کایا کلپ

شموئل احمد

کایا کلپ

شموئل احمد

MORE BYشموئل احمد

    اس کی بیوی پہلے غسل کرتی تھی۔۔۔

    اور یہ بات اسے ہمیشہ ہی عجیب لگی تھی کہ ایک عورت اس نیت سے غسل کرے۔

    بیوی کے بال لمبے تھے جو کمر تک آتے تھے۔ غسل کے بعد انہیں کھلا رکھتی۔ بستر پر آتی تو تکیے پر سر ٹکا کر زلفوں کو فرش تک لٹکا دیتی۔ پانی بوند بوند کر ٹپکتا اور فرش گیلا ہو جاتا۔ گریباں اور آستین کا حصّہ بھی پانی سے تر رہتا۔ ایک دو بار ہاتھ پیچھے لے جا کر زلفوں کو آہستہ سے جھٹکتی اور اس کی طرف دزدیدہ نگاہوں سے دیکھتی۔ اس کی آنکھوں میں آتشیں لمحوں کی تحریر وہ صاف پڑھ لیتا۔

    شروع شروع میں وہ لطف اندوز ہوتا تھا۔ بیوی جب غسل خانے کا رخ کرتی تو وہ بستر پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیتا اور پانی گرنے کی آوازیں سنتا رہتا۔ اسے سہرن سی محسوس ہوتی کہ غسل اسی کام کے لیے ہو رہا ہے۔ لیکن اب۔

    اب عمر کی دہلیز پر خزاں کا موسم آ کر ٹھیر گیا تھا اور پرندے سر نگوں تھے۔

    جنس کا تعلّق اگر رنگوں سے ہے تو کاسنی رنگ سے ہوگا۔ یہ رنگ اس کی زندگی میں کبھی گہرا نہیں تھا بلکہ پچاس کی سرحدوں سے گذرتے ہی پھیکا پڑ گیا تھا۔ اس پر ساری زندگی ایک گمنام سی قووت مسلّط رہی تھی ۔ آزادی اگر شخصیت کی معمار ہے تو وہ ساری عمر آزادی سے ہراساں رہا تھا۔ بچپن سے اپنی داخلیت کے نہاں خانے میں ایک ہی آواز سن رہا تھا۔’’ یہ مت کرو۔وہ مت کرو۔۔۔‘‘ اور جب شادی ہوئی تو یہ آواز نئے سُر میں سنائی دینے لگی تھی اور بیوی باتیں اس طرح کرتی تھی جیسے کوّے ہنکا رہی ہو۔ اس کے ہونٹ دائرہ نما تھے جو بات بات پر بیضوی ہو جاتے ۔ آنکھوں میں ہر وقت ایک حیرت سی گھلی رہتی جس کا اظہار ہونٹوں کے بدلتے خم سے ہوتا تھا ۔الفاظ کی ادائیگی میں ہونٹ پھیلتے اور سکڑتے ۔

    ’’ اچھا۔؟ ‘‘

    ’’ واقعی۔؟‘‘

    ’’ اوہ۔! ‘‘

    اس کی ہنسی بھی جداگانہ تھی۔ وہ ہو ہو کر ہنستی تھی اور منہہ پر ہاتھ رکھ لیتی۔ پہلی قربت میں چھٹک کر دور ہو گئی تھی اور اسی طرح ہنسنے لگی تھی۔ تب یہ ہنسی دلکش تھی کہ وہ شب عروسی تھی جب بجھا ہوا چاند بھی خوش نما لگتا ہے لیکن اب شادی کو تیس سال ہو گئے تھے۔ چاند کا منہہ اَب ٹیڑھا تھا اور سمندر شریانوں میں سر نہیں اٹھا تے تھے اور وہ کوفت سی محسوس کرتا تھا۔ بیوی کے پھیلتے اور سکڑتے ہونٹ۔ بیوی کی باتوں میں تصنع کی جھلک ملتی تھی لیکن اس کا غسل کرنااصلی تھا اور عمر کے اس حصّے میں زندگی اجیرن تھی۔ خصوصاً اس دن توبے حد ندامت ہوئی تھی جب ایک قریبی رشتے دار کے گھر شادی کی تقریب میں گیا تھا۔ اس دن جی میں آیا تھا چھت سے نیچے کود پڑے۔

    تقریب میں شرکت سے بیوی بہت خوش تھی۔ مدت بعد گھر سے باہر نکلنے کا موقع ملا تھا۔ ماحول میں اچانک تبدیلی ہوئی تھی۔ انہیں ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ ہوٹل کی فضا مخملی تھی۔ اعلی قسم کا گدّے دار بستر۔ ماربل کا صاف شفّاف فرش۔ دیوار پر آویزاں ٹی وی اور خو شبو سے معطّر کمرہ۔ کمرے کی پرکیف فضا میں بستر پر آتے ہی اسے نیند آنے لگی تھی لیکن بیوی کی آنکھوں میں کاسنی رنگ لہرا گیا تھا۔ اس نے غسل خانے کا رخ کیا۔ وہ غسل کر کے بستر پر آئی تھی تو حسب معمول دو تین بار اپنی زلفوں کو جھٹکا دیا تھا اور پاؤں کو اس طرح جنبش دی تھی کہ پاؤں کی انگلیاں اس کے تلوے سے مس ہو گئی تھیں لیکن وہ ایک کروٹ خاموش پڑا رہا کہ بے بال و پر تھا اور موسم گل کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

    بیوی کچھ اور آگے کی طرف کھسک آئی اور اس کی پیٹھ سے لگ گئی۔ اس کے بھیگے بدن سے آ نچ سی نکلتی محسوس ہو رہی تھی۔ بیوی نے ایک بار پھر جنبش کی اور ا س کا ہاتھ اس کے پیٹ کو چھونے لگا۔ اسے کوفت ہوئی۔ خواہ مخواہ بجھے ہوئے آتش دان میں راکھ کرید رہی ہے۔ وہ دم سادھے پڑا رہا اور بیوی بھی راکھ کریدتی رہی۔ آخر اس کی طرف مڑا۔ اس کو بازوؤں میں بھینچنے کی کوشش کی۔ ہونٹوں پر ہونٹ بھی ثبت کیے لیکن کوئی حرارت محسوس نہیں کر سکا۔ کہیں کوئی چنگاری نہیں تھی۔ کچھ دیر اس کے سلگتے جسم کو اپنی سرد بانہوں میں لیے رہا پھر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ بیوی نے اس کی طر ف دھند آمیز نگاہوں سے دیکھا۔ اس کے ہونٹ بیضوی ہو گئے۔ اس نے ندامت سی محسوس کی اور بالکنی میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ بیوی نے بھی ٹی وی آن کیا اور کوئی سیریل دیکھنے لگی۔ وہ بار بار چینل بدل رہی تھی۔ ریموٹ دباتے ہوئے ہونٹ بھینچتی اور ہاتھ کو جھٹکا دیتی۔ وہ محسوس کیے بغیر نہیں رہاکہ بیوی اس کا غصّہ ریموٹ پر اتار رہی ہے۔

    وہ دیر تک بالکنی میں کھڑا رہا۔ سامنے سڑک کی دوسری طرف ایک لنڈ منڈ پیڑ کھڑا تھا۔ اس کی نگاہیں پیڑ پر جمی تھیں۔ کچھ دیر بعد بیوی بھی بالکنی میں آکر کھڑی ہو گئی۔ اس کی نظر پیڑ پر گئی تومنھ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی۔

    ’’ ہو۔ہو۔ہو۔ ایک دم ٹھوٹھ ہو رہا ہے۔‘‘

    اس کو لگا وہ اس پر ہنس رہی ہے۔۔۔ جیسے وہ خود بھی ایک ٹھوٹھ ہے۔

    وہ ندامت سے بھرا بستر پر آ کر لیٹ گیا۔ دل میں دھواں سا اٹھ رہا تھا۔ ایک بار کنکھیوں سے بیوی کی طرف دیکھا۔ اس کے بال ابھی بھی نم تھے۔ وہ بار بار ہاتھ پیچھے لے جا کر انہیں لہرا رہی تھی۔ اس کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ عمر میں اس سے دس سال چھوٹی ہے۔

    وہ ٹی وی آن کیے بیٹھی رہی پھر اونگھتی اونگھتی کرسی پر ہی سو گئی۔ وہ بھی رات بھر مردے کی طرح ایک کروٹ پڑا رہا۔

    انسان بہت دنوں تک خالی پن کی حالت میں نہیں رہ سکتا۔

    وہ اپنے لیے کہیں راحت کا سبب ڈھونڈھ رہا تھا۔ سون پور کے میلے میں اس نے ایک چھوٹا سا پامیرین کتّا خریدا۔ اس کا نام رکھا گلفام۔ گلفام اس سے جلد ہی مانوس ہو گیا۔ اس کا زیادہ وقت گلفام کے ساتھ گزرنے لگا۔ صبح کی سیر کو نکلتا تو زنجیر ہاتھ میں ہوتی، سیٹی بجاتا تو گلفا م دوڑتا ہوا آتا اور دم ہلانے لگتا اور وہ خوش ہوتا کہ کوئی تو ہے جو اس کا تابع دار ہے۔ گلفام کے ساتھ ایک طرح کی آزادی کا احساس ہوتا تھا۔ وہ اس کا با الکل اپنا تھا۔ اس کے ساتھ من مانی کر سکتا تھا۔ کوئی جبر نہیں تھا کہ یہ مت کرو۔وہ مت کرو۔ لیکن بیوی اسے شوق فضول سمجھتی تھی۔ کتّا اس کی نظروں میں نجس تھا۔ جہاں اس کا رواں پڑ جائے وہاں فرشتے نہیں آتے۔ وہ کتّے کی زنجیر چھوتا اور بیوی کے ہونٹ بیضوی ہو جاتے۔ ناپاک ہے۔نا پاک ہے۔ ہاتھ دھویئے۔ ہاتھ دھویئے۔

    اس کو کئی بار ہاتھ دھونا پڑتا لیکن ساری کوفت اس وقت راحت میں بدل جاتی جب گلفام اس کی ٹانگوں سے لپٹتا اور اچھل اچھل کر منہہ چومنے کی کوشش کرتا۔ وہ ادھر ادھر نظریں دوڑاتا کہ کہیں بیوی تو نہیں دیکھ رہی؟ ایک بار نظر پڑ گئی۔ وہ گلفام کو گود میں لیے بیٹھا تھا اور وہ گردن اٹھا کر ان کے رخسار چوم رہا تھا۔

    ’’ یا اللہ۔ یا اللہ! ‘‘ بیوی زور سے چلّائی۔ دو ہتھّڑ کلیجے پر مارا اور بےہوش ہو گئی۔

    وہ گھبرا گیا او گلفام کو ہمیشہ کے لیے ایک دوست کے گھر چھوڑ آیا۔ پھر کبھی کوئی کتّا نہیں رکھا لیکن باغبانی شروع کی۔ گھر کے احاطے میں پھول پتّیاں لگانے لگا۔ صبح صبح اٹھ کر دیکھتا کہ کوئی کلی پھوٹی یا نہیں؟ پھول کی پتّیوں کو آہستہ سے چھوتا اور خوش ہوتا ۔بیوی نے بھی دل چسپی لی۔ اس نے بگیا میں گوبھی کے پھول اگائے۔

    آدمی اگر بڑھاپے میں مذہبی زندگی جینے کے لیے مجبور ہے تو اس نے بھی مذہب کی چادر اوڑھی اور پنچ گانہ نماز ادا کرنے لگا لیکن چادر آہستہ آہستہ کندھے سے سرکنے لگی اور نماز قضا ہونے لگی۔ پھر بھی فجر کی نماز پڑھتا اور کلام پاک کی تلاوت کرتا۔ اصل میں وہ آدمی طریقت کا تھا۔ وہ اپنے طریقے سے قرب الٰہی کا متمنی تھا۔ کوئی افتاد آ پڑتی تو سیدھا خدا سے رجوع کرتا۔ ایک ہی بیٹی تھی۔ کہیں شادی نہیں ہو رہی تھی تو گھر کا کونہ پکڑ لیا۔ یا اللہ۔تیرے حوالے کیا اور رشتہ آناًفاناً طے ہو گیا۔ بیٹی اب لاکھوں میں کھیل رہی تھی۔ ریٹائر ہونے کو آئے تو دعا مانگی۔ یا خدا! پنشن کے کاغذات مجھ سے درست ہونے کو رہے۔ ٹیبل ٹیبل کہاں تک دوڑوں؟ اور یہ معجزہ ہی تھا کہ تیس تاریخ کو ریٹائر ہوئے اور پہلی کو پنشن طے ہو گئی لیکن بیوی مزار مزار دوڑتی تھی۔ ہر جمعرات کو فا تحہ پڑھتی۔ جب بھی وہاں جاتی شلوار جمپر پہن کر جاتی۔ مجاور نے سمجھایا تھا کہ مزار پر بزرگ لیٹے رہتے ہیں۔ عورتوں کا ساری میں طواف معیوب ہے۔ پچھلی بار جمعرات کے روز ہی اس کو میکے جانا پڑ گیا تو فاتحہ کی ذمّہ داری اس کو سونپی گئی۔ وہ اس کو وداع کرنے اسٹیشن گیا تو گاڑی میں سوار ہوتے ہوتے بیوی نے تاکید کی۔

    ’’زیادہ دیر گھر سے باہر نہیں رہیےگا۔ آج سے آدھ لیٹر ہی دودھ لینا ہے اور دیکھیے! مزار پر فاتحہ پڑھنا مت بھولیےگا۔‘‘

    بیوی کچھ دنوں کے لیے میکے جاتی تو اسے لگتا کھلی فضا میں سانس لے رہا ہے لیکن چاندنی چار دنوں کی ہوتی ۔ دو تین دنوں بعد وہ پھر حصار میں ہوتا۔ پھر بھی دو دن ہی سہی وہ اپنی زندگی جی لیتا تھا۔ اس کا معمول بدل جاتا۔ صبح دیر سے اٹھتا اور اٹھتے ہی دو چار سگریٹ پھونکتا۔ شکّر والی چائے بنا کر پیتا۔ دن بھر مٹر گشتی کرتا اور کھانا کسی ریستوراں میں کھاتا۔ سگریٹ کے ٹکڑے گھر سے باہر پھینکنا نہیں بھولتا تھا۔ اس کو احساس تھا کہ بیوی نہیں ہے لیکن اس کا آسیب گھر میں موجود ہے۔ وہ جب مائکے سے آتی تو گھر کا کونہ کھدرا سونگھتی تھی۔ بیوی کو لگتا کہیں کچھ ہے جس کی پردہ داری ہے۔ وہ اکثر بستر کے نیچے بھی جھانک کر اطمینان کر لیتی تھی۔ ایک بار سگریٹ کے ٹکڑے ایش ٹرے میں رہ گئے تھے۔ بیوی مائکے سے لوٹی تو سب سے پہلے ایش ٹرے پر نظر گئی۔

    ’’اللہ رے اللہ۔ قبر میں پاؤں ہے لیکن علّت چھوٹتی نہیں ہے۔‘‘

    وہ خاموش رہتا لیکن بیوی مسلسل کوّے ہنکاتی رہتی۔ وہ شکّر کی شیشی کا بھی معائنہ کرتی۔

    اللہ رے اللہ ۔شیشی آدھی ہو گئی۔‘‘

    ’’شوگر بڑھا کر کیوں موت کو دعوت دے رہے ہیں؟‘‘

    ایک بار وہ جواب دے بیٹھا تھا۔

    ’’موت بر حق ہے۔‘‘

    بیوی بر جستہ بولی تھی۔ ’’اسی لیے تو ٹھوٹھ ہو گئے ہیں۔‘‘

    اس کو ٹھیس سی لگی لیکن کیا کہتا؟ ٹھوٹھ ہوں تو سٹتی ہے کیوں بےشرم۔؟

    قدرت بےنیاز ہے۔ سب کی سنتی ہے۔

    اس بار بیوی دس دنوں کے لیے مائکے گئی۔ وہ اسٹیشن پر وداع کر باہر آیا توسڑک پر چلنا مشکل تھا۔ دور تک مالے کا لمبا جلوس تھا۔ کسی طرح بھیڑ میں اپنے لیے راستہ بنا رہا تھا کہ ایک رضا کار نے آنکھیں دکھائیں۔۔۔ لائن میں چلو۔لائن میں۔ ‘‘وہ کچھ دور قطار میں چلتا رہا۔ اسے بھوک لگ گئی تھی۔ فریزر روڈ پر ایک ریستوراں نظر آیا تو جلدی سے اس میں گھس گیا ۔ یہاں مکمّل اندھیرا تھا ۔ کسی کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ صرف آوازیں سنائی دیتی تھیں ۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ یا کدھر جائے ۔؟ وہ اندھے کی طرح کرسیاں ٹٹولتا ہوا آگے بڑھا تو ایک بیرے نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور ایک خالی میز پر لے گیا۔ ریستوراں کی فضا اسے پراسرار لگی۔ ہر میز پر ایک لیمپ آویزاں تھا۔ لیمپ صرف بل کی ادائگی کے وقت روشن ہوتا تھا۔ اس کی روشنی مدھم تھی۔ لیمپ کا زاویہ ایسا تھا کہ روشنی چہرے پر نہیں پڑتی تھی۔ صرف بل ادا کرتے ہوئے ہاتھ نظر آتے تھے۔ کونے والی میز سے چوڑیوں کے کھنکنے کی آواز آ رہی تھی جس میں دبی دبی سی ہنسی بھی شامل تھی۔ کبھی کوئی زور سے ہنستا اور کبھی سرگوشیاں سی سنائی دیتیں۔

    اس نے چاومنگ کا آرڈر دیا۔ بیرے نے سرگوشیوں میں پوچھا تھا کہ کیا وہ راحت بھی اٹھانا چاہتاہے؟

    راحت؟ اسے بیرے کی بات سمجھ میں نہیں آئی۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن یہاں آ کر وہ ایک طرح کی راحت محسوس کر رہا تھا۔ یہ بات اچھی لگی تھی کہ چہرے نظر نہیں آتے تھے۔ پتا لگانا مشکل تھا کہ کس میز پر کون کیا کر رہا ہے؟ رستوراں کی پراسرار آوازوں میں پاپ موسیقی کا مدھم شور بھی شامل تھا۔

    وہ ریستوراں سے باہر آیا تو گرمی شباب پر تھی۔ وہ مزار پر جانا نہیں بھولا ورنہ بیوی مستقل کوّے ہنکاتی کہ کیوں نہیں گئے؟ میری طرف سے حاضری دے دیتے تو کیا بگڑ جاتا؟

    دوسرے دن وہ پھر ریستوراں پہنچ گیا۔ اس بار اندھیرا اور گہرا تھا۔ بیرے نے بتایا کہ کوئی میز خالی نہیں ہے لیکن وہ کونے والی میز شئیر کر سکتا ہے لیکن پارٹنر کے پانچ سو روپے لگ جائیں گے۔ بیرے نے مزید کہا کہ یہاں کسی طرح کا کوئی رسک نہیں ہے۔ وہ جب تک چاہے را حت اٹھا سکتا ہے۔ وہ سمجھ نہیں سکا کہ پارٹنر کے پانچ سو روپے سے بیرے کی مراد کیا ہے لیکن وہ کچھ دیر سکون سے بیٹھنا چاہتا تھا ۔ اس نے حامی بھر لی ۔ بیرا اسے کونے والی میز پر لے گیا۔ اس میز پر کوئی موجود تھا یہ ایک تنگ سی میز تھی۔صوفے پر مشکل سے دو آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ بیٹھنے میں گھٹنے میز سے ٹکراتے تھے۔ اس نے پنیر کٹ لیٹ کا آرڈر دیا اور ایک بار اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی کہ بغل میں کون ہے؟ چہرہ تو نظر نہیں آیا لیکن کانوں میں بندے سے چمکتے نظر آئے اور وہ چونکے بغیر نہیں رہ سکا۔ کوئی عورت تو نہیں؟ عورت ہی تھی اور ہنس کر بولی۔

    ’’بہت کم جگہ ہے سر بیٹھنے کی۔‘‘

    اس کا شانہ عورت کے شانے سے مس ہو رہا تھا۔ اس طرح بیٹھنا اسے عجیب لگا یہ پہلا اتفاق تھا کہ ایک اندھیرے ریستوراں میں کسی نامحرم کے ساتھ تھا۔ جی میں آیا اٹھ کر چلا جائے لیکن شاید عورت اسے جانے کا کوئی موقع دینا نہیں چاہ رہی تھی۔

    ’’سر میں ر اجہ بازار میں رہتی ہوں۔ آپ کہاں رہتے ہو؟‘‘عورت کی آواز میں کھنک تھی۔

    ’’بورنگ روڈ۔ ‘‘ اس نے مرے مرے سے لہجے میں جواب دیا۔

    ’’واہ سر۔ آپ میرے گھر سے نزدیک رہتے ہو۔‘‘

    و ہ اب اندھیرے میں کچھ کچھ دیکھنے لگا تھا۔ میز پر گلاس اور پلیٹ نظر آ رہے تھے۔ اس نے عورت کا چہرہ بھی دیکھنے کی کوشش کی لیکن خط وخال بہت واضح نہیں تھے پھر بھی اس نے انداز ہ لگایا کہ عمر زیادہ نہیں تھی۔

    ’’سر آپ جب تک پکوڑے لیجیے۔‘‘ عورت نے اس کی طرف اپنی پلیٹ سرکائی۔

    گلے پڑ رہی ہے۔ اس نے سوچا لیکن خاموش رہا۔

    ’’لیجیے نہ سر۔‘‘ وہ اس کی طرف جھکی اور اس نے شانے کے قریب اس کی چھاتیوں کا ہلکا سا دباؤ محسوس کیا۔

    بیرا دو پلیٹ کٹ لیٹ لے آیا۔

    ’’واؤ سر۔ آپ نے میرے لیے بھی منگایا۔‘‘ وہ چہک کر بولی۔ وہ مسکرایا۔ اس کا چہکنا اس کو اچھا لگا۔

    سر۔ آپ کون سا ساس لیں گے؟ ٹومیٹو یا چلّی ساس؟

    جواب کا انتظار کیے بغیر اس کی پلیٹ میں ساس انڈیلنے لگی۔ پھر کٹ لیٹ کا ایک ٹکڑا ساس میں بھگویا اور اس کے منھ کے قریب لے جا کر بولی:

    ’’سر۔ پہلا نوالہ میری طرف سے۔‘‘

    ’’ارے نہیں۔‘‘ اس نے مزاحمت کی۔

    ’’ہم اب دوست ہیں سر۔ ہماری دوستی کے نام ۔‘‘ وہ اور سٹ گئی۔!

    عورت کی بے تکلّفی پر اسے حیرت ہو رہی تھی۔

    کوئی چھنال معلوم ہوتی ہے۔ وہ سوچے بغیر نہیں رہا۔

    ’’لیجیے نہ سر۔؟ ‘‘

    اور وہ سمجھ نہیں سکا کہ کس طرح اس نے نوالہ منہہ میں لے لیا۔

    ’’سر۔! ہم اب دوست ہیں۔‘‘

    ’’میں بوڑھا ہوں ۔ تمہارا دوست کیسے ہو سکتا ہوں؟‘‘

    ’’مرد کبھی بوڑھا ہوتا ہے سر۔؟ آسا رام کو دیکھیے؟ عورت ہنسنے لگی۔ وہ بھی مسکرائے بغیر نہیں رہا۔ بیرے کی بات اب اس کی سمجھ میں آ رہی تھی کہ پانچ سو روپے۔

    اس کو پہلی بار احساس ہوا کہ ریستوراں میں کاسنی رنگ کا پہرہ ہے۔

    ’’سر۔ آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ وہ اس پر لد گئی۔

    وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا تو عورت نے ہنستے ہوئے سرگوشی کی۔

    ’’گھبرایئے نہیں سر۔ یہ اندھیرے کی جنت ہے۔ یہاں کوئی کسی کو نہیں دیکھتا ہے۔‘‘

    وہ مسکرایا۔ اسے کیا پتا کہ وہ ایک دم ٹھوٹھ ہے۔

    عورت کے خدو خال کچھ کچھ واضح ہو گئے تھے۔ وہ اب سہج محسوس کر رہا تھا۔

    ’’تم مجھے کیا جانتی ہو۔؟ ہم پہلے کبھی ملے تو نہیں۔؟

    ’’آپ جیسے بھی ہیں مجھے پسند ہیں۔‘‘ عورت کچھ اور سٹ گئی اور کندھے پر رخسار ٹکا دیے۔

    عورت کی یہ ادا اس کو اچھی لگی۔ اس کے بھی جی میں آیا، اس کے سر پر بوسہ ثبت کرے لیکن ہچکچاہٹ مانع تھی ۔وہ اپنے سینے کے قریب اس کی چھاتیوں کا نرم لمس محسوس کر رہا تھا۔

    ریستوراں کا اندھیرا اب اچھا معلوم ہو رہا تھا۔ یہاں رات تھی اور رات گناہوں کو چھپا لیتی ہے۔

    ’’آپ ڈرنک نہیں کرتے۔؟ ‘‘ اس نے پو چھا۔

    ’’نہیں!‘‘

    ’’میں بھی نہیں کرتی۔‘‘

    ’’سر یہ جگہ بہت مہنگی ہے۔ہم فیملی ریستوراں میں ملیں گے۔‘‘

    ’’فیملی ریستوراں؟‘‘

    راجستھان ہوٹل کی سامنے والی گلی میں ہے سر۔ میں آپ کو وہاں لے چلوں گی۔

    ’’میں گھر سے کم نکلتا ہوں۔‘‘

    ’’میں جانتی ہوں سر۔ آپ اور لوگوں سے الگ ہیں۔‘‘

    ’’مجھے دیکھوگی تو بھاگ جاوگی۔‘‘

    ’’کیوں سر۔؟ آپ کوئی بھوت ہیں؟‘‘

    ’’بڈھا کھوسٹ۔!‘‘ وہ مسکرایا۔

    ’’مرد کبھی بوڑھا ہوتا ہے۔!‘‘ عورت نے آہستہ سے اس کی جانگھ سہلائی۔ پھر اس کی گردن پر ہونٹوں سے برش کیا تو دور کہیں پتّوں میں ہلکی سی سرسراہٹ ہوئی اور دوسرے ہی لمحے عورت نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ بھی ثبت کر دیے۔ اس کی گرم سانسوں کی آ نچ۔۔۔ اور جانگھ پر ہتھیلیوں کا لمس۔ اس نے سرہن سی محسوس کی اور ریستوراں میں رات گہری ہو گئی۔ موسیقی کا شور بڑھ گیا۔ پتّوں میں سرسراہٹ تیز ہو گئی۔ سانسوں میں سمندر کا زیر لب شور گھلنے لگا۔ خوابیدہ پرندے چونک پڑے۔ اور وہ دم بہ خود تھا۔ موسم گل جیسے لوٹ رہا تھا۔ اس پر خنک آمیز سی دھند چھا رہی تھی.۔

    اسے پتا بھی نہیں چلا کہ بیرا کس وقت آ گیا اور وہ اس سے کب الگ ہوئی۔

    ’’سر آپ کو ایک گھنٹہ ہو گیا۔ ایک گھنٹے سے زیادہ بیٹھنے پر دو سو روپے اکسٹرا لگیں گے۔‘‘

    وہ خاموش رہا۔ موسم گل کا طلسم ابھی ٹوٹا نہیں تھا۔بیرے نے اپنی بات دہرائی تو وہ جیسے دھند کی دبیز تہوں سے باہر آیا۔

    وہ کچھ دیر اور راحت اٹھانا چاہتا تھا لیکن جیب میں زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اس نے بل لانے کے لیے کہا۔

    ’’ہم فیملی ریستوران میں ملیں گے سر۔یہاں فضول پیسے کیوں دیجیےگا؟‘‘

    عورت نے اس کا موبائل نمبر نوٹ کیا۔

    ’’کل دو پہر میں فون کروں گی۔ راجستھان ہوٹل کے پاس آ جایئےگا۔‘‘

    ’’ایک بات اور کہوں سر۔؟‘‘ پانچ سو روپے جو آپ یہاں بیرا کو دیں گے وہ آپ مجھے دے دیجیےگا۔‘‘

    بل ادا کرکے وہ باہر آیا تو سرور میں تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی اور ڈھلتی دو پہر کی مری مری سی دھوپ بھی سہانی لگ رہی تھی۔ گھر پہنچ کر اس کا سرور بڑھ گیا۔ اسے حیرت تھی کہ کس طرح پا بستہ پرندے۔۔۔

    اس کے جی میں آیا اس کو فون لگائے۔ اس نے نمبر ملایا۔ ادھر سے آواز آئی۔

    ’’ہیلو سر۔ آپ گھر پہنچ گئے؟ کل ملتے ہیں سر!‘‘ اور اس نے سلسلہ منقطع کر دیا۔

    وہ مسکرایا۔ ’’سالی ۔پوری چھنال ہے۔ پانچ سو روپے لےگی۔ کیا پتا کوئی دوسرا پہلو میں بیٹھا ہو۔؟‘‘

    دوسرے دن ٹھیک دو بجے اس کا فون آیا اور۔

    اور ملاقاتیں ہوتی رہیں، گل کھلتے رہے، پرندے پر تولتے رہے۔

    وہ اب توا نائی سی محسوس کرتا تھا۔ چہرے کی رنگت بدل گئی تھی۔ آنکھوں میں چمک بڑھ گئی تھی۔ ہونٹوں پر پر اسرار سی مسکراہٹ رینگتی تھی لیکن بیوی اس میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کر سکی۔ آتے ہی اس نے حسب معمول گھر کا کونہ کھدرا سونگھا ۔ایش ٹرے کی راکھ جھاڑی۔ شکّر کی شیشی کا معائنہ کیا اور تھک کر بیٹھ گئی تو وہ مسکراتے ہوئے بولا!

    ’’جاؤ۔ غسل کر لو۔!‘‘ یہ جملہ غیر متوقع تھا۔ وہ شرما گئی۔

    ’’سٹھیا گئے ہیں کیا ۔؟ اس کے ہونٹ بیضوی ہو گئے۔ اور اس کو بیوی کے بیضوی ہونٹ خوش نما لگے۔

    بیوی نے غسل خانے کا رخ کیا تو وہ بستر پر لیٹ گیا۔. آنکھیں بند کر لیں اور پانی گرنے کی آوازیں سننے لگا۔۔۔!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY