Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نئے دیوتا

دیوندر ستیارتھی

نئے دیوتا

دیوندر ستیارتھی

MORE BYدیوندر ستیارتھی

    کہانی کی کہانی

    ترقی پسند ادیب نفاست حسن نے اپنے گھر کچھ ہم خیال ادیبوں کی محفل جمع کی ہے۔ نفاست حسن جس محکمے میں نوکری کرتے ہیں وہ محکمہ ان کے اصولوں کے برعکس ہے۔ کھانے کے دوران ادب پر بات شروع ہوتی ہے۔ مہمانوں میں شامل ایک ادیب انگریزی مصنف سمرسیٹ مام کو اپنا پسندیدہ ادیب بتاتے ہیں۔ میزبان بھی سمر سیٹ مام سے اپنی دیوانگی کا اظہار کرتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اس بات کو لے کر کچھ نوک جھونک شروع ہوتی ہے اور اس بحث میں سمرسیٹ مام ان کا نیا دیوتا بن کر سامنے آتا ہے۔

    گاجر کے گرم حلوے کی خوشبو سے سارا کمرہ مہک اٹھا تھا اور اگر کسی دعوت کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ہر کھانا نہایت سلیقے سے تیار کیا جائے اور معمولی معمولی چیزمیں بھی ایک نیا ہی ذائقہ پیدا کر دیا جائے تو بلاشبہ دہلی کی وہ دعوت مجھے ہمیشہ یاد رہےگی۔

    اتنی بھی کیا خوشی ہے، میں سوچ رہا تھا، اتنا تو نفاست حسن پہلے بھی کما لیتا ہوگا۔ ڈیڑھ سو روپے کے لیے اس نے اپنی آزادی بیچ دی اور اب خوش ہو رہا ہے۔ وہ تو شروع سے باغیانہ طبیعت کا آدمی مشہور ہے، اس کے افسانے ترقی پسند ادب میں نمایاں جگہ پاتے رہے ہیں۔ پھر یہ نوکری اس نے کیسے کر لی؟ غریبوں پر ظلم ڈھائے جاتے ہیں، زندگی کی ہتک کی جاتی ہے، سرمایہ دارانہ نظام مکڑی کی طرح برابر اپنا جالا بنتا رہتا ہے اور غریب کسان مزدور آپ سے آپ اس جالے میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔۔۔ان خیالات کا مالک آج خود مکھی کی طرح اس جالے میں پھنس گیا اور اِس خوشی میں یاروں دوستوں کی دعوت دے رہا ہے! مگر میں نے اپنے خیالات کا اثر چہرے پر ظاہر نہ ہونے دیا۔

    دعوت میں کئی ادیب شریک تھے۔ میں سوچنے لگا۔ ہندوستان کی آزادی کے متعلق اِن ہیٹ پہننے والے ادیبوں سے زیادہ مدد کی امید نہ رکھنی چاہیے اور براؤ ننگ کا خیال۔۔۔ ’’چند چاندی کے سکوں کے عوض وہ ہمیں چھوڑ گیا۔۔۔!‘‘ میرے ذہن میں پھیلتا چلا گیا۔ ان رجعت پسندوں کو یہ گمان کیسے ہو گیا کہ وہ ترقی پسند ادب کا چرچا کرکے سننے والوں کی آنکھوں میں دھول ڈال سکتے ہیں؟ کہاں ترقی اور آزادی کا حقیقی نصب العین اور کہاں یہ چاندی کی غلامی! نفاست حسن کے گورے چہرے پر ہنسی ناچ رہی تھی۔ سچ پوچھو تو یہ ہنسی مجھے بڑی بھیانک دکھائی دیتی تھی۔

    گاجر کا حلوا سچ مچ تھا بہت لذیذ اور وہ میرے خیالات پر حاوی ہو رہا تھا۔۔۔مقناطیس اتنا قریب ہو اور لوہ چون کے ذرے کھنچے نہ چلے آئیں! یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر یہ حلوا نہ ہوتا تو میں نفاست حسن کو اور بھی زیادہ تنقیدی زاویے سے دیکھتا ہوتا۔

    بہتوں کے ناموں سے میں ناآشنا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ کئی چہرے میرے لیے نئے نہ تھے۔ خاص کر مولانا نور حسن آرزو کو تو اس سے پہلے کبھی فوٹومیں بھی نہ دیکھا تھا۔ ان کی آواز مجھے بہت پیاری لگی۔ بہت جلد میں نے ان کی فصاحت کا لوہا مان لیا۔ یہ محسوس ہوتے بھی دیر نہ لگی کہ انھیں ایسی ایسی دلیلوں پر عبور حاصل ہے کہ موقع پڑنے پر وہ اپنے حریف کو گھاس کے تنکے کی طرح اپنی راہ سے اڑا دیں۔ عمر میں وہ کوئی بوڑھے نہ تھے، ادھیڑ ہی تھے۔ مگر نئے زمانے سے اتنا ہی رشتہ رکھتے تھے کہ سرکاری نوکری کی وجہ سے پاجامے اور شیروانی کو خیرباد کہہ کر انگریزی وضع کا سوٹ پہننا شروع کر دیا تھا۔

    برف میں لگی ہوئی گنڈیریوں کے ڈھیر پر سب ادیب دوست بڑھ بڑھ کر ہاتھ مار رہے تھے۔ جونہی گنڈیری کا گلاب میں بسا ہوا رس حلق سے نیچے اترتا مولانا آرزوکی آنکھوں میں ایک نئی ہی چمک آ جاتی۔

    نفاست حسن کہہ رہا تھا، ’’یہ گنڈیریاں تو خاص طور پر مولانا کے لیے منگوائی گئی ہیں۔‘‘

    ’’خوب‘‘ مولانا بولے، ’’اور گاجر کا حلوا بھی شاید میرے ہی لیے بنوایا گیا تھا۔۔۔‘‘

    ’’جی ہاں۔‘‘

    نفاست حسن کی بیباک نگاہیں مولانا کی شوخ آنکھوں میں گڑ کر رہ گئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اسے اپنے محکمے میں نوکری دلانے میں مولانا کا بہت ہاتھ تھا۔ مگر خود نفاست حسن ایسا آدمی نہ تھا کہ احسان مندی کو تصور میں بھی لا سکے۔ اس کا خیال تھا کہ خود وقت کی کروٹ کی بدولت ہی وہ یہ نوکری حاصل کر سکا ہے اور گاجر کا لذیذ حلوا اور گلاب میں بسی ہوئی گنڈیریاں کسی مولانا کا احسان اتارنے کے خیال سے ہرگز پیش نہیں کی گئیں۔

    مولانا ادھر بہت موٹے ہو گئے تھے اور وہ حیران تھے کہ ہندوستان کے سب سے بڑے شہر میں لگاتار کئی سال گزارنے کے باوجود نفاست حسن نے اپنی بیٹھک میں ایک آدھ بڑی کرسی رکھنے کی ضرورت کیوں نہ محسوس کی تھی۔ ابھی تک بڑھئیوں نے بڑی کرسیاں بنانا بالکل ترک تو نہیں کیا۔ یہ اور بات ہے کہ نئے زمانے میں اب لوگ کبھی اتنے موٹے نہ ہوا کریں گے! اپنی گول گول گھومتی ہوئی آنکھیں انھوں نے میری طرف پھیریں اور میں نے دیکھا کہ ان میں غرور اور غم گلے مل رہے ہیں اور وہ بیتے وقتوں کو پھر سے واپس آتا دیکھنے کے لیے بے قرار ہو رہے ہیں۔

    دھیرے دھیرے محفل چھدری ہوتی گئی۔ نئے دوست یہ خیال لے کر لوٹے کہ نفاست حسن ایک نشاط پسند اور دوست نواز آدمی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ رسمی تکلفات کا کوئی بڑا حامی نہیں ہے۔ ہے بھی ٹھیک۔ دوستی ہونی چاہیے آزاد نظم سی۔۔۔قافیہ اور ردیف کی قید سے آزاد۔

    مولانا برابر جمے ہوئے تھے۔ مجھ سے مخاطب ہوکر بولے، ’’صاحب، سومرسٹ مام کا مطالعہ کیا ہے آپ نے؟‘‘

    انھوں نے یہ بات اس لہجے میں پوچھی تھی کہ مجھے گول مول جواب پر اترنا پڑا۔ ’’صاحب، کہاں تک مطالعہ کیا جائے؟ ان گنت کتابیں ہیں اور ان گنت مصنف۔ اب میں سومرسٹ مام کا خیال رکھوں گا۔‘‘

    ’’تو یہ کہیے نا کہ آپ نے سومرسٹ مام کی کوئی کتاب نہیں پڑھی۔‘‘

    اب میں سمجھا کہ سومرسٹ مام کوئی مصنف ہیں۔ میں نے جھینپتے ہوئے جواب دیا، ’’جی ہاں، یہی سمجھ لیجیے۔‘‘

    ’’تو اس کا یہی مطلب ہوا نا کہ اب تک آپ نے یونہی عمر ضائع کی۔‘‘

    اِس پر نفاست حسن بگڑ اُٹھا۔ گرماگرم بحث چھڑ گئی۔ پتہ چلا کہ مولانا نے نفاست حسن کو چڑانے کے لیے ہی سومرسٹ مام کا تذکرہ کیا تھا۔ ایک دن خود نفاست حسن نے یہی سوال مولانا سے کیا تھا اور جب اُنھوں نے میری طرح بات ٹالنی چاہی تو وہ کہہ اٹھا تھا، ’’تو اس کا یہی مطلب ہوا نا کہ اب تک آپ نے یوں ہی عمر ضائع کی۔‘‘

    ادھر مولانا نے انگریزی ادب سے ربط بڑھانا شروع کر رکھا تھا مگر نفاست حسن بدستور یہی سمجھتا تھا کہ یہ صرف ایک دکھاوا ہے اور انگریزی ادب کے نئے رجحانوں سے انھیں کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ جب بھی وہ ان کے ہاتھ میں کوئی انگریزی کتاب دیکھتا، اس کے ذہن میں طنز جاگ اٹھتی، جیسے سانپ کے سر میں زہر جاگ اٹھتا ہے۔ اس دکھاوے کی آخر کیا ضرورت ہے۔۔۔؟ بیہودہ دکھاوا۔۔۔! نیا رنگ تو سفید کپڑے ہی پر ٹھیک چڑھتا ہے!

    مولانا بڑی سادہ اور پراثر زبان میں شعر کہتے تھے۔ مضامین بھی لکھتے تھے۔ افسانہ نگاری کے باب میں انھوں نے کوئی کوشش نہ کی تھی۔ ہاں جب کوئی واقعہ سناتے تو یہی گمان ہوتا کہ کوئی کہانی جنم لے رہی ہے اور اگر اس وقت کوئی آدمی ان کی تعریف کردیتا تو خواہ مخواہ ان کی نگاہ میں بہت اونچا اٹھ جاتا۔ داد پاکر ہی وہ داد دے سکتے ہوں، یہ بات نہ تھی۔ اکثر وہ کسی ایسے معاوضے کے بغیر بھی نوجوان ادیبوں کی پیٹھ ٹھونکتے رہتے تھے۔ ان کی یہ سرپرستانہ طبیعت ہی نفاست حسن کے نزدیک وہ عیب تھا جس کی وجہ سے جیسا کہ اس کا خیال تھا نہ وہ پرانے دور کی نمایندگی کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اور نہ نئے دور ہی سے رشتہ جوڑ سکے تھے۔

    جب بھی نفاست حسن مولانا کے خلاف بس اگلتا۔ مجھے یوں محسوس ہوتا کہ ادب کا نیا دور اپنے سے پہلے دور کی ہتک کر رہا ہے۔ یہ تو اپنی ہی ہتک ہے۔ سطحی طور پر اس کا گھناؤناپن آنکھ سے کتنا ہی اوجھل رہے مگر جب یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ادب ایک ارتقائی چیز ہے تو کوئی بھی ادیب اپنا یہ وطیرہ جاری نہیں رکھ سکتا۔

    ہاں، تو سومرسٹ مام والا مذاق نفاست حسن نہ سہارسکا۔ بولا، ’’بس بس چپ رہیے۔ اتنی زبان مت کھولیے۔‘‘

    نفاست حسن کی زبان پر رندہ چلنے کا گمان ہوتا تھا۔ مولانا نے قدرے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور بولے، ’’اتنے گرم کیوں ہوتے ہو، میاں! عمر ہی میں سہی، میں تمھارے والد کے برابر ہوں۔‘‘

    ’’بس بس، یہ شفقت اپنے ہی پاس رکھیے۔ مجھے نہیں چاہیے یہ کمینی شفقت۔۔۔یہ سرپرستانہ شفقت۔۔۔بڑے آئے ہیں میرے والد۔۔۔والد! اتنی زبان درازی!‘‘

    مولانا نے اب تک یہی سمجھا تھا کہ وہ مذاق ہی کی سرحد پر کھڑے ہیں۔ معاملہ تو دوسرا ہی رنگ اختیار کر چکا تھا۔ ان کے چہرے پر غصّے کی تہ چڑھ گئی۔ بولے’’ایک سسرے سومرسٹ مام کی خاطر کیوں میری ہتک کرنے پر تلے ہو، میاں۔۔۔؟ کم بخت سومرسٹ مام۔۔۔!‘‘

    بات تو تو میں میں کی شکل اختیار کر گئی۔ مجھے تو یہی خطرہ محسوس ہونے لگا کہ کہیں دونوں ادیب ہاتھا پائی پر نہ اتر آئیں۔

    نفاست حسن اس دن میزبان تھا اور گھر پر آئے ہوئے کسی مہمان کی شان میں ہر طرح کی زبان درازی سے اسے پرہیز کرنا چاہیے تھا اور پھر یہ مہمان کوئی معمولی آدمی نہ تھا۔ اس کا ہم عصر ادیب تھا۔ عمر میں اس سے بڑا اور زبان دانی میں کہیں بڑھ کر۔ میں سوچنے لگا کہ سومرسٹ مام پر نفاست حسن اتنا کیوں فدا ہے؟ وہ بھی مولانا کی طرح ایک آدمی ہی تو ہے، کوئی فرشتہ نہیں ہے اور میں تو سمجھتا ہوں ہر لحاظ سے نفاست حسن کے کمرے میں پڑی ہوئی کسی بھی ہلکے بھورے رنگ کی کرسی سے مولانا زیادہ قیمتی تھے۔ نفاست حسن اتنا گرم کیوں ہو گیا تھا؟ وہ شاید اپنے مہمان کو کرسی سے اٹھا دینا چاہتا تھا۔ یہ ٹھیک ہے کہ مولانا کی طنز ذرا تیکھی تھی مگر تھی تو آخر یہ طنز ہی اور اس کا جواب اگر طنز ہی سے دیا جاتا تو اس قدر دلخراش مظاہرہ تو نہ ہوا ہوتا۔

    سومرسٹ مام آخر کیا لکھتا ہوگا؟ کیا اسے اپنے وطن انگلستان میں بھی نفاست حسن جیسا کوئی عاشق زار نصیب ہوا ہوگا؟ مجھے یہ شک گزرا کہ نفاست حسن کے بہت سے جملے جنھیں وہ موقع بے موقع نہایت شان سے اپنی گفتگو اور تحریر میں نگینوں کی طرح جڑنے میں ہوشیار سنار بن چکا ہے، ضرور ولایت کی کسی فیکٹری سے بن کر آئے ہیں، اس کی اپنی تخلیق ہرگز نہیں۔ میں سوچنے لگا کہ پہلے پہل کب سومرسٹ مام کے قلم نے اس پر جادو سا کر دیا تھا اور کیا یہ جادو کبھی ختم بھی ہو جائےگا؟

    ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا، ’’عورت کس وقت سندر لگتی ہے؟‘‘

    مجھے کوئی جواب نہ سوجھا۔ میں نے کہا، ’’آپ ہی بتلائیے۔‘‘

    وہ بولا، ’’ہاں تو سنو۔۔۔جب وہ تین دن سے بخار میں مبتلا ہو اور اس کے ہاتھوں کی رگیں نیلی پڑ جائیں۔ تب عورت کتنی سندر لگتی ہے، کتنی سندر!‘‘

    میں نے سوچا، شاید یہ نگینہ بھی سومرسٹ مام کی فیکٹری سے بن کر آیا ہو۔

    میں نے نفاست حسن کو مخاطب کرکے کہا، ’’خفگی چھوڑو میاں! سومرسٹ مام تو ایک دیوتا ہے۔‘‘

    وہ بولا، ’’اور میں؟‘‘

    ’’آپ بھی دیوتا ہیں، میاں!‘‘

    میں نے اسے بتایا کہ دیوتاؤں میں تین بڑے دیوتا ہیں۔۔۔برہما، وشنو اور شو۔ اپنی اپنی جداگانہ اہمیت کے باعث وہ بےحد ممتاز بن گئے ہیں۔ برہما جنم دیتا ہے، وشنو پرورش کرتا ہے اور شو ٹھہرا موت کا ناچ ناچنے والا۔۔۔نٹ راج!

    نفاست حسن کا دھیان اب میری طرف کھنچ گیا۔ ادھر مولانا کی آنکھوں میں غصّہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا اور وہ میری بات میں دلچسپی لے رہے تھے۔ میں نے بتایا کہ ہر ادیب مختلف وقتوں میں برہما، وشنو اور شِو ہوتا ہے۔ جب ایک شخص ایک چیز لکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ میں اسے برہما کہنا پسند کروں گا۔ وہ اس چیز کو سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔ ہرممکن اصلاح کرتا ہے، اس وقت وہ وشنو کا ہم پلہ ہوتا ہے اور جب وہ اپنے ہی ہاتھ سے کسی تحریر کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتا ہے، وہ سو فیصدی شو کا روپ دھار لیتا ہے۔

    مولانا بولے، ’’بہت خوب! آپ کا تخیّل مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘

    میں نے جھٹ سے کہہ دیا، ’’میرا تخیل! نہیں‘‘ مولانا، ’’نہیں۔ یہ میرا تخیل نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ میرا طبع زاد خیال نہیں ہے۔۔۔‘‘

    ’’تو کس کا خیال پیش کر رہے ہیں آپ؟‘‘

    ’’بمبئی کی پی۔ ای۔ این سوسائٹی میں بلبلِ ہند مسز سروجنی نائیڈو نے میری ایک تقریر پر صدارت کرتے ہوئے یہ خیال پیش کیا تھا۔‘‘

    ’’بہت خوب۔۔۔! بلبل ہند نے آپ کی تقریر پر صدارت کی تھی۔۔۔! ہاں، تو اب کوئی طبع زاد خیال سنائیے نا!‘‘

    ’’طبع زاد۔۔۔! طبع زاد کی بھی خوب کہی، مجھے تو سرے سے یہی شک ہو رہا ہے کہ طبع زاد نام کی کوئی چیز ہوتی بھی ہے یا نہیں۔‘‘

    نفاست حسن بوکھلایا، ’’کیا کہہ رہے ہو، میاں؟ سنیے میں ایک خیال پیش کرتا ہوں۔۔۔جونہی صبح کی پہلی کرن آنکھیں ملتی ہوئی دھرتی پر اتری پاس کی کچی دیوار انگڑائی لے رہی تھی۔‘‘

    مولانا نے حیرت سے کہا، ’’دیوار انگڑائی لے رہی تھی!‘‘

    میں نے بیچ بچاؤ کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت نفاست حسن ایک برہما ہیں، مولانا!‘‘

    ’’برہما؟‘‘

    ’’جی ہاں، برہما۔۔۔اور نہ جانے کب تک وہ وِشنو بنا ہوا یہ خیال سنبھال سنبھال کر رکھےگا۔۔۔اور پھر ایک دن وہ شو بن جائےگا اور خود اپنے ہاتھوں سے اس خیال کا گلا گھونٹ ڈالےگا۔ اسے خود اپنی تخلیق پر ہنسی آئےگی۔۔۔صرف ہنسی، اگر یہ خیال اس کا سو فیصد طبع زاد خیال نہیں ہے اور پوری پوری شرم، اگر یہ سچ مچ اس کا سو فیصدی طبع زاد خیال ہے۔‘‘

    نفاست حسن چاہتا تو جھٹ میرے خیال کی تردید کر دیتا۔ مگر وہ چپ بیٹھا رہا۔ شاید وہ کچھ جھینپ سا گیا تھا اور اپنی کمتری کے جذبے کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    مولانا بولے، ’’برہما، وشنو اور شو کے متعلق آج میں کچھ اور بھی سننا چاہتا ہوں۔‘‘

    میں نے کہا، ’’سنیے وشنو اور شو کے ہزاروں مندر ہیں اور برہما کا ایک بھی مندر نہیں ہے کہیں‘‘

    ’’برہما کا ایک بھی مندر نہیں۔‘‘

    جی نہیں، سنیے تو، بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ ایک بار وشنو اور برہما میں یہ مقابلہ ہوگیا کہ کون پہلے شولنگ کی گہرائی اور اونچائی کا پتہ لا سکتا ہے۔ وشنو جڑ کی طرف چل پڑا اور برہما چوٹی کی طرف۔ برہما اوپر چڑھ گیا۔ مگر شولنگ کی چوٹی کہیں نظر نہ آتی تھی۔ اوپر سے ایک چنبیلی کا پھول گرتا آ رہا تھا۔ برہما نے پوچھا، ’’کدھر سے آنا ہوا؟‘‘

    پھول بولا۔۔۔ ’’شولنگ کی چوٹی سے۔‘‘

    برہما نے پوچھا۔۔۔ ’’کتنی دور ہے وہ چوٹی؟‘‘

    پھول نے کہا۔۔۔ ’’دور بہت دور۔‘‘

    برہما چنبیلی کے ہمراہ واپس ہوا۔ راستے میں اس نے اس پھول کو اتنا سا جھوٹ بولنے کے لیے رضامند کر لیا کہ وہ وشنو کے سامنے کہہ دے کہ وہ دونوں خاص شولنگ کی چوٹی سے ہوتے ہوے آ رہے ہیں۔ مگر شو تو ٹھہرا انتر جامی۔ برہما اور چنبیلی کو بڑی بھاری سزا دی گئی۔ رہتی دنیا تک برہما کا کہیں مندر نہ بنےگا۔ چنبیلی کسی مندر میں پوجا نہ چڑھائی جائےگی۔

    نفاست حسن بولا، ’’مگر یہ تو نیا زمانہ ہے۔ اب تو شاید برہما کا بھی مندر بن جائے کہیں اور میرا یقین ہے کہ اگر برہما پر کوئی پھول چڑھے گا تو وہ بلا شبہ چنبیلی کا پھول ہی ہوگا۔‘‘

    نفاست حسن نے یقیناًاس وقت یہی سوچا ہوگا کہ اب تک وہ خود فقط ایک برہما ہی ہے، کیونکہ اس کے پبلشر نے اس کے افسانوں کا ضخیم مجموعہ شائع کرنے سے ابھی تک گریز ہی کیا ہے۔ مگر جونہی یہ کتاب شائع ہوگی۔ اس کی شہرت کا حقیقی مندر تعمیر ہوتے دیر نہ لگےگی اور اس مندر میں چنبیلی کے پھول ہی اس پر چڑھائے جایا کریں گے۔

    اپنے متعلق اس قدر غلط فہمی رکھنے میں اس کے دو چار گہرے دوستوں ہی کا ہاتھ تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اشا کے گھونگھٹ کھولنے سے پہلے کی ساری سیاہی اور سرخی۔۔۔اندھیارے اور اجالے کی گنگا جمنی سرگوشیاں۔۔۔اس کی طبع میں بہت نمایاں نظر آتی ہیں اور اگر اس نے شروع میں روسی افسانوں کے ترجمہ میں اپنی اٹھتی جوانی کا زور لگانے کے بجائے طبع زاد افسانے لکھنے میں سرگرمی دکھائی ہوتی تو آج اس کا نام صف اول کے ترقی پسند افسانہ نگاروں میں شمار ہوتا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ اب بھی گرے ہوئے بیروں کا کچھ نہیں بگڑا۔ اگر یہ سو فیصدی طبع زاد افسانہ نگار سو فیصدی وسیلہ ساز بھی ہوتا گیا، تو یقیناًوہ ہندوستان بھر کے افسانوی ادب کی چوٹی پر نظر آئےگا۔

    ایک بار دوستوں نے اسے بتایا کہ وہ بڑا صاف گو ہے۔ چنانچہ سپنوں میں بھی یہ خیال اس کا تعاقب کرنے لگا کہ واقعی وہ بڑا صاف گو ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو سو فیصدی طبع زاد افسانہ نگار کو زندگی کے مطالعے میں حقیقی مدد دے سکتی ہے۔ جب اس نوکری کے لیے اس نے درخواست بھیجی تو اس سے پوچھا گیا کہ اس نے کس مضمون میں اپنا علم پایۂ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ بلا جھجک اس نے لکھ بھیجا کہ میں نے اپنی بیشتر زندگی بیسواؤں کا مطالعہ کرنے میں گزاری ہے۔ گو اس صاف گوئی سے کہیں زیادہ کسی کی سفارش ہی نے اسے یہ نوکری دلانے میں مدد دی تھی۔ مگر وہ برابر نئے ملنے والوں کے روبرو اس کا ذکر بڑے فخر سے کیا کرتا تھا۔ صاف گوئی، سو فیصدی صاف گوئی! میں نے سوچا شاید اس صاف گوئی کی سرحد نے ابھی گھر کی دیواروں تک پاؤں نہ پھیلائے