غلیل
ظلو اور میں نے ایک ساتھ اپنے سفر کا آغاز سڑک کے اس حصے سے کیا جو دو مخروطی ہری بھری پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتی تھی۔ اس وادی، اس زرخیز گھاٹی میں اس راستہ کا جس پر ہم روانہ ہوئے اور جو ہمارے لئے متعین کر دیا گیا، آغاز کچھ یوں ہوا جس طرح دریاؤں کا پہاڑوں کے اوپر سے پاس سے اور درمیان سے ہوتا ہے اور دریاؤں کی طرح یہ راستہ، یہ کچی سڑک بھی پیچ و خم کھاتی ہوئی لامتناہی طوالت کی طرف چلی جا رہی تھی بس فرق یہ تھا کہ دریا صرف بل کھاتے ہیں اور ڈھلان کی طرف بہہ نکلتے ہیں لیکن یہ سڑک نہ صرف خمیدہ تھی بلکہ اونچ نیچ بھی رکھتی تھی۔ ہم اس سڑک پر ہنستے کھیلتے، بھاگتے دوڑتے، سوتے اور ستاتے ہوئے روانہ ہو گئے۔ اس سڑک کے دونوں طرف درخت اپنے سائے بچھاور کرتے تھے، چشمے اپنے میٹھے پانی سے ہماری پیاس بجھاتے تھے اور دوسرے مسافر جو ہم سے زیادہ جہاندیدہ تھے اور جن سے ہمارے خونی روابط تھے، آنے والے سفر کی طوالت کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہماری ڈھارس بندھاتے تھے، ہماری پیٹھ تھپکتے تھے، ہمیں پیار کرتے اور چمکارتے تھے۔
راستے میں رک کر ہم گیند بلا کھیلا کرتے، تو کبھی گلی ڈنڈا اور کبھی کبڈی کا تماشا۔ ان کھیلوں میں سڑک پر چلنے والے دوسرے لڑکے بھی شامل ہو جاتے لیکن سڑک پر چلنے والے بزرگوں کو اکثر اعتراض ہوتا۔ یہ کوئی کھیلنے کی جگہ ہے؟ وہ جھڑک کر کہتے لیکن ان کی ڈانٹ کا ہم پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ ایک آدھ بار ایسا بھی ہوا کہ گیند کسی بزرگ کے ماتھے پر جا کر لگی اور وہ برس پڑے اور مارنے کو دوڑے لیکن ہم ہاتھ آنے والے کہاں تھے، بھاگ کھڑے ہوتے۔ درختوں کے پیچھے چھپ جاتے۔ شام کے جھٹپٹے میں درختوں کے سائے تلے کھڑے ہو کر سرگوشیاں کرتے۔ رات کے دھندلکے میں ہم آنکھ مچولی کھیلتے اور اندھیرے میں ایک دوسرے کو ڈراتے۔ دن کے وقت ہم پیڑ کی شاخیں کاٹ کر غلیلیں تراشتے اور بجلی کے کھمبوں کو اپنی غلیلوں کا نشانہ بناتے اور پتھر جب اپنے نشانے پر لگتا اور ٹن کی آواز ہوا میں ارتعاش پیدا کرتی تو ہم خوش ہو جاتے۔
کھیل کود کے دوران ایک آدھ بار میری اور خاور کی لڑائی بھی ہوئی، ہم نے ایک دوسرے کو کوسا، گالیاں بھی دیں، اور ایک دوسرے سے ہٹ کر چلنے لگے وہ سڑک کے ایک طرف اور میں دوسری طرف۔ ہم نے بولنا بھی بند کر دیا یہاں تک کہ ہم کو ایک دوسرے کی سمت دیکھنا بھی گوارا نہ تھا لیکن ہم سے زیادہ دیر صبر نہ ہو سکا اور ہم پھر ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے دیکھنے لگے۔ اپنے رویے پر نادم اور شرمسار ہوئے، جھینپے لیکن معافی نہ مانگی۔ بس سڑک کے دونوں کناروں پر سے چلتے چلتے درمیان میں آ گئے جیسے یہ محض اتفاق ہو۔ نہ گلے ملے نہ ہاتھ ملائے مگر ہنستے ہوئے پھر ایک ہوئے اور یوں ہم سفر پر چلتے رہے۔ ہم ان باتوں میں اتنے مصروف اور منہمک ہوتے کہ ہمیں یہ احساس ہی نہ ہوتا کہ سفر پر ہیں، ایک دوسرے سے باتیں کرتے رہتے۔ نہ ختم ہونے والی باتیں۔ داستانیں سناتے رہتے، راستے کی نشانیاں بتاتے رہتے اور اس طرح یہ سفر کٹتا رہا۔
سڑک جو شروع میں بالکل کچی تھی۔ اب بتدریج پکی اور مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔ ادھر ادھر ہرے بھرے میدان شروع ہو گئے تھے۔ گندم اور مکئی کے کھیت جن میں بالشت برابر ہرے بھرے پودے اگ رہے تھے، کہیں کہیں آم اور امرود کے باغات راستے میں پڑتے، یہاں ہم گھس جاتے اور درختوں کے سائے میں بیٹھ کر پھل کھاتے یا پھر جامن کے درختوں پر چڑھ کر جامن توڑتے۔
یوں ہنستے کھیلتے، بولتے اور دوڑتے اور چھپ رہتے ہمارا سفر کٹتا رہا یہاں تک کہ ہم نے تیرہ کوس مکمل کر لئے۔ جب ہم چودھویں کوس کے قریب پہنچے تو سڑک بالکل پکی ہو گئی اور اس کے ارد گرد گھاس بڑی ہوتی گئی، ہریالی میں اضافہ ہو گیا اور ہم درختوں کے جنگل نما جھنڈ میں داخل ہو گئے۔ یہاں لمبے تناور درخت تھے جن کی جڑوں اور تنوں کے ارد گرد آوارہ بیلیں لپٹی ہوئی تھیں۔ ہم بدستور اپنی سیدھی اور ٹیڑھی، اونچی اور نیچی سڑک پر چلتے رہے لیکن کچھ ہی دور بعد ایک عجب مشکل پیش آئی۔ وہ سڑک جس پر سفر کر رہے تھے۔
دو حصوں میں تقسیم ہو گئی۔ ایک سڑک ذرا دائیں طرف کو جاتی تھی اور دوسری بائیں کو ۔۔۔ بالکل اسی طرح جیسے غلیل کی ایک شاخ دو شاخوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سڑکوں کے سنگم پر ایک کنواں تھا۔ ظلو اور میں نے یہاں آکر دم لیا، سستائے اور پھر کنویں میں ڈول ڈال کر ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھائی۔
اب ہم سڑکوں کے سنگم پر کھڑے ہو گئے اور اپنے سفر کی تیاری کرنے لگے۔ پہلے ہم نے دائیں طرف کو دیکھا اور پھر بائیں کو اور پھر ایک دوسرے کو۔ ظلو دائیں طرف کو بڑھا۔ میں نے آواز دی، ”ظلو! کہاں جاتے ہو؟“ ظلو رک گیا۔ مڑا اور حیران ہوا،
”کیوں؟ اپنی سڑک پر“
”لیکن ظلو میں تو بائیں کو جاؤں گا۔“
”آخر کیوں؟“ ظلو نے اور بھی حیرت سے پوچھا۔
”ظلو، میں بائیں جانب، دور مغرب کی سمت اُس نئے دیس میں جانا چاہتا ہوں جو نقشہ پر ہرا رنگ بن کر ابھرا ہے، جہاں نئی زندگی ہے، نئی امیدیں ہیں اور نئے عزم“ پھر میں نے لجاجت سے کہا، ”ظلو میرے اچھے دوست کیا تم بائیں جانب جانے والی سڑک پر میرا ساتھ نہ دو گے“ لیکن ظلو نے نفی میں سر ہلایا۔
”جی ہاں“ اس نے کہا، ”ورثہ میں ملی میری جائیداد، میرے اور تمہارے گھر ہمارے عزیز و اقارب، ہمارے آباؤ اجداد کے گاؤں اور ہمارے چاہنے پہچاننے شہر تو سب دائیں جانب والی سڑک پر ہیں۔ ہم ان کو کیسے چھوڑ کر انجانے، دور دراز کے دیس میں جا سکتے ہیں۔ وہاں ہم ذلیل و خوار ہوں گے۔ عزت و ثروت کی زندگی چھوڑ کر ہمیں گمنامی اور اجنبیت کی زندگی بسر کرنا ہو گی“
”مجھے یہ سب کچھ منظور ہے۔“ میں نے کہا۔
”لیکن تم کیوں ہم سب کو چھوڑ کر اس نئی سڑک پر جانا چاہتے ہو؟“ اس نے ضد کی لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا۔
ہم نے ایک دوسرے کی طرف حسرت و یاس سے دیکھا، ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایک دوسرے سے گلے ملے اور جدا ہو گئے۔ وہ دائیں جانب والی سڑک پر روانہ ہو گیا جہاں اس کے عزیزوں کے گھر تھے اور اس کے لئے مانوس شہر آباد تھے اور میں جدائی کے غم سے نڈھال نحیف سی چال کے ساتھ بائیں طرف انجانی اور پُرخطر سڑک پر چل پڑا۔ ہم بڑے عہد و پیمان کے بعد رخصت ہوئے تھے کچھ دور تک ایک دوسرے کو مڑ مڑ کر دیکھتے رہے۔ میں بار بار مڑ کر اس سڑک کی طرف بھی دیکھتا جہاں سے گزر کر ہم آئے تھے اور میری آنکھوں میں آنسو ٹمٹما اُٹھتے۔ دائیں جانب والی سڑک آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ ظلو آہستہ آہستہ دور ہوتا گیا یہاں تک کہ وہ ایک نقطہ بن کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اس کا چہرہ اور خدوخال جو شروع میں میرے دماغ پر عکس تھے بتدریج دھندلے ہوتے گئے اور پھر صرف یاد ہی باقی رہ گئی۔
یہ نئی سڑک پہلی سڑک کی مانند پختہ تو تھی لیکن کھردری تھی۔ سڑک کے دونوں طرف بے آب و گیاہ بنجر میدان تھا جس پر ریگستان ہونے کا شبہ ہوتا تھا۔ صرف کہیں کہیں چھوٹی چھوٹی خاردار جھاڑیاں اُگی تھیں۔ دھوپ کی تمازت سے بچنے کے لئے کوئی سایہ نہیں تھا پیاس بجھانے کے لئے نہ کوئی کنواں، نہ نہر نہ چشمہ۔ میں پہلی بار بالکل تنہا اس نئے اجنبی، دشوار اور کٹھن راستے پر سفر کر رہا تھا۔ بہر حال میں نے ہمت باندھی اور بجائے پیچھے مڑ مڑ کر دیکھنے کے آگے کی سمت دیکھنا شروع کیا لیکن منزل تو کجا کچھ بھی نظر نہ آتا تھا کیونکہ یہ سڑک اس قدر خمدار تھی اور نشیب و فراز رکھتی تھی کہ زیادہ دور تک آگے دیکھنا محال تھا۔ ظلو کی یاد کبھی کبھار میرے دل کو چٹکیاں لیتی تھی لیکن میری کوشش یہ تھی کہ میری تمام تر توجہ اپنے نئے سفر کی طرف رہے۔ میں کچھ ہی دور گیا ہوں گا کہ مجھ کو چند اور مسافر بھی دکھائی دیئے جو اسی سمت میں جا رہے تھے۔ اکا دکا قافلے بھی نظر آئے جو پڑاؤ کرتے ہوئے منزل بمنزل، منزل کی طرف نئی امیدوں کو لئے کوچ کر رہے تھے۔ میں ان کے پاس سے جلدی سے گزر گیا کیونکہ میں ان میں شامل ہو کر اپنی آزادی کو کھونے کے لئے تیار نہ تھا اور پھر یوں بھی اب میں تنہائی کا عادی ہو چکا تھا اور اس میں بھی ایک عجیب لذت محسوس کرنے لگا تھا۔
مجھے جلدی کچھ نئے ساتھی مل گئے لیکن انھوں نے زیادہ دیر میرے سفر میں میرا ساتھ نہ دیا یوں ہی ایک سلسلہ چل نکلا، نئے نئے ساتھی ملتے رہے، بچھڑتے رہے مجھے ان کے ملنے سے خوشی ہوتی تھی نہ ان کے بچھڑنے کا غم۔ شاید اس لئے کہ میں جدائی کا عادی ہو گیا تھا اور ملتے وقت بھی مجھے یہ احساس رہتا کہ یہ ملنا گویا جدا ہونے کے لئے ہے۔
سڑک اب کچھ زیادہ ہموار ہو گئی تھی۔ کچھ درخت بھی نظر آنے لگے اور ادھر ادھر گھاس پھوس اور جھاڑیوں کی بھی بہتات ہو گئی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب سڑک نسبتاً زرخیز علاقے میں داخل ہو رہی ہے۔ میں ابھی اٹھارویں کوس کے قریب پہنچا تھا کہ میری ملاقات ضمیر سے ہو گئی۔ وہ سڑک کے درمیان اچھلتا تا ہوا چلا جا رہا تھا۔ وہ مستقل گنگنائے جا رہا تھا اور اسی دوران مجھے دیکھ کر چھیڑنے کے انداز میں زیر لب مسکرا بھی دیتا تھا۔ میں اس کے ساتھ ساتھ چل دیا۔ ہم دونوں کافی دور تک ایک ساتھ چلتے رہے۔ وہ کچھ نہ بولا صرف گنگناتا رہا اور میں بھی چپ چاپ اس کا گانا سنتا رہا۔ یونہی ایک کوس چلنے کے بعد وہ اچانک خاموش ہو گیا اور میری طرف متوجہ ہوا۔
”تم کون ہو؟“ اس نے سوال کیا۔
”میں۔۔۔ میں بھی ایک مسافر ہوں“، میں نے جواب دیا۔
”لیکن میں تو مسافر نہیں ہوں ۔۔۔ خیر کہاں جا رہے ہو؟“ اس نے پوچھا۔
”تم کہاں جا رہے ہو؟“ میں نے جواباً استفسار کیا۔
”مجھے تو نہیں معلوم اور نہ میں نے اس کے بارے میں کبھی سوچا“
مجھے اس کی آوارہ طبیعت پسند آئی اور میں نے پہلی بار اس نئے راستے پر کسی شخص سے ہم آہنگی محسوس کی۔ ہم نے ایک ساتھ اس بھولی بھٹیاں جیسی سڑک کا کھوج لگانا شروع کیا اور نئے نئے رموز دریافت کرنے لگے۔
اب سڑک بہت زرخیز علاقے میں داخل ہو چکی تھی۔ جہاں تھوڑے تھوڑے فاصلے کے بعد نہریں بہہ رہی تھیں۔ ہم نے چند قافلوں کو دیکھا جو اب مستقل پڑاؤ ڈال چکے تھے اور نہروں اور دریاؤں کے کنارے زرخیز زمین میں نئی بستیاں بنا چکے تھے ہم نے ان سے پوچھا کہ وہ رک کیوں گئے تو انھوں نے کہا کہ ہم منزل پر پہنچ گئے ہیں کہ یہی تو ہمارا ڈیرہ ہے۔ لیکن مجھے یوں محسوس ہوا کہ میری منزل جو ظلہ سے جدا ہوتے وقت کافی واضح اور متعین تھی، اب نہ رہی تھی۔ میری منزل ابھی آنی تھی اس نئی منزل کی نشاندہی میں نہیں کر سکتا تھا۔ ضمیر نے بھی میری کوئی مدد نہ کی، منزل و نزل کیا بس چلتے جا رہے ہیں، کہیں نہ کہیں تو پہنچ ہی جائیں گے، ضمیر لاپروائی سے کہتا کرتا اور گنگنانے میں مشغول ہو جاتا۔
ہم ابھی انیسویں کوس پر تھے کہ ہماری ملاقات اختر سے ہوئی جو سڑک کی دائیں جانب پھولوں سے لدے درخت کے نیچے بنچ پر بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا۔ وہ ہمیں دیکھ کر چمکیلی آنکھوں سے مسکرایا اور شرارت سے اپنی زبان اپنے لبوں پر پھیرنے لگا، ”کیوں حضرات کہاں کا قصد ہے؟“ اس نے ہم سے پوچھا۔ ہم جو اس کی تفتیش اداؤں پر ٹھٹک گئے تھے، رک گئے۔ وہ اٹھا اور ہمارے ساتھ چل دیا۔ وہ ہم سے زیادہ تجربہ کار مسافر نظر آتا تھا، اس لئے وہ راستوں کے نشیب و فراز سے زیادہ واقف تھا۔ وہ خراماں خراماں ٹہلنے لگا اور ہمیں بھی اپنی رفتار آہستہ کرنی پڑی۔ سیر کرتے ہوئے اس نے کہا، ”تم پکی سڑک پر چلتے آ رہے ہو۔ اب تم ذرا کچے کا بھی مزہ لو، سبزے سے بھی حظ اٹھاؤ کہ یہ ایک دوسری اور بڑی حقیقت ہے“ یہ کہہ کر وہ ہمیں پکی سڑک پر سے دائیں طرف کو کچے میں لے گیا اور پھر ہم نے ٹیڑھی میڑھی رنگ برنگی پر لطف پگڈنڈیوں پر چلنا شروع کر دیا۔ گل و گل اس کے بنے ہوئے یہ راستے اس قدر پر اسرار اور پرکشش تھے کہ ہم ان کی لذت سے کبھی پار آشنا ہوئے۔ اور ہم ان کی پراسراریت میں منہمک ہو گئے۔ اختر ارد گرد لگے ہوئے پھولوں کو سونگھتا جاتا تھا، جو پھول اسے پسند آ جاتا وہ توڑ لیتا۔ اور گہرے سانس لے کر انھیں خوب خوب سونگھتا اور جب اس کی تشنگی بجھتی پڑ جاتی تو وہ اسے پھینک دیتا اور ایک نیا پھول توڑ لیتا میں نے بھی ایک سرخ گلاب کا پھول توڑا اور اس کی خوشبو سے میری دنیا میں ایک نیا رنگین در وا ہوا۔ ایک نیا چراغ روشن ہوا جس نے میری دنیا کو منور کر دیا۔ اختر پھول توڑتا، سونگھتا، تتلیوں کو پکڑتا، پگڈنڈیوں کی سیر کرتا رہا اور ہمیں نئے راستوں اور نئے رموز سے مانوس کرتا رہا۔ ہم اس کے ساتھ سیر کرتے، درختوں کے سایوں میں چلتے، گھاس پر ستاتے اور پھول چنتے دور تک نکل آئے۔ یہ سب پگڈنڈیاں دائیں طرف کو جاتی تھیں اور ہمیں کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ ہم اپنے راستے سے ہٹ گئے ہیں۔ اس لئے ہم نے اختر سے کہا، ”اب ہمیں سڑک پر چلنا چاہیے۔“ لیکن اختر نے جواب دیا، کیا تمہیں یہ پگڈنڈیاں، یہ رنگ برنگے پھول، یہ شوخ تتلیاں لطف نہیں دے رہیں بس یہی تو زندگی ہے اور ہم نے کہا، ”یہ سب صحیح ہے لیکن ہمیں آگے بھی تو جانا ہے“ اس پر اس نے کہا، ”بھئی وہ رہی تمہاری سڑک، اس راستے پر چلے جاؤ تمہیں سڑک پر پہنچا دے گا“ اختر نے سڑک کی طرف اشارہ کر کے کہا، ”رہا میرا سوال تو میں وہاں سفید پھولوں سے لدے ہوئے باغ کو پاس سے دیکھنے جا رہا ہوں۔ میں ان سفید پھولوں کو سونگھوں گا دھاگے سے پروؤں گا، ان کا ہار بناؤں گا اور اپنے بازوؤں کے گرد لپیٹوں گا۔ جب وہ باسی ہو جائیں گے تو میں نئے پھول چننا شروع کر دوں گا۔ اس نے دور دائیں سمت واقع ایک چمن زار کی طرف اشارہ کیا۔
”کیا تم سڑک پر واپس نہ آؤ گے؟“ ضمیر نے پوچھا
”جب دل بھر جائے گا تو شاید“ اختر نے لاپروائی سے جواب دیا۔
ہم نے اس سے اجازت لی اور مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے واپس سڑک پر نکل آئے۔ سڑک پر پہنچنے کے بعد ہم ستانے کے لئے ایک جگہ بیٹھ گئے کیونکہ ہم تھک گئے تھے۔ اب ہم کیمپوں سے کوس کے قریب تھے۔
ہم ابھی کچھ ہی بیٹھے ہوں گے کہ ہمیں سڑک کی بائیں جانب ایک شخص آتا نظر آیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر رکا۔ سڑک پار کر کے ہماری طرف آیا اور ہمیں مخاطب کر کے بولا، ”تم کس شش و پنج میں مبتلا ہو۔ ابھی منزل بہت دور ہے آؤ میرے ساتھ آؤ۔“
”کیا تمہیں منزل کا پتہ ہے؟“ میں نے اشتیاق سے پوچھا۔
”ہاں مجھے منزل کا پتہ ہے، بلکہ میرے ذہن میں تو اس کا پورا خاکہ موجود ہے۔“ اس نے کہا۔
یہ سن کر ہماری جان میں جان آئی، ساری سستی جاتی رہی۔ ہم اُٹھے اور اس کے ساتھ سڑک کی بائیں جانب چل دیئے۔ سعید پہلا شخص تھا جس نے منزل کی خوش خبری دی اور منزل تک پہنچنے کی امید دلائی تھی۔
لیکن سعید کچھ اس قدر جلدی میں تھا کہ ہمیں اس کا ساتھ دینے کے لئے تیز چلنا پڑتا اور کبھی کبھار بھاگنا بھی۔ کچھ دور چلنے کے بعد سعید ہمیں سڑک کی بائیں جانب کچے راستے پر لے گیا جس پر کافی پتھر تھے اور بے شمار چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں اُگی تھیں۔
”یہ شارٹ کٹ ہے۔“ سعید نے کہا
”لیکن اس پر چلنا تو کافی مشکل ہے۔“ ضمیر نے کہا۔
اس پر سعید مڑا اور ہماری طرف مسکرا کر دیکھنے لگا۔
بھئی ہمت کرو۔ یہ راستہ ہے تو دشوار مگر ہے چھوٹا۔ اس طرح ہم جلدی منزل پر پہنچ جائیں گے۔ سعید نے ہماری ہمت بندھائی لیکن کچھ دور ہی چلے ہوں گے کہ گرمی کی تپش سے ہمارے پاؤں جھلسنے لگے، خاردار جھاڑیاں ہمارے پیروں میں چبھنے لگیں اور ہمارے لئے پتھروں پر چلنا دوبھر ہو گیا۔ میرے دائیں پاؤں کے جوتے کے تسمے ٹوٹ گئے اور میں اپنا پاؤں گھسیٹ کر چلنے لگا لیکن میں زیادہ دیر اس راستے پر نہیں چل سکتا۔
”مجھے پیاس لگ رہی ہے۔“ ضمیر نے کہا، اور ہونٹ میرے بھی خشک تھے۔
”آگے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ہے۔ وہاں چل کر پانی پیئیں گے“ سعید نے ہمت بندھائی۔ ”میرے بھی حلق میں کانٹے چبھ رہے ہیں مگر میں برداشت کر رہا ہوں“ سعید نے کہا۔
”مجھے پتھر تنگ کر رہے ہیں مجھ سے نہیں چلا جا رہا“ ضمیر نے شکوہ کیا۔
اور میں نے کہا، ”یہ راستہ بہت کٹھن ہے، سعید ہم سے اتنی قربانی نہ مانگو۔ کیا ہم ہولے ہولے پکی سڑک پر آرام سے منزل کی جانب نہیں چل سکتے؟“
”وقت کم ہے اور فاصلہ بہت زیادہ“، سعید بڑبڑایا، ”خیر چلو میں تمہیں سڑک پر لے چلوں، یہ کہہ کر وہ ہمیں سڑک پر لے آیا۔“
اب ہم سڑک پر چلے جا رہے تھے چلچلاتی دھوپ میں ہم پسینہ سے شرابور ہو چکے تھے اور کافی تھک گئے تھے ضمیر ایک سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور کہنے لگا، ”میں تو یہاں آرام کروں گا۔ مجھ میں آگے چلنے کی ہمت نہیں“ میں نے ضمیر کو بہتیرا سمجھایا کہ ذرا اور ہمت کرو، میرا ساتھ دو لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اونگھ رہا تھا۔ اس نے کروٹ لی اور سو گیا۔
سعید نے کہا، ”تم تو اب یہاں کچھ دیر ٹھہرو گے میں چلتا ہوں“ وہ بہت جلد باز تھا۔ اس نے سڑک کی بائیں طرف جست لگائی اور پتھریلے راستے پر تیزی سے روانہ ہو گیا میں نے اسے آواز دی، اس نے میری طرف مڑ کر دیکھا ہاتھ ہلایا اور پھر آگے کی طرف، اپنے پتھریلے اور تنگ راستے پر تیزی سے روانہ ہو گیا۔
اب میں اکیلا سڑک پر رہ گیا۔ میرے دونوں ہمسفر بچھڑ گئے تھے اور میں تنہا رہ گیا تھا۔ میں غمگین تھا اور یہ سوچتا چلا جا رہا تھا کہ باقی سفر کیوں کر گزرے گا کہ اتنے میں قریب سے گانے کی سریلی، مدھ بھری آواز سنائی دی جو یکا یک ایک نسوانی قہقہہ میں تبدیل ہو گئی۔ اس قہقہہ کا ہدف غالباً میں ہی تھا کیونکہ جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو دائیں طرف سڑک سے ذرا ہٹ کر جھاڑیوں کی اوٹ میں چھپی بنچ پر ایک خوبصورت دوشیزہ بیٹھی ہوئی اپنی شرارت بھری آنکھوں سے مجھے اپنی سمت مدعو کر رہی تھی۔ اس کے مسکراتے چہرے پر اس قدر تازگی تھی کہ میرے قدم خود بخود اس کی سمت اٹھے اور میں چند لمحوں میں بنچ پر اس کے پہلو میں بیٹھا تھا۔
”اجنبی آؤ کچھ دیر سستا لو۔ تم بہت دیر کے سفر پر نکلے معلوم ہوتے ہو مجھے بھی کچھ اپنے سفر کی دلچسپ داستانیں سناؤ۔ میرا نام فریدہ ہے لیکن تم مجھے فری کہہ سکتے ہو۔“ اس کی آواز نے چاشنی گھولی۔ ہم باتیں کرنے لگے۔ طویل باتیں پہلے سفر کی پھر محبت کی پھر پیار کی باتیں۔ اس نے اپنی باتوں سے جادو جگایا، اپنی نظروں سے تیر چلایا اور اپنے ہونٹوں سے امرت رس پلایا۔ میں مدہوش ہو گیا حتیٰ کہ میں نڈھال ہو کر اس کی رانوں پر سر رکھ کر سو گیا۔ میں کتنے دن سویا مجھے خبر نہیں۔ جب میں جاگا تو اس کی مسکراتی آنکھوں نے میری تواضع کی اور مجھے دوبارہ مسحور کر لیا۔ ”مسافر! اب تم کہیں جا کر کیا کرو گے؟ یہیں میرے پاس رہو۔ تمہاری منزل محبت تھی۔ سو وہ تم نے پالی۔“
میں بھی وصل کے اسرار و رموز سے پہلی بار یوں آشنا ہوا تھا کہ گویا میرے لئے تو ساتوں در کھل گئے تھے میرے دل اور دماغ میں جیسے خوشی کسی نے کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی۔ ہاں مجھے میری منزل مل گئی ہے یہ میں نے کہا اور میں قریب ہی اس کی کٹیا میں رہنے لگا اور اسے میں نے اپنا گھر بنایا۔
دن گزرتے گئے اور ہم اسی چھوٹے سے گھر میں رہ کر پیار اور محبت کی منزلیں طے کرتے ہنسی خوشی رہنے لگے۔ رفتہ رفتہ قریب کے دوسرے جھونپڑوں کے مکینوں سے بھی میری راہ و رسم بڑھی۔ یہاں تک کہ میں اس علاقے میں اجنبی نہ رہا۔ نہ پردیسی کہلایا۔
لیکن رفتہ مجھے اپنی پرسکون زندگی سے بغاوت کرنے کو جی چاہنے لگا۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنے قیدی ہونے کا احساس ہونے لگا۔ مجھے یہ وسوسے بھی لاحق ہونے لگے کہ میں اس گرداب میں پھنستا اور دھنستا ہی رہوں گا۔ بالآخر میری آوارہ طبیعت نے زور مارا اور وہ میرے وجود پر حاوی ہو گیا۔ ایک روز صبح سویرے جب وہ سو رہی تھی، میں اس کے جھونپڑے سے دبے قدموں باہر نکلا اور دوبارہ لمبی اور تنہا سڑک پر عازم سفر ہوا۔ دور مشرق سے نکلتے سورج کی کرنیں فضا کو منور کر رہی تھیں اور میں بیچ سڑک پر چل رہا تھا۔
منزل ابھی بہت دور تھی بلکہ مجھے یہ بھی نہ معلوم تھا کہ کتنی دور کیونکہ سڑک ایک لامتناہی طوالت کے ساتھ افق سے جا کر مل جاتی تھی۔ میں سڑک کے دائیں کنارے کی طرف آیا اور وہاں اُگے ہوئے نرگس کے پھولوں کو توڑ کر سونگھنے لگا۔ میں خوش بھی تھا اور اداس بھی۔ خوش اس لئے کہ میں دوبارہ آزاد ہو گیا تھا اور اداس اس لئے کہ میں دوبارہ تنہا رہ گیا تھا اور اداسی میں مجھے پچھلے سارے غم یاد آنے لگے۔ میں سڑک کے درمیان رک گیا اور میں نے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا، اس راستے کی طرف جس پر چل کر میں یہاں تک آیا تھا۔ اس سبز و شاداب مخروطی چوٹیوں سے گھری وادی کی طرف جہاں سے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا مجھے سڑکوں کا وہ سنگم یاد آنے لگا جہاں میں نے اور ظلو نے کنویں ڈول ڈال کر ٹھنڈے پانی سے اپنے شکم بھر لئے تھے۔ مجھے ظلو یاد آنے لگا۔ نامعلوم وہ کس حال میں ہوگا کیا وہ خوش ہوگا؟ کیا اس نے بھی کچھ مسافت طے کر لی ہوگی؟ کیا وہ میری سمت دیکھتا ہوگا یا وہ بھی کسی سایہ دار درخت کے نیچے اپنی زمین پر یا کسی دوشیزہ کی گود میں لیٹ کر سو گیا ہوگا۔ پھر میں نے ضمیر کی طرف دیکھا جو سڑک پر نڈھال ہو گیا تھا۔ پھر میں نے اس سمت دیکھا جہاں اخروٹ سفید یا پیلے پھولوں سے لدے چنار کا سر بگرہنا ہوگا اور اپنی رنگین اوڑھنی دنیا میں مگن ہوگا۔ پھر میں نے مڑ کر اس سمت دیکھا جس سمت سعید آگے بڑھ کر غائب ہو گیا تھا اور شاید اب بھی اسی تیزی سے پتھریلے اور خاردار راستے پر بڑھتا جا رہا تھا میں نے اپنے جھونپڑے کی طرف دیکھا جہاں میں اپنی حسین یادوں کو چھوڑ کر آیا تھا۔ میں نے ایک سرد آہ بھری ایک بار پھر نرگس کے پھولوں کو سونگھا، دیر تک سونگھا اور پھر ان کو اپنے ہاتھوں سے مسل ڈالا، پاؤں سے روند ڈالا۔ پھر میں مڑا اور آگے افق کی طرف دیکھنے لگا جس کے پیچھے میری منزل تھی جس کی طرف مجھے جانا تھا۔ اچانک میرے نحیف قدموں میں ایک نئی زندگی آگئی۔ میں ایک نئے عزم اور امید کے ساتھ دوبارہ اپنے طویل سفر پر روانہ ہو گیا۔ میری افسردگی خوشی میں تبدیل ہونے لگی اور میں ہنستا ہوا قہقہے لگاتا آگے کی طرف دوڑنے لگا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.