کھویا ہوا لال

سہیل عظیم آبادی

کھویا ہوا لال

سہیل عظیم آبادی

MORE BYسہیل عظیم آبادی

    ساون کی رات تھی، آسمان کالے کالے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا، تین دن سے موسلا دھار پانی برس رہا تھا۔ ایسا اندھیرا تھا کہ پاس کی چیزیں بھی دکھائی نہ پڑتی تھیں، کبھی کبھی بجلی چمک جاتی تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ دنیا میں پانی اور بادلوں کے علاوہ دوسری چیز بھی ہے۔۔۔ اورنہ پانی برسنے یا بادل کڑکنے کی آواز کے سوا اور کوئی دوسری‘‘ آواز بھی سننے میں آتی تھی۔

    بوڑھی بفاؔتن اپنی چارپائی پر پڑی تھی، وہ سو جانا چاہتی تھی، مگر نیند اس کی آنکھوں سے غائب تھی، اس کا دل گھبرا رہا تھا، اس کو اپنے بوڑھے شوہر کا خیال آیا، اور تینوں بیٹوں کا، جو پیٹ کا دھندا کرنے گھر سے سیکڑوں کوس دور پردیس میں تھے۔ مگر پھر اس کا خیال بہک گیا۔ وہ اپنی جوانی کے واقعات پر غور کرنے لگی، بہت سی باتیں یاد کرکے اس کو خوشی ہوئی اور بہت سی باتیں یاد کرکے رنج ہوا، پھر خیال بہک کر شوہر اور بیٹوں کی طرف چلا گیا، اس کے دل کو کچھ سکون ہوا۔ آنکھیں جھپکیں، اس کو گرمی معلوم ہونے لگی، دل گھبرانے لگا، اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں، سوچنے لگی، آخری وقت ایسا ہی ہوتا ہے، اب کیا؟ زندگی کے پانچ چھ سال اور باقی ہوں گے، زیادہ سے زیادہ دس سال، اس کا دل زور زور سے دھک دھک کرنے لگا، وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔

    یکایک اس کو محسوس ہوا کہ مکان کے باہر کوئی آدمی پھر رہا ہے، وہ ڈر سے کانپ گئی۔ شاید چور ہو، پھر باہر سائبان میں پاؤں پٹکنے کی آواز آئی، اس کو یقین ہوگیا کہ باہر کوئی آدمی ضرور ہے، اس کا سانس رک رک کر چلنے لگا۔۔۔ اس کی دونوں بہوئیں دوسری کوٹھری میں سوئی ہوئی تھیں، سوچنے لگی کہ جاکر اٹھائے مگر پاؤں سو سو من کے ہوگئے۔ پھر چاہا کہ پکارے مگر منہ سے آواز نہ نکلی، اتنے میں کسی کے بہت لمبا سانس لینے کی آواز آئی، اس کے بدن میں بجلی کی لہر سی دوڑ گئی، اس سے ضبط نہ ہوا، بستر چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی، لالٹین کی بتی تیز کی، کوٹھری میں چاروں طرف دیکھا وہاں کچھ نہ تھا۔ اس کو یقین ہو گیا کہ باہر سائبان میں کوئی کتا ہے۔ مگر وہ لالٹین لئے ہوئے دروازہ کے پاس آئی، ہمت کر کے کواڑ کھولے۔

    ایک قدآور آدمی کھڑا تھا۔ بفاتؔن کے حلق سےایک چیخ نکلی، ’’چو۔۔۔‘‘ اور وہ گر پڑی۔ گھر کے کل لوگ جاگ گئے۔ بفاتؔن کے پاس جمع ہوگئے۔ دونوں بہوئیں’’چور چور‘‘ چلانے لگیں، مگر پانی برسنے کی آواز میں ان کی آواز ڈوب کر رہ گئی، کسی نے بھی نہ سنا، کوئی مدد کو نہ آیا۔ اجنبی سر سے پاؤں تک بھیگا ہوا ایک کونے میں کھڑا تھا، اس کے بدن پر ایک پھٹی ہوئی دھوتی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ وہ سردی سے کانپ رہا تھا۔۔۔ اجنبی عورتوں کے چلانے سے بھاگا نہیں بلکہ کانپتا ہوا آگے بڑھا، اور بفاتؔن سے ہاتھ جوڑ کر بولا، ’’میں چور نہیں ہوں ماں! مصیبت کا مارا ہوں، بے پناہ ہوں، اب چاہے جو کرو۔۔۔‘‘

    بفاتؔن کے حواس درست نہ تھے، وہ کچھ نہ بولی، مگر اس کی بہوئیں اور رشتہ کی ایک بہن برابر بکتی رہیں، اور اجنبی اسی طرح ہاتھ جوڑ ے کھڑا رہا۔ بفاتؔن کے حواس درست نہ تھے، وہ جواب کیا دیتی، اجنبی نے کہا، ’’تم لوگ آرام کرو۔۔۔ گھبراؤ مت، میں چور نہیں ہوں، پانی تھم جائے تو میں چلا جاؤں گا۔۔۔‘‘ بڑی بہو بولی، ’’بدمعاش اب پکڑے جانے کے ڈر سے کہتا ہے، چور نہیں ہوں، پھر کاہے کو آیا تھا۔۔۔‘‘ اجنبی بڑی منت کے ساتھ بولا، ’’میں شام سے ہی ایک درخت کے نیچے پڑا تھا، مگر جب بہت بھیگ گیا تو چلا آیا، تم نہیں چاہتی ہو تو لو میں جاتا ہوں۔۔۔‘‘ اجنبی کی آواز میں مصیبت کی جھلک تھی، درد کی ملاوٹ تھی۔ وہ اپنا جملہ ختم کرکے آگے بڑھا۔ اب بفاتؔن کے حواس درست ہوچلے تھے، اس نے کڑک کر پو چھا، ’’اچھا تم چور نہیں تھے تو پکارا کیوں نہیں۔۔۔‘‘

    اجنبی نے ذرا درد بھری آواز میں کہا، ’’ڈر سے ماں۔۔۔ بڑی مصیبت کا مارا ہوں، زندگی میں آج تک کبھی کوئی خوشی نصیب نہیں ہوئی۔‘‘ بفاتؔن بولی، ’’تمھارا گھر کہاں ہے؟‘‘ اجنبی نے درد بھری آواز میں جواب دیا، ’’گھر ہی ہوتا ماں تو مارا مارا کیوں پھرتا، نہ کہیں میرا گھر ہے اور نہ کوئی میرا اپنا ہے، دنیا میں کوئی چیز بھی میری نہیں ہے، ماں جاؤآرام کرو۔ میں جاتا ہوں۔۔۔‘‘ اپنا جملہ ختم کرکے چپ ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، جن کو اس نے اپنے ٹھٹھرے ہوئے ہاتھوں سے صاف کیا، پھر سائبان سے نیچے اترنے لگا۔ بوڑھی بفاتؔن کو اپنے بچوں کا خیال آ گیا، جو پردیس میں تھے، اس کا دل پسیج گیا، اس کو اجنبی پر رحم آگیا، اور اس نے پکار کہا، ’’چور ڈاکو نہیں ہو تو جاتے کہاں ہو، ٹھہرو، آرام کرو، ہم لوگ بھی غریب ہیں کچھ کھا پی لو، جو ساگ ستّو ہو، صبح چلے جانا۔‘‘

    اجنبی ٹھہر گیا، اس نے احسان مند نگاہوں بوڑھی بفاتؔن کو دیکھا اور آہستہ سے بولا، ’’تمہارا بیٹا جئے ماں! کل سے کچھ نہیں کھایا ہے۔‘‘ بفاتؔن کو اجنبی سے غیر معمولی ہمدردی ہوگئی، اس کو اپنی کوٹھری میں لے آئی۔ اپنی ایک پرانی سفید ساڑھی دے کر بولی، ’’اچھا اس کو پہن لو بیٹا۔۔۔ اے بڑی بہو تھوڑی لکڑی جلا کر لا، بیچارہ کانپ رہا ہے، اری منجھلی کچھ کھانے کو لا۔‘‘ اجنبی کپڑا بدلنے کے لئے پھر باہر چلا گیا، بھیگی ہوئی دھوتی نچوڑ کر ایک ڈوری پر پھیلا دی جو کھچی ہوئی تھی، پھر اندر آیا۔ بفاتؔن نے اپنا پرانا کمبل نکال کر اوڑھنے کو دے دیا، وہ اوڑھ کر بیٹھ گیا، مگر برابر کانپ رہا تھا، بفاتؔن لالٹین لے کر خود کھانا لینے چلی گئی، نہ جانے اس کو اجنبی پر اتنا رحم کیوں آگیا تھا۔ بڑی بہو لکڑی جلا رہی تھی۔ بفاتؔن کو بڑا برا معلوم ہوا، اور وہ خود بیٹھ کر لکڑی جلانے لگی۔۔۔ مگر پھر اس کو چھوڑ کر منجھلی بہو کی طرف چلی گئی اور اس سے کھانا لے کر اجنبی کے پاس آئی، اور اس کے سامنے رکھ کر بولی، ’’لے بیٹا کھالے۔۔۔‘‘ اجنبی نے کہا، ’’اللہ تم کو اور دے گا۔۔۔‘‘

    بفاتؔن دولت مند نہ تھی، مگر دال روٹی سے مجبور بھی نہ تھی۔ بوڑھا میاں اور تین بیٹے کلکتہ میں راج مستری کا کام کرتے تھے، گاؤں میں چھ سات‘‘ بیگھہ کھیت تھا، سب مل ملا کر اتنا تھا کہ زندگی آرام سے گزرتی تھی۔ یہ سب اس کے شوہر نے اپنی کمائی سے حاصل کیا تھا۔ وہ خود غریب گھر میں پیدا ہوئی تھی، ماں مر چکی تھی، باپ اندھا اور بہرہ تھا، کچھ نہ کر سکتا تھا، گاؤں کے زمیندار کی مہربانی سے دونوں کو صبح شام کھانا مل جاتا تھا، وہ تکلیف کو جانتی تھی، چھ سال کی عمر سے زمیندار کے گھر میں مزدوری کرتی تھی۔ اجنبی کھا ہی رہا تھا کہ بڑی بہو نے ٹوٹی ہوئی ہانڈی میں جلتی ہوئی لکڑی لاکر رکھ دی اور اجنبی سے دور ہی رکھ کر ہٹ گئی، بفاتؔن نے ہانڈی کو اجنبی کے قریب کھسکا دیا، جلتی ہوئی لکڑی کے شعلوں کی روشنی میں اس نے اجنبی کا چہرہ صاف طور پر دیکھا، لالٹین کی مدھم روشنی میں نہ دیکھ سکی تھی، اس کی آنکھیں اجنبی پر جم کر رہ گئیں، بفاتؔن کا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔ اور وہ گہرے سوچ میں پڑ گئی، اجنبی کھانا ختم کرکےآگ کے قریب ہوکر تاپنے لگا، بفاتؔن سب کچھ بھول گئی تھی۔

    اجنبی بولا، ’’کیا سوچ رہی ہو ماں؟ مجھ سے ڈرتی ہو کیا؟چور نہیں ہوں ماں۔۔۔ مصیبت کا مارا ضرور ہوں۔۔۔‘‘ بفاتؔن چونک پڑی اور بولی، ’’نہیں بیٹا۔۔۔ تجھ سے ڈر کیسا۔۔۔ بیٹے سے کوئی ڈرتا ہے؟‘‘ اجنبی کے مرجھائے ہوئے چہرے پر ہنسی اور رونق کھیلنے لگی، لیکن بفاتؔن کا چہرہ اداس ہوگیا، اس کا سفید چہرہ سیاہ دکھائی دینے لگا، وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی، ’’بیٹا تیرا گھر کہاں ہے؟‘‘ اجنبی کی آنکھوں میں پھر آنسو آگئے، اس کے چہرے سے ہنسی اور خوشی غائب ہوگئی، وہ درد بھری آواز میں بولا، ’’میرا گھر کہیں بھی نہیں ہے ماں، اس لمبی چوڑی دنیا میں میرا کوئی ہے بھی یا نہیں، مجھے کچھ معلوم نہیں، اس تیس برس کی عمر میں‘‘ مجھے اپنا کوئی نہیں ملا۔۔۔ سنو جب میں نے ہوش سنبھالا تو خود کو یتیم خانہ میں پایا، وہاں مولوی صاحب سے اپنے بارے میں معلوم ہوا کہ میں پولس کو کمبل میں لپٹا ہوا ملا تھا۔ کوئی میونسپلٹی کے کوڑا ڈالنے کے ایک ٹین میں مجھے پھینک گیا تھا۔ پولس نے تحقیقات کی، مگر میرے ماں باپ کا پتہ نہ چلا، اور چلتا کیوں؟ اگر مجھے کوئی رکھنا چاہتا تو پھینک کیوں جاتا۔۔۔ پولس سے ایک بوڑھے درزی نے درخواست دے کر مجھے لے لیا، اس کے کوئی بال بچہ نہیں تھا۔ مجھے بیٹا بنا کر پالا۔ جب میں چار سال کا ہوا تو وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے، پھر میں یتیم خانہ میں رہنے لگا، کچھ پڑھا لکھا بھی مگر جس طرح میرا دنیا میں اپنا کوئی نہیں اسی طرح میری قسمت میں چین آرام بھی نہیں ہے۔‘‘

    اجنبی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے، بفاتؔن رونے لگی، روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ اجنبی بولا، ’’تم میرے لئے کیوں روتی ہو! چپ ہو جاؤ۔‘‘ مگر بفاتؔن روتی رہی، اجنبی پھر بولا، ’’تم بڑی رحم دل ہو ماں! آج مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں میری سب کچھ ہو، میری ماں بھی ہوتی تو اسی طرح میری مصیبت پر آنسو بہاتی، مجھے اس برے حال میں دیکھ کر کڑھتی، کھلاتی پلاتی، کپڑا دیتی اور محبت سے پیش آتی، مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ میری ماں زندہ ہے، میں نے اس کو پا لیا۔‘‘ بفاتؔن اٹھ کھڑی ہوئی اور بھرائی ہوئی آواز میں بولی، ’’اس چارپائی پر سو رہو۔۔۔ ہاں تم جانا نہیں، ماں کہا ہے، تو میری بات رکھنا۔‘‘ اجنبی اٹھ کھڑا ہوا اور بولا، ’’بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے ماں۔۔۔‘‘

    اجنبی جا کر چارپائی پر سو رہا، بفاتؔن بھی اپنی چارپائی پر لیٹ رہی، مگر اس کو نیند نہیں آئی، رات بھر اجنبی کی باتیں، اس کی صورت، اس کی دردناک کہانی، بفاتؔن کے دماغ میں گھومتی رہیں، ہزاروں باتیں اس کے دماغ میں آئیں اور نکل گئیں۔ دوسرے دن بفاتؔن نے اس سے کہا، ’’بیٹا تم نے ماں کہا ہے، تو اس کی لاج رکھو۔۔۔ میری زندگی میں کہاں کہاں مارے پھروگے، یہ تمہارا گھر ہے، رہو، کھیتی باڑی کرو، میں اپنی زندگی میں تو تمہیں اب نہ جانے دوں گی۔۔۔‘‘ اجنبی بولا، ’’نہیں ماں اس قابل نہیں۔‘‘ بفاتؔن بولی، ’’مگر میں ماں بن کر کہتی ہوں اور تم ہٹ کرتے ہو؟‘‘ اجنبی نے کہا، ’’جب‘‘ تم ماں بن کر کہتی ہو تو میری مجال نہیں کہ بات نہ مانوں۔ اتنے دنوں بعد ماں کی محبت کو جان سکا ہوں، اس کو کیسے ٹھکرا سکتا ہوں۔۔۔‘‘

    اس دن سے وہ اس گھر کا فرد بن گیا، اس کانام یوسف تھا، پہلے تو بفاتؔن کی بہوؤں کو اس کا رہنا کچھ ناگوار ہوا، لیکن بہت جلدہی یوسف نے اپنے اخلاق سے سب کو اپنا بنا لیا، گاؤں کے لوگ بھی اس سے خوش تھے، بفاتؔن کا شوہر، اس کے بیٹے آئے اور یوسف سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ ہر لڑکا اس کو اپنا بھائی سمجھتا تھا، چونکہ عمر میں سب سےبڑا تھا، سب اس کی عزت کرتے تھے۔ گاؤں کے اکثر لوگ کہتے تھے کہ وہ کوئی شریف آدمی ہے۔ کسی خاص وجہ سے گھر چھوڑ کر بھاگ آیا ہے اور خود کو چھپاتا ہے۔ کچھ دنوں کے بعد بفاتؔن نے اس کا‘‘ بیاہ بھی کردیا۔

    ایک دن کسی بات پر گاؤں کے بوڑھے زمیندار نے یوسف کو بلا کر ڈانٹا، اس دن بفاتؔن بہت روئی، بفاتؔن کا چہرہ اترا ہوا‘‘ دیکھ کر یوسف نے بہت کچھ پوچھا مگر بفاتؔن نے کچھ نہ بتایا، اسی دن سے وہ برابر اداس رہنے لگی، اس کے چہرے سے رونق غائب ہوگئی، کھانا پینا روز بروز کم ہوتا گیا، اور ایک مہینہ کے اندر ہی اندر‘‘ بستر پر ایسی پڑی کہ پھر نہ اٹھی، اس کے دل کو ایسا جھٹکا لگا کہ وہ برداشت نہ کر سکی۔ دھان کی فصل تیار ہوچکی تھی۔ یوسف، اس کی بیوی اور تینوں بہوئیں کھیت پر تھیں۔ بفاتؔن گھر میں اکیلی پڑی تھی، اس کی صحت ایسی نہ تھی کہ کھیت پر جا سکتی، یوسف دھان کا بوجھا کھلیان میں لا رہا تھا، اس کو پیاس معلوم ہوئی، پانی پینے گھر چلا گیا، بفاتؔن چارپائی پر پڑی تھی، اس کی طبعیت زیادہ خراب تھی، یوسف اس کے پاس آگیا، بفاتؔن نے اس کو پاس بلاکر اس طرح بٹھا لیا کہ وہ اس کی گود میں تھا اور بڑی محبت کے ساتھ اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولی، ’’بیٹا! مجھے ذرا نصیر بابو (بوڑھے زمیندار) کے گھر لے چل، بڑا ضروری کام ہے۔‘‘

    یوسف بولا، ’’ماں! تم کہاں جاؤگی، تم اس قابل نہیں ہو۔‘‘ بفاتؔن بولی، ’’بلا سے، جیسے بھی ہوگا، میں ضرور جاؤں گی، مجھے لے چلو۔‘‘ یوسف مجبور ہوگیا، بفاتؔن بڑی تکلیف کے ساتھ زمیندار کے گھر پہنچی، اس وقت وہ اندر تھے، بفاتؔن چلی گئی، یوسف باہر ہی رہ گیا، بفاتؔن گھنٹوں اندر بیٹھی نہ جانے کیا کیا باتیں کرتی رہی، یوسف بڑا پریشان ہوا، ایک تو کھیت پر کام تھا، دوسرے بفاتؔن کی بیماری کا خیال۔۔۔ وہ طرح طرح کی باتیں سوچنے لگا، پھر خیال آیا کہ کسی سےخبر بھیجے، اسی سوچ میں تھا کہ گھر میں سے ایک بوڑھی ماما آئی، یوسف نے اس سے کہا کہ خبر کردے دیر ہو رہی ہے، ماما بڑبڑانے لگی، یوسف نے اس کی خوشامد کی، تو وہ چڑ کر بولی، ’’ارے وہ ابھی کیوں آنے لگی، مدت کے بعد گئی ہے۔‘‘

    یوسف نے پوچھا، ’’کیوں‘‘ نہیں آئے گی، تم جا کر ان کو خبر کردو۔‘‘ ماما کو بفاتؔن سے نفرت تھی، وہ اس سے ہمیشہ جلتی تھی، جل کر بولی، ’’تجھے کیا معلوم۔۔۔ اب بڑی عزت دار بنی ہے، میں جانتی ہوں نا سب کچھ۔‘‘ یوسف بولا، ’’کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ بوڑھی ماما بولی، ’’باپ رے باپ کس کی شامت آئی ہے، جو بولے، کہیں سرکار نے سن لیا تو سرکا ایک ایک بال نوچ لیا جائے گا۔‘‘ یوسف کو شک ہوا، کہ شاید بفاتؔن کے ساتھ بھی زمیندار نے کچھ بدسلوکی کی، اور اسی لئے وہ اب تک نہ آسکی، اس کے دل و دماغ میں ایک ہیجان پیدا ہوگیا، اور وہ گھبرا کر بولا، ’’تم سرکار سے ڈرتی ہو۔۔۔ خدا کی قسم میں کبھی تمہاری بات زبان پر نہ لاؤں گا، مگر بتاؤ کہ بات کیا ہے، کیا ہوا، تم کیا جانتی ہو؟‘‘

    بوڑھی ماما بولی، ’’تم نیک آدمی ہو، اسی‘‘ لئےتم سے کہے دیتی ہوں، لیکن قسم کھاؤ کسی سے نہ کہوگے۔‘‘ یوسف نے قسم کھا لی، ’’خدا کی قسم کسی سے نہ کہوں گا، کسی کو معلوم بھی نہ ہونے دوں گا کہ بات کیا ہے۔‘‘ بوڑھی ماما‘‘ کو معلوم ہوا کہ جیسے اس کا دل ہلکا ہوا، اور وہ روازدارانہ طور پر بولی، ’’ارے یہ بات سوائے میرے کسی کو معلوم نہیں، میں نے ہی اس کی مدد کی تھی۔ اب مجھے پوچھتی بھی نہیں، اپنے کو بڑی سمجھتی ہے۔۔۔ ارے اس کا باپ اندھا اور بہرہ تھا، بے کار تھا، بفاتؔن دربار میں بچپن سے رہتی تھی، دونوں باپ بیٹیوں کو کھانا ملتا تھا، جب بفاتؔن جوان ہوئی تو۔۔۔ سرکار سے۔۔۔ اس کا تعلق ہوگیا۔ سرکار علاج کے بہانے اس کو شہر لے گئے، میں بھی ساتھ تھی، وہاں اس کے بیٹا پیدا ہوا، میں اس کو کمبل میں لپیٹ کر میونسپلٹی کے ٹین میں پھینک آئی۔۔۔ پولس نے ڈھونڈا، ہم لوگوں نے بفاتؔن کو چھپا دیا۔۔۔ پھر معلوم ہوا کہ اس لڑکے کو پولس سے ایک بوڑھے درزی نے لے لیا۔۔۔ ارے اس کی سرکار سے پرانی محبت ہے، نہ جانے آج بڑھاپے میں ان کے پاس پھر کیوں آئی ہے چڑیل، اگر میں زبان کھول دیتی تو دیکھتی بی بفاتؔن کا بیاہ کیسے ہو جاتا، اور گھر والی بنتیں۔ بدمعاش ہے مکار۔۔۔‘‘

    یوسف بوڑھی ماما کا منہ حیرت سے دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں غم اور خوشی کے ملے ہوئے آنسوبھر آئے۔ بڑھیا یہ کہہ کر روانہ ہو گئی۔ یوسف گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اتنے میں بوڑھی بفاتؔن اندر سے نکلی، اس کے ساتھ زمیندار تھے، زمیندار یوسف کو دیکھ کر معنی خیز ہنسی ہنسے، یوسف نے گردن نیچی کرلی، اور بفاتؔن کو لے کر گھر چلا آیا۔ گھر پہنچ کر وہ چارپائی پر بیٹھنا ہی چاہتی تھی کہ یوسف نے روکر بفاتؔن سے کہا، ’’اتنے دن سے حقیقت کو کیوں چھپایا تھا میری ماں!‘‘ معلوم ہوا جیسے بفاتؔن پر بجلی گر پڑی، وہ خود کو نہ سنبھال سکی۔۔۔ چکرا کر گر پڑی، اس کا سر چارپائی کی پٹی پر پڑا، سر پھٹ گیا، خون بہہ نکلا۔۔۔ وہ بے ہوش ہوگئی۔ یوسف نے خون روکنے کی کوشش کی مگر بے کار، وہ گھر سے باہر بھی نہ جا سکتا تھا کہ دوسروں کو مدد کے لئے بلائے، اس کی حالت عجیب سی ہو گئی، گھنٹوں کے بعد ہوش آیا، اس نے آنکھیں کھولیں اور یوسف کو دیکھ کر بولی، ’’بیٹا! بیٹا!‘‘

    پھر بے ہوش ہوگئی، دو چار بار ایسا ہی ہوا، اس درمیان میں گھر کے دوسرے لوگ بھی کھیت سے آگئے، یوسف نے کپڑا جلا کر زخم پر رکھا، خون بند بھی ہوگیا، مگر کمزور اور بیمار بفاتؔن کے بدن سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ وہ سنبھل نہ سکی، ایک بار اس نے پھر آنکھ کھولی، چاروں طرف نظر گھماکر سب کو دیکھا، اور یوسف کو دیکھ کر آخری مرتبہ بولی، ’’بیٹا! بیٹا! میرا لال!‘‘

    ہر بار اس کی آواز کم ہوتی گئی، اور پھر ہمیشہ کے لئے چپ ہوگئی۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY