کروڑوں ویوز!
کالُو حکیم محلے میں امیر ترین تھا۔ تنگ و تاریک، گندگی سے بھری گلیوں میں واحد پکا گھر اسی کا تھا جو ”پینڈو پروڈکشن“ کی اپنی مثال آپ تھا۔گھر کے فرنٹ پر باتھ روم ٹائلز اس بات کا ثبوت تھے۔ تین سو گز پر مشتمل تین منزلہ یہ گھر قریب چالیس برس پرانا تھا۔ یہاں کالُو اپنی بیوی، دو بیٹوں، دونوں کی بیویوں، اور ڈھیر سارے پوتے، پوتیوں کے ہمراہ رہتا۔
اس قسم کے گھروں میں لوگ نچلے حصے میں دکانیں بناتے اور انہیں کرائے پر اٹھا دیتے۔ اوپر کے حصوں میں رہائش ہوتی۔ کالُو نچلے حصے میں اپنا مطب چلاتا جس سے اچھی آمدن ہو جاتی۔ اس کی وجہ شہرت قوت باہ بڑھانے والے کشتے تھے۔ مطب میں صبح شام مریضوں کا تانتا بندھا رہتا۔ دور دور سے لوگ اس کی شہرت سن کر آتے۔ بعض امید لے کر اور بعض شرمندگی چھپا کر۔
گھر والے اس کاروبار سے اچھی طرح واقف تھے، مگر کوئی بھی کھل کر بات نہ کرتا۔ بیٹے باپ کا ہاتھ بٹاتے اور بہوویں گھریلو کاموں میں مصروف رہتیں۔
کالُو کے اصلی نام سے شاید ہی کوئی واقف تھا۔ اس کا رنگ توے کی طرح کالا تھا، اسی لیے سب اسے ”کالُو“ ہی کہتے جو اسے شدید ناپسند تھا، مگر بےبس تھا۔ کس کس کی زبان کو لگام دیتا!
کالُو کی عمر قریب ستر برس تھی۔ قد درمیانہ اور جسامت نہ بھاری نہ ہلکی۔ گنجا، دانت پیلے زرد، لمبی سفید پونچے نما داڑھی اور قدرے لمبے کان۔ گردن پر میل کی تہیں، کان میں تیز خوشبو والے عطر کا پھایا۔ سفید کرتے اور پاجامے میں ملبوس، پاؤں میں زری والا کھسہ پہنے وہ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگتا۔
کالُو عورتوں کا معائنہ بہت تفصیل سے کرتا۔ ان سے چکنی چپڑی باتیں کرتا۔ اسی لیے وہ ”حکیم ٹھرکی“ کے نام سے بھی جانا جاتا۔ عورتیں اس کے مطب میں اکیلے جانے سے کتراتیں۔ اس کے اپنے گھر کی عورتیں اس سے دور رہتیں۔ بہوویں بھی اس سے پردہ کرتیں کیونکہ یہ انہیں عجیب نظروں سے گھورتا۔ اگر کوئی بہو صحن میں جھاڑو لگا رہی ہوتی تو اس کی نظریں اس کے گریبان کا تعاقب کرتیں۔ جب بہو کو احساس ہوتا یہ فوراً تسبیح گھمانے لگتا۔ نیک صفت بیوی برسوں اسے سمجھاتی رہی مگر کب تک؟ آخر کار خاموش ہو گئی اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ البتہ بہووں کو اس نے اس کے حوالے سے خبردار کر دیا تھا۔ کالُو کے کمرے سے کھانسی کی آواز آتی تو وہ بےاختیار اپنے دوپٹے درست کر لیتیں۔
اس کے مطب کی دیوار پر بڑے بڑے حروف میں قرآنی آیات لکھی ہوئی تھیں مثلاً شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ خدمت خلق عین عبادت ہے۔ مگر یہ پیسے پیشگی لیتا۔ اس معاملے میں یہ ”چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے۔“ والے محاورے پر عمل کرتا۔ ایک دفعہ ایک بوڑھا مزدور اس کے پاس علاج کی غرض سے آیا۔ اس کی جیب میں پورا بل چکانے کے پیسے نہ تھے۔ محض پچاس روپے کم تھے۔ کالُو نے یہ رقم اس کی دوائی میں کمی کر کے پوری کی۔ اسی اثناء میں ایک زمیندار اس کے مطب میں آیا تو یہ کہتے اس کے آگے پیچھے ہو گیا، ”ارے چوہدری صاحب آپ نے خود کیوں زحمت کی۔ مجھے بلا لیا ہوتا۔ میں سر کے بل چل کر آ جاتا۔“
کالُو کو سوشل میڈیا کا چسکہ تھا۔ جب کسی کم عقل انفلوئینسر کی وڈیو پر ایک لاکھ ویوز دیکھتا تو جل بھن جاتا۔ کسی ناچنے والی لڑکی کے دس لاکھ فالورز دیکھتا تو اس کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا۔ اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے قدرت نے اس کے ساتھ بے حد ناانصافی کی۔ ایک رات اس نے ایک لڑکی کی وڈیو دیکھی۔ وہ آم کا اچار بنا رہی تھی۔ اس وڈیو پر بیس لاکھ ویوز تھے۔ یہ سوچنے لگا میں چالیس برس سے کشتے بنا رہا ہے اور لڑکی صرف اچار بنا کر مجھ سے زیادہ مشہور ہے۔ اس رات اسے نیند نہ آئی۔ کبھی وہ کسی لڑکی کو لپ سنگنگ کرتے دیکھتا۔ کبھی کسی نوجوان کو موٹر سائیکل پر کرتب دکھاتے۔ لاکھوں ویوز اور ہزاروں تبصروں کو دیکھ کر اس کے سینے میں آگ بھڑک اٹھتی۔ اسے لگتا دنیا نے اصل ہنرمندوں کو چھوڑ کر مسخروں کو سر پر بٹھا لیا ہے۔ دل میں شدید خواہش تھی کہ وہ بھی ایک مشہور سوشل میڈیا سٹار بن جائے۔
اس کے ایک مریض کا جوان بیٹا سوشل میڈیا کمپنی چلاتا تھا جس کا نام دانی تھی۔ ایک دن کالُو اس کے دفتر پہنچ گیا۔
”جی فرمائیے۔ لڑکے نے سرد مہری سے کہا۔ کالُو نے اس سے ہاتھ ملانے کے لیے جب اپنا ہاتھ بڑھایا تو لڑکے نے مصافحہ نہ کیا۔ الٹا اس کی طبیعت صاف کر دی۔
”آپ کیسے حکیم ہیں؟ آپ کو معلوم ہے کرونا وائرس پھیلا ہوا ہے۔ جسمانی رابطے سے گریز کے بجائے آپ ہاتھ ملا رہے ہیں!“ لڑکے نے رعونت سے کہا۔ اسے کالُو کی شکل سے ہی نفرت تھی۔ وہ اس کی نفسیات اور کرتوتوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ اسے معلوم تھا یہ ”مفتے“ کے چکر میں ہے۔
کالُو کو غصہ تو بہت آیا مگر پی گیا۔
”بیٹا کیسے ہو۔ ماشااللہ بہت اچھا سیٹ اپ ہے تمہارا۔۔۔“
”حکیم صاحب خوشامد چھوڑیں، کام کی بات کریں!“ دانی نے ناگواری سے کہا۔ کالُو کے گھٹیا عطر کی بو اس کے دماغ کو چڑھ رہی تھی۔
کالُو کو مزید طیش آیا جسے اس نے اپنی منافقت اور ریاکاری کی بدولت فوراً قابو کر لیا۔
”بیٹا دراصل میں بھی دوسروں کی طرح مشہور ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا ہیرو بننا چاہتا ہوں!“
”اچھا! یہ بالکل بھی مشکل نہیں اگر آپ میرے مشورے پر آنکھیں بند کر کے عمل کریں!“
”حکم کرو بیٹا!“
”سب سے پہلے ریسیپشن پر بیس ہزار مشورہ فیس جمع کرا دیجئے۔“
”مگر مشورے کی فیس کون لیتا ہے؟ اور میں تو تمہارے والد کا دوست ہوں!“
”آپ نے تو کبھی والد صاحب کو مفت میں نہیں دیکھا۔ کیسے دوست ہیں آپ؟ آپ تو اپنے مطب میں مریضوں سے بنچ پر بیٹھنے کی بھی فیس لیتے ہیں۔ ہم تو پھر بھی مشورہ دیتے ہیں۔ ہمارا کام آپ کے کام سے بہت مشکل ہے۔ ہمارے پیشے میں سب ہی مشورے کی فیس پہلے وصول کرتے ہیں۔ اور ہم اپنے کام کی سو فیصد گارنٹی دیتے ہیں۔“
کالُو اب کھسیانا ہو گیا۔ دانی اس کے چکر میں نہیں آ رہا تھا۔ اسے علم تھا کہ بڑے بڑے ٹک ٹاکر دانی کے کلائنٹ تھے۔ مرتا کیا نہ کرتا بیس ہزار دے کر دانی کے پاس واپس آیا۔
”اب میری بات غور سے سنیں۔ کسی جوان لڑکی سے شادی کریں جو عمر میں آپ سے کم از کم چالیس برس چھوٹی ہو۔ اس کے چونچلے، ناز نخرے اٹھائیں۔ ہم ان اداؤں پر رِیلز بنائیں گے اور آپکے فیس بک، انسٹا گرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب چینل پر ڈالیں گے۔۔۔“
”مگر میرا تو ایسا کوئی اکاونٹ سرے سے ہے ہی نہیں!“
”کالُو کتنا چوتیا ہے۔ بجائے یہ سوچے کہ جوان بیوی کہاں سے آئے گی، یہ اکاونٹ کے بارے میں فکر مند ہو رہا ہے!“ دانی نے دل میں سوچا۔
”اس بات کی فکر آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ ہماری کمپنی آپ کے تمام اکاونٹس بنا دے گی۔“
”لیکن بیٹا وڈیوز کون بنائے گا؟“
”آپ کی پریشانیاں بھی نرالی ہیں۔ اس پراجیکٹ میں سب سے مشکل کام ایک ایسی جوان لڑکی کی تلاش ہے جو آپ کی بیوی بننے پر راضی ہو۔ مگر آپ بےکار چیزوں میں الجھے ہوئے ہیں۔“ اس بار دانی بول ہی پڑا۔
”ہم کریں گے سب کچھ۔ آپ نے اور آپ کی بیوی نے صرف اداکاری کرنی ہے۔۔ہماری ہدایات کے عین مطابق۔“
”لیکن بیٹا مجھے تو اداکاری نہیں آتی۔ کیا خبر میری ہونے والی بیوی کو آتی ہو؟“
”اس کی فکر بھی ہم پر چھوڑ دیں۔ ہم ہر وڈیو کا سکرپٹ آپ کو اور آپ کی بیگم کو رٹوا دیں گے۔“ دانی نے کہا اور دل میں بڈھے کو گالی دے کر زیر لب بڑبڑایا، ”حرامی ایک نمبر کی نوٹنکی اپنے مطب میں کرتا ہے۔ لوگوں کی جیب کھڑے کھڑے خالی کروا دیتا ہے۔ عورتوں کی چھاتیاں دبا دبا کر چیک کرتا ہے اور یہاں کیسا بھولا بھالا بن رہا ہے!“
”اچھا! بیٹا خرچہ کتنا ہو گا؟“
دانی کرسی کے پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ”اگر آپ واقعی سوشل میڈیا ہیرو بننا چاہتے ہیں تو پچاس لاکھ کہیں نہیں گئے!“
”پچاس لاکھ!“ کالُو اچھل پڑا۔ ”اتنے میں تو آدمی دوسری شادی کر سکتا ہے!“
دانی نے بمشکل ہنسی روکی۔
”حکیم صاحب پچاس لاکھ میں انسان دوسری شادی تو کر سکتا ہے مگر کسی جوان لڑکی سے نہیں۔ پچاس لاکھ میں تو آجکل پچاس گز کا رہائشی پلاٹ بھی نہیں ملتا اور آپ خواب دیکھتے ہیں انفلوئینسر بننے کی! یہ پچاس لاکھ تو ہماری فیس ہو گی۔“
کالُو گہری سوچ میں تھا۔ دانی اس کی دکھتی رگ پکڑ چکا تھا۔
”حکیم صاحب آپ کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں۔ آپ کے ارد گرد بہت سے لوگ ایسے ہیں جو امیر کبیر نہیں مگر مشہور بہت ہیں۔ اتنی دولت کیا قبر میں لے کر جائیں گے؟ یہاں شہرت برائے فروخت ہے اور اتنی مہنگی بھی نہیں۔ قیمت تو چکانا پڑےگے۔ سوشل میڈیا سے آپ اصل رقم سے بھی زیادہ کما لیں گے۔“
دانی کی بات نے کالُو کے دل میں برسوں سے پلتے احساسِ کمتری کو مزید ہوا دے دی۔
”مجھے منظور ہے دانی بیٹا مگر کون جوان لڑکی مجھ سے شادی کرے گی؟“
دانی مسکرایا اور کہا، ”اب آئے آپ اصلی مسئلے پر۔ پیسے میں بہت کشش ہوتی ہے۔ لیکن ایک بات کا دھیان رکھیے گا۔ لڑکی جتنی زیادہ حسین ہو گی اتنے ہی زیادہ فالورز آئیں گے۔ آپ شادی نہیں کر رہے بلکہ ایک برانڈ لانچ کر رہے ہیں۔ برانڈ کی پیکیجنگ خوبصورت ہونی چاہیے۔“
”اور اگر تصور سے کہیں زیادہ حسین ہوئی تو؟“ کالُو نے خوابناک لہجے میں کہا۔
”تو پھر آپ کے دشمن فالورز سے بھی زیادہ ہو جائیں گے!“
”کیا تم میری مدد کر سکتے ہو؟“
”کس سلسلے میں؟“
”لڑکی ڈھونڈنے میں!“
” آپ نے مجھے کیا بھڑوا سمجھ رکھا ہے؟“
”بیٹا کسی کی شادی کرانا تو نیکی کا کام ہے۔ نکاح سنت رسول ہے!“ کالُو نے ایسی معصومیت سے کہا جیسے وہ کوئی مذہبی فریضہ انجام دینے جا رہا ہو۔
”کچھ تو شرم کیجئے۔ عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ حدیث کا سہارا مت لیں۔ آپ نکاح کی آڑ میں فالورز خریدنے آئے ہیں!“
کالُو پھر کھسیانا ہو گیا اور بولا، ”بیٹا ناراض کیوں ہوتے ہو۔ میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا۔ میرے ذہن میں ایک اور آئیڈیا ہے۔ اگر میں کسی خوبصورت ماڈل کی خدمات حاصل کر لوں تو؟ لمبے چوڑے خرچے سے بچ جاؤں گا!“
”ماڈل دس اور جگہ ماڈلنگ کرے گی اور آپ کا بھانڈہ پھوٹ جائے گا۔ لوگ آپ کو ' فراڈیا بڈھا' کہیں گے۔ اور وہ ہر وڈیو کے ٹھیک ٹھاک پیسے وصول کرے گی۔ شادی پھر بھی سستی پڑے گی۔ کم از کم لوگوں کو آپکی کہانیاں سچی تو لگیں گی۔ اور پھر آپ کو ایک حسین، جوان جیون ساتھی بھی مل جائے گا۔“
دانی کی دلیل وزنی تھی۔ کالُو جانتا تھا کہ پیسہ جوان بیوی خرید سکتا ہے۔ صرف ایک رکاوٹ تھی۔۔ گھر والے۔ مگر اسے یقین تھا کہ چند روز کے ہنگامے کے بعد سب نارمل ہو جائے گا۔ جس دستر خوان سے سب کی روٹی بندھی ہو، وہاں اصول زیادہ دیر نہیں ٹکتے۔ اس نے اپنی مکاری سے سب کو رام کر لیا۔ گھر والوں کی بس ایک شرط تھی۔۔دوسری بیوی کو وہ علیحدہ گھر میں رکھے گا۔
ایک غریب گھر کی حسین لڑکی سے اس کا نکاح طے پا گیا۔ لڑکی والوں کی شرائط دو ٹوک تھیں: کالُو تین کروڑ روپے حق مہر نقد ادا کرے گا، اور نکاح کے فوراً بعد لڑکی کے نام ایک اچھا سا گھر بھی لکھے گا۔
رسمِ نکاح کو دانی نے اس مہارت سے ڈائریکٹ کیا کہ ہر منظر کسی کامیڈی فلم کے یادگار شاٹ کی طرح دکھائی دے۔ اس نے کالُو کو روایتی دلہا بنا کر گھوڑے پر بٹھا دیا۔ گھوڑا یکایک بدک اٹھا اور کالُو دھڑام سے زمین پر آ گرا۔ اس کی شیروانی مٹی میں لت پت ہو گئی۔ باراتیوں کا قہقہوں سے برا حال ہو گیا۔ کالُو کو اپنی پرانی شیروانی پہننا پڑی۔
دانی نے کالُو کے سر پر سہرا بندھوایا۔ سہرے سے زیادہ لمبی اس کی پونچا نما گھنی سفید داڑھی تھی جو سہرے کے جھالروں سے کوئی ایک فٹ باہر نکلی ہوئی تھی۔ نکاح کے بعد جب کالُو نے فاتحانہ انداز میں سہرا الٹا تو داڑھی الٹ کر اس کے گنجے سر پر جا ٹکی۔ ایسا لگا اس نے سفید وگ پہن لی ہو۔ اس نئے گیٹ اپ میں وہ سفید بالوں والا بندر نظر آ رہا تھا۔ منظر اتنا اچانک اور مضحکہ خیز تھا کہ ہال میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ دانی نے کیمرہ سنبھالتے بمشکل ہنسی روکی، جبکہ کالُو اس غلط فہمی میں مسکراتا رہا کہ لوگ اس کی خوشی میں ہنس رہے ہیں۔ مجمعے کی دلچسپی اس کی دلہن سے زیادہ اس کی داڑھی میں تھی۔
دودھ پلائی کی رسم میں دلہن کی سہلیوں نے دودھ میں مکھی ڈالدی۔ کالُو نے دودھ کا گلاس ایک ہی سانس میں ختم کر دیا۔ کالی مکھی اس کی سفید داڑھی میں پھنس گئی اور قہقہوں کا ایک نیا سیلاب امڈ آیا۔
جوتا چھپائی کی رسم میں کالُو بارگینگ پر اتر آیا۔ لڑکیوں کی ڈیمانڈ ایک لاکھ روپے تھی۔ اسے تو وہیں غش پڑ گئے۔ اس کی آفر پانچ ہزار تھی۔ لڑکیوں نے اسے بےعزت کرنا شروع کر دیا۔ ”کنجوس بڈھا کنجوس بڈھا“ ایک کورس کی شکل میں گانا شروع کر دیا۔ دانی کے اشارے پر اسے لاکھ روپے دینے ہی پڑے۔ لڑکیوں نے جوتے میں ایک مینڈک ڈال رکھا تھا۔ کالُو کے جوتے میں پیر ڈالتے ہی مینڈک اچھل کر اس کی داڑھی پر چڑھ گیا۔ یہ داڑھی جھاڑنے ہی لگا تھا کہ مینڈک اچھل کر اس کے گنجے سر پر چڑھ گیا۔ لوگ ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہو گئے۔
کالُو کی بیوی کا نام حور تھا۔ دانی ایک رِیل ایسی بنانا چاہتا تھا جس میں کالُو بیوی کا گھونگھٹ اٹھائے اور موقعے کی مناسبت سے کوئی عشقیہ دو گانہ ہو۔ جونہی کالُو نے گھونگھٹ اٹھایا، دانی چند لمحوں کے لیے ساکت رہ گیا۔ اسے محسوس ہوا لڑکی محض نام کی حور نہ تھی۔ قدرت نے اسے شکل و صورت بھی اسی نام کے مطابق عطا کی تھی۔ دانی خود پچیس برس کا وجیہہ نوجوان تھا جبکہ حور اس سے محض پانچ برس بڑی تھی۔ ایک لمحے کے لیے اس کا ذہن کیمرے، لائٹس اور سکرپٹ سے ہٹ گیا۔
کالُو نے اپنی مینڈک جیسی ٹرٹراتی آواز میں مشہور گانا، ”یہ جو چلمن ہے دشمن ہے ہماری“ گانا شروع کیا تو حور نے جھٹ سے کہا، ”چپ ہو جا بڈھے!“ کالُو اس بدتمیزی کو سکرپٹ کاحصہ سمجھا اور اپنی بدشکل بتیسی نکال کر ہنسنے لگ گیا۔
دانی نے حور کو کچھ گانے کو کہا تو اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے آر ڈی برمن کا یہ گیت، ”تیرے لئے پلکوں کی جھالر بنوں!“ بھاو کے ساتھ گانا شروع کیا۔ کالُو سمجھا حور اس کے لئے گا رہی ہے مگر اس کی دلکش اداؤں کا رخ دانی کی جانب تھا۔ دانی اسکی رس بھری آواز میں کہیں کھو سا گیا تھا۔
اس دن بننے والی رِیلز غیرمعمولی طور پر کامیاب رہیں، مگر دانی کے ذہن میں ویوز یا لائکس نہیں، بلکہ حور تھی۔
دانی نے ولیمے, مکلاوے اور ہنی مون پر سینکڑوں رِیلز بنائیں۔ ہر رِیل کو اس مہارت سے ڈائریکٹ کیا کہ حور ایک سنجیدہ، باوقار اور سمجھ دار لڑکی دکھائی دے، جبکہ کالُو غیر ارادی طور پر کسی مسخرے، احمق یا سرکس کے جوکر کا تاثر دے۔کبھی وہ اس سے عشق میں مبتلا نوجوانوں جیسی حرکتیں کرواتا، کبھی اوٹ پٹانگ شاعری پڑھواتا، اور کبھی ایسے رومانوی مکالمے بلواتا جو اس کی عمر، شکل و صورت اور شخصیت پر بالکل نہ جچتے۔
ایک رِیل میں وہ حور کی چپل پالش کر رہا تھا۔ دوسری میں اس کے حکم پر مرغا بن کر بانگ دے رہا تھا۔ تیسری میں حور کے پاؤں دھوتا نظر آیا اور پھر اس کے اصرار پر وہی پانی اس عقیدت سے پی گیا جیسے آبِ زم زم نوش کر رہا ہو۔ چوتھی میں وہ اس کے شاپنگ بیگز اٹھائے اس کے پیچھے پیچھے ایسے چل رہا تھا جیسے نوکر اپنے مالک کے پیچھے چلتا ہے۔ کبھی وہ کتے کا پِلا بن کر حور کے قدموں میں لوٹنیا لگاتا۔ کبھی گھوڑا بن جاتا اور حور کو اپنی پیٹھ پر سواری کراتا۔ کہیں بےڈھنگے انداز میں تھرک تھرک کر ڈسکو ڈانس کرتا۔ ایک ریل میں اس نے چولی اور لہنگا پہن کر ناگن ڈانس بھی کیا۔ حور کی خاطر یہ ہیجڑا بھی بنا۔ اس نے کھسروں کے مخصوص انداز میں تالیاں بجائیں تو فالورز نے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔
سوشل میڈیا پر کالُو کی پہچان ”جورو کے غلام“ کے طور پر پکی ہو چکی تھی۔ مگر اس کی نظر صرف ویوز، فالورز اور لائیکس پر رہتی۔ یہ جہاں بھی جاتا لوگ اس پر ہنستے اور یہ سمجھتا لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ لوگ حور کی خوبصورتی سے کم اور کالُو کی مضحکہ خیز حرکات سے زیادہ محظوظ ہوتے۔ سوشل میڈیا پر اس کے میمز بننے لگے، مگر کالُو ہر طنز کو تعریف اور ہر مذاق کو شہرت سمجھتا۔ چند ہی ہفتوں میں اس کے فالورز لاکھوں تک جا پہنچے اور اسے وہ منزل مل گئی جس کا خواب یہ برسوں سے دیکھ رہا تھا۔
کالُو کا گھر اب دانی کا مستقل اڈہ بن چکا تھا۔ نئی رِیلز کے لیے اسے صبح، دوپہر اور شام ہر وقت وہیں رہنا پڑتا۔ شوٹنگ کے وقفوں میں اس کی گفتگو حور سے زیادہ ہونے لگی۔ کئی بار ایسا ہوتا کالُو کسی نئے سکرپٹ، کپڑوں کے انتخاب یا موبائل پر آنے والے تبصروں میں الجھا رہتا اور دانی اور حور کسی اور موضوع پر بات کر رہے ہوتے۔ کبھی کالُو نہانے چلا جاتا، کبھی کپڑے بدلنے لگتا اور کبھی بازار سے سودا سلف لینے نکل جاتا۔
باتوں باتوں میں حور نے دانی کو اپنی ازدواجی زندگی کے وہ پہلو بھی بتا دیے جو عام طور پر بند کمروں سے باہر نہیں آتے۔ حور ایک ایسی تشنگی کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی جسے سیراب کرنا کالُو کے بس میں نہ تھا۔ یہ پیاس دانی کی قربت میں بجھتی۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتے تھے۔ ان کی خواہش تھی کالُو مر جائے یا لمبے عرصے کے لیے کہیں دفعان ہو جائے۔ لیکن وہ تو مطب تک نہ جاتا۔ حکمت اس کے بیٹوں نے سنبھال لی اور یہ ہروقت گھر میں بیوی کے ازاربند سے بندھا رِیلز بنواتا رہتا۔
ان حالات میں حور کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ اس نے دانی سے کہا کہ کالُو کے مطب سے گہری نیند کی ایسی گولیاں لے آئے جو دودھ یا لسی میں ملائی جا سکیں مگر ان کا اپنا کوئی ذائقہ نہ ہو۔ وہ یہ خواب آور گولیاں کالُو کو کھلا دے گی۔ بڈھا گھنٹوں سوتا رہے گا اور اس دوران دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ”سہاگ راتیں“ مناتے رہیں گے۔
دانی نے اس ترکیب پر فوراً عمل کیا۔ پہلی ہی خوراک میں کالُو چھ گھنٹوں کے لیے انٹا غفیل ہو گیا۔ اب یہ روز کا معمول بن گیا۔ ہر روز دانی اور حور چار پانچ گھنٹوں کے لیے میاں بیوی بن جاتے۔ کالُو کو انہوں نے شبہ تک نہ ہونے دیا۔ لیکن ایک دن یہ دونوں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔
ہوا کچھ یوں کہ کالُو کے بیٹے نے غلطی سے کم اثر والی گولیاں دے دیں جنہوں نے کالُو کو دو گھنٹے بعد ہی جگا دیا۔ جب وہ اٹھا تو اس کے کانوں سے حور اور دانی کی مدہوش آوازیں ٹکرائیں۔ وہ دونوں ساتھ والے کمرے میں قابل اعتراض حالت میں پائے گئے۔ کالُو کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ اس کا دماغ سن ہو چکا تھا۔ دوسری جانب حور الف ننگی اس کی جانب دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اسی حالت میں وہ دانی سے لپٹ گئی اور کہا، ”بدشکل بڈھے یا تو مجھے طلاق دے یا پھر یہ والی رِیل برداشت کر! یہ کروڑوں ویوز حاصل کرے گی!“
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.