کو تنخواہیں کیسے دی جاتی رہیں؟ لیکن سوال اٹھانے سے حاصل ہی کیا، بقول غالبؔ

    پرستش برق کی کرتا ہوں اورافسوس حاصل کا

    اس ضمن میں جو دستاویزی ثبوت فنانس کو درکار ہیں اس کے لیے میں نے ادارے کے پچاس سالہ ریکارڈ کی چھان بین کی، جو کچھ مجھے مل سکا وہ حسب ذیل ہے۔

    جناب شان الحق حقی نے 21 نومبر1959 میں ادارے کے عہدوں کی تخلیق کے لیے ایک خط ڈپٹی سیکرٹری، منسٹری آف فنانس کو لکھا تھا۔ اس خط کا جواب ادارے کے ریکارڈ میں نہیں، شاید فنانس کے ریکارڈ میں ہو؟ لیکن اس کے بعد تمام عہدوں کی تنخواہیں ملنا شروع ہو گئیں۔ گویا آفتاب آمد دلیل آفتاب۔

    ب۔ ادارے کے سلسلے میں جو آخری قرارداد 1986 میں منظور کی گئی تھی اس کے بعد اِدارے کے مختلف عہدوں کے لیے وزارت تعلیم سے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا تھا جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    NOTIFICATION NO۔F۔508/84, LB1, DATED 17 February 1985ج۔ 8 مئی 1990 میں وزارت تعلیم نے جناب فرمان فتح پوری کو ایک اتھارٹی لیٹر بھیجا تھا کہ وہ اردو ڈکشنری بورڈ میں مناسب عہدے تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    No۔F۔3-12/89-LBI

    اس سے زیادہ ادارے کے ریکارڈ میں کچھ نہیں ہے۔ اب آپ سے گزارش یہ ہے کہ اردو ڈکشنری بورڈ پاکستان کے قدیم ترین اِداروں میں سے ہے۔ اس کا وقار، استحکام اور فعالی میری ذاتی جاگیر نہیں۔ آپ سب پاکستان کے قابل تعظیم شہری ہیں اور یہ آپ کی اپنی ذمہ داری بھی ہے لہٰذا اب یہ معاملہ میں آپ کی اپنی صوابدید پر چھوڑتی ہوں۔

    میرا ناچیز مشورہ یہ ہے کہ ماضی کی کوتاہیوں پر تین حرف بھیجے جائیں۔ ادارے میں موجود عہدوں کے مسلسل تنخواہ دینے کو ان عہدوں کے وجود کا ثبوت تسلیم کر لیا جائے اور اس بنیاد پر ملازمین کی ترقی اور انتظامی نئے عہدوں کی تشکیل پر غور کیا جائے۔ اس طرح ہم سرخ فیتے کے اس جال سے باہر نکل آئیں گے جس کے الجھاؤ میں اس ادارے کا نہ صرف مستقبل نہایت تاریک ہو جاتا ہے بلکہ اس کے وجود ہی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔

    بصد احترام و خلوص

    فہمیدہ ریاض

    مدیراعلیٰ، اردو ڈکشنری بورڈ، کراچی

    میں ان کے مزار پر جا پہنچی۔ یوں تو یہ اردو ڈکشنری بورڈ کا ایک فرض منصبی تھا لیکن اب میرے دل میں اشتیاق پیدا ہو گیا تھا۔

    پرانے کراچی کے ایک گجراتی پاڑے میں۔۔۔ پہلے یہ عمارت ایک مندر تھی۔

    تقسیم کے بعد، جب مہاجرین نے یہاں پڑاؤ ڈالا تو اسے انجمن ترقی اردو کو دے دیا گیا۔ یہیں مولوی عبدالحق کی رہائش گاہ تھی۔ عجیب انسان تھے۔ لوٹ کھسوٹ کے اس زمانے میں بھی ان پر ہر طرف رواں ذہنیت کا اثر نہ ہوا۔ انہوں نے زندگی بھر اپنے لیے کوئی ذاتی جائداد نہیں بنائی اور نہ دولت جمع کی۔ وہ جن لوگوں کو انجمن میں لائے انہوں نے خود عبد الحق کو انجمن سے بے دردی سے بے دخل کر دیا۔

    انجمن کے کارکنوں کو ان سے ملنے کی ممانعت، یہیں اسی عمارت کی اوپر والی منزل میں وہ ایک طرح محصور کر دیے گئے تھے۔ بجلی کا کنکشن منقطع، پانی کا کنکشن بند۔۔۔ پڑھتے پڑھتے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یا اللہ پاک۔۔۔ عبد الحق اس سلوک کے تو مستحق نہ تھے۔ کیا انھیں اورنگ آباد کی وہ کوٹھی یاد آتی ہو گی جہاں وہ ہر نوٹوں کی کلیلیں کرتے دیکھتے تھے۔۔۔ کیا کسی لمحے؟ یہ ان کے ساتھ کیا ہوا!

    اور جناح؟ ایئرپورٹ پر انھیں لینے ایک شکستہ گاڑی۔۔۔ راستے میں گاڑی کا بریک ڈاؤن۔۔۔ اور ان کی خیر خبر لینے والا کوئی بھی نہ تھا؟

    کیوں؟

    آخر کیوں؟

    میں مزار کے گرد و نواح پر نظر ڈالتی ہوں۔

    پرانا کراچی۔۔۔ یہیں کہیں برنس روڈ کے پاس بندر روڈ پر قرۃ العین حیدر اپنے بھائی اور والدہ کے ساتھ ٹھہری تھیں۔

    وہ میری نسل کے بچپن کا زمانہ تھا۔

    ”آگ کا دریا“ میں قرۃ العین نے لکھا تھا، ”جب تاریخ نے مسلمانوں کو اپنی تقدیر آپ بنانے کا موقع دیا تو انہوں نے اس قدر گھٹیا پن کا مظاہرہ کیوں کیا۔۔۔“

    اس کا جواب بھی انھوں نے دیا۔

    ”وہ باہر سے آنے والے تھے۔ وہ مقامی لوگوں کے لیے اجنبی تھے۔“

    شاید میں ان سے اتنی متفق نہ ہوسکوں۔ میں پوچھوں کہ مقامی لوگوں نے اپنے لیے، اپنے لوگوں کے لیے کیا کیا؟

    مولوی صاحب کی برسی کا مختصر اجلاس اچانک درہم برہم ہو گیا۔ اردو یونیورسٹی کے کچھ اراکین آ پہنچے۔ وہ مہمان خصوصی کو ایک سیمینار میں لے جانا چاہتے تھے۔ اب مزید کارروائی نہیں ہو گی۔ سب نے جلدی جلدی اپنے لائے ہوئے ہار پھول مولوی عبد الحق کی قبر پر چڑھائے۔۔۔ ایک بھونڈی جلد بازی کے ساتھ۔

    ”آپ بھی چلیے۔“ ایک صاحب نے مجھ سے کہا۔ پھر اضافہ۔ ”میں نے تو آپ پر تھیسس لکھا تھا۔“

    نہ جانے جھوٹ بول رہے تھے کہ سچ۔۔۔ مگر میں نہ گئی۔ واپس گھر آ گئی۔ طبیعت اداس تھی۔

    انجمن ترقی اردو کا اردو کے بہترین ادیبوں سے اس قدر فاصلہ کیوں رہا؟ اور آج بھی کیوں ہے؟ کیا فیض، احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، مسعود اشعر، حسن منظر، آصف فرخی۔۔۔ اجمل کمال اردو کے لیے کام نہیں کر رہے؟

    انجمن کے ایک سینئر کارکن بولے۔ ”ہم آپ کو بلائیں گے۔“

    میں کیوں آؤں گی؟ اس نئے عجیب و غریب عہدے کے باعث؟

    یہ ایک ترقی پسند تحریک کے متوازی تحریک تھی۔۔۔ جس نے اپنی داغ بیل ڈالنے والے کی ایسی دُرگت بنائی کہ الامان و الحفیظ! اور انھیں اس حالت سے نجات کس سے دلائی؟

    قدرت اللہ شہاب اور ابن انشا نے۔۔۔ ایوب خان کے دور میں۔۔۔

    لیکن پھر عبد الحق صاحب نے ترقی اردو بورڈ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے کام میں بہت زیادہ دخل اندازی کی جا رہی تھی۔

    چلے گئے عبد الحق، بالآخر۔۔۔

    انجمن اب بھی ہے۔ اسے کچھ فنڈز ملتے ہیں۔ (تو) جو ایک شمع ہیں، جس کے گرد کچھ پروانے منڈلاتے رہتے ہیں، کہیں آس پاس پھل پھول رہا ہے ڈیکیڈینس اور ڈی جنریشن۔۔۔ ہاں ہاں! اب میں اس کے عین وسط میں ہوں۔ لوٹ لگا رہی ہوں اس میں جیسے بھینس کیچڑ میں لوٹ لگاتی ہے۔

    میں کیچڑ کو سمجھنا چاہتی ہوں۔ عبد الحق صاحب آپ کیچڑ نہ تھے۔ آپ اپنے ماضی کو بڑے بڑے صندوقوں میں بند کر کے یہاں لے آئے تھے۔ آپ اردو ہندی کے تناظر میں سوچتے تھے۔ اردو سندھی ٹکراؤ پر شاید حیران رہ جاتے۔ او ہو بھئی! مسلمانوں کی تو اتنی تو زیادہ، زبانیں ہیں، اس برصغیر میں! کہا گیا ہے کہ عبد الحق صاحب نے بنگالی کے خلاف بھی تحریک چلائی۔

    پھر بھی اگر وہ اپنی زبان سے پیار کرتے تھے، اس کی ترقی کے لیے کوشاں تھے، تو اس میں ان کی ذاتی برائی نہ تھی۔ جس طرح اگر کسی بنگالی یا سندھی یا پنجابی کو اپنی زبان سے پیار ہو، اور وہ اس کی ترویج و ترقی کے لیے دل و جان سے اپنی ساری زندگی وقف کر دیں، تو ہم دل سے ان کی عزت کریں گے۔۔۔ کریں گے یا نہیں؟

    ہماری سیاسی تاریخ پیچیدہ ہے، بہت کچھ ایسا ہے جو منطق کے اصولوں پر نہیں بیٹھتا۔ پاکستان کی تحریک ہندوستان کے مسلم اقلیتی صوبوں میں جس جوش و خروش سے چلائی گئی تھی، اور وہ جن نکات پر مشتمل تھیں جس کا اردو ایک اہم حصہ تھا، جغرافیائی پاکستان کی طبیعی حقیقت سے ایک حد تک نا آشنا تھی۔ بعد میں اسی لیے بنگال میں اردو کا بنگالی سے ٹکراؤ ہوا اور سندھ میں اردو کے خلاف تنفر پھیل گیا۔

    ہندوستان کے مختلف صوبوں، خصوصاً جنوبی ہند میں ہندی کو اسی تضاد کا سامنا کرنا پڑا۔ وہاں سرکاری حد تک انگریزی رائج ہو گئی۔ لیکن یو پی، سی پی میں زیریں سطح پر پرانا ماضی اب تک سانس لے رہا ہے۔ ہمارے ہندوستانی پولیس افسر دوست ہنس کر بتا رہے تھے۔ ”الٰہ آباد“ کے تھانے میں رپورٹ اب بھی اس طرح لکھی جاتی ہے، ”چور نے عقب سے نقب لگائی“ تو اردو بھی ہندوستان میں عقب سے نقب لگائے بیٹھی ہے۔

    یہ انگریز تھا جس نے انتظامی سہولت کے لیے پورے ہندوستان میں اردو رائج کرنے کی کوشش کی تھی۔ کراچی کے تھانوں میں بھی ایف آئی آر انگریز کے زمانے کی زبان میں کٹتی ہے۔

    کیا انگریز نے اچھا کام کیا تھا؟ واللہ اعلم! ساتھ ہی اس نے اردو کو ہندی سے جدا بھی کیا، اور دوسری زبانوں کی ترقی کے لیے (مثلاً سندھی کے لیے) عرق ریزی سے کام کیا اور کروایا۔

    اکثر سمجھا جاتا ہے کہ یہ سب انگریز کی سازش تھی۔ شاید ایسا نہیں تھا! شاید وہ ان کاوشوں سے مستقبل میں ابھرنے والے تضاد اور تصادم کا انداز ہ بھی نہ کرسکتے ہوں!

    بنیادیں، بہرحال بیتی ہوئی کتنی صدیوں نے ڈالی ہیں، جس کے باعث اردو بچے کھچے پاکستان کی قومی زبان ہے، رابطے کی زبان اور اسے پڑھنے والے لوگ چاروں صوبوں میں موجود ہیں۔ یہ اردو ڈکشنری بورڈ اور عبد الحق کی ”لغت کبیر“ اس کا ہی ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ جس میں ایک پوری تہذیب لفظ بہ لفظ محفوظ کر دی گئی ہے۔اس کی بقا اور تسلسل کے لیے بیورو کریسی کی دیوار سے سر ٹکرانا یہاں تک کہ کوئی راستہ پیدا ہو جائے، سو ہمارے لیے بدا ہے۔

    فعل متعدی ایسا فعل ہے جس کے لیے مفعول کی ضرورت ہوتی ہے جو فاعل سے گذر کر مفعول تک پہنچے، جیسے بلانا، دینا۔۔۔ یا اس ادارے کے وجود کو منظور کرنا! چند اور لوگوں کو بھی سیکھنا چاہیے ۔ کم از کم ان اداروں کو چلانے کے قابل افرادی قوت تو میسر ہو سکے۔ اردو کے شاعروں اور افسانہ نگاروں کی تو بے شک کمی نہیں ہے لیکن اس زبان کے عالم، اسکالر، اب ڈھونڈے نہیں ملتے۔۔۔ وہ اب ختم ہو چکے ہیں، چند بوڑھوں کے علاوہ (تعداد میں چار یا پانچ) نئی نسل سے اردو کے جامع اسکالر غائب ہیں، وقت کا یہ کتنا سنگین مذاق ہے!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY