جوانی

MORE BYسہیل عظیم آبادی

    بیاہ ہوئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا مگر سریندر نے پربھا سے ایک لفظ بھی نہ کہا تھا۔ وہ باہر سے آتا اور چپ چاپ پربھا کے پاس بیٹھ جاتا۔ کبھی کوئی کتاب اٹھا لیتا، کبھی کوئی رسالہ، اور وقت کاٹ دیتا۔ پھر باہر چلا جاتا، ماں باپ نے اس کا بیاہ کر دیا تھا، وہ ان کی خوشی، برادری میں عزت اور وقعت پر اپنی ساری خوشیوں اور تمناؤں کو قربان کرچکا تھا اور رسماً سارے کام کرتا جا رہا تھا، ورنہ اسے بیاہ کی کوئی خوشی نہ تھی، بلکہ حد درجہ رنج تھا۔

    آج جب وہ باہر جانے کے لئے کپڑے بدلنے کو کمرے میں آیا تو پربھا سنگھار میز کے سامنے بیٹھی بال سنوار رہی تھی، اس نے سریندر کو دیکھتے ہی شرما کر اپنی نظریں نیچی کر لیں، اور بدن سمٹا کر بیٹھ گئی، سریندر پر اس کا بہت اثر ہوا، اس نے اپنے دل میں پربھا کے لئے ہمدردی محسوس کی، اس کے سینے کی گہرائیوں سے ایک آہ نکلی اور سینے ہی میں ڈوب کر رہ گئی۔ کپڑے بدلنے کا خیال اس کے دماغ سے نکل گیا اور وہ ایک تھکے ہوئے شخص کی طرح ایک صوفے پر گر پڑا اور سوچنے لگا۔۔۔ میں کیا کر سکتا ہوں، ماتا پتا‘‘ کی ضد نے میرے ساتھ ایک غریب لڑکی کی زندگی بھی برباد کردی، ہزار پڑھی لکھی ہے، مگر پھر بھی ہندوستانی لڑکی ہے، اسی سماج میں سانس لیتی ہے، جس میں عورتیں رسم و رواج کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہیں۔

    ”بیاہ ہوئے ایک ہفتہ ہوگیا، مگر پربھا کے چہرے پر ایک مرتبہ بھی‘‘ ہنسی خوشی کی جھلک نظر نہ آئی، وہ برابر اداس رہتی ہے، جیسے پت جھڑ میں پھلواری، جب دیکھو تب ایک گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ وہ خوش رہے تو کیونکر؟ عورت کی ساری ہنسی خوشی پتی کے دم سے ہے، میں اس سے نہ بولتا ہوں اور نہ ہنستا ہوں، وہ گھر سے، ماں باپ سے، اور اپنے پرائے سے جدا ہوکر آئی ہے، اور اس پر میرا سلوک۔۔۔ آخر غریب خوش کیونکر رہے؟ میں نے کبھی جھوٹے منہ بھی تو اس کا حال نہ پوچھا۔۔۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ میں اسے محبت نہیں دے سکتا، لیکن ایک انسان کی طرح ہمدردی تو کر سکتا ہوں، دنیا تو اب یہ جانتی ہے کہ اس کی ہر قسم کی خوشی کی ذمہ داری میرے سر پر ہے، دل سے نہ سہی لیکن سماج کے سامنے تو اس ذمہ داری کو میں نے قبول کرلیا ہے، مجھے اس کے آرام کا خیال کرنا چاہئے۔

    وہ اپنی جگہ سے اٹھا کہ پربھا سے کچھ باتیں کرے، لیکن اس کا دل بھر آیا، وہ پھر صوفے پر بیٹھ گیا۔ اسے اپنی زندگی کے سارے واقعات ایک ایک کر کے یاد آنے لگے، کالج میں داخل ہونا، کالج جاتے ہوئے راستے میں کوشلیا کا مکان، اس کے بھائی سے دوستی، پھر آنا جانا، باتیں۔۔۔ اور بہت سی باتیں۔ محبت کا اقرار اور شادی کا وعدہ۔۔۔ اب وہ پھر کلکتہ واپس جانے والا تھا، مگر کس منہ سے جاکر کوشلیا سے باتیں کرے گا، وہ کیا کہے گی، آخر اس سے وعدہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔ کہے گی کہ جب تک یہاں تھے میرے جذبات سے کھیلتے رہے اور جیسے ہی دولت مند گھر ملا، بیاہ کر لیا، اسے یہ کس منہ سے کہہ سکوں گا کہ ماتا پتا نے زبان دے دی تھی اور ان کی عزت کے خیال سے میں نے اپنی ساری آرزوؤں کا خون کرلیا۔۔۔ اگر کہوں بھی، تو‘‘ اس کو کیوں کر یقین آئے گا۔

    سریندر دیر تک اسی قسم کی باتیں سوچتا رہا اور پربھا اپنی جگہ سمٹی سمٹائی بیٹھی رہی، وہ چاہتا تھا کہ پربھا کے ساتھ محبت کا نہیں تو کم سے کم ہمدردی کا برتاؤ ضرور کرے، ایک لڑکی کی زندگی کو برباد ہونے سے بچالے جس کا سہارا بیاہ کے بعد پتی کے سوا اور کوئی نہیں، وہ یہ بھی سوچنے لگا کہ اس سے بناوٹی محبت ظاہر کرتا رہے۔ اپنے دل پر چاہے جو بھی گزرے، مگر پربھا کو معلوم نہ ہو، اگر اسے معلوم ہوگیا کہ مجھے کسی دوسری لڑکی سے محبت ہے تو اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔۔۔ لیکن ہے تو ضرور۔۔۔ مگر بلا سے۔ جو کچھ دل پر بیتے گی محسوس کروں گا، خود گھلتا رہوں گا۔۔۔ لیکن پربھا کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔

    یکایک پھر اسے کوشلیا یاد آئی۔۔۔ اس کا دل بھر آیا۔ یہ تو صحیح ہے کہ پربھا کو میرے دل کی خبر نہ ہوگی، لیکن کوشلیا کو بیاہ کی خبر تو ہو ہی جائے گی، اگر میں اس کے سامنے نہ بھی گیا تو اس سے کیا ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ میں کچھ کہہ سن نہ سکوں گا، لیکن اس کے دل پر کیا گزرے گی۔۔۔ اس کا دل ٹوٹ جائے گا، وہ زندہ بھی رہ سکے گی یا نہیں۔ جس وقت اس کو میرے بیاہ کی خبر ہوجائے گی وہ سر پیٹ لے گی یا روتے روتے جان دے دے گی۔۔۔ اُف ماتا پتا نے دولت کی خاطر دو زندگیوں کو تباہ کر دیا۔۔۔ اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔

    سریندر اپنے خیالوں میں الجھا ہوا تھا کہ اس کی ”چھوٹی بہن شانتی آگئی اور پربھا کو دیکھتے ہی بولی، ’’بھابی! آپ نے اب تک کپڑے‘‘ نہیں بدلے؟‘‘ پربھا اپنی جگہ پر ہلی تک نہیں، بالکل چپ بیٹھی رہی، شانتی نے بھائی کو نہیں دیکھا، گدگدانا شروع کر دیا، سریندر نے دیکھا کہ پربھا عجیب بے بسی میں ہے، تو بولا، ’’سانو!‘‘ شانتی نے پلٹ‘‘ کر بھائی کو دیکھا اور کھسیانی سی ہوگئی، بولی، ’’جی! بھیا آج ہم لوگ سنیما جا رہے ہیں!‘‘

    ’’ایک گلاس پانی لیتی آؤ۔‘‘ شانتی کو بھی اچھا موقع مل گیا، وہ کمرے سے باہر چلی گئی اور تھوڑی دیر‘‘ میں پانی لے کر آگئی، سریندر نے پانی پیا اور بولا، ’’ہاں ٹھیک ہے، ضرور جاؤ۔‘‘ گھر کے سارے لوگ سنیما چلے گئے، سریندر نہ گیا۔ شام ہونے کو آئی لیکن وہ صوفے پر پڑا سوچتا ہی رہا، طرح طرح کے خیالات اس کے دماغ میں آتے رہے، کبھی کبھی اپنے خیالوں سے وہ خود ہی ڈر جاتا، جیسے کوئی شخص ڈراؤنے خواب دیکھ کر ڈر جاتا ہے۔۔۔ تھوڑی دیر تک اس پر عجیب کیفیت طاری رہی، اس کا دل بے اختیار چاہتا تھا کہ خود کشی کرلے۔ لیکن کوشلیا سے پھر ملنے کی تمنا اور امید نے اسے اس خطرناک ارادے سے روکا، اس کا دل چاہا کہ فوراً اٹھے اور شہر چلا جائے، وہاں کوشلیا سے مل کر سارا حال بیان کردے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری خودکشی کی خبر سن کر کوشلیا بھی جان دے دے۔ میری زندگی کے ساتھ دو اور زندگیاں جائیں گی، کوشلیا تو یقینی طور پر جان دے دے گی، اور پربھا ’’آدھ مرو‘‘ ہوکر رہ جائے گی، اس لئے یہ غلط ہے۔ اب جس طرح بھی ہو ایسی راہ نکالنی چاہئے جس سے سب زندہ رہ سکیں۔

    اسے ایک ترکیب سوجھی، اس نے سوچا کہ رات کے وقت پربھا سے سب کچھ کہہ دے گا، ’’اسے صاف صاف کہہ دوں گا کہ مجھے تم سے محبت نہیں اور نہ ہو سکتی ہے لیکن سماج کے قانون کے مطابق میں تمہارا ہو چکا ہوں، اس لئے تمہارے آرام کا خیال اور انتظام کرتا رہوں گا، لیکن تم اس بات کی اجازت دے دو کہ میں کوشلیا سے شادی کر لوں۔۔۔‘‘ اس کے دل کو اس خیال سے بڑا سکون ہوا۔ اسے یقین ہو گیا کہ پربھا اسے اجازت دے دے گی۔ اور کوشلیا بھی شادی کر لے گی۔۔۔ لیکن کوشلیا کے ماں باپ اے کیونکر پسند کریس گے؟ اس کے دل کو ایک دھکا لگا، تیر کمان سے نکل چکا تھا، اب‘‘ نہ وہ کوشلیا کا ہوسکتا تھا اور نہ کوشلیا اس کی ہوسکتی تھی، دونوں ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے سے الگ ہو چکے تھے۔۔۔ مگر پھر بھی پربھا سے ساری باتیں کہہ دینا ضروری ہے۔

    کمرے میں تاریکی چھا چکی تھی، نوکر لیمپ جلا کر رکھنے آیا تو سریندر یکایک چونکا، اس نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی، سنگار میز پر پربھا کی‘‘ تصویر رکھی ہوئی تھی، اب تک اس نے پربھا کو پوری طرح دیکھا بھی نہیں تھا، پربھا واقعی‘‘ خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔ سریندر‘‘ کے دل کو پھر ایک دھکا لگا، اس نے دل ہی دل میں کہا، کاش اس غریب کا بیاہ کسی دوسرے آدمی سے ہوتا تو وہ اس کے حسن کی قدر کرتا، اس سے محبت کرتا۔ لیکن بدنصیبی سے وہ ایسے آدمی سے بیاہ دی گئی ہے جس کے پاس اب محبت دوسرے کو دینے کے لئے نہیں ہے۔۔۔ وہ دیر تک پربھا کی تصویر کو دیکھتا رہا، اور افسوس کرتا رہا۔

    سریندر کا دماغ جب سوچتے سوچتے تھکنے لگا، تو اس نے ایک کتاب اٹھالی اور اسے پڑھنا شروع کیا، پھر ”کتاب لئے ہوئے مسہری پر لیٹ گیا۔۔۔ کتاب تاریخ کی تھی، یہی اس کا پسندیدہ موضوع تھا، وہ کتاب پڑھنے میں سب کچھ بھول گیا، دیر تک‘‘ اسے پڑھتا رہا، وہ کتاب دیکھنے میں غرق تھا کہ یکایک چونک پڑا۔ پربھا اور شانتی ہنستی ہوئی کمرے میں آگئی تھیں۔ اس نے دیکھا، پربھا ہنستی ہوئی اسے اور خوبصورت معلوم ہوئی، وہ دیکھتا رہا، یکایک پربھا کی نظر بھی اس پر پڑ گئی، نظر پڑتے ہی پربھا شرما گئی، اس کے شرما جانے کی ادا سریندر کو اور بھلی معلوم ہوئی، شانتی نے بھائی کو دیکھا، تو شرمندہ ہو کر بھاگ گئی۔ پربھا شرمائی ہوئی کھڑی رہی اور سریندر اسے دیکھتا رہا، یکایک سریندر کو خیال آیا۔ اس نے کہا، ’’آؤ بیٹھ جاؤ۔۔۔‘‘

    پربھا لجاتی ہوئی آئی۔ مسہری کے پاس کرسی پر بیٹھ گئی، سریندر نے چاروں طرف کمرے میں دیکھا، دروازوں پر پردے پڑے ہوئے تھے اور آس پاس کسی کی آہٹ بھی نہ تھی، اس نے پھر کہا، ’’آؤ، یہاں بیٹھو!‘‘ پربھا کا دل دھک دھک کرنے لگا، اس سے پہلے سریندر نے اس سے کوئی بات نہ کی تھی۔ اس نے سوچا، یہ وقت موزوں ہے، پربھا سے ساری باتیں صاف طور پر کہہ دینی چاہئیں۔۔۔ لیکن ہاں، اس طرح کہ پربھا کو کوئی صدمہ نہ پہنچے۔ وہ مسہری سے اٹھا کہ پربھا کو اٹھا کر لائے، اچانک اسے خیال آگیا، کہ دروازے کھلے ہیں، صرف پردے پڑے ہیں، اس نے اٹھ کر دروازوں کو دیکھا اور آہستہ آہستہ بند کر دیا، پھر مسہری پر بیٹھ گیا اور بولا، ’’سنو۔۔۔!‘‘

    اس نے چاہا تھا کہ سب کچھ کہہ دے لیکن پربھا نے ”جیسے ہی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ شرمائی ہوئی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا، سریندر سب کچھ بھول گیا، کچھ نہ کہہ سکا، پربھا اسے دیکھتی ہی رہی، سریندر نے اپنی حالت کا ”اندازہ‘‘ کیا اور پھر سنبھل کر بولا، ’’سنو پربھا!‘‘ پربھا نے مسکرا دیا، سریندر کھسیانا سا ہوگیا، اور پربھا کا منہ تکنے لگا، پربھا نے شرماتے ہوئے کہا، ’’کہئے!‘‘ سریندر سے کچھ نہ کہا جا سکا، البتہ اس کا ”ہاتھ خود ہی پربھا کے شانے سے سرک کر اس کے پہلو تک پہنچ گیا، سریندر کے سارے بدن میں چنگاریاں سی چھوٹنے لگیں، وہ غور سے پربھا کی شکل‘‘ دیکھنے لگا، اور پربھا سے قریب ہوتا گیا، اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔ کبھی کبھی اسے حلق سوکھتا ہوا معلوم ہوتا، مگر اس کے دل میں اور کچھ نہ تھا، آخر اس نے پربھا کو اپنی طرف ذرا‘‘ زور سے کھینچا، وہ سمٹتی ہوئی بالکل اس کی گود میں آتی رہی۔۔۔ اس نے پربھا کا سر اپنے زانو پر رکھا، اور ذرا کانپتی ہوئی آواز میں بولا، ’’پربھا۔۔۔‘‘

    پربھا لجائی ہوئی آنکھیں بند کئے اس کے زانو پر سر رکھے پڑی تھی، اس نے کوئی جواب نہ دیا، لیکن سریندر نے آپ ہی آپ کہا، ’’میں نے تمہیں آٹھ دن تک مفت میں ستایا، تم بہت خوبصورت ہو۔‘‘ پربھا نے اپنا چہرہ سریندر کی گود میں چھپا لیا۔۔۔ سریندر پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی، وہ آہستہ آہستہ اس کے چہرے پر جھکنے لگا۔۔۔ اسی وقت کمرے سے باہر شانتی نے آواز دی، ’’بھابی کھانا کھانے چلئے نا!‘‘

    سریندر نے جواب دیا، ’’وہ ابھی آئیں گی سانو۔‘‘

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY