Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گود

MORE BYش۔ صغیر ادیب

    ننھا نوم جب گھر میں داخل ہوا تو تھوڑی دیر کے لئے سہم سا گیا۔ اور اپنی بڑی بڑی حیران اور قدرے خوفزدہ آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ یہ خوف اس کے چہرے سے بھی ظاہر ہو رہا تھا۔ ایک بے کسی، بے چینی اور بے یقینی کا خوف۔ اور یہ خوف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب احساس پر اجنبیت طاری ہوتی ہے۔ وہ اجنبی ہی تو تھا۔ پتہ نہیں یہ کون سی جگہ تھی اور وہ نہ جانے کیسے یہاں آگیا تھا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ جو عورت اسے اس جگہ لے کر آئی تھی، وہ ایک گداز سے صوفے پر اسے بٹھا کر اور کچھ کہہ کر اندر چلی گئی تھی۔ پھر وہ مرد اندر آیا تھا جس کو نوم نے کار میں دیکھا تھا اور جو کار چلاتا رہا تھا۔ اس مرد نے نوم سے کچھ کہا تھا جو اس کی سمجھ میں بالکل نہیں آیا تھا۔ پھر وہ بھی اندر کسی کمرے میں چلا گیا اور نوم اکیلا رہ گیا۔

    وہ ابھی سہمی حیرت زدہ نظروں سے ادھر اُدھر دیکھتا رہا۔ وہ کمرہ بہت اچھا تھا۔ دیواروں پر خوبصورت تصویریں لگی تھیں۔ ایک کونے میں تکونی ٹیبل رکھی تھی اور اس پر دلکش پھولوں گلدستہ دھرا تھا جس میں بہت سے سرخ سرخ گلاب لگے تھے۔ نوم بہت توجہ سے پھولوں کو دیکھتا رہا۔ اسے پھول اور خاص طور پر گلاب کے لال لال پھول بہت اچھے لگتے تھے۔ اس کے اپنے گھر میں بھی آنگن میں پھولوں کے بہت سے پودے تھے جن میں ہر روز صبح سرخ پھول کھلا کرتے تھے اور نوم انھیں دیکھ دیکھ کر بہت خوش ہوتا تھا۔ نوم کو تتلیاں بھی بہت پسند تھیں جو صبح اور سہ پہر کو پھولوں پر منڈلایا کرتی تھیں۔ خوبصورت اور طرح طرح کے رنگوں والی تتلیاں، نوم ان کے پیچھے دوڑتا تھا لیکن پکڑ نہیں پاتا تھا۔ پھر جب وہ رونے لگتا تو اس کی بڑی بہن ننھی اسے ایک دو تتلیاں پکڑ دیا کرتی تھی اور پھر باریک دھاگے میں اسے باندھ کر دھاگے کا دوسرا سرا اس کی کلائی میں باندھ دیا کرتی تھی تاکہ تتلی چھوٹ کر بھاگ نہ جائے۔ نوم غور سے گلدان کو دیکھتا رہا یہ پھول تھے تو خوبصورت، مگر یہاں تتلیاں نہیں تھیں اور ان کے نہ ہونے سے اسے تھوڑی سی مایوسی ہو رہی تھی۔

    فرش پر قالین بچھا تھا اور وہ بہت خوش رنگ اور دبیز تھا اور اس پر بڑے خوشنما بیل بوٹے بنے تھے۔ نوم کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا چیز ہے۔ اس نے یہ شے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایسی رنگین پھولدار زمین تو اس کے اپنے گھر میں بھی نہیں تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک خوبصورت چوکور ڈبہ رکھا تھا۔ یہ ڈبہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا اس نے پچھلے گھر میں دیکھا تھا۔ اور اسے معلوم تھا کہ اس ڈبے میں چلتی پھرتی تصویریں آتی ہیں۔ رنگین بھی اور سادی بھی۔ عورتوں مردوں اور بچوں کی تصویریں اور خوبصورت مناظر کی تصویریں۔ پہلے نوم جس جگہ تھا وہاں نوم کی طرح کے اور بھی بہت سے بچے تھے کچھ اس کے برابر کے تھے کچھ اس سے بڑے اور کچھ اس سے بھی چھوٹے تھے۔ وہاں ویسا ہی ڈبہ تھا اور اس میں چلتی پھرتی تصویریں آیا کرتی تھیں۔ نوم کو حرکت کرتی ہوئی تصویریں بہت اچھی لگتی تھیں اور جب تک اسے سونے کے لئے لٹا نہ دیا جاتا، وہ تصویروں کو دیکھتا رہتا اور کچھ دیر کے لئے سب کچھ بھول جاتا۔

    مگر پھر پتہ نہیں کیا ہوا کہ ایک عورت آئی۔ اس کے ساتھ ایک لمبا چوڑا مرد بھی تھا۔ آنے والی عورت کو مرد لیزا کہہ کر پکارتا تھا۔ ان دونوں نے نوم سے کچھ باتیں کیں اسے پیار کیا۔ مگر ان کی باتیں اس کی سمجھ میں نہیں آئیں۔ پھر وہ دونوں، موٹے موٹے شیشوں، اور سفید بالوں والی عورت کے ساتھ جو ان تمام بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھی ایک کمرے میں چلے گئے اور پھر کافی دیر بعد باہر آئے تب مرد نے نوم کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ باہر ایک کار کھڑی تھی عورت نوم کو لے کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی مرد گاڑی چلانے لگا۔ یہ ایک لمبا سفر تھا۔ نوم حیران و پریشان اور خاموش بیٹھا رہا۔ گھبرایا گھبرایا، گم صم اور سہما سہما۔ یہ سب پتہ نہیں کیا ہو رہا تھا۔ پتہ نہیں یہ سب کچھ کیا ہو رہا تھا۔ یہ دونوں کون تھے اور اسے کہاں لئے جا رہے تھے۔ وہ دونوں نوم کے ساتھ سارے راستے بہت محبت سے پیش آتے رہے تھے۔ انھوں نے اس کے لئے چاکلیٹ اور ٹافیاں اور نہ جانے کیا کیا خریدا تھا۔ لیکن وہ جب نوم سے کچھ کہتے تو اس کی سمجھ میں بالکل نہ آتا۔ اور جب آپس میں باتیں کرتے تو بھی سمجھ میں نہ آتا۔ وہ نہ جانے کون سی زبان بول رہے تھے۔ البتہ ننھے نوم کی سمجھ میں ایک بات ضرور آگئی تھی اور وہ یہ کہ جب مرد عورت کو لیزا کہہ کر پکارتا تو وہ فوراً متوجہ ہو جاتی تھی۔

    مگر نوم کی سمجھ میں تو یہ تمام باتیں نہیں آ رہی تھیں۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اس کی بڑی بہن تھائی کہاں ہے؟ اس کا باپ کہاں ہے، اس کی ماں کہاں ہے اور اس کا گھر کہاں ہے؟ یہ سب پتہ نہیں کیا ہوا ہے۔ وہ نہ جانے کہاں آ گیا ہے۔ اور یہ عورت جسے مرد لیزا کہہ کر پکارتا ہے، کون ہے اور اسے یہاں کیوں لے آئی ہے۔ آخر اسے اس کی ماں کے پاس کیوں نہیں پہنچا دیا جاتا۔ نوم کی سمجھ میں یہ سب کچھ نہیں آ رہا تھا۔ اور وہ حیران ہونے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھا ہوا حیرت اور خوف سے ایک ایک شے کو دیکھ رہا تھا۔ اسے اپنا گھر یاد آ رہا تھا۔ اپنی ماں یاد آ رہی تھی۔ اور تتلیاں اور پھول اور گھر کا آنگن، اور وہ مینا جو پنجرے میں بند ہر وقت ٹائیں ٹائیں کیا کرتی تھی۔ یہ سب کچھ کیوں چھوٹ گیا ہے، کہاں چلا گیا ہے۔ نوم کا دل دھیرے دھیرے کانپ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔ ایک خوف، ایک بے چارگی اور ایک خلش۔۔۔ جسے وہ سمجھ نہیں سکتا تھا، عجیب سی بات ہے۔ اسے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے۔ جیسے کچھ گم ہے، کچھ کھو گیا ہے، کچھ چھن گیا ہے۔ گر گیا۔۔۔؟ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا پچھلے چند دنوں سے اس کے ساتھ عجیب عجیب باتیں ہو رہی تھیں جو اس کی عقل سے تو باہر تھیں لیکن ذہن میں محفوظ تھیں اور اس کے دل کو آہستہ آہستہ مسلتی رہتی تھیں عجیب عجیب باتیں، لال رنگ، اور شور اور ہوائی جہاز اور پھر بہت سے عجیب طرح کے لوگ، پھر اس کا بادلوں میں اڑنا، اور یہ نئی جگہ۔۔۔ جانے یہ جگہ کون سی تھی، اور یہ لوگ کون تھے اور اسے یہاں کیوں لے آئے تھے۔ اور۔۔۔ اور یہ الجھن سی کیوں ہے، جیسے کچھ گم ہے، کچھ کھو گیا ہے۔ کچھ کھو گیا ہے۔۔۔ گر گیا؟

    بالآخر لیزا باہر آئی۔ اس کے ساتھ وہ لمبا چوڑا مرد بھی تھا۔ لیزا کے ہاتھ میں بوتل تھی۔ سفید رنگ کی۔ لیزا نے بڑی محبت سے مسکرا کر نوم کی جانب دیکھا۔ اور اس کے قریب بیٹھ کر پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور جھک کر میٹھے لہجے میں بولی،

    ”کیسے ہو نوم؟“

    نوم نے اپنی بڑی بڑی سہمی سہمی آنکھوں سے لیزا کی جانب دیکھا۔

    ”انگریزی بالکل نہیں سمجھتا ہے۔۔۔“ لیزا نے گھوم کر مرد سے کہا۔

    ”کیسے سمجھ سکتا ہے“ مرد بولا۔۔۔ ”ابھی اتنا چھوٹا تو ہے۔۔۔“

    ”ہاں۔۔۔“ لیزا نے جواب دیا۔۔۔ ”مگر یہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ جلد ہی سیکھ جائے گا۔ بچے بہت جلد سیکھ لیتے ہیں۔۔۔“

    ”ہاں، یہ بات تو ٹھیک ہے۔۔۔“ پیٹر بھی نوم کی دوسری جانب بیٹھ گیا اور مسکرا کر کہنے لگا: ”بہت خوبصورت ہے یہ، میں نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ویتنامی بچے اتنے پیارے ہو سکتے ہیں“

    ”مجھے تو بڑا ہی پیارا لگتا ہے۔۔۔“ لیزا نے کہا۔

    پھر لیزا نے بوتل کا نپل نوم کے منہ سے لگا دیا۔ نوم نے ایک دو چسکیاں لیں۔ دودھ میٹھا اور نیم گرم تھا۔ نوم کو بڑی بھوک لگ رہی تھی، چنانچہ وہ چپکے چپکے دودھ پینے لگا۔ ابھی اس کی اجنبیت دور نہیں ہوئی تھی اور اندر کہیں گھسا ہوا ڈر بدستور اس کے احساس کو سہار رہا تھا۔ مگر بھوک الگ چیز ہے، پچھلے کچھ دنوں میں وہ اس طرح خوفزدہ اور گم سم سا رہا تھا۔ مگر جب بھوک لگتی تو وقتی طور پر یہ ڈر کہیں چلا جاتا، اور وہ دودھ پی لیتا یا جو اسے کھلایا جاتا، کھا لیتا، اس وقت بھی دودھ کی لذت کچھ دیر کے لئے ڈرے ہوئے احساس پر غالب آ گئی اور وہ دودھ پینے لگا۔ لیزا اسے محبت سے دیکھتی رہی۔ پھر پیٹر سے مخاطب ہوئی۔

    ”ڈارلنگ، ہم اسے کیا کہہ کے پکاریں گے۔۔۔“

    ”تمہارا مطلب ہے، ہمیں اس کو اپنا کوئی نام دینا چاہیے۔۔۔“

    ”ہاں، آخر اب یہ ہمارا بیٹا ہے نا۔۔۔“

    پیٹر کچھ سوچنے لگا۔ اس کی نظر نوم پر جمی ہوئی تھیں۔ اور لیزا پیٹر کو توجہ سے دیکھ رہی تھی۔ چند لمحے بعد پیٹر نے کہا۔

    ”میرا خیال ہے، ہم اسے بیری کہہ کر پکاریں گے۔ بیری جان تھامپسن۔۔۔“

    لیزا نے دانتوں کی قطاریں چمکائیں۔۔۔ ”اوہ، اٹس بیوٹی فل۔۔۔ مجھے بہت پسند آیا یہ نام۔۔۔“

    پھر نوم کو دیکھنے کے لئے اور کئی لوگ آ گئے۔ پانچ چھ عورتیں اور دو یا تین مرد۔ ان میں کچھ لیزا کے پڑوسی اور کچھ رشتے دار تھے۔ اور انہیں یہ اطلاع مل چکی تھی کہ لیزا اور پیٹر نے ایک ویت نامی بچے کو اپنا بیٹا بنایا ہے۔ کمرے میں ایک دم سے جو سناٹا ٹوٹا تو قدرے شور ہونے لگا اور ٹام حیران ہو کر ایک ایک چہرے کو دیکھنے لگا۔ وہ لوگ ٹام کو دلچسپی، محبت اور قدرے ہمدردی کے انداز میں دیکھ رہے تھے اور مسکرا مسکرا کر ہیلو بوائے، ہیلو سن، کہہ رہے تھے۔ ان لوگوں نے لیزا اور پیٹر کو مبارک باد دی۔ ٹام کے لئے جو تحفے وہ لائے تھے، وہ اس کے سامنے میز پر رکھ دیئے گئے مسز کنجر کا تحفہ سب سے اچھا تھا۔ وہ بیٹری سے چلنے والا ٹینک لائی تھیں جس کے اوپر ایک لمبی نال والی گن لگی تھی۔ انھوں نے ٹینک ٹام کو دے دیا پھر اس کے گال پر ہلکا سا پیار کیا اور مسکرا کر لیزا سے کہا،

    ”بہت پیارا بچہ ہے۔۔۔“

    لیزا مسکرائی ”ہاں اور بھی کئی بچے تھے لیکن ہمیں یہی سب سے زیادہ پسند آیا۔ پھر یہ بھی ہے کہ اس کی عمر کم ہے۔ جلدی ہی ہم لوگوں میں گھل مل جائے گا!“

    مسز کنجر نے قدرے توقف کے بعد کہا ”یہ تم نے بہت ہی اچھا کیا۔ تمہارا گھر بڑا سونا معلوم ہوتا تھا۔ اب یہ یہاں ہنسے کھیلے گا تو گھر گھر معلوم ہوگا۔“

    لیزا نے کچھ نہیں کہا۔ صرف مسکرانے لگی۔

    حقیقت بھی یہی تھی کہ لیزا کی شادی کو سات سال ہو چکے تھے مگر اولاد سے اب تک محروم تھی۔ ڈاکٹر سے رجوع کیا تو اس نے انکشاف کیا کہ لیزا ماں بننے کی صلاحیت سے قطعی طور پر محروم ہے۔ یہ اس کے لئے بڑے صدمے کی بات تھی۔ کیونکہ کسی جسمانی نقص کی وجہ سے وہ بے شک ماں بننے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو لیکن اس کے دل میں ممتا ضرور موجود تھی۔ اسے اپنا گھر، اس کا سونا پن، اور خاموشی اور در و دیوار کی اداسی کھلنے لگی تھی۔ تنہا بازار جاتی تو اچھا نہ لگتا۔ دوسروں کے بچوں کو دیکھ کر وہ اداس ہو جاتی تھی۔ پیٹر کو بھی اس بات کا احساس تھا۔ آخر کار ایک دن اس نے کہہ ہی دیا۔ کہ چلو ہم کسی بچے کو متبنیٰ بنا لیتے ہیں۔ پھر اس نے بتایا کہ ویت نام میں حالیہ جنگ کے نتیجے میں بے شمار بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ اب ان بچوں کو امریکہ اور یورپ لایا جا رہا ہے تاکہ ان کے لئے والدین تلاش کئے جا سکیں۔ ہم انہی میں سے کسی بچے کو لے سکتے ہیں۔ لیزا یہ سن کر خوش ہو گئی تھی اور اس نے فوراً ہاں کہہ دی تھی۔

    وہ کچھ دیر چپ رہی تو مسز کنجر نے چند لمحے بعد خود ہی کہا۔ ”میں جانتی ہوں، تم بچوں کو بہت پسند کرتی ہو۔ اب تمہارا دل بہل جائے گا۔ یہ بچہ بھی بہت اچھا ہے اور اس کا رنگ بھی بالکل سفید ہے۔۔۔“

    لیزا نے کچھ کہے بغیر محبت سے ٹام کی جانب دیکھا۔

    اتنے میں مسٹر نکسن اور مسٹر ڈونلڈ بھی ان کے قریب آگئے مسٹر ڈونلڈ نے ہنس کر کہا۔ ”لیزا بھئی مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ بہت خوبصورت بچہ ہے۔ کیا عمر ہوگی اس کی۔ پانچ سال؟“

    ”جی نہیں۔ اگلے ماہ چار سال کا ہوگا۔“

    ”نام کیا ہے اس کا۔۔۔“ مسٹر نکسن نے پوچھا،

    ”ٹام اور نہ جانے کیا کیا۔۔۔“ لیزا ہنس کر بولی ”مگر ہم اسے اپنا نام دیں گے۔ پیٹر نے بیری جان تھامسن تجویز کیا ہے۔“

    مسٹر ڈونلڈ یکدم خوش ہو گئے اور مسکرا کر کہنے لگے ”اور یہ ٹھیک بھی ہے۔ اب یہ تمہارا بیٹا ہے اور اسے تمہارا نام ملنا چاہئے۔ بیری جان تھامسن، یہ نام بہت اچھا ہے مجھے پسند آیا۔۔۔“

    مسٹر نکسن نے سگریٹ جلا کر دو تین کش لئے، پھر پوچھا۔ ”کیا اس کے ماں باپ دونوں مر گئے ہیں یا ان میں سے کوئی زندہ ہے کیونکہ آج کے اخبار میں تھا کہ بہت سے ایسے بچے بھی یہاں لائے گئے ہیں جن کی مائیں یا باپ زندہ ہیں مگر حد درجہ غربت، بیکاری اور اشیا کی کمیابی کے باعث وہ بچوں کو پال نہیں سکتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے بھی اپنے بچے دے دیئے ہیں۔۔۔“

    لیزا یہ سن کر قدرے افسردہ سی ہو گئی۔ اس نے مدھم لہجے میں کہا۔ ”جو معلومات اس کے بارے میں مجھے دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق اس کے ماں باپ دونوں مر چکے ہیں۔ دراصل اس کا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھا۔ اور وہاں بہت زبردست جنگ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں پورا گاؤں تباہ ہو گیا۔ ایک ایک گھر مٹی کا ڈھیر بن گیا تھا۔ صرف چند بچے، دو چار مرد عورت زندہ بچے تھے۔ ٹام بھی انہی بچ جانے والے بچوں میں تھا۔ ایک بڑی بہن بھی تھی اس کی۔ مگر وہ بھی مرگئی۔۔۔“

    ”اوہ۔۔۔“ مسز کنجر نے طویل سانس لی۔ ”بڑے افسوس کی بات ہے۔ ہے نا۔ اتنا سا معصوم بچہ۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ بھئی یہ جنگ وغیرہ بڑی بری بلا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کہ اب دنیا میں کبھی جنگ نہ ہونی چاہئیے۔۔۔“

    کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سب دکھ سے ٹام کو دیکھنے لگے۔

    پھر ایک ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ کمرہ خالی ہو گیا اور نوم ایک بار پھر اکیلا رہ گیا۔ اب اس طرح تنہا رہ جانا اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔ اسے دھیرے دھیرے پھر افسردگی نے گھیرنا شروع کیا۔ افسردگی جس میں ایک انجانا اور بے نام خوف بھی شامل تھا۔ نوم چپ چاپ ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ لیزا اور پیٹر اندر شاید کچن میں چلے گئے تھے۔ اب شام ہو گئی تھی۔ لیزا نے جانے سے پہلے کمرے کی بتی روشن کر دی تھی اور ٹیلی ویژن بھی لگا دیا تھا جس پر چلتی پھرتی رنگین تصویریں آ رہی تھیں۔

    مگر نوم کو کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا کچھ بھی بھلا نہیں معلوم ہو رہا تھا۔ نہ ٹیلی ویژن کی رنگین تصویریں، نہ کھڑکیوں کے خوشنما پردے، نہ گلدستے کے پھول، نہ ہی موٹا اور ٹیڈی بیئر اور ٹینک اور غبارے اور چھوٹا سا سرخ پلاسٹک کا ٹیلی فون، اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اسے تو لیزا بھی اچھی نہیں لگی تھی۔ اگرچہ وہ بڑی محبت سے اسے پیار کرتی تھی۔ بالکل اس کی ماں کی طرح۔ پھر بھی وہ اچھی نہیں لگی تھی۔ اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ فوراً اپنی ماں کے پاس چلا جائے۔

    نوم صرف چار سال کا تھا۔ وہ ان ساری باتوں کو جان نہیں سکتا تھا، سمجھ نہیں سکتا تھا مگر اس کے ذہن میں کہیں بہت سی تصویریں محفوظ تھیں۔ اور بالکل اسی طرح چلتی رہتی تھیں جیسے رنگین تصویروں والے ڈبے میں چلتی ہیں۔ وہ صحن میں بیٹھا کھیل رہا ہے۔ ماں سامنے بیٹھی ہے کتنی پیاری ماں ہے۔ اور اس کی بہن تھائی آنگن میں کچھ کر رہی ہے۔ تبھی بہت سی آوازیں اچانک گونجنے لگتی ہیں۔ طرح طرح کی آوازیں، بہت شور ہے، اتنا کہ اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا ہے۔ وہ ڈر جاتا ہے اور چیخ چیخ کر رونے لگتا ہے پھر پتہ نہیں کیا ہوتا ہے، ہاں، نہ جانے کیا ہوتا ہے جو اس کی سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ اس کی ماں فرش پر پڑی ہوئی ہے اور تھائی بھی اوندھی پڑی ہے اور شور بڑھ گیا ہے، شور ہی شور۔ چیخیں ہی چیخیں، وہ بلک بلک کر رو رہا ہے لیکن اس کی ماں اس کے پاس نہیں آ رہی ہے۔ تھائی بھی نہیں سن رہی ہے۔ وہ خود ہی ماں کے پاس جاتا ہے اور اسے پکارتا ہے۔ دامن پکڑ کر کھینچتا ہے لیکن وہ نہیں اٹھتی۔ پتہ نہیں کیا بات ہے۔ مگر عجیب بات ہے۔ لال رنگ، ہر طرف لال رنگ۔ زمین لال ہو رہی ہے۔ اس کی ماں کے کپڑے لال ہو رہے ہیں اور اس کا اپنا ہاتھ بھی لال ہو رہا ہے۔ وہ چلا چلا کر رو رہا ہے اور مینا ٹائیں ٹائیں کر رہی ہے۔ جانے کیسے اس کا پنجرہ زمین پر آ گیا ہے۔ حالانکہ وہ دروازے میں ٹنگا تھا۔

    یہ سب کیا ہوا تھا اور کیوں ہوا تھا اور اسے اس کے گھر سے یہاں کیوں لے آیا گیا تھا، نوم کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ مگر یہ ساری تصویریں اس کے ذہن میں مسلسل چلتی رہتی تھیں۔ وہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ جب وہ کچھ کہتا تو کسی کی سمجھ میں نہ آتا اور دوسرے اس سے کچھ کہتے تو وہ اُن کا منہ تکتا رہتا۔ پتہ نہیں کیا کہتے تھے وہ لوگ ہر وقت اس کا دل چاہتا رہتا کہ اپنی ماں کے پاس کسی طرح چلا جائے، اور فوراً چلا جائے اور اس سے ان سب کی شکایت کرے۔ مگر جائے کیسے؟ اس کی ماں جانے کہاں ہے اور کیا یہ لوگ اسے جانے دیں گے؟

    وہ چپ چاپ بیٹھا رہا اور سہمی سہمی نظروں سے ایک ایک چیز کو دیکھتا رہا، کھلونوں کو اور ٹیلی ویژن کو اور گلدستے کو۔ مگر اسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس کا دل گھبرا رہا تھا اور گھٹن بڑھ رہی تھی اور خوف اور بے کسی۔ وہ کیا کرے۔ اس کی ماں کہاں ہے اور تھائی کہاں ہے۔ نوم سہم سہم کر اپنی ماں اور تھائی کو یاد کرتا رہا اور اپنے گھر کو یاد کرتا رہا اور تتلیوں کو اور پھولوں کو اور مینا کو۔ اس کا دل دھیرے دھیرے لرز رہا تھا اور وہ گم صم سا، حیران و پریشان اور گھبرایا ہوا یوں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جیسے کچھ کھو گیا ہے۔ کوئی بہت ہی پیاری چیز، مگر وہ چیز کیا ہے۔ نوم کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔

    مگر وہ ضرور کوئی چیز کھو بیٹھا تھا۔ یقیناً کسی بے حد پیاری شے سے محروم ہو گیا تھا ورنہ یہ گھٹن کیوں، یہ خلش کیوں، یہ خوف کیوں؟ یکا یک اس کا دل بہت گھبرا گیا جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر مسل ڈالا ہو۔ اور بالکل اچانک وہ رونے لگا۔ آنسو اس کی غلافی آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہنے لگے اور وہ زور زور سے سسکیاں بھرنے لگا۔ پھر اس کی ننھی ننھی چیخوں سے کمرے کی فضا گونج اٹھی۔

    آوازیں سن کر لیزا بھاگی ہوئی۔ نوم کو روتے دیکھ کر پہلے تو وہ ذرا گھبرا سی گئی، مگر اسے بہرحال چھوٹے بچوں کو سنبھالنا آتا تھا۔ وہ جلدی سے صوفے پر بیٹھ گئی اور نوم کو اپنی رانوں پر بٹھا کر سینے کے ساتھ بھینچ لیا۔ پھر اسے پیار کر کے پچکارتی ہوئی بولی،

    نہیں، نہیں، میری سویٹ ڈارلنگ، میں یہیں تو ہوں مائی ڈارلنگ، مائی سویٹ بے بی۔

    لیزا کے بازوؤں کا محفوظ حلقہ، اس کے نرم ہونٹوں کا ہلکا سا بوسہ، آغوش کی راحت آمیز گرمی، اور گداز سینے کا مامتا بھرا لمس، نوم کو یہ سب کچھ ذرا اچھا لگا۔ اسے اچانک قدرے سکون محسوس ہوا اور پھر وہ دھیرے دھیرے چپ ہو گیا۔ سسکیاں تھم گئیں اور اس نے کسی پرندے کے ننھے سے بچے کی طرح اپنا چہرہ لیزا کی چھاتیوں میں چھپا لیا، اس کے منہ سے مم مم مم کی ہلکی ہلکی آوازیں نکل رہی تھیں۔

    لیکن ننھا نوم پھر بھی یہ نہ جان سکا کہ وہ کس پیاری شے سے محروم ہو گیا ہے۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے