حیرت !حیرت!

رضیہ فصیح احمد

حیرت !حیرت!

رضیہ فصیح احمد

MORE BYرضیہ فصیح احمد

    ذکر چوریوں کا تھا۔ کراچی میں قانون کے تحفظ کے ادارے بھی چوکس ہیں۔ پولیس چوکیاں بھی چوک چوک موجود ہیں۔ چوکیدار بھی گھر گھر تعینات ہیں، پھر بھی چوری چکاری، ڈاکے کھلے عام ہو رہے ہیں۔ حیرت!!۔۔۔۔۔ مگر لوگ کہتے ہیں کہ اپنے ملک کی کسی بات پرحیران ہونا ہی نہیں چاہیے کہ یہ ملک توسراسر ’’حیرت‘‘ ہے۔ دوستوں کااصرار ہے کہ اس کا بن جانامعجزہ تھا۔دشمن کہتا ہے کہ اس کا قائم رہنا کرشمہ ہے۔ وہ تو یہ تک کہتا ہے کہ اگر زمین گائے کے دو سینگوں پر ٹھہری ہوئی ہے تو پاکستان یقیناًدو سینگوں کے بیچ خلا پر قائم ہے۔

    امریکہ میں لوگوں کو بہت شوق ہے کہ لوگوں کو حیرت میں ڈالاجائے یعنی انہیں ’’سرپرائز‘‘ دیا جائے مگر یہاں یہ کام خاصا مشکل ہے۔ عموماً لوگوں کو برتھ ڈے پارٹیوں یا شادی کی ’’برسیوں‘‘ (Anniversaries) پر حیران کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے لیے بڑے بڑے پاپڑ بیلے جاتے ہیں۔ گھر کے بجائے کلب میں، ساحل سمندر پر ہزار بہانوں سے بلایا جاتا ہے۔ پھر بھی جس کی پارٹی ہے وہ سمجھ ہی جاتا ہے۔ اسے خوب معلوم ہوتا ہے کہ کیک کون لے جارہا ہے۔ تحفے کس گاڑی میں ہیں اور کارڈوں پر دستخط کون کرارہا ہے۔ صرف انجان بنارہتا ہے اور عین موقع پر آنکھیں پھاڑ کر کہتا ہے۔ Got Me مجھے تو شبہ تک نہیں ہوا۔ یہ ہے امریکہ، جہاں:

    آدمی کو میسر نہیں حیراں ہونا

    اب وطن عزیز کی طرف آئیے۔ صبح سے شام تک ہزار سرپرائز ملتے ہیں۔ صبح اٹھ کر غسل خانے میں جائیے تو ہو نکتا نلکا پکارتا ہے۔ ’’سرپرائز! یعنی پانی نشتہ!‘‘

    بجلی کابٹن دبائیے تو بٹن چٹ سے کہتا ہے۔ ’’بابا بجلی نہیں‘‘۔

    باہر نکلے تو قدم قدم پر حیرتیں! رات کو سوئے تو گھر سے باہر سوکھا تھا۔ صبح تک پڑوس کے گٹر (Gutter) نے دریا بہا دئیے۔ گھر سے قدم رکھنا دشوار ہے۔ کھل کھل کرتے گٹر سے آواز آرہی ہے ’’سرپرائز‘‘۔

    ہمارے ایک بھائی بے چارے کوئی چیز خریدنے دکان میں گئے۔ وہاں ایک تختے پر اتفاقاً پاؤں پڑا۔ تختہ چرچرایا گویا پکارا ’’سرپرائز‘‘ دوسرے لمحے بھائی نیچے تہہ خانے میں پڑے تھے اور ان کی ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔

    اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھر سے جس کام کے لیے نکلے سارا دن گنوا کر چلے آئے اور وہ کام ہی نہ ہوا۔ یہ حیرتیں بڑی تکلیف دہ ہیں لیکن اس سے پہلے جب ہمارے یا فون اور گٹر نہیں لگے تھے۔کتنے مزے کی حیرتیں ہوا کرتی تھیں۔ کھانا کھاتے بیٹھے ہی ہیں کہ سامنے سے چچا کا پورا خاندان چلا آرہا ہے۔

    بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شہروں سے ہزار ہزار میل کی مسافت سے لوگ ریلوں میں سفر کرکے تانگوں یا ٹیکسیوں سے اترے چلے آرہے ہیں۔

    ’’ بھلے آدمی آپ کیسے! خیریت؟‘‘

    ’’کیا تار نہیں ملا؟ حیرت!‘‘

    ’’تارکو مارو گولی۔۔۔۔۔ یار تم آئے اس سے بڑی حیرت اور خوشی کی کیا بات ہے‘‘۔

    اب تار اسی دن یا دوسرے دن مل گیا۔۔۔۔ ملا ملا نہ ملا نہ ملا۔۔۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔ عزیزوں رشتے داروں اور گہرے دوستوں میں خط اورتار کی اطلاع بھی محض رسمی تھی۔ گھر والی گھر میں ہمیشہ موجودرہتی تھی۔ سارے نہیں تو آدھے بچے بھی کم و بیش آس پاس منڈلاتے پائے جاتے تھے۔ گھر والا صبح کا بھولا شام کو لوٹ آیا کرتا تھا۔ کوئی بھی نہ ہو تو پڑوسی ہر دم خدمت کو موجود تھے۔۔۔ پڑوس کے مہمان ہمارے مہمان! جب تک وہ نہ آئیں، پڑوس میں دندنائیے۔ خوب خاطریں کروائیے۔ حیرت! آپ کے لیے ہوگی ان کے لیے نہیں۔

    آپس کی بات ہے۔ اس میں حیرت کیسی ’’ہمارے مہمان آتے تو کیا آپ ان کو نہ پوچھتے؟‘‘ اب بولیے ۔

    کیا بولیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ امریکہ میں جس علاقے میں ہم تین سال رہ کر آئے۔ وہاں پڑوسیوں سے سرراہ کی ’’ہائے ہائے‘‘کے سوا کوئی رسم و راہ نہ تھی۔ نیچے کی منزل میں جو جوڑا رہتا تھا اس کے ایک بچہ تھا۔ ایک دن اچانک ملاقات ہوئی تو تین بچے ساتھ تھے۔ معلوم ہوا تینوں ان کے اپنے ہیں ہمیں ہوا تک نہ ملی۔ نہ انہوں نے بتایا۔ نہ لڈو بھیجے نہ ہم نے ان کے کاموں میں مداخلت مناسب جانی۔

    پہلے محلوں میں رہنے والے پڑوسیوں سے اکثر یہ شعر سنا تھا:

    کچھ وہ کھنچے کھنچے رہے، کچھ ہم کھنچے کھنچے

    اس کش مکش میں ٹوٹ گیا رشتہ چاہ کا

    مگر اب رشتہ تنہا ہی نہیں جو ٹوٹے۔ بس وہی ’’ہائے‘‘ کا رشتہ ہے جو سارے زمانے کی طرح پڑوسیوں سے بھی ہے۔ اپنی کہاوت ہے۔ اپنا دور پڑوسی نیڑے۔

    مگر امریکہ میں اپنا بھی دور اور پڑوسی بھی دور۔۔۔ یہاں تو خود سے بھی کبھی کبھی ملاقات ہوتی ہے اور اس وقت بھی اکثر ’’ہائے‘‘کرکے رہ جاتے ہیں۔بھلا بتائیے۔۔۔۔ حیرت کی بات ہے کہ اردو زبان میں اس طرح کی کہاوتیں ہیں:۔

    سانجھ بھئی! سیاں نہیں آئے۔ رات بھی آدھی آن ڈھلی

    آؤ پڑوسن چوسر کھیلیں۔ بیٹھے سے بیگار بھلی

    اس کہاوت سے نہ صرف پڑوسیوں کے حسن سلوک کا پتہ چلتا ہے بلکہ کئی اور مجلسی اور تہذیبی اشارے بھی ملتے ہیں بلکہ کہنا چاہیے کہ سیاں کی سائیکی کا اشارہ بھی موجود ہے۔ ان کہاوتوں پر پھر کبھی بحث کی جائے گی۔ فی الحال تو کہنا یہ ہے کہ امریکہ میں۔۔۔۔۔’’آؤ، بی پڑوسن لڑیں‘‘

    ’’لڑے میری جوتی‘‘

    قسم کے مکالموں کا بھی کوئی امکان نہیں۔ جب آپ گھر پر ہیں پڑوسن گھر پر نہیں ہے۔ جب پڑوسن گھر پر ہے، آپ نہیں ہیں، پڑوسیوں کے گھر پر ہونے نہ ہونے کے علم کے لیے علم نجوم جاننا ضرور ی نہیں، صرف کا ر کی موجودگی یا کھڑکی میں منتظر بلی کی قیافہ شناسی کافی ہے۔

    ایسے پڑوسی بھی ہوں گے جو بائیبل کے کہنے کے مطابق پڑوسیوں سے اتنی ہی محبت کرتے ہوں گے جتنی اپنے آپ سے، مگر ہم نے آنکھ سے نہیں دیکھے۔ صرف ان کی کاروں پر یہ لکھا دیکھا ہے۔

    پڑوسن؍پڑوسی سے محبت ضرور کرو مگر پکڑ میں نہ آؤ۔

    حیرت۔۔۔۔!!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY