اغواء

MORE BYمحمد امین الدین

    ۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء کی سبک سرنرم دھند میں لپٹی ہوئی صبح، جب کرۂ ارض پر عالمی لغت انسانی میں حاکمیت، انسانیت ، جنگ ، امن بھائی چارہ اور دہشت گردی جیسے لفظوں کے معنی بدل چکے تھے۔ ایک عورت ساری رات کی طلاطم خیز شب بیداری کے بعد بیٹھی نہ جانے کیوں دعائیں مانگ رہی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی آنکھیں خود بخود کیوں برس رہی ہیں اور اس کے بازو گھنے درخت کی شاخیں کیوں بنتے جارہے ہیں۔

    اس احساس دل گرفتہ ساعتوں کے ٹھیک دو گھنٹے بعد شہر میں داخل ہوتے ہی احسن کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی گئی۔ اور سیدھا کرکے بٹھادیا گیا۔ اندھیرے میں ڈوبی آنکھوں کو جوں ہی اجالا ملا، ہتھیلی سے آنکھوں کو مل کر دیکھا۔ سب ٹھیک لگا۔۔۔ یہ تینوں بھی مطمئن تھے۔ کل تک اس قدر برہم کہ شاید مار ہی ڈالتے اور اب بڑے اطمینان سے شہر کی طرف لے جارہے تھے۔ مال جو مل گیا تھا۔۔۔ مگر اسے یقین نہیں آرہا تھا۔

    کیا یہ مجھے زندہ چھوڑ دیں گے۔۔۔ گھرجانے دیں گے۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسے صبح۔۔۔

    اسے تھرتھری آگئی۔ حلق خشک اور رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ خوف کی لہر جسم میں دوڑ گئی۔

    کس قدر ظالم ہیں۔۔۔ بے رحم۔۔۔ سفاک۔۔۔ قاتل۔۔۔ زندگی کی تو کوئی اہمیت ہی نہیں۔

    کار نے پولیس چوکی کے پاس ٹرن لیا اور پھر بائیں جانب مڑ گئی۔ سڑک جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی۔ گاڑی کی اسپیڈ میں کمی آنے لگی۔ ڈرائیونگ کرنے والے نے دوسرے سے پوچھا:

    ’’یہاں ٹھیک ہے؟‘‘

    دوسرے نے جواب دیا۔

    ’’تھوڑا اور آگے۔ مارکیٹ بھی چلنا ہے‘‘۔

    ’’تو پھر پل کے پاس؟‘‘

    ’’ٹھیک ہے‘‘۔

    گاڑی رک گئی۔ پیچھے بیٹھے نوجوان نے کہا۔

    ’’چلو اترو اور بھول جاؤ کہ تم نے کبھی ہمیں دیکھا تھا‘‘۔

    جیسے ہی انہوں نے گاڑی سڑک کے بائیں طرف لانے کی کوشش کی، ایک دیوہیکل کرین فیکٹری کے گیٹ سے باہر آنے لگی۔ کرین کے آگے تنا ہوا لوہے کا پلر اور لٹکا ہوا بڑا سا ہک کار کے انتہائی قریب آگئے، ان تینوں کی چیخ نکل گئی۔ مگر وہ خاموش رہا۔ وہ تو پہلے سے خوفزدہ تھا۔ اسے یقین نہیں تھاکہ یہ لوگ اسے زندہ چھوڑ رہے ہیں۔ وہ یہی گمان کررہا تھا کہ کسی بھی لمحے زندگی کے پیراگراف کے آگے فل اسٹاپ لگادیا جائے گا۔

    لمحہ بھر کو لگا کہ جھولتا ہوا ہک کار کی ونڈ اسکرین سے ٹکرا جائے گا۔ کار جھٹکے سے رک گئی۔ تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر ہنسنے لگے۔

    ایک نے دروازہ کھول دیا۔ وہ خاموشی سے اتر گیا۔ گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور یہ جا وہ جا۔

    پانچ دن پانچ راتیں۔۔۔ اونچے ٹیلوں اور چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلوں کے بیچ کچی دیواروں اور پتھریلے مکینوں والا مکان بہت پیچھے رہ گیا تھا۔ جہاں زمین میں گڑھی لوہے کی میخوں سے بندھی زنجیروں میں وہ اور اس کا ایک اور ہم عمر نوجوان دن رات بندھے رہتے۔ اغوا کرنے والے چارپائیوں پر چوکنا بیٹھے رہتے۔ دوسرے نوجوان کا خیال آتے ہی اسے ایک بار پھر جھرجھری آگئی۔ بے ساختہ منہ سے نکلا۔

    بے رحم۔۔۔ سفاک قاتل۔۔۔

    اس نے صحن میں بچھی ہوئی اینٹوں کی جھریوں میں اترتے ہوئے لہو کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا مگر ہر بوند کو اپنی رگوں میں اترتے ضرور محسوس کیا تھا۔ گرم۔۔۔ سرخ اور گاڑھا لہو۔۔۔

    آگے سوچنا اس کے بس میں نہیں تھا ، سوچنے سمجھنے کے لیے دل و دماغ کی سیدھی سچی لہروں کے پاتال میں اترنا پڑتا ہے، جبکہ وہ ہر لمحہ ساتھ چلتے خوف کی وجہ سے سوچنے سے محروم تھا۔ وہ شیر شاہ سے لیاری کی طرف جانے والی سڑک کے کنارے واپس آگیا ۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کون سا علاقہ ہے۔ اسے تو آنکھوں پر پٹی باندھ کر انسانوں کے جنگل اور اس کی بھول بھلیوں میں لا کھڑا کیا گیا تھا۔ اس نے نظر دوڑائی۔ سڑک کے دونوں طرف مکینک ، ٹائر ٹیوب اور گاڑیوں کے سامان کی دکانیں تھیں۔ بائیں طرف پل کے پیچھے مسجد کے مینار سر اٹھائے نظر آرہے تھے۔ پل پر سے گاڑیاں گزررہی تھیں۔ وہ علاقے سے قطعی اجنبی تھا، بلکہ وہ تو اس شہر اور ملک سے بھی اجنبی تھا۔ اسے پاکستان آئے ہوئے چھ دن ہوئے تھے۔ وہ اسے یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا جو امریکہ سے پاکستان روانہ ہونے سے ایک ماہ قبل ہوا تھا۔

    دو فلک بوس عمارتوں کی تباہی نے پورے امریکہ میں مسلم بالخصوص پاکستانیوں کو نہایت غیر معتبر بنادیا تھا۔ بے شمار پاکستانیوں کو شک کی بنا پر گرفتار کرلیا گیا۔ ان میں یہ بھی شامل تھا۔ زندگی بھر کی تپسیا کا یہ نتیجہ کہ آدمی اپنی ہی نگاہوں میں شرمسار ہوجائے۔فلک بوس عمارتیں کیا گریں ،شکوک و شبہات کے مینار کھڑے ہوگئے۔ جنہیں گرانا پاکستانیوں کے بس میں نہ تھا۔ احسن کے والد نے اپنے بیٹے کو بے گناہ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کر ڈالی۔ برسوں کی خدمات۔۔۔ کارکردگی کے سرٹیفکٹ۔۔۔ اعزاز۔۔۔ تصاویر؟ان میں وہ تصاویر بھی شامل تھیں جن میں وہ گورنر کیلی فورنیا کے ساتھ معزز پاکستانیوں کی صف میں موجود تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ آپ میئر سے مل لیں، شاید وہ آپ کی کچھ مدد کرسکے۔ مگر میئر تو تین دن کے لیے شہر سے باہر تھے۔ تین دن میں خدا جانے کیا ہوجائے۔ انہوں نے میئر سے فوری ملاقات کا ارادہ کیا۔ دکھی ماں کو ساتھ لیا۔ شاید آنکھوں کے گردپڑجانے والے سیاہ حلقے اور مامتا کی دکھیاری روتی آنکھوں کو دیکھ کر انہیں سچائی کا یقین آجائے، مگر شہر سے باہر نکلتے ہوئے بائیں جانب سے آنے والے تیز رفتار ٹرالر کی زد میں آکر بیٹے کو بچانے کی حسرت میں دنیا کی فکر سے آزا دہوگئے۔ احسن کو دوسرے دن رہائی مل گئی۔ اس لیے نہیں کہ وہ یتیم ہوگیا تھا، بلکہ اس لیے کہ ریکارڈ بہت صاف تھا۔

    احسن کو معلوم تھا کہ اس کے ابو کی حالات حاضرہ پر بہت گہری نظر تھی۔ وہ کھلے ذہن کے انسان تھے۔ پاکستان سے دوری کے باوجود وہ پل پل کی خبر رکھتے۔ حکومتوں کی تبدیلی، ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی، بے روزگاری، دہشت گردی، لوٹ مار، بڑھتا ہوا ملّا ازم ، فرقہ پرستی کا عفریت جس کی زد میں عام پاکستانی بہت تیزی سے آرہا تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے کہ جس طرح اسلام پاپائیت اور رہبانیت کے خلاف ہے، اسی طرح ملائیت بھی ایسی ہی شاخ ہے، جس میں خالق کائنات، تخلیق کائنات، اسرار کائنات کو نہایت محدود کرکے دکھایا جاتا ہے۔ سائنس او رٹیکنالوجی اور اس سے پیدا ہونے والی ترقی کو خلاف شرع بتا کر حرام کہہ دیتے ہیں۔ قرآن کو سمجھنے کے برخلاف صرف رٹا لگانے پر زور دیتے ہیں۔ ہر مسئلے کا حل ملا کی اتھارٹی ہے۔ تفکر کی طرف اشارہ کرنے والی کتاب کو تقلید کے جز دانوں میں لپیٹ کر چومنے اور ثواب حاصل کرنے کے لیے اونچے طاق پر سجادیا گیا ہے۔ بعض پاکستانی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے او رمسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے گروہوں کو تقویت دی، کبھی بہاری، کبھی مہاجر، کبھی کشمیری، اور کبھی افغان فیکٹر۔ حالانکہ عام پاکستانی امن و سکون ، بھائی چارگی ، روزگار اور خوشحالی چاہتا ہے۔ روشن مستقبل کا خواب دیکھنے والوں کو ایسی شارع پر چھوڑ دیا گیا ہے جو بتدریج پستی کی طرف جاری ہے۔

    احسن اپنے امی ابو کو ان بحثوں میں اکثر مصروف دیکھا کرتا۔ وہ غور سے نہیں سنتا تھا مگر جو باتیں ذہن پر نقش ہو گئیں تھیں۔ ان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی ، حکومتوں کی لوٹ مار ، دہشت گردی، بم دھماکے، اغوا اور خصوصاًدیار غیر سے آنے والوں کی سڑکوں پر تلاشی اور ڈالر، پونڈ اور ریال کی لوٹ مار، مسجدوں ، مدرسوں میں ہتھیار بند دستے۔ کوئی بڑا آدمی، بڑا سیاست دان یا بڑا مولوی باہرنکلتا ہے تو اس کے آگے پیچھے چلنے والے ہتھیاروں کی اس طرح نمائش کرتے ہیں جیسے کوئی مال بیچنے والا اپنے مال کی نمائش کرتا ہے۔ شاید یہ لوگ پاکستان کی سرزمین پر اسلحے کی فصل بو رہے ہیں یا بو چکے ہیں ،بس کسی دم کٹائی شروع ہوجائے گی، اورجس طرح دھان الگ کرکے اور چھان پھٹک کر خالص مال منڈی میں منتقل کردیا جاتا ہے، اسی طرح یہ خالص مال، خالص کھیپ اور خالص دہشت گرد بڑے شہروں بالخصوص کراچی میں منتقل کردیے جاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ شہر ہر چیز کو اپنے اندر سمولینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    کراچی کا دھیان آتے ہی وہ سڑک پر واپس آگیا، جہاں ٹریفک کی بے ترتیبی، نظم و ضبط سے مبّرا زندگی کا پتا دے رہی تھی۔ جس کا جہاں سے جی چاہا وہاں سے گاڑی نکالنے کی کوشش، بڑے بڑے ٹرالروں کے درمیان میں سے چھوٹی سوزوکیوں، رکشوں حتیٰ کہ گدھا گاڑیوں کا اس طرح گزرنا، جیسے جنگل میں ہاتھیوں کے درمیان کوئی میمنا، بکری یا ہرن آجائے، جس کے کچلے جانے کا امکان غالب رہتا ہے۔ اسے خوف محسوس ہوا۔ خوفزدہ تو وہ پہلے سے تھا۔ پانچ دن پانچ راتیں اس کی زندگی میں در آنے والے ہولناک دن جب اس نے موت کو بہت ہی قریب سے دیکھا۔برستی گرجتی اور لمحہ لمحہ رگ و پے میں اترتی ہوئی۔ کبھی کوئی پشت سے اچانک گردن پکڑتا اور جھٹکا دیتا۔ کریہہ قہقہہ اس کی کرختگی میں اور اضافہ کردیتا۔کبھی کوئی اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی گن کا رخ اچانک اس کی یا اس کے ساتھی کی طرف کردیتا اور پھر کئی آوازوں کے ملاپ سے پیدا ہونے والا قہقہہ خون منجمد کرجاتا۔موت کو اتنا قریب دیکھنے کا حوصلہ نہ اس میں تھا اور نہ اس کے ہم جلیس میں۔

    اس نے بڑھتے ہوئے خوف کو کم کرنے کی کوشش کی اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا غیر ارادی طورپر اس طرف بڑھنے لگا جہاں پل بنا ہوا تھا۔ دور نظر آنے والے مینار اب قریب آتے جارہے تھے۔ اس نے پل سے نیچے دیکھا، خشک نالے میں کہیں کہیں پانی نالے کا احساس دلارہا تھا۔ دور کنارے بانسوں سے بندھے رسوں پرجھولتے کپڑے دھوبی گھاٹ کی نشاندہی کررہے تھے۔ وہ جہاں سے آیا تھا وہاں ایسے مناظر نہیں تھے۔ ترقی یافتہ ملک، ترقی یافتہ لوگ، ہر شے کے لیے مشین موجود۔ مگر یہاں نہ انسان کی قدر اور نہ مشین کی۔

    اسے یاد آیا کہ وہ چند ماہ کا تھا جب امی ابو کے ساتھ امریکہ چلا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پاکستان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا۔ البتہ جو کچھ امی ابو بتاتے اس کی معلومات میں اضافہ ہوجاتا۔ دل ہلادینے والے واقعہ کے بعد امریکی پریس، میڈیا ، کمیونٹی اور دیگر ذرائع کے ذریعے جس طرح پاکستانیوں کو معتوب ٹھہرایا گیا، اس نے احسن کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا۔ سوچ کو اس وقت اور تقویت ملی جب چاچونے پاکستان چلے آنے کو کہا، اس نے سوچا۔

    کیا مجھے وہاں جانا چاہیے۔ جہاں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے واقعات عام ہیں۔ جہاں مذہبی شدت پسندی سے جنم لینے والی منافرت روز انسانی جانوں کی بھینٹ لیتی ہے۔ اس نے مغربی عیسائی معاشرے میں کیتھولک اور پروسٹٹینٹ کے درمیان لڑائیوں اور نفرت کے بارے میں سن رکھا تھا ،اور بعض اوقات اس کا مشاہدہ بھی کیا تھا، مگر اسلام کے نام پر سنّی، بریلوی، شیعہ ، وہابی، دیوبندی، بوہری، اسماعیلی، قادیانی اور نہ جانے کتنے فرقوں کے بارے میں سن کر اسے ہول آتا۔ ایک بار اس نے اپنے ابو سے سوال کیا کہ ہم روز حشر کس صف میں کھڑے ہوں گے۔ تو اس کے ابو مسکرائے اور بولے۔

    ’’مجھے یقین ہے کہ ہم ان تمام فرقہ پرستوں کے بڑے بڑے اماموں سے زیادہ اچھی جگہ پر ہوں گے‘‘۔

    مگر افسوس! اعتماد کی اس منزل پر پہنچے ہوئے شخص کو ایک حادثے نے احسن سے جدا کردیا، اور احسن کو تمام تر خوف کے باوجود پاکستان آنا پڑا۔ یہ خوف اس وقت اور جاں گسل ہوگیا جب صرف بارہ گھنٹے بعد اسے اغوا کرلیا گیا۔

    اسے یاد آیا کہ اغوا کرنے والوں نے اسے کچی پکی اینٹوں کے صحن والے گھر میں قید کردیا تھا، جو اونچے نیچے پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ اسے یہاں آتے ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ اکیلا نہیں کوئی اور بھی ہے جسے یہ لوگ اغوا کرکے لائے ہیں۔ خوف میں مبتلا دونوں کھانے کے وقت ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ وہ کسی بزنس مین کا بیٹا تھا اور اسی علاقے میں رہائش پذیر تھا جہاں اس کے چاچو رہتے تھے۔

    چاچو کا خیال اور پبلک کال آفس دونوں ایک ساتھ آئے ۔ اس نے سوچا مجھے چاچو کو فون کرکے بتادینا چاہیے کہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔

    پاکستان آتے ہی اس نے چاچو کا نمبر یاد کرلیا تھا ۔ مگر چار دنوں کی دہشت نے نہ جانے کتنے نمبروں کو حافظے سے مٹا دیاتھا۔ اس کی نگاہیں چاروں طرف حرکت کررہی تھیں۔ خاصی مصروف سڑک تھی۔ جس پر مختلف مکینک کاروبارکررہے تھے۔ کئی ورکشاپ تھے۔ اس نے دیکھا کہ جدید دور میں اب بھی کراچی میں سامان ڈھونے کے لیے گدھا گاڑیوں کا استعمال ہورہا ہے۔ معصوم اور بے زبان جانور۔۔۔ ابتر حالت اور گاڑی بان کون سی بہتر حالت میں تھا۔ دونوں کا برا حال تھا۔

    خوفزدہ آنکھیں اردگرد کے مناظر دکھانے کے باوجود اسے ہر منظر سے لاتعلق کررہی تھیں۔ اسے اب بھی دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں وہ لوگ اپنے مکروہ چہروں کے ساتھ پھر نہ آجائیں۔ احسن نے سوچتے ہوئے چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔

    کوئی نہیں ہے۔۔۔ کچھ نہیں ہے۔۔۔

    اس نے دل کو تسلی دی۔ مگر پھر کانپ اٹھا۔ سڑک پر چلتے ہوئے اسے ذرا خیال نہیں تھا کہ کہاں جارہا ہے اور کہاں چلنا چاہیے۔ وہ لوہے کی چادروں اور سریوں کے گچھوں سے لدی ہوئی گاڑی تھی جس پر لمبے لمبے سریے باہر لٹک کر سڑک پر جھول رہے تھے۔ وہ لمحہ بھر کے لیے خیالوں سے نکل کر سڑک پر آیا۔ گاڑی کے گزرتے ہی وہ پھر وہیں جا پہنچا جہاں اسے رکھا گیا تھا۔ اسے اور دونوں ہتھیلیوں کو مسلسل رگڑنے اور خشک ہونٹوں پر بار بار زبان پھیرنے والے نوجوان کو جس کی چند روز کے بعد شادی ہونے والی تھی۔ اسے یاد آیا کہ اغوا کرنے والوں نے چند دنوں کے ہم راز و غم گسار کو زبردستی پکڑا اور باہر لے گئے۔ انداز بتارہا تھا کہ ان کے تیور اچھے نہیں۔ لڑکے کو گھسیٹتے ہوئے ایک نے کہا:

    ’’شاید تمہارا باپ سونے کا محل بنانے کے لیے پیسہ بچانا چاہتا ہے۔ ہم لاش بھیجنے کا بندوبست کرتے ہیں، وہ سونے کا مقبرہ تیا رکرے‘‘۔

    وہ سمجھ گیا کہ کیا ہونے والا ہے۔ سمجھ تو لڑکا بھی گیا۔ اسی لیے وہ چیخا تھا مگر چند منٹوں کے بعد گولیوں کی آواز اور آس پاس کا سناٹا درد میں ڈوبی چیخ میں مدغم ہوگیا۔ فضا بے گناہ کے مارے جانے پر سوگوار ہوگئی۔ گولی کی آواز، کرب انگیز چیخ۔ احسن خوف و دہشت میں مبتلا ہوگیا۔ اسے لگا شاید اب میری باری ہے، دو بے رحم اسے بھی صحن میں لے جائیں گے ۔ ایک گولی اور پھر۔۔۔ کربناک چیخ اور بس۔۔۔ مگر وہ اسے لینے نہیں آئے۔

    وہ سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر بھرے بازار میں خوف دورکرنے کی کوشش میں دھیان وہیں لے جاتا۔ حتیٰ کہ چلتے ہوئے دائیں طرف کی ایک دکان میں رکھے بھس بھرے ریچھ، چیتا، شیر، بندر، چرند پرند بالکل ویسے ہی لگے جیسے وہ نوجوان تھے۔ درندے۔۔۔ خون آشام بھیڑیے ۔۔۔ جانور۔

    اس نے سوچا’’چاچو اگر پیسے نہ دیتے تو شاید وہ لوگ اس کے ساتھ بھی ویسا ہی کرتے۔ چاچو کو میرا کتنا خیال ہے‘‘۔

    اسی لمحے ناک میں بھینی اور سوندھی خوشبو پھیل گئی۔ مڑ کر دیکھا۔ ایک بوڑھا سائیکل پر تازہ بسکٹ اور پیٹس لیے جارہا تھا۔ اس کی بھوک چمک اٹھی۔ یاد آیا، صبح سے کچھ نہیں کھایا، مگر پیسے نہیں تھے، صرف حسرت بھری نظر تھی جس کی قیمت نہیں ہوتی۔ حسرت کو بڑے ضبط کے ساتھ حلق سے اتارنے کی کوشش کی تو وہ ابھر آنے والے خشک کانٹوں میں الجھ گئی۔ اسے یاد آیا کہ وہ پیاسا ہے۔ پانی تو ارزاں ہے مل جائے گا۔ اسے ایک دکان کے چبوترے پر کولر دکھائی دیا۔ وہ قریب گیا، دکاندار سے پوچھا تو اس نے جواب دیا:

    ’’اڑے پوچھتا کیوں ہے، سب مسلمان پیتا ہے تم بھی پیو‘‘۔

    چاکلیٹی رنگت والے شخص نے مخصوص لہجے میں جواب دیا۔ اس نے غور کیا تو اندازہ ہوا کہ یہاں زیادہ تر اسی نسل کے لوگ ہیں۔ سامنے انسانوں، گاڑیوں ، آلودگی اور شور کے ملے جلے منظر سے لبریز چوراہا تھا۔ جہاں سے بہت سی گاڑیاں ایک دوسرے کو جلدی جلدی کراس کررہی تھیں۔ اس نے بھی گاڑیوں کے بیچ رستہ بناتے ہوئے سڑک پار کی۔ سڑک کے اس حصے کی دکانوں میں ہونے والا کاروبار مختلف نوعیت کا تھا۔ کئی دکانوں میں گانوں کے کیسٹ، بعض میں الیکٹرونک کا سامان اور چند میں فوٹوگرافر بیٹھے ہوئے تھے۔ فٹ پاتھ پر ٹھیلے والوں نے قبضہ جمارکھا تھا۔ پُرشورکیسٹ ریکارڈروں پر مختلف گیت ایک ساتھ بج کر عجیب سی دھن بنارہے تھے۔ کبھی کسی کی آواز تیز اور کبھی مدہم ہوجاتی۔ کوئی گیت بجنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتا۔ تو کوئی مسلسل سماع خراشی کرتا۔ سڑک کی گہما گہمی بتارہی تھی کہ یہاں لوگوں کا ہجوم زیادہ ہے۔

    اس نے چار طرف نگاہ ڈالی۔ سال خوردہ پرانی دیواروں والے مکانات جن کے آگے لوہے کی نقشین جالیوں والی گیلریاں اپنی طبعی عمر گزرجانے کا احساس دلارہی تھیں۔لگتا تھا کہ کسی بھی دم وہ لوگوں کے سروں پر آگریں گی۔ اسے سڑک عجیب لگی۔ دیگر علاقوں سے مختلف۔ اسے پیدل چلنے، خریداری کرنے اور گاڑیوں میں گزرنے والے خوانچہ فروش، دکاندار حتیٰ کہ گیلریوں میں کھڑے ہوئے لوگ بھی عجیب لگے۔ وہ طلسم کدہ بازار میں کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ پیر زمین سے چپک گئے۔ آنکھیں اور گردن متحرک تھی۔ جو ایک سے دوسری جگہ دوڑتی پھررہی تھیں۔ نہ جانے اسے کتنی دیر ہوگئی۔ اچانک کسی نے آواز دی، سال خوردہ دیواروں جیسا بوڑھا قریب کھڑا ہوا تھا۔

    ’’آپ کو میڈم بلارہی ہیں‘‘۔

    بوڑھے نے ایک بدرنگ گیلری کی طرف اشارہ کیا۔ جہاں ڈھلتی عمر کی عورت کھڑی ہوئی تھی۔ بوڑھے نے جواب سنے بغیر اپنے پیچھے آنے کو کہا اور ایک سرنگ نما گلی کی سمت مڑ گیا۔ وہ بھی بے ارادہ پیچھے چل دیا۔ نہ پڑھنت، نہ سحر اور نہ ہی مسمریزم ، شاید یہاں آنے والے بے ارادہ یوں ہی کسی کے پیچھے چل دیتے ہیں۔ مگر وہ کیوں جارہا ہے۔ وہ تو یہاں والوں میں سے نہیں۔

    اوپر جانے کا رستہ پیچھے سے تھا۔ بوڑھے نے مڑکر دیکھا اورسیڑھیوں پر قدم رکھ دیا، تنگ زینے سے گزرتے ہوئے اسے عجیب سی مہک محسوس ہوئی۔ ایسی مہک امریکہ میں کسی پب گلی سے گزرتے ہوئے محسوس کی جاسکتی تھی۔ وہ سمجھ گیا یہاں رہنے والے شراب اور سگریٹ کے رسیا ہیں۔ اوپر پہنچ کر بوڑھے نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا اور خود نیچے اتر گیا۔ ایک لمحے کو ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔ جی چاہا کہ واپس لوٹ جائے۔ مگر پیروں میں توجیسے منوں بھاری زنجیر ڈال دی گئی تھی۔ وہ راستوں اور علاقوں سے ناواقف تھا۔ لمحہ بہ لمحہ شل ہوتے جسم پر خوف کا بوجھ لیے دماغ کی طرح جیب بھی خالی تھی۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔ کہیں سے کوئی رہبر یا سوار نمودار ہو اور اسے منزل پر پہنچادے۔ وہ ہمت کرکے اندر داخل ہوگیا۔ وہ سامنے کھڑی ہوئی تھی۔ فربہ جسم، بھرا ہوا چہرہ، جس پر چمکیلی آنکھوں اور ستواں ناک کے نیچے کلیجی رنگ کی لپ اسٹک سے لتھڑے ہونٹ، بال قدرے سلیقے سے بندھے ہوئے ۔ لباس چمکیلا اور ریشمی جو کسی بھی طرح اس کی عمر سے میل نہیں کھاتا تھا۔

    ’’بیٹھو‘‘۔

    وہ ایک معمول کی طرح بیٹھ گیا۔ اس نے کمرے کا جائزہ لیا۔ چیزیں معمولی قدروقیمت کی تھیں۔ دیواریں فلمی تصویروں سے مزیّن۔ اس کے ذہن میں ایک سوال کہ یہ عورت کون ہے اور مجھے کیوں بلوایا ہے۔ نصف کا جواب کمرے کے کونے میں دھری چیزوں سے مل گیا۔ مگر کیوں بلوایا ہے کا جواب ہنوز غیر موجود تھا۔ عورت نے کہا:

    ’’تمہیں الجھن ہورہی ہوگی کہ میں کون ہوں اور تمہیں کیوں بلوایا ہے۔ میں گیلری میں کھڑی اکثرلوگوں کو آتے جاتے دیکھتی ہوں۔ کسی کو بلواتی نہیں ہوں۔ لوگ مجھے بلواتے ہیں۔ تم بہت دیر سے سڑک کے اس طرف کھڑے ہوئے تھے۔ شاید اجنبی ہو؟‘‘

    اس کے جی میں آئی کہ وہ سب کچھ اس عورت کو بتادے۔ مگر ایک اجنبی عورت جس کے کمرے کے ایک کونے میں طبلہ، ہارمونیم، اور کی بورڈ پلیر رکھا ہو قابل بھروسہ نہیں ہوسکتی۔ اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا:

    ’’مجھے احسن کہتے ہیں۔ امریکہ سے آیا ہوں۔ راستوں کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں۔ اس لیے بھٹک گیا ہوں‘‘۔

    ’’کیا پیو گے؟‘‘

    ’’کچھ نہیں‘‘۔

    ’’ایساکیسے کچھ نہیں، آج تو کھانے پینے کو سب مل سکتا ہے‘‘۔

    ’’آج کیوں؟‘‘

    ’’اس لیے کہ کل سے روزے شرع ہورہے ہیں‘‘۔

    ’’اوہ اچھا‘‘۔

    احسن نے کہا۔ عورت پھرتی سے زینے کی طرف گئی۔ نیچے کسی کو آواز دی، پھر واپس آکر ذرا قریب ہو کر بیٹھ گئی اور یوں بے تکان بولتی چلی گئی جیسے احسن کو برسوں سے جانتی ہو۔

    ’’تم کیسے ہو، کہاں تک پڑھ چکے ہو۔ تمہارے والدین تمہیں کتنا پیار کرتے ہیں۔ کبھی دل نہیں چاہا کہ پاکستان آؤ۔ گھومو پھرو۔ کسی سڑک پر اچانک گم ہوجاؤ۔ راستہ بھٹک جاؤ۔ جیسے آج بھٹک گئے۔ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا کہ کوئی اجنبی عورت تمہیں دیکھے، بلائے اور باتیں کرے۔ دل نہیں چاہتا کہ تم اپنی معصومیت سے کسی کی زندگی کے سونے پن میں سرشاری پھونک دو۔ دل نہیں چاہتا کہ کسی کی ویرانی دو رکرو۔ بتاؤ کیا تمہارا دل نہیں چاہتا؟‘‘

    احسن کو یہ عورت پاگل لگی۔ مگر پاگلوں سے تو خوف آتا ہے جبکہ اس عورت سے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔ عورت نے ہاتھ بڑھا کر احسن کا ہاتھ اپنے بوڑھے ہاتھوں میں لے لیا۔ احسن کو برا نہیں لگا۔ بلکہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ آخر اس عورت میں ایسا کیا ہے کہ اس کے پاگل پن کو جھیلنے پر آمادہ ہوں۔ اور یہ کیسا تعلق ہے جو گیلری کے اس طرف سرک پر اچانک قائم ہوگیا۔ یہ عورت پاگل تو ہے مگر دکھی اور مجبور بھی۔ میں کیا کرسکتا ہوں۔ مجھے تو اپنے چاچو کے گھر جانا ہے۔

    یہ خیال آتے ہی احسن نے سوچا، ہوسکتا ہے چاچو کے پتے کے سلسلے میں یہ عورت کچھ مدد کرسکے۔ اس نے کہا:

    ’’میں اپنے چاچو کے گھر کا رستہ بھول گیا ہوں، کیا آپ میری مدد کرسکتی ہیں؟‘‘

    ’’کون ہے وہ؟‘‘

    ’’اس شہر کے معزز آدمی ہیں ، خدا بخش دلاور‘‘۔

    ’’اوہ۔۔۔‘‘

    ’’کیا آپ انہیں جانتی ہیں؟‘‘

    ’’ہوں! اچھی طرح سے۔ مجھے سچ بولنے کی عادت ہے۔ خدا بخش کا شمار اچھے لوگوں میں نہیں ہوتا۔ نہیں جانتی کہ تمہیں اس کے پاس آنا چاہیے تھا کہ نہیں‘‘

    ’’امی ابو کے انتقال کے بعد میرے لیے اب وہی سب کچھ ہیں‘‘۔

    ’’کیا مطلب؟‘‘

    ’’پچھلے دنو ں امریکہ میں ایک تیز رفتار ٹرالر سے ابو کی گاڑی ٹکراگئی تھی۔ امی ابو دونوں آن دی اسپاٹ ایکسپائر ہوگئے‘‘۔

    عورت نے لمحے بھر کو آنکھیں بند کرلیں اور گہرا سانس لیا۔ پھر اس کے ہونٹوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی جیسے اس نے کچھ پڑھا ہو۔

    ’’آپ کو میرے چاچو کے گھر کا پتا تو ضرور معلوم ہوگا؟‘‘

    ’’میں جانتی ہوں۔ بلکہ ابھی کچھ ماہ پہلے ان کے گھر پر بہت شاندار محفل جمی تھی۔ میری لڑکیوں نے وہاں اپنا فن پیش کیا تھا۔ اسی لیے میں نے کہا تمہارے چاچو کا شمار اچھے لوگوں میں نہیں ہوتا۔ جانتے ہو میری لڑکیاں بہت شاندار ڈانس کرتی ہیں۔ تین ہیں، گزارہ ہوجاتا ہے اور بچت بھی۔ بہت جلد یہ علاقہ چھوڑ دوں گی‘‘۔

    اسی اثناء میں وہی بوڑھا کولڈ ڈرنک اور بسکٹ درمیانی ٹیبل پر رکھ کر چلا گیا۔ احسن پاکستان آنے کے بعد سے لے کر یہاں تک پہنچنے کے بارے میں مختصراً بتانے لگا۔ جب اس نے اپنے ساتھی کی موت کے بارے میں بتایا تو وہ عورت اس کے بہت قریب آگئی اور بولی۔

    ’’خدا کا شکر ہے تمہیں کچھ نہیں ہوا۔ یہاں آج کل حالات بہت خراب چل رہے ہیں، کچھ پتا نہیں کیا ہونے والا ہے۔ آئے دن ایک دو آدمی کسی نہ کسی بہانے مارے جاتے ہیں۔ آج کی ایک خبر ہے کہ ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کو دہشت گردوں نے سڑک پر ماردیا۔ اور پھر افغانستان کی صورت حال نے تو یہاں اور بگاڑ پیدا کردیا ہے‘‘۔

    ’’آپ کو ان باتوں سے دلچسپی ہے؟‘‘

    ’’کیوں نہیں! میں سب خبر رکھتی ہوں۔ تمہیں پتا ہے پچھلے دنوں مجھے ایک لفافہ موصول ہوا۔ میں اسے فوراً تھانے لے گئی۔ وہ مجھے جانتے ہیں۔ میرا خیال رکھتے ہیں۔ میں بھی ان کا خیال رکھتی ہوں۔ میں نے انہیں لفافہ دیا تاکہ چیک ہوجائے۔ ممکن ہے کسی نے مجھے اینتھریکس پوڈر والا لفافہ بھیج دیا ہو، مجھے مارنے کی کوشش کی ہو۔ یا ہمارے علاقے کے حالات خراب کرنا چاہتا ہو‘‘۔

    احسن کو لگا عورت واقعی پاگل ہے۔ گھر کے اسٹور میں بے کار سامان کی طرح پڑی اس عورت سے کسی کو کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ احسن نے پوچھا:

    ’’پھر کیا اس لفافے سے کچھ نکلا؟‘‘

    ’’نہیں نکلا۔ لیکن نکل آتا تو کیا ہوتا؟‘‘

    ’’مرجاتیں اور کیا ہوتا‘‘۔احسن نے ازراہ مذاق کہا۔

    ’’تم مذاق اڑارہے ہو۔ اینتھریکس کے بارے میں میں نے پڑھا ہے۔ اس کا زہر سانپ کے زہر سے زیادہ تیز ہوتا ہے۔ اس کے جرثومہ کو کسی بھی طریقے سے مارا نہیں جاسکتا۔ یہ صرف جلانے سے ہی ختم ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہ جب اسے جلایا جائے تو کسی گہرے گڑھے میں دفن کردینا چاہیے‘‘۔

    ’’حیرت ہے آپ کو یہ سب معلوم ہے‘‘

    اس ہلکی پھلکی گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ اجنبیت ختم ہوگئی۔ احسن بھی تھوڑی دیر کے لیے خوف کی حالت سے باہر نکل آیا۔ اس نے بدن کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور آرام کرنے کی حالت میں آگیا۔ اسے یقین تھا کہ اب وہ اپنے چاچو کے گھر پہنچ جائے گا۔ وہ پچھلی کئی راتوں سے صحیح طرح سے سو بھی نہیں سکا تھا۔ خوف نے اس کی آنکھوں سے نیند چھین لی تھی۔ مگر اب جگہ جگہ سے پچکی ہوئی فوم کی گدیوں پر اس کے بدن و دماغ کو نہ جانے کیسا اطمینان حاصل ہوا کہ اس پر غنودگی طاری ہونے لگی۔ عورت نے اس کی آنکھوں کے بھاری بوجھل پن کو محسوس کرلیا۔ اس نے کونے میں پڑے گاؤ تکیے کو صوفے کے کنارے رکھ دیا اور کہا:

    ’’تم تھوڑی دیر کے لیے سوجاؤ‘‘۔

    احسن منع کرنا چاہتا تھا، مگر نہ جانے کیوں ایک معمول کی طرح اس عورت کے کہنے پر لیٹ گیا۔ ذرا دیر میں وہ خوف، دہشت اور اجنبیت سے غافل سورہا تھا۔ وہ جتنی دیر سوتا رہا۔ عورت اس کے پاس بیٹھی رہی۔ کبھی وہ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر سہلانے لگتی تو کبھی اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگتی۔ کبھی اس کی انگلیاں احسن کے گالوں پر حرکت کرنے لگتیں تو کبھی ہونٹوں پر۔ غرض احسن کو کچھ معلوم نہ تھا کہ اس بے خبری کی حالت میں وہ عورت اس کے چہرے کے ایک ایک نشیب اور ایک ایک فراز پر اپنے لمس کے نشان چھوڑتی جارہی تھی۔ عورت کی ذہنی حالت بگڑنے لگی۔ ہونٹ کپکپانے لگے، اور آنکھیں بھاری ہوتی چلی گئیں۔ ضبط کے اونچے بند توڑتا ہوا آنسوؤں کا سیلاب آنکھوں سے بہہ نکلا، وہ مسلسل بڑبڑارہی تھی۔ ابل پڑنے والا سیلاب اپنی تباہ کاریوں کے نشان پورے چہرے پر چھوڑتا ہوا کہیں جا نکلا۔ میک اپ کی لیپا پوتی سے مبّرا بوڑھی گدرائی ہوئی زمین پر نمکین لکیروں سے سیلاب کی شدت کا صاف اندازہ کیا جاسکتا تھا۔ احسن بے خبر سورہا تھا۔ اسے کچھ معلوم نہیں تھا کہ تھکن کی پیدا کردہ بے خبری میں نہ جانے کتنی سوئی ہوئی شکستگیوں کو جگا آیا ہے۔

    اسی اثناء میں سیڑھیوں پر کھٹ کھٹ کی آواز سنائی دی۔ بوڑھا کمرے میں داخل ہوا۔ تپائی پر دھری بوتلوں کو دیکھا اور بولا۔

    ’’جب پیتے نہیں تو منگواتے کیوں ہیں۔ آخر پیسے خرچ ہوتے ہیں‘‘۔

    عورت نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا۔

    ’’بابا میں نے اسے سب کچھ بتادیا ہے‘‘۔

    ’’کیا سب کچھ؟‘‘

    ’’وہ جو مجھے بتانا چاہیے تھا‘‘۔

    ’’مگر یہ تو سورہا ہے‘‘۔

    ’’ہاں! سو تو رہا ہے پھر۔۔۔ اچھا میں اسے سب کچھ دوبارہ بتادوں گی۔ پہلے میں تیار ہوجاؤں۔ اس کے چاچو کے پاس جانا ہے‘‘۔

    عورت کے لوٹنے سے پہلے احسن بیدا رہوگیا۔ احسن کو دیکھتے ہوئے بوڑھے کی انگلیاں بے دھیانی میں ٹیبل کی چکنی سطح پر یوں تیزی سے حرکت کرنے لگیں جیسے اچانک ہلکی اور تیز تال کے اتار چڑھاؤ کے درمیان انگلیوں کے پورمتواتر طبلے پر پڑنا شروع ہوگئے ہوں۔ بوڑھی جہاندیدہ آنکھوں میں ماضی کے جھیلے عذابوں سے زیادہ پیٹ سے چپکے بھوکے مستقبل کا عفریت اتر آیا۔ اس نے سوچا کہ کاش یہ لڑکی ہوتی۔ اس گھر کو ایک جوان لڑکی کی ضرورت ہے۔ جو کہ ہمارے جہنم کو ٹھنڈا کرسکے۔ اس نے احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

    ’’اتنی دیر میںآپ نے یہ تو اندازہ لگالیا ہوگا کہ یہ ایک طوائف کا کوٹھا ہے۔ طوائف بھی ایسی جو بوڑھی ہوچکی ہیں۔ اور بڑھاپے کے ساتھ سٹھیا بھی گئی ہیں۔ اکثر بے تکی اور بے سروپا باتیں کرتی ہیں۔ یہاں کچھ عرصے پہلے تک تین لڑکیاں تھیں۔ بہت اچھی ڈانسر تھیں۔ شہر میں ان کے بے شمار مداح تھے۔ ان کے شو ہاؤس فل جایا کرتے تھے۔ اب بھی جاتے ہیں۔ مگر اب وہ یہاں نہیں رہتیں۔ ایک پروموٹر نے انہیں اپنے ساتھ رکھ لیا ہے۔ ایک بوڑھی طوائف کے لیے یہ دکھ بڑا جان لیوا ہوتا ہے کہ اس کی تربیت کردہ لڑکیاں بڑھاپے میں اس کا ساتھ چھوڑ دیں۔ بس اب بولائی بولائی پھرتی ہیں۔ کبھی گیلری میں جاکھڑی ہوتی ہیں۔ کبھی سڑک پر جا نکلتی ہیں۔ اپنی جوانی کو یاد کرکے روتی ہیں۔ اور اپنے بڑھاپے کے لیے جوان سہارا ڈھونڈتی رہتی ہیں‘‘۔

    بوڑھے نے احسن کے چہرے پر کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ مگر وہاں تو صرف کچھ سمجھ میں نہ آنے والی حیرت کی پرچھائیاں تھیں۔ بوڑھے نے مزید کہا۔

    ’’ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو اپنا سہارا بنانا چاہیں۔ اس کے لیے وہ آپ کو من گڑھت قصہ بھی سناسکتی ہیں۔ آپ ظاہری خستگی کے باوجود بڑے باپ کے بیٹے لگتے ہیں۔ بھلا اس دنیا سے آپ کا کیا تعلق‘‘۔

    یہ کہتے ہوئے بوڑھا احسن کو سوچتا ہوا چھوڑ گیا۔ تھوڑی دیر بعد عورت تیار ہو کر آگئی۔ اب وہ تروتازہ اور نارمل دکھائی دے رہی تھی۔ احسن نے عورت کی طرف دیکھا۔ وہ اسے اچھی لگی۔ اس نے سوچا:

    ’’کاش میں اس کے کام آسکتا‘‘۔

    کچھ ہی دیر میں دونوں ایک ٹیکسی میں ڈیفنس کی طرف روانہ ہوگئے۔ دونوں خاموش اپنے خیالوں کی دنیا میں گم تھے۔ ٹیکسی مختلف سڑکوں سے گزرتی ہوئی شیرٹن ہوٹل کے سگنل پر رک گئی۔

    خاموش سماعتوں سے آواز ٹکرائی۔ ایک اخبار فروش اخبار بیچتے ہوئے زور زور سے آواز لگارہا تھا:

    ’’اغوا کرنے والوں نے ایک کروڑ روپیہ لے کر بھی نوجوان کو مار ڈالا‘‘۔

    احسن چونکا۔ اس نے گاڑی سے سر باہر نکال کر لڑکے کو آواز دی۔ عورت نے پرس سے پیسے نکال کر دیے۔ شام کے اخبار کی یہی سرخی تھی۔ احسن نے اخبار عورت کی طرف بڑھادیا۔ عورت نے خبر کوپڑھنا شروع کیا۔ ٹیکسی لوہے کے اونچے پل کے اوپر چڑھ رہی تھی۔ یہ ٹیکسی ہی تھی مگر جس طرح ٹیک آف کرتے ہوئے جہاز کے مسافروں کے کان سن ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح احسن کے کان بھی سن ہو کر رہ گئے۔ خبر میں احسن کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ البتہ تصویر اس لڑکے کی تھی جو احسن کے ساتھ قید تھا۔ اور آج صبح اس کی رہائی سے کچھ دیر پہلے جس کو بے دردی سے ماردیا گیا تھا۔ خبر کے مطابق ایک کروڑ روپے کی ادائیگی مرنے والے نوجوان کے والدین نے کی تھی۔ جبکہ مجرموں نے اسے احسن کے چاچو کی طرف سے سمجھا اور غلطی سے اسے رہا کردیا۔ احسن سوچ میں پڑ گیا۔ اس کا مطلب اس کے چاچو نے کوئی رقم ادا نہیں کی۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ رقم نہ ملنے کی صورت میں وہ اسے ماردیں گے۔ ماں باپ وہاں مارے گئے بیٹا یہاں مارا جائے گا۔ قصہ ختم۔ احسن کو عورت کے کہے ہوئے الفاظ یاد آئے جو اس نے چاچو کے بارے میں کہے تھے۔

    ٹیکسی ڈیفنس میں داخل ہوچکی تھی۔ احسن علاقے کو پہچاننے لگا۔ اس کے دماغ میں آندھیاں چل رہی تھیں۔ عورت نے اخبار احسن کی گود میں رکھ دیا۔ شہ سرخی کے عین نیچے مرنے والے کی تصویر تھی جس کے ساتھ بیٹھ کر احسن نے بہت سی باتیں کی تھیں۔ ساتھ کھایا اور خوف کی ایک ہی چادر اوڑھ کر ساتھ سوئے بھی تھے۔ احسن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ آنسو اخبار پر گر گئے۔ اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا:

    ’’گاڑی روکو‘‘۔

    ٹیکسی رک گئی۔ عورت نے کہا۔

    ’’تمہارے چاچو کا گھر ابھی اگلی سڑک پر ہے‘‘۔

    احسن نے سنی ان سنی کرتے ہوئے ڈرائیور سے کہا:

    ’’واپس چلو‘‘۔

    ڈرائیور نے گاڑی کو واپس موڑ دیا۔ احسن کو اندازہ نہیں تھا کہ انجانے میں وہ بہت قیمتی فیصلہ کر بیٹھا ہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایک ہی دن میں دوبار وہ گھنے درخت کی شاخوں کے سائے میں قریب سے قریب آتی موت سے بچ کر نکل رہا ہے۔ ہوا یوں کہ شام کے اخبار میں چھپنے والی خبر سے اغوا کرنے والوں کو جب اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تب سے ان کے دو ساتھی احسن کے چاچوکے گھر کے نزدیک اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔

    (۲۰۰۲ء)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY