کہانیوں سے پرے

محمد ہاشم خان

کہانیوں سے پرے

محمد ہاشم خان

MORE BYمحمد ہاشم خان

    تصویر کے عقب میں تحریرشدہ عبارت پڑھنے کے بعد میرے اوسان خطا ہو گئے۔ تاریخ پرنظرپڑی تو حواس معطل ہو گئے، گویا پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ مجھے کسی بھی حال میں پہنچنا تھا لیکن میں یہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ مجھے جانا چاہئے یا نہیں۔ نئی نئی ملازمت، وسائل کی کمی اور والدہ کی بیماری نے مجھے شدید کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا، کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی صورت نظر نہیں آ رہی تھی اور اس غم کو غلط کرنے کی کوشش میں سگریٹ نکالا، گہرا کش لگایا اور دھویں کا دبیز مرغولہ فضا میں تحلیل ہوتا ہوا دیکھ کر کچھ مطمئن ہونے کی سعی ناکام کرنے لگا کہ کل۔۔۔ اور پھر میری پریشانی بڑھنے لگی۔ حیرت وبے یقینی، الجھن اور بےچینی کا سایہ دراز ہوتے ہوتے میرے وجود پر محیط ہونے لگا، وجود گھٹنے لگا تھا، گھٹ کر ایک کیفیت میں تبدیل ہو چکا تھا۔۔۔ بےحس و حرکت، جامد اور ساکت۔۔۔ اچانک کوئی ایک خیال میرے ضمیر کو جھنجھوڑنے لگا، مجھے جانا ہے اور مجھے جانا ہی ہوگا اور اس کے لئے مجھے ابھی نکلنا ہوگا، ابھی اور اسی وقت۔ ائرپورٹ سے باہر نکلنے پر معلوم ہوا کہ مطلوبہ پتے پر پہنچنے کے لئے مزید پانچ گھنٹے لگیں گے، ٹیڑھی میڑھی خستہ حال سڑک اور اوبڑکھابڑ پگڈنڈیوں سے گذرکرجاناپڑے گا۔ ایک نیم مرئی خوف، ایک مبہم تجسس، ایک دلگدازاداسی درون ذات خیمہ زن تھی، شام قریب ہوتی جا رہی تھی، سورج کی بلغمی شعائیں، تیزی سے پیچھے کی ط رف دوڑتے پیڑوں کی سبز پتیوں میں روپوش ہو رہی تھیں۔ شام ہوتے ہوتے مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا تھا۔ ڈائری کے پنے پلٹتا ہوا۔۔۔ ورق در ورق، کاغذوں کی لکیروں میں الجھی بکھری زندگی کے دھاگوں کو ایک تار میں جوڑتا ہوا۔۔۔

    مجھ سے بہتر کون جا سکتا ہے کہ تم چند موہوم نقطوں، ساکن حرفوں، خاموش لفظوں نیزگنجلک سطروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو، میں جانتا ہوں کہ تم ایک ٹھوس حقیقت ہو، واہمہ بھی، نقش برآب، سراب اور مغالطہ بھی۔ میں جانتا ہوں کہ تم ایک خبط، ہو خلل ہو اورحسن خیال بھی، تم کائنات کی تکمیل کا استعارہ ہو۔ تمہارے جسم کے نشیب و فراز میں نے دیکھے ہیں۔۔۔ جیسے کھڑی دوپہریاکی لُوسے زیروزبر ہوتی زمین۔۔۔ لہردار، سبزہ زار، شرربار، خوابشار۔۔۔ تم سے قبل کوئی چیز مکمل وجود نہیں رکھتی تھی، میں بھی نہیں۔ سب کچھ تشنہ تشنہ، نصف اور سوختہ۔۔۔ میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے ایک ناقابل معافی جرم کیا ہے۔ میں نے تمہاری روح کو مجروح کیا ہے، میں جذبات کے کمزور لمحوں میں بہک گیا تھا۔۔۔ پگھل گیا تھا۔۔۔ مکمل ہو گیا تھا۔۔۔ جو لمحے ہم محبت میں امر کر سکتے ہیں وہ لڑ جھگڑکر برباد کیوں کر رہے ہیں، یہ روز روز کی اذیت کیوں۔ یہ بیعت، یہ عہدوپیمان۔ کچھ تو یقین کرو۔ کتنے سال ہو گئے، تمہیں کچھ اندازہ ہے؟ بہرحال میں اپنے اقدام پر پشیماں ہوں۔ کیا تم انفعال کے وہ قطرے نقطوں کی شکل میں حروف کے رخسار پر محسوس نہیں کر رہی ہو؟ لفظ تو تمہارے خاموش تھے میرے نہیں۔ تمہارے الفاظ خاموش نہیں تھے تم سے روٹھے ہوئے تھے کیونکہ تم نے ان کو جذبوں کی روشنائی سے شبنمی کرنا بند کر دیا تھا اس لئے وہ سوکھ سوکھ کر کمزور اور روٹھ روٹھ کر سرکش ہوگئے تھے۔۔۔ بےمعنی، مجرد اور بےنقط۔۔۔ میرے بھی الفاظ خاموش ہو گئے کیا؟ تم نے ہی کہا تھا میرے لفظوں میں زندگی ہے، روح ہے، حسن کائنات موجزن ہے۔ تو پھریہ تم کو زندہ کرنے میں ناکام کیوں رہے؟ تم نے ہی کہا تھا کہ میرے الفاظ دراصل میرے ہی وجود کا جزء ہیں جو مکمل کیفیت کے ساتھ تمہاری ذات میں تجسیم ہوتے ہیں، تمہیں احساس لطیف کے ریشمی دھاگوں سے بنتے ادھیڑتے تکمیل کے نئے پیرہن میں ملبوس کرتے ہیں۔ تو پھر تم محبت کایہ نیا پیرہن کیوں اتار پھینکنا چاہتی ہو؟ فٹ نہیں بیٹھ رہے؟ راس نہیں آ رہا ہے؟ عادت ہے؟ تم جہنم ہو اور اس وقت تک تمہارا پیٹ نہیں بھرے گا جب تک کہ خدا اپنا بایاں پیر۔۔۔

    ہاں میں نے ٹھیک سنا ہے کہ میں ایک جہنم ہوں، جو ہمیشہ تشنہ رہےگا۔۔۔ ہل من مزید، ہل من مزید، ہل من مزید۔۔۔

    جو ایک پیر رکھے جانے کا منتظر ہے لیکن اس ایک پیر سے قبل پتہ نہیں کتنے پیروں کی وحشت، تھکن اور مَیل اسے پینا ہے، میں ایک جہنم ہوں جس سے ہزاروں جہنم پسند آتش نفسانی کو بجھانے کی خواہش رکھتے ہیں، ایک پیر تمہارا بھی پڑا ہوا ہے۔ میں ایک جہنم ہوں لیکن یہ بات بھلا کیسے سمجھو ں گی کہ میں زمین زادی نہیں ہوں، پری ہوں، خودسر ہوں، سرکش و پرکشش ہوں۔۔۔ مسام درمسام تشنہ، پیاسی اور اداس ہوں۔۔۔ میں دیوداسی ہوں۔۔۔ میں حالت تردید میں جی رہی تھی، جینا ہے اور جیؤں گی کہ خاندانی ورثہ کے نام پر بس یہی ایک فطری اختیار مجھے ملا ہواہے، تم سے بہتر بھلا کون جا سکتا ہے۔ زندگی شمشیروسناں کے درمیان کسی ایک نوک سے پیوستہ ہو جاتی ہے، کبھی بھی نشتر فشار رگ جاں کا فصد کھول سکتا ہے، میں جہنم، کبھی بھی جہنم رسید ہو سکتی ہوں۔ یہ بات بھلا تم زمین زادے کیسے سمجھوگے۔ میرا خیال تھا کہ میں باغ عد ن کے خیابان سے آئی ہوئی کوئی حور ہوں اور ہر پری شمائل کو یہ قسمت نہیں ملتی، لالہ و گل میں نمایاں ہونا سب کا مقدر نہیں جب کہ تم زمین زادے جب تک یہ تسلیم نہیں کر لیتے کہ یہ دنیا ایک جہنم ہے اور یہ زندگی اس کی ایک سزا ہے تب تک تمہارے اندر حیات بخش مقوی کیڑے نمو اور تقویت نہیں پاتے، تب تک تم زندگی جینے کے قابل نہیں ہو پاتے، یہ کیڑے مرنے لگتے ہیں اور ساتھ میں تم بھی۔ تم خاک زادے اسی تصور کی پوجا کرتے آے ہو کہ یہ زندگی جہنم کے حشرات میں سے ایک کیڑا ہے اور تم اس کیڑے کے مالک ہو، یہی کل تمہاری اوقات ہے لیکن میں پری زادہ تھی، ضد اور حصول آن واحد میں پورے ہونے چاہئیں یہی میری سرشت کا لازمی تقاضا تھا سو میں ضد کرتی رہی۔ ایک پل کے لئے بھی میں نے یہ نہیں سوچا کہ یہ زمین زادہ صرف ایک کیڑے کا مالک ہے۔۔۔ کبڑا، ٹھٹھرا، سکڑا، پژمردہ۔۔۔ کن فیکون اس کے اختیار میں نہیں ہے۔ کس نے کہا کہ میں محبت کے اس پیرہن کو اتار پھینکنا چاہتی ہوں، محض مفروضوں کی بنیاد پرحتمی رائے قائم کرنا تمہارا شروع سے وطیرہ رہا ہے۔ تم نے کہا تھا زندگی کے مختلف رنگ ہوتے ہیں، اس رنگ کا انتظار کرو جو تمہارا اپنا ہوگا، خالص۔۔۔ آلائشوں، آمیزشوں اور فضلات سے پاک۔۔۔ مجھ کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ اطمینان قلب کے لئے واپس پوچھا تحیر، استعجاب اور استفہام سے پر لہجے میں، کب چڑھےگا وہ رنگ۔ تم نے کوئی جواب نہیں دیا، بیوی کا فون آ گیا، بیٹے کی طبیعت خراب، تمہارے پاس پیسے نہیں، پرس صاف کئے اورچل دیئے اور میں اس رنگ کا انتظار کرتی رہی۔۔۔

    نہیں، تم نے انتظار نہیں کیا، وہی کیا جو نہیں کرنا چاہئے تھا۔ تمہارے ذہنی ارتقا اور ذوق جمال کے ارتفاع کے لئے جو دلیلیں اور فلسفے میں نے استعمال کئے وہی اب تم میرے خلاف استعمال کر رہی ہو۔ مان تو تم نے بھی توڑا پھر فرد جرم صرف مجھ پر ہی کیوں؟ آخر، ایسی کیا مصیبت آن پڑی تھی، تم نے میرے بارے میں ایک بار بھی نہیں سوچا، آخر کیوں؟ فکر مت کرو جہاں تم اتنے برے مرگ زدہ اقدام کے باوجود اسی سماج میں اورانہیں اپنوں کے درمیان چل پھر سکتی ہوجو تمہیں ایک بار پیدا کرتے ہیں اور بار بار دفن کرتے ہیں تو پھر ہم جیسے کیا معنی رکھتے ہیں۔ تم نے مجھے بھی تخیل بنا کے رکھ دیا لیکن اطمیان اس بات کا ہے کہ مکمل وجود میں آنے سے قبل ہی مر گیا۔۔۔ کوئی مواخذہ نہیں، کوئی محاسبہ نہیں۔۔۔ تمہیں زندگی گزارنے کے لئے جواز کی نہیں جرات کی ضرورت ہے۔ جرات جو صرف جہنم زادوں سے مل سکتی تھی۔ تم نے کہا تھا کہ تم شاعرہ ہو، صورت گر ہو، فسانہ نویس ہو، زود حس ہو، تمہاری خواہشوں کی تتلی کے پر نوچ کر پھینک دیئے گئے ہیں اس لئے تم باغی ہو گئی ہو۔ تم جھوٹ بولتی ہو۔ ذات کے نہاخانوں میں محبوس پری باغی کیسے ہو سکتی ہے۔ خواہشوں اور نارسائیوں کی کرب انگیز پرافشاں کرچیوں کی کراہ پینے والی لڑکی روایت شکن کیسے ہو سکتی ہے۔ بھلا سمجھوتوں کو کہیں بغاوت کا نام دیا گیا ہے؟ تم نے سمجھوتے کئے ہیں، قدم قدم پر سوایک اور سمجھوتہ کیوں نہیں کیا۔ ایک اور معاہدہ صلح حدیبیہ جیسا۔ مجھے تم سے محبت ہے، میں چاہتا ہوں کہ تم میرے لئے جیو، میں خود غرض ہوں۔ یہ احساس کہ تم زندہ ہو میرے زندہ رہنے کے لئے کافی ہے۔ تمہارے بغیر زندگی، زندگی نہیں لاحاصلی کا عذاب ہے، کرب کا ناپیدا کنار ہے، ناکام حسرتوں کا وسیع ریگزار ہے۔ وہ وقت جو ہم چوروں کی طرح ساتھ گذارتے ہیں، کہیں کسی ریستوران کے کونے میں، کسی خستہ ہوٹل کے بدبودار کمرے میں ڈر ڈڑ کر ان ہزار ساعتوں سے بہتر ہے جو بغیر کسی کیفیت، محبت اور وصال کے یوں ہی گذر جاتے ہیں۔ یہ زندگی تم نے منتخب کی ہے، تم شادی سے گریزاں ہو لیکن موت سے خائف نہیں۔ مجھے افسوس ہے کہ تم اچھی تعلیم، تمکین اور آسائشیں حاصل کرنے کے باوجود، اشرافیہ کی ساری نزاکتوں کا پیرہن اوڑھ لینے کے باوجوداس راز کو نہیں سمجھ سکیں کہ زندگی اپنے فطری عناصر میں خود جینے کا ایک مکمل جواز ہے۔ زندگی خواہ وہ تمہاری ہو یاکسی رنڈی کی۔۔۔

    کاش میں رنڈی ہوتی، عزت نفس اور خاندانی شرافتوں کے تقدس اور کثافت سے مبرا ہوتی، وجود کی یہ لطافت قابل برداشت تو ہوتی۔ تو کیا رنڈیاں آزاد ہوتی ہیں؟ تم نے غور نہیں کیا تھا کس طرح تم نے یہ لفظ ادا کیا تھا، تمہارے اندر کی ساری کراہیت باہر آ گئی تھی اور کس طرح میں کیفے سے اٹھ کر چلی آئی تھی، ذات کا سارا کرب، خستگی، تھکن اور ذلت و مسکنت وہیں کولڈ کافی کے مگ میں انڈیل کر۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ وہ تم پی جاؤگے لیکن تم نے غصے سے یوں میزالٹ دی تھی کہ سب کچھ الٹ پلٹ گیا، کولڈ کافی میں موجود میرا وجود یوں فرش پر بکھرا پڑا تھا کہ مجھے منتہائے وصال میں فنا ہونے کا منظر یاد آ گیا جب تم آبنائے شرم و حیا میں قطرہ فشارانڈیل کر غسل خانے میں چلے گئے اور میں یوں چت لیٹی رہی، شرمندہ سی، سوچتی رہی کہ یہ کیسا وصال ہے جو آسودگی کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، یہ وصال نہیں محض نقطہ اتصال تھا، میں چاہتی تھی کہ تم میرے اوپر یونہی پڑے رہو، ساری تھکن، درد، کرب اور محرومیاں سانسوں کی دھونکنی کے ساتھ باہر نکل جانے دو لیکن آسودہ ہونے کے بعد تم ایک لاش میں تبدیل ہو چکے تھے اور میں بھی، سو ایک تشنہ لاش پر ایک آسودہ لاش کا پڑے رہنا کیا معنی؟ لیکن تم مسیحا نفس لاشوں میں روح پھونکنا جانتے ہو سو انجام کار میں واپس جی اٹھی بلبلے کی صورت بار بار فنا ہونے کے لئے، میں فنا ہوتی رہی، تم وجود بخشتے رہے۔ میں مرتی رہی، تم زندہ کرتے رہے، یہ سلسلہ چلتا رہا پھر ایک دن تم نے مجھے چاک سے اٹھا دیا، میری لطافت بھی ناقابل برداشت ہو گئی۔ تم نے ایک پل کے لئے بھی نہیں سوچا کہ تم سے ملنے کے لئے کتنے جوکھم اٹھانے پڑتے ہیں، کتنے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، ہر ایک کی نظروں سے بچنے کے لئے کتنے جتن کرنے پڑتے ہیں۔ تم نے ہی کہا تھا کہ جب ہم لمحوں میں جینے لگتے ہیں تو زندگی مختصر ہو جاتی ہے۔ مجھے مختصر کر دیا گیا ہے، لمحوں میں جی رہی ہوں۔۔۔ ادھار مستعار لمحے۔۔۔ اب گھر سے باہر قدم رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ میں موت سے خائف نہیں ہوں لیکن شادی سے گریزاں ضرور ہوں کہ ایسی صورت میں ہم دونوں کو مار دیں گے، ایک نہ ایک دن انہیں پتہ چل جائےگا، تمہارا بیٹا یتیم ہو جائےگا، تمہاری بے قصوربیوی بیوہ ہو جائےگی، اس لئے جب تک یہ کھیل چل رہا ہے، چلنے دو، مجھے کوئی شکایت نہیں، کوئی بھی عمر مرنے کے لئے اچھی عمر نہیں، لیکن تم مرنے پر بضد تھے، تمہارا خیال تھا کہ تمہارے مرنے سے تمہارا خدا نہیں مر جاتا، تم ٹھیک کہتے تھے لیکن اس خدا کو کچھ نظر کیوں نہیں آ رہا ہے، یہ ہمیں گناہ کرتا ہوا کیوں دیکھتا ہے، یہ ان لوگوں کے دلوں کو بدلتا کیوں نہیں جو ہمارے اس مقدس گناہ کا سبب ہیں۔ تم ٹھیک کہتے ہو کہ میں کم ظرف ہوں، میں کم ظرف ہوں کہ تم مجھے نہیں ملے، تمہارے علاوہ ہر چیز ظرف سے سوا ملی۔۔۔ ترکہ، تحفظ، میراث اور محرومی۔۔۔ اس دن سے جب تم بڑے بھائی کے ساتھ گھر تشریف لائے تھے دل و دماغ کے تار جھنجھنا رہے ہیں۔ رات کے کسی پہر گھنگھرؤں کی چھن چھن تیز ہو جاتی ہے۔ یہ تار خاموش ہونے کے لئے تمہاری انگلیوں کے محتاج ہیں۔ گھنگھرو کبھی بھی اتارے جا سکتے ہیں، شادی کی تاریخ متعین ہو گئی ہے، ہم سب آبائی گاؤں جا رہے ہیں، پرکھوں کو خراج پیش کرنے۔ وہاں بھی کئی گلیاں ہیں جو روک روک کر تمہارا پتہ پوچھیں گی۔ موت میرے قریب کھڑی ہے اور اس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہیں کہ موت کسی ایک شکل میں نہیں باپ، بھائی، بہن اور شوہرہر روپ میں نظر آ رہی ہے۔ مجھے معلوم ہے میں کیسے ماری جاؤں گی۔ کاش’’گناہوں کا پسینہ‘‘ پوچھنے کا موقع ملتا۔ جو بھی ہو جام فنا او بے خودی۔۔۔

    شام ہوتے ہوتے مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا تھا۔ ڈائری کی ورق گردانی بھی جاری تھی۔۔۔ مسافت کی گرد نے تھکن سے نڈھال کردیا تھا لیکن دھول تھی کہ توانائی بن کرپیروں میں دوڑنے لگی۔۔۔ یادوں کی، محبت کی، وصیت اور حرماں نصیبی کی دھول۔۔۔ گورکن کے ہاتھ گرم کئے، بے نشاں ہموار قبروں سے بچتا بچاتا، پتلی کیاریوں سے گذارتا ہوا وہ مجھے ایک قبر کے پاس لے گیا۔ قبر زمین کے برابر موزون ہو گئی تھی، آس پاس خودرو گھاس اگی ہوئی تھی، سانپ اور بچھو کا خوف بدن میں سرایت کرنے لگا، میں نے دہشت کی اسی پراسرار فضا میں سلام کیا جو سلام کم خوف کی لرزشوں کا اظہار زیادہ تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ جیسے کوئی مجھ سے ہم کلام ہے ،’’بشیر! تم کیوں نہیں آئے؟‘‘

    پھول چڑھانے اوردعائیں مانگنے کے بعد وہاں سے بسرعت واپس آنا چاہتا تھا لیکن کوئی ایک نامعلوم طاقت مجھے روک رہی تھی اور میں رک گیا۔ کوئی آواز میرا تعاقب کر رہی تھی۔۔۔ ایسے مت جاؤ، آئے ہو تو کچھ بتاکر جاؤ، وہ دنیا کیسی ہے جو مجھ سے چھین لی گئی، کچھ بدلا یا نہیں، کیا اب بھی بےوفائی، بدچلنی، غیرت اور زمین جائداد کے نام پر بیٹیاں قتل کی جاتی ہیں؟ تم مت کرنا، اس بچی کے بارے میں سوچنا جس کا باپ اس کی قبر کھود رہا تھا اور وہ باپ کے کپڑے پر سے مٹی صاف کر رہی تھی، پسینہ پوچھ رہی تھی، تم ضرور سوچنا کہ عورت کا دل ویجائنا میں نہیں ہوتا اور نہ ہی مرد کی مردانگی اس کے عضو مخصوص میں ہوتی ہے۔۔۔

    دل چاہتا تھا کہ کچھ دیر اور رکوں لیکن شام کے مہیب سائے اور سناٹوں کا لرزہ خیز شوردرون ذات مجھے توڑ پھوڑ رہے تھے۔ میں رنجور، محزون اور فسردہ دل، بے جان قدموں کے ساتھ واپس آ گیاکہ کل علیٰ الصبح دوبارہ حاضری دوں گا۔ ایک آواز مسلسل تعاقب کرتی رہی۔۔۔ بشیر تم کیوں نہیں آئے؟ کیا اب بھی، کیا اب بھی؟؟؟

    آج درودیوار گریہ کناں ہوں گے، ہر چیز کچھ بولنا چاہتی ہوگی، ہر ایک کے پاس کہانیاں ہوں گی، دیواروں کے پاس حسرت و لمس کی، الماری کے پاس ڈائری کی، باتھ روم کے پاس سگریٹ کی، باقیات میں روشنائی کی ایک شیشی پڑی ہوئی ہے، این لکھا ہوا ہے۔ امی کے پاس بھی کچھ کہانیاں ہوں گی، میرے پاس بھی ہیں۔ مجھے یاد ہے ڈیڈہم لوگوں میں جیتے تھے، ہنستے تھے، بہت بھرپور اور پھر خاموش ہو جاتے تھے۔ بہت خاموش جسے ہم لوگ بھانپ نہیں پاتے تھے، وہ ہمارے درمیان ہوتے ہوئے بھی نہیں ہوتے تھے۔ ہمیں لگتا تھا کہ وہ کوئی کام ادھورا چھوڑ کر آئے ہیں اس لئے ذہن اس طرف چلا گیا ہے۔ میں ان کا بڑا بیٹا ہوں، انہیں باپ ہونے کا احساس مجھ سے ملا تھا۔ میں نے ان کی جوانی کے دن دیکھے تھے، وہ سال بھر پہلے بھی جوان تھے اور سو سال بعد بھی جوان ہی ہوتے۔۔۔ زندگی سے بھرپور لیکن اندر سے کہیں دیمک زدہ جس کا احساس اب مجھے ہو رہا ہے۔۔۔ مجھے یاد ہے ایک دن وہ ہم بھائی بہن کو گارڈن میں لے کر گئے، ہم لوگ کھیلنے لگے اور وہ گارڈن میں ایک کنارے بنچ پر بیٹھ گئے، کوئی کتاب ان کے ہاتھ میں تھی، کچھ دیر بعد ہم نے دیکھا کہ وہ سر جھکائے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھے کسی خیال میں مستغرق ہیں۔ ہمیں لگا کہ وہ کچھ سوچ رہے ہیں۔۔۔ گھر میں کئی دنوں سے بجلی نہیں ہے، امی کی طبیعت خراب ہے، ہمیں کھانے کی کوئی چیز نہیں دلائی ہے۔۔۔ لیکن جب پاس پہنچے تو دیکھا کہ وہ زاروقطار رو رہے تھے، انہوں نے ہم دونوں کو بھینچ لیا اور دیر تک اسی عالم میں بیٹھے رہے، آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ہم کچھ پوچھ نہیں سکے۔۔۔ برا ہو اس عورت کا جو کل آفس آئی اور مجھ سے ملے بغیر ایک مہر بند لفافہ چھوڑکر چلی گئی، لفافے میں ایک ڈائری تھی، کچھ تصویریں، کچھ خطوط اور ایک نو ٹ۔ ایک تصویر جانی پہچانی سی تھی، ڈیڈ کئی بار مجھے ان سے ملوا چکے تھے، مجھے یاد ہے وہ میرے گال پکڑتے ہوئے ڈیڈ سے مخاطب ہوتیں ’’بشیر یہ بالکل تم پر گیا ہے کتنا کیوٹ ہے‘‘ کاش۔۔۔‘‘ اور پھر ڈیڈ خاموش ہو جاتے تھے۔ تصویر کو پلٹ کر دیکھتا ہوں شاید وہاں کوئی نام لکھا ہو، لیکن وہاں جو کچھ لکھا تھا وہ میرے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھا۔۔۔ ناہید! جسے میری وجہ سے دس سال قبل بدچلن ہونے کے نام پر زندہ درگور کر دیا گیا۔۔۔ باپ نے بیٹوں کی مخالفت کے باوجود زمین کا ایک بڑا ٹکڑا اس کے نام کر دیا تھا۔ ان کے مرتے ہی اسے اذیت دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا، اس نے مجھ سے عہد کیا تھا کہ وہ ہر حال میں زندہ رہےگی اس لئے اس نے خودکشی نہیں کی، بدچلن، بےغیرت اور بےوفا ہونے کا الزام برداشت کرتی رہی تاں آنکہ اسے مارنے کی کوشش کی گئی، اس نے مزاحمت کی اور پھر جاں بحق ہو گئی، وہ جانے سے قبل مجھ سے ملنا چاہتی تھی، لیکن آخری دنوں میں مزاجاً بہت متشدد ہو گئی تھی اس لئے میں نے نظرانداز کر دیا کہ شادی کے بعد شاید ٹھیک ہو جائے، مجھے یقین تھا کہ ہم واپس ضرور ملیں گے، جلد ملیں گے لیکن پھر وہ وقت نہیں آیا۔ مجھے اتنی جلدی نہیں مرنا تھا لیکن مرنا پڑا، میں نے جینے کی بہت کوشش کی ہے لیکن آگہی کا عذاب قطرہ قطرہ خاک کرتا گیا اور پھر وہ دن آ گیا۔۔۔ زندگی رائگاں تھی رائگاں ہی گئی۔۔۔ مجھے نہیں یاد میں کس دن مرا ہوں لیکن فلاں تاریخ کو اس کی برسی ہے، ہر سال بلاناغہ میں اس کی قبر پرحاضری دیتا آیا ہوں اس بار تم چلے جانا۔۔۔ کہہ دینا کہ مجھے معاف کردے، شاید وہ تمہاری بات سن لے۔۔۔

    ’’ڈیئر آنٹی، السلام علیکم‘‘

    ’’بشیر! تم کیوں نہیں آئے؟‘‘

    ڈیئر آنٹی! آج ڈیڈ کی پہلی برسی ہے، انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY