Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جواری کون!

محمد شہزاد

جواری کون!

محمد شہزاد

MORE BYمحمد شہزاد

    جمال نے محسوس کیا فرح کچھ دنوں سے بہت خوش، پرجوش اور متحرک دکھائی دے رہی ہے۔ رات دس تک سو جانے والی یہ حسینہ دو تین بجے تک دروازہ لاک کر کے دھیمی آواز میں فون پر کس سے باتیں کرتی رہتی ہے، اسے اس سے کوئی غرض نہ تھی۔

    فرح بہت بڑے عہدے پر فائز تھی اور جمال مستقل بےروزگار۔ جوئے میں اپنا سب اور فرح کا بہت کچھ ہار بیٹھا تھا۔ بیوی کے ٹکڑوں پر پلتا مگر فرح اسے کبھی یہ احساس نہ ہونے دیتی۔ ٹکڑوں پر پلنے والی جمال کی سوچ فرح کو شدید ناپسند تھی۔ وہ اسے شہزادوں کی طرح رکھتی۔ بہت پیار اور عزت دیتی۔ اگر جمال کسی دوست سے ملنے جاتا تو اسے کہتی کہ مہنگے ترین ریستوران میں جانا اور بل خود ادا کرنا۔ فرح نے اس کے لیے ایک علیحدہ کریڈٹ کارڈ لے رکھا تھا جس کی حد کروڑوں میں تھی۔ جمال کا ایمان یہ تھا کہ فرح ایک دیوی، ملکہ اور مسیحا ہے اور وہ اس کا عاجز ترین غلام۔ جمال اسے گاہے بگاہے بتاتا رہتا کہ وہ فرشتوں سے اوپر اور اللہ اور نبیوں سے نیچے ہے، مگر وہ اس کی ایسی باتوں کو سنجیدگی سے ہرگز نہ لیتی۔ ایسا کہنے کی وجہ تھی۔

    فرح تصور سے زیادہ حسین اور پرکشش تھی۔ اس کی روح اور خیالات ظاہری حسن سے کہیں بڑھ کر تھے۔ تکبر، رشک، حسد یا انتقام نام کی کوئی چیز اس کے اندر سرے سے تھی ہی نہیں۔۔ وہ اپنی آمدنی کا ایک بہت بڑا حصہ ضرورتمندوں میں اس طرح خرچ کرتی کہ فرشتے بھی بےخبر رہتے۔ جمال کے غریب رشتے داروں کی بھی دل کھول کر مدد کرتی۔ اللہ تعالی کا خاص کرم تھا اس پر۔ مالک نے اسے علم اور حکمت کی دولت سے بھی نواز رکھا تھا۔

    اب ایسی عورت پر کون فدا نہ ہو۔ صرف وہی مرد اس کا قرب حاصل کر سکتا تھا جو اس کی ٹکر کا ہو۔ جب بھی ایسا کوئی اس کی زندگی میں آتا، وہ اس کا تذکرہ بہت جوشیلے انداز میں جمال سے کرتی۔ وہ بھی کرید کرید کر تفصیلات پوچھتا اور فرح کچھ بھی نہ چھپاتی۔ وہ اس کے معاشقوں کو ”ایڈوینچر“ اور اس کے چاہنے والوں کو ”غلام“ کہتا اور اپنے آپ کو کائنات کا خوش قسمت ترین غلام سمجھتا کیونکہ اس کے پاس فرح تھی۔ وہ خود بھی کوئی فرشتہ نہ تھا۔ فرح کی مہم جوئیاں اعلیٰ درجے کی اور سخت ضوابط کی پابند ہوا کرتیں جبکہ وہ ہر قسم کی عورت کے ساتھ سو جاتا چاہے وہ کیسی بھی ہو۔ اس معاملے میں اس کا کوئی معیار نہ تھا۔ وہ بھی فرح سے کچھ نہ چھپاتا۔

    ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فرح اپنے نئے ”غلام“ کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکی۔ اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے مگر جمال کے دل میں کوئی حسد پیدا نہ ہوا۔ اس کے کوائف یہ تھے۔ نام کبیر۔ بہت ہینڈسم۔ باقاعدگی سے جم جانے والا۔ بہت خوش لباس۔ تعلیم اور پیشے میں فرح جیسا۔ بہت بڑے عہدے پر فائز اور دولتمند۔ عورت پر قبضہ جمانے والا مرد نہیں. وسیع المطالعہ۔ دونوں کسی بھی موضوع پر طویل گفتگو کر سکتے تھے جو فرح اور جمال کے درمیان ممکن نہ تھا۔ ایک دفعہ دونوں نے نزول قرآن پر کئی گھنٹوں بات کی۔ شادی شدہ۔ فرح سے دو سال چھوٹا۔ جوان بچے یورپ میں سیٹلڈ۔ کسی دوسرے ملک میں رہتا ہے اور فرح سے ملنے خاص طور پر سفر کرتا ہے۔ بیوی کسی تیسرے ملک میں۔ دونوں میں ذہنی ہم آہنگی بالکل نہیں۔ وہ اپنے مرد پر ہر وقت حق جتاتی ہے۔ الحاج بھی ہے۔ اپنی بیوی کے علاوہ آجتک کسی اور عورت کے قریب تک نہیں پھٹکا۔ فرح ہی اس کا پہلا اور آخری پیار ہے۔ بہت رومانٹک اور جذبات سے بھرپور ہے۔ ان تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جن سے عورت کو راحت و سکون ملتا ہے۔

    سب کچھ جان کر جمال نے فرح کو صرف اتنا کہا، ”گڈ لک!“

    چند ہفتوں بعد فرح اپنے شوہر کو ایک فائیو سٹار ہوٹل کے اس ریستوران میں لے کر گئی جو جمال کا پسندیدہ تھا۔ ڈنر کے دوران فرح نے ایسی بات کہی جو اس کے وہم و گمان میں نہ تھی، ”اگر میں تمہیں طلاق دے کر کبیر سے شادی کر لوں تو کیا تم نئے حالات سے سمجھوتہ کرلوگے؟ تمہیں اور بچوں کو سپورٹ کرتی رہونگی!“

    جمال کے پیروں سے زمین سرک چکی تھی مگر اس نے ظاہر نہ ہونے دیا۔

    ”شادی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسی طرح چلنے دو!“

    ”وہ اس طرح نہیں چاہتا۔“ فرح نے کہا اور اس موضوع پر مزید بات نہ ہوئی۔

    فرح کی کبیر میں دلچسپی بڑھتی چلی گئی۔ جمال ذہنی طور پر پریشان رہنے لگا مگر اس نے اپنی بیوی کو یہ احساس نہ ہونے دیا۔ جمال کے ساتھ تنہائی کے لمحات میں فرح اکثر جمال کے بجائے کبیر کو پکارنا شروع کر دیتی۔ جذبات کی شدت سے لبریز یہ ردِعمل جمال کو ایک ناقابلِ بیان تسکین تو بخشتا، مگر حقیقت میں سب کچھ کبیر کے لیے ہی تھا۔

    ایک واقعے نے جمال کی سوچ بدل دی۔ فرح نے جمال کو ایک وڈیو بھیجی جس میں وہ کبیر کے ہمراہ ایک عالیشان اور پروقار محفل میں موجود تھی۔ اس کا حسن غضب کا تھا۔ حسین و جمیل سے کہیں زیادہ وہ پروقار لگ رہی تھی۔ سب کی نگاہیں اسی کی جانب مرکوز تھیں۔ اس کے ہاتھ میں کبیر کا ہاتھ تھا۔ اس کی مسکراہٹ, حرکات و سکنات اور عشوہ طرازیاں بجلیاں گرا رہی تھیں۔ جمال ہی نہیں، تقریب میں موجود ہر شخص اُس کی دلکشی, ناز و ادا، شوخیِ گفتار اور محبوبانہ انداز میں کھویا ہوا تھا۔ اس لمحے کبیر ہی کائنات کا خوش قسمت ترین انسان تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بےحد خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ایسی مسرت فرح کے چہرے پر پہلے کبھی نہ پھیلی۔ حقیقت عیاں ہو چکی تھی کہ دنیا میں صرف کبیر ہی فرح کو سچی خوشی دے سکتا ہے۔

    جمال کے نزدیک یہ وڈیو فرح کی جانب سے نایاب تحفہ تھا جسے اس نے بار بار دیکھنے کے بعد بغیر کسی تمہید کہا کہ وہ طلاق لیکر کبیر سے شادی کر لے۔ اس پر فرح قطعاً حیران نہ ہوئی۔ صرف اتنا کہا کہ وہ کبیر سے بات کرے گی۔ اس رات جمال نے تہجد کی نماز ادا کی اور رب سے یہ دعا مانگی کہ وہ اسے اپنے پاس بلا لے تا کہ فرح تذبذب کا شکار نہ ہو۔ کبیر نہ صرف فرح بلکہ بچوں کو بھی قبول کرے۔ انہیں باپ جیسا پیار دے۔ اس نے ہرگز یہ دعا نہ مانگی کہ فرح کبیر سے شادی نہ کرے۔ اس کی دلی آرزو تھی کہ وہ یہ شادی کر ے مگر اس سے پہلے وہ دنیا سے رخصت ہو جائے۔ اس کے نزدیک زندگی فرح کے بغیر بے معنی تھی۔

    ملا ہوا تھا۔ مہینوں بعد فرح کا ایک آدھ میسج آ جاتا۔

    کبیر اور فرح کی شادی کے دوسرے برس، جمال کو فرح کا فون آیا۔ وہ اس سے ملنا چاہتی تھی۔ اسی ریسٹورنٹ میں جہاں وہ اسے لے کر گئی تھی اور یہ بات کی تھی کہ اگر وہ اسے طلاق دے کر کسی اور سے شادی کر لے تو۔۔۔!

    جمال کو ملنے میں کوئی دقت نہ تھی۔ مقررہ وقت پر وہ ریستوران پہنچ گیا۔ فرح وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔ اس کا حسن ویسا ہی تھا۔۔آنکھوں کو خیرہ کر دینے والا مگر چہرے پر حزن تھا۔ ایسا حزن اس نے اس کے چہرے پر پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔

    اسے دیکھتے ہی فرح کھڑی ہو گئی اور اس سے گلے ملی۔ گلے ملنے کے بعد جب وہ دوبارہ اپنی نشست پر بیٹھی تو جمال نے اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسو دیکھے۔ وہ پریشان ہو گیا۔

    ”کیا بات ہے فرح۔ سب خیریت تو ہے؟“

    ”ہاں سب ٹھیک ہی ہے۔ تم کیسے ہو؟“

    ”میری چھوڑو۔ تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ہو۔ تمہاری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟ اور تمہارے چہرے پر پہلے جیسی خوشی کیوں نہیں نظر آ رہی؟ کبیر تو ٹھیک ہے نا تمہارے ساتھ؟ کوئی پھڈا تو نہیں ہو گیا؟“

    ”سارے سوالات ایک ہی سانس میں کر ڈالے تم نے۔ دو منٹ صبر کرو۔ پہلے مجھے تمہاری پسندیدہ چیزیں آرڈر کرنے دو۔“ فرح نے کہا اور ریستوران مینیجر کو اشارہ کیا۔ اس نے ہر وہ چیز آرڈر کر دی جو جمال کو پسند تھی۔ لیکن جمال کا ذہن کہیں اور تھا۔ اس کے دل میں وسوسے گھر کر رہے تھے۔ جب آرڈر ہو چکا تو اس نے اپنے تمام سوالات دہرائے۔ فرح نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کا سیلاب امڈ آیا۔

    ”کیا تم خوش نہیں اس کے ساتھ؟ کچھ تو بتاؤ؟ اگر خاموش ہی رہنا ہے تو مجھے یہاں کس مقصد کے لئے بلایا؟“

    فرح نے جو بتایا اسے سن کر جمال بھی اپنے آنسو ضبط نہ کر سکا۔

    کبیر فرح سے بہت پیار کرتا تھا۔ اس کی ہر خواہش پوری کرتا تھا مگر فرح کو اس کے ساتھ رہ کر یہ احساس نہ ہوتا کہ وہ ایک ”ملکہ“ اور ”مسیحا“ ہے اور کبیر اک ”غلام“۔ یہ احساس صرف جمال کی دین تھا۔ جمال جوئے اور بے روزگاری کی وجہ سے فرح کا محتاج تھا۔ فرح کو اسی محتاجی سے عشق تھا جس سے وہ بے خبر رہی۔ اس عشق کا پتہ اسے کبیر کے ساتھ رہ کر چلا۔

    انسان میں چاہے لاکھ خوبیاں ہوں، کچھ خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ فرح سمجھی تھی کہ کبیر عورت پر حق جتلانے والا انسان نہیں ہے۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی۔ کبیر نے فرح کی نوکری چھڑوا دی۔ وہ گھر کی چار دیواری میں قید ہو کر رہ گئی۔ وہ کبیر کے بغیر گھر سے باہر نہیں نکل سکتی تھی۔ گھر کے نوکر کبیر کو پل پل کی خبر دیتے کہ بیگم صاحبہ کی دن بھر کیا مصروفیات رہیں۔ جمال نے فرح کو ہمیشہ اپنا ”معبود“ سمجھا اور کبیر نے اپنی زر خرید کنیز۔ ایسی کنیز جس کے تمام ناز و نخرے اٹھائے جاتے۔ ناز و نخرے تو رکھیل کے بھی اٹھائے جاتے ہیں۔ پیسہ تو اس پر بھی پانی کی طرح بہایا جاتا ہے۔ لیکن رکھیل آزاد ہوتی ہے۔ فرح کی اپنی کوئی حیثیت نہ رہی۔ وہ رکھیل کو اپنے سے بہتر سمجھتی تھی۔

    کبیر عورت کو آزادی دینے والا یا اس پر اعتبار کرنے والا مرد نہ نکلا۔ وہ اس کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ چیک کرتا۔ سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے دیتا۔ فرح اس کے محل میں ”لیڈی ڈیانہ“ بن کر رہ گئی تھی جو سانس بھی اپنی مرضی سے نہ لے سکتی تھی۔ کبیر کی دولت فرح کی انفرادیت، اس کا ملکہ، مالکن اور مسیحا والا سٹیٹس خرید چکی تھی۔ کبیر نے اس سے وہ ”فرح“ چھین لی تھی جو جمال کو شہزادوں کی طرح رکھتی تھی۔ اس پر اپنا پیسہ خرچ کرتی تھی۔ اس کے غریب رشتہ داروں کی مدد کرتی تھی۔ کبیر کے لیے وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی۔ کبیر کے پاس سب کچھ تھا۔ وہ کبیر پر کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتی تھی۔ شادی کے بعد اس پر یہ حقیقت کھلی کہ کبیر ایک معمولی انسان تھا جس کے کوئی اصول نہ تھے۔ اسے کبیر سے نہیں بلکہ ایک فینٹیسی سے محبت تھی جو کبیر کے روپ میں اس کی زندگی میں آئی، جس کا اس نے پیچھا کیا۔ سب کچھ اک سراب تھا۔

    جمال تمام تر برائیوں کے باوجود فرح کے وجود کا ایسا حصہ تھا جو اسے مکمل آزادی دیتا۔ جمال ہی فرح کے وجود کا ثبوت تھا۔ ایک بے مثال گواہ جو ساری دنیا پر بھاری تھا۔ جمال نے کنگال ہونے کے باوجود فرح کو ”شہنشاہوں“ کی طرح رکھا اور کبیر نے شہنشاہ ہونے کے باوجود فرح کو ایک عام گھریلو عورت کے درجے سے بھی کمتر کر دیا۔ در حقیقت جمال کی غربت، بے بسی اور کمزوریاں ہی فرح کی اصلی دولت تھی جسے وہ جوئے میں ہار چکی تھی۔ اب اس میں اور جمال میں کوئی فرق نہ تھا!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے