مرگ زار

MORE BYمحمد حمید شاہد

    وہ دھند میں ڈوبی ہوئی ایک صبح تھی ۔

    مری میں میری پوسٹنگ کو چند ہی روز گزرے تھے اور جتنی صبحیں میں نے اس وقت تک دیکھی تھیں سب ہی دھند میں لپٹی ہوئی تھیں ۔

    کلڈنہ روڈ پر ہمارا دفتر تھا ۔ ابھی مجھے گھر نہیں ملا تھا لہذا میں روزانہ پنڈی سے یہاں آیا کرتا تھا گزشتہ ہفتے کے آخری تین روز تو مناظر اپنی طرف کھینچتے اور جی لبھاتے رہے مگر اگلے ہفتے کے پڑتے ہی دل پر عجب بے کلی کی دھند چھانے لگی تھی‘ بالکل ویسی دھند جو گزشتہ ہفتے مری کی صبحوں کو آغوش میں لے کرسہلاتی رہی تھی اور اب تیور بدل کراس کی چھاتی بھینچے جاتی تھی ۔

    وہ صبح میری چھاتی بھی بھینچ رہی تھی۔

    میں ابھی دفتر پہنچا ہی تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی چیخ اٹھی ۔ دوسری جانب سے ایک مانوس آواز لرز رہی تھی جو یک بہ یک سسکیوں میں ڈھل گئی۔ نواز کہ رہا تھا تمہارا بھائی مصعب شہید ہو گیا۔ مزید ایک لفظ بھی اس کی زبان سے ادا نہ ہو سکا کہ اس کی �آواز سسکیوں میں ڈوب گئی تھی۔

    شدید دکھ میرے پورے وجود میں تیر گیا اور لفظ شہادت کی تکرار میرے اندر گونجنے لگی۔

    ’’دعا کرنا امی اللہ مجھے شہادت نصیب کرے‘‘

    ’’دعا کرنا بھائی میں خدا کی راہ میں شہید ہو جاؤں‘‘

    ’’باجی دعا کرنا اللہ مجھے شہدا کے قافلے میں شریک کرے‘‘

    امی کے نام بھائیوں کے نام اور بہن کے نام اس نے جتنے خطوط لکھے وہ بس اسی تکرار پر تمام ہوتے تھے ۔ لفظ شہادت کے ساتھ جو تقدس وابستہ تھا اس کے باعث میں بغیر سوچے سمجھے آمین کہتا رہا مگر ہر باریوں ہوتا تھا کہ یہ لفظ میرے ہونٹوں سے پھسلتے ہی مجھے بوکھلا دیتا پورے بدن میں سنسنی سی دوڑ جاتی اور میں بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگ جاتا۔حتی کہ پچھتاوا مجھے جکڑ لیتا اور میں خلوص دل اور گہرے تاسف سے سوچتاکہ جسے میرے ہونٹوں سے لڑھکتی آمین کو سننا تھا وہ تو سن کر کوئی فیصلہ دے بھی چکا ہوگا ۔

    نواز میرا قریبی عزیز تھا اس تک جو خبر پہنچ چکی تھی وہ اسے مجھ تک منتقل کرنے میں دقت محسوس کر رہا تھا کہ سسکیاں لفظوں کو راہ ہی نہ دے رہی تھیں ۔ کسی اور نے اس سے ٹیلی فون لے لیا اور پشاور کا ایک نمبر دیتے ہوے کہا آپ مزید تفصیلات اس پر معلوم کر سکتے ہیں ۔میں نے پشاور والے نمبر پر فون کیا اور جوں ہی اپنا نام بتایا ‘دوسری طرف سے کہا گیا

    ’’آپ سے رابطہ کرتے کرتے بہت دیر ہو چکی ہے آپ کو مبارک ہو آپ کا اور ہمارا بھائی مصعب شہادت کی منزل پاگیا۔ ‘‘

    مبارک۔۔۔مبارک ۔۔۔مبارک ‘ایک گونج تھی جو سیدھی چھاتی پر پڑتی تھی اور ایک بوچھاڑ تھی کہ آنکھوں سے برس پڑی تھی ۔

    اطلاع دینے والی آواز جیسے چابی سے چل رہی تھی ‘بغیر کسی وقفے کے آتی چلی گئی ۔

    ’’زندگی میں مصعب نے جس سعادت کی موت کی تمنا کی تھی وہ اسے نصیب ہوئی۔‘‘

    میں تو پہلے ہی چپ تھا اب ادھر کی چابی بھی ختم ہو گئی تھی دونوں طرف خاموشی چھا گئی۔ بس ایک میرے سینے کی دھمک تھی جو سارے میں دندناتی پھرتی تھی۔

    میں نے چھاتی کو دبایا اور خود کو کچھ کہنے کے لیے مجتمع کیا‘بہ مشکل کہا :

    ’’ بھائی کی لاش۔۔۔‘‘

    ترت جواب آیا:

    ’’ جی لاش ہمارے پاس ہے مگر ۔۔۔‘‘

    میں بے حوصلہ ہو گیا اور لگ بھگ چیخ کر کہا :

    ’’جو کچھ کہنا ہے ایک ہی دفعہ بک کیوں نہیں دیتے ‘‘

    چابی والی آواز رک رک کر آنے لگی جیسے جس کل سے آواز آہی تھی اسے چلانے والی گراریاں پھنسنے لگی تھیں ۔

    وہ جو کچھ کہ رہا تھا مجھے پوری طرح سمجھ نہیں آرہا تھا تاہم جب اس نے یہ کہا کہ تابوت ہمارے پاس پڑا ہے تو اس کی آواز پھر سے صاف اور واضح ہو گئی تھی ۔وہ کہ رہا تھا:

    ’’کوئی ساڑھے پانچ بجے جلال آباد کے اگلے مورچوں پر شہادت کا واقعہ ہوا ۔ ہمیں دو تین گھنٹے لاش اکٹھا کرنے میں لگ گئے اور۔۔۔‘‘

    میں ایک دفعہ پھر چیخ رہا تھا:

    کیا کہ رہے ہو ۔۔۔ یہ لاش اکٹھا کرنے سے کیا مراد ہے تمہاری؟ ‘‘

    وہ چپ ہو گیا اتنا چپ جیسے ادھر دوسری جانب کوئی تھا ہی نہیں ۔ حتی کہ مجھے ’’ہیلو ‘ہیلو‘‘ چلا کر اسے بولنے پر مجبور کرنا پڑا ۔

    ’’دیکھیں ہمیں آپ کا تعاون درکار ہے ۔‘‘

    ’’تعاون ؟‘‘

    ’’جی اور اجازت بھی‘‘

    ’’کس بات کی اجازت؟‘‘

    ’’ہمیں شہید بھائی کی وصیت پر عمل کرنا ہے آپ تعاون کریں گے اور اجازت دیں گے تو ایسا ممکن ہو پائے گا ۔ پہلے ہی بہت تاخیر ہو چکی ہے ۔‘‘

    ’’کیا وصیت کی تھی بھائی نے۔۔۔ اور۔۔۔ کب ؟‘‘

    ’’دیکھیں جی ظاہر ہے وصیت اس نے شہادت سے پہلے کی تھی اور وصیت کے مطابق اسے دوبارہ جلال آباد لے جانا ہے ۔‘‘

    ’’دوبارہ جلال آباد ۔۔۔ مگر کیوں ؟‘‘

    ’’ اس لیے کہ اس کی وصیت یہ تھی کہ شہید ہونے کی صورت میں اسے جلال آباد کے شہداء کے قبرستان میں دفن کیا جائے ۔‘‘

    ’’پھر لاش ۔۔۔‘‘

    ’’خدارا زیادہ بحث مباحثہ نہ کریں ۔ ہمیں اجازت دیں کہ شہید کی وصیت پر عمل کر سکیں۔‘‘

    میں بے بس ہوتا جارہا تھا کہا :

    ’’میں کیسے اجازت دے سکتا ہوں۔۔۔وہ۔۔۔ امی جان سے ۔۔۔‘‘

    ’’جی ان سے رابطہ کی کو شش کی گئی مگر ان سے بات نہ ہو سکی ‘بس پیغام دیا جا سکا ہے ۔‘‘

    ’’میں بڑ بڑایا میں کیسے اجازت۔۔۔؟‘‘

    شاید میری بڑبڑاہٹ اس تک پہنچ گئی تھی تبھی تو اس نے فوراً کہا تھا:

    ’’جی مجبوری ہے ؟‘‘

    ’’گویا میں اجازت دوں نہ دوں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا

    میں روہانسا ہو کر چیخا۔ میری آواز پھٹ گئی تھی اور پھٹی آواز کے دندانے میرے حلقوم کوبھی پھاڑ گئے تھے ۔

    (نوٹ: اب مجھے کہانی روک کر یہاں وضاحت کر ہی دینی چاہیے کہ یہ کہانی میں انور کی اصرار پر لکھ رہا ہوں ۔ انور آج کل موت کے کنول پر منڈلاتی کہانیوں کا اسیر ہے خود بھی زندگی کی بہ جائے موت کی کہانیاں لکھتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مجھے بھی اپنے پاس موجود کسی بھی ایسی کہانی کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے ۔اس کا خیال ہے کہ آج کل کی زندگی کی کہانیوں سے کہیں زیادہ جوہر موت کی ان کہانیوں میں ہوتا ہے ۔ میں اس کی بات سے متفق نہیں تھا لہذا اس کہانی کو اسے سنانے کے باوصف لکھنے سے احتراز کرتا رہا اور جس قدر کتراتا رہا اتنا ہی اس کا اصرار بڑھتا گیا یہاں تک کہ اوپر کی سطور قلم زد ہوگئیں ۔ یہاں پہنچ کر مجھے بہت سی وضاحتوں کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے مگرمیں سمجھتا ہوں کہ جب کہانی اپنے زور سے بہہ رہی ہو تو وضاحتوں کو موخر کر دینا چاہیے۔لہذا کہانی کا سرا وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے یہ ٹوٹی تھی۔ اس کے لیے مجھے کہانی کے راوی کی کھال میں گھسنا ہے وضاحتوں کے لیے مناسب مقام تلاش کرتے ہی پھر حاضر ہو جاؤں گا۔)

    میں منت سماجت کرنے پر مجبور ہو گیا تھا گھگھیا گھگھیا کر کہنے لگا:

    ’’ مجھے بھائی کا چہرہ دیکھنا ہے‘‘

    ادھر سے بالکل سپاٹ آواز میں کہا گیا:

    ’’آپ کے آتے آتے تو بہت دیر ہو جائے گی۔‘‘

    میں ہتھے سے اکھڑ گیا ‘پھٹی ہوئی آواز کو اور لیر لیر کرتے ہوے چلایا:

    ’’ تم جھوٹ بولتے ہو تمہارے پاس لاش ہے ہی نہیں ورنہ تم ۔۔۔‘‘

    میں نے اپنی بات قصداً نامکمل چھوڑ دی ۔ سارے میں سناٹا چھا گیا۔ پورا دفتر میرے کمرے میں جمع ہو گیا تھا اور کوئی بھی کچھ نہ کہ رہا تھا۔ ٹیلی فون کے دوسری طرف بھی کچھ دیر کا سکوت اتنا دبیز تھا کہ چھاتی پر بھاری سل کی طرح اپنا دباؤ بڑھا تا چلا گیا‘ حتی کہ مجھے گماں گزرنے لگاکہ میری پسلیاں چٹخ جائیں گی۔ دفعتاًریسیور میں سے چابی بھری آواز نے آکر بھاری سل سرکادی :

    ’’ آپ آجائیں‘۔۔۔ ۔۔۔ابھی‘‘

    میں نے لمبا سانس لیا اور فورا کہا :

    ’’جی میں آتا ہوں میرا انتظار کیجئے ۔۔۔ اور امی کو بھی ساتھ لیتا آؤں گا‘‘

    ’’نہیں اس طرح تو بہت دیر ہو جائے گی ‘‘

    اس نے رٹا رٹایا جملہ دہرادیا اور ساتھ ہی تاکید بھی کردی:

    ’’بس آپ خود ہی آجائیے مگر دیر نہ کیجئے گا‘‘

    اس خدشے کے پیش نظر کہ میں پھر سے نہ بول پڑوں اس نے حیات آباد کے ایک مکان کا نمبر مجھے دیا اور کہا:

    ’’ہم اس پتے پرآپ کا دو اڑھائی گھنٹے ہی انتظار کر پائیں گے ‘‘

    فون بند ہو گیا ۔ ساتھ ہی میرا دل بھی جیسے دھڑکنا بند ہو گیا تھا۔ میں جہاں تھا‘ وہیں کھڑا رہا اور دوسری طرف سے کچھ سننے کے لیے سماعت کو پوری طرح حاضر رکھا‘یہاں تک کہ لائن کٹ گئی ۔ میں دونوں ہاتھوں کو میز پر رکھ کر کرسی پر یوں ڈھے گیا تھا جیسے بدن عین وسط سے کٹ گیا تھا۔ میں رودینا چاہتا تھا‘دھاڑیں مار مار کر اپنی چھاتی پیٹ ڈالنا چاہتا تھا ۔۔۔عین وہاں سے جہاں دل پسلیوں میں گھونسے مار رہا تھا مگر میرے اردگرد سارا دفتر جمع ہو گیا تھا ۔

    وضاحت نمبر ۱

    کہانی کے راوی نے اپنی ماں کو ساتھ لانے کی بات کی اور باپ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ ممکن ہے یہ بات کسی قاری کو الجھائے لہذا یہاں وضاحت ضروری ہو گئی ہے کہ راوی کا باپ پہلے ہی فوت ہو چکا تھا ۔

    وضاحت نمبر ۲

    راوی کے بھائی کی شہادت کا واقعہ ہمسایہ ملک افغانستان میں ہوا جب کہ حیات آباد اس کے اپنے ملک کے ایک شہر پشاور میں واقع ہے ۔

    وضاحت نمبر ۳

    اس خدشے کے پیش نظر کہ اسے ایک دہشت پسند کی کہانی نہ سمجھ لیا جائے یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہو گیا ہے کہ یہ واقعہ قدرے پرانا ہے‘ اتنا پرانا کہ ابھی آزادی اور خود مختیاری کی جدوجہد کرنے والے دہشت گرد قرار نہیں پائے تھے انہیں فلسطین میں فدائی‘ کشمیر‘ چیچنیا میں حریت پسند اور افغانستان میں مجاہدین کہاجاتا تھااور ان کی حمایت اورباقاعدہ سر پرستی ہماری قومی ترجیحات کا لازمی جزو تھا۔

    وضاحت نمبر ۴

    ابھی دو میں سے ایک بڑی قوت یعنی روس کو ٹوٹنا تھا تاہم وہ آخری دموں پر تھاجب کہ ہمیں امداد دے کر اپنی جنگ کو ہمارے لیے جہاد بنانے والے امریکہ نے ہمیں یقین دلایا ہوا تھا کہ پڑوسی ملک میں ہونے والی جد و جہد دراصل ہمارے اپنے ملک کی بقا کے لیے جہاد کا درجہ رکھتی ہے۔

    وضاحت نمبر ۵

    راوی کا خاندان ایمان اور زمین دونوں سے جڑا ہوا تھا ۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد جب یہ خاندان ایک قافلے کے ساتھ یہاں آرہا تھا تو راوی کا تایا بلوائیوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا جبکہ اس کی ایک جوان پھوپھی اٹھا لی گئی تھی ۔ اس خاندان نے اس قربانی کو اللہ کی منشا جان کر قبول کر لیا تھا۔

    وضاحت نمبر ۶

    راوی خود تقسیم کے معاملے کو ایمان سے زیادہ معاشی آزادی کی جدوجہد قرار دیتا تھا۔ راوی کا باپ اپنی زندگی میں اپنے اس بڑے بیٹے کی ان باتوں سے بہت نالاں رہتا تھا ۔وہ اس پر بہت برہم ہوتا اور کہتا کہ اس طرح تو تقسیم میں جان قربان کرنے والے شہید کہلائے جا سکیں گے نہ اٹھا لی جانے والی عورتیں اپنے وجود کے گرد تقدس کا ہالہ بنا کر نئے ملک میں آ کر بسنے والوں کے لیے محترم ہو پائیں گی ۔ مگر باپ کے مرنے کے بعد راوی کو یوں محسوس ہوا جیسے ایمان اور زمین سے جڑنے والی ساری نسل مر مرا چکی تھی۔

    وضاحت نمبر ۷

    چوں کہ وہ شروع ہی سے اپنے خاندان سے الگ سوچتا تھا اور اپنے پورے خاندان کو سادہ فہم اور جذباتی سمجھتا تھا لہذا اس شہادت پر بھی اس کا ردعمل ایک ایسے آدمی کاتھا جو اس ساری جنگ کو ایمان اور زمین سے نہیں جوڑتا۔ وہ صرف اتنا ہی سوچ پایا تھا کہ مارا جانے والا اس کا اپنابھائی تھا وہ بھائی ‘جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا۔

    وضاحت نمبر ۸

    راوی ماں کے ساتھ بھی بہت محبت کرتا تھا اور چاہتا تھا کہ بیٹے کی لاش ماں اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اگر چہ وہ اس کو ضروری نہیں سمجھتا تھا کہ اس وصیت پر عمل بھی کیا جائے جو اپنی ہی دھن میں مگن اس کا بھائی کر گیا تھااور اگراس پر عمل کرنابہت ضروری ہے تب بھی ماں اس کی لاش کو خود جلال آباد کے لیے رخصت کر ے مگر اس کے لیے اسے اپنے قصبے جانا پڑتا جو ایک سو پچھتر کلو میٹر دوسری سمت واقع تھا۔ یوں دیا گیا وقت وہاں پہنچنے میں ہی صرف ہو جا نے کا احتمال تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہ انتظار کئے بغیربھائی کی لاش واپس جلال آباد لے جائیں گے۔

    میں گاڑی جتنی تیزی سے مری کے پہاڑوں سے اتار سکتا‘ اتار لی ۔اسلام آباد‘ترنول ٹیکسلا‘ حسن ابدال ‘اٹک کا پل‘ نوشہرہ غرض سب کو روندتا آگے بڑھتا رہا۔ مجھے خد شہ تھا کہ میرے پہنچنے سے پہلے کہیں وہ بھائی کی لاش واپس جلال آباد نہ لے جائیں ۔دو تین مقامات پر گاڑی بے قابو ہو کر ٹکراتے ٹکراتے بچی تاہم میں کسی بھی صورت دیئے گئے وقت کے اندر اندر پہنچ جانا چاہتا تھا۔

    اور میں واقعی اتنے کم وقت میں وہاں پہنچ گیا تھا۔

    وہ میرا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے یوں جیسے میں نے بہت دیر کر دی تھی ۔

    وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے ان سب کاعجب طرح کا سفاک استقلال میرے احساسات کی شدت کو پچھاڑ رہا تھا۔

    وہ باری باری مجھ سے بغل گیر ہو رہے تھے اور مجھے بھائی کی شہادت کی مبارک باد دہے تھے

    میں بھائی کو دیکھنا چاہتا تھا اور اس کی لاش سے لپٹ کر رونا چاہتا تھا ۔زور زور سے منھ پھاڑ کر اور سینہ پیٹ پیٹ کر ۔ میرا اندر دکھ سے ابل رہا تھا مگر وہ سب بھیگی داڑھیوں والے مجھے مبارکباد دے ہے تھے اور کہ رہے تھے کہ میں خوش نصیب تھا کہ میں ایک شہید کا بھائی تھا ۔

    وہ ختم ہونے میں ہی نہ آتے تھے مجھے لگا میری چھاتی پھٹ گئی تھی اور آنکھیں پھوٹ گئی تھیں‘ سماعتیں بند ہو گئی تھیں اور میں ان میں سے کسی کی بانہوں میں جھول گیا تھا ۔

    میں فوری طور پر اندازہ نہیں کر پایا کہ مجھے کتنی دیر بعد ہو ش آیا تھا تاہم جب ہو ش آیا تو میں نے خود کو ایک نیم تاریک کمرے میں قالین پر پڑا پایا۔ مجھے یہ جان لینے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ میں کہاں تھا ۔ وہ کمرا گلاب کی خو شبو سے کناروں تک بھرا ہوا تھا۔ بہت جلد مجھے یہ باور ہو گیا کہ لاش کہیں پاس ہی تھی ۔ مجھے ہوش میں آتے دیکھتے ہی ان میں سے کئی ایک مجھ پر جھک گئے تھے اور یوں میں آزادی سے گردن گھماکر کمرے کا جائزہ نہ لے سکتا تھا ۔ ان میں سے ایک ‘جوکچھ زیادہ ہی گٹھے ہوے جسم کا مالک تھا‘ دوسروں کو پیچھے دھکیلتا میرے چہرے پر جھک گیا اورکہا کہ مجھے اٹھ کر وضو کر لینا چاہییے کہ پہلے نماز جنازہ ادا کی جائے گی ۔ میں ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا ۔ بے قراری سے ادھر ادھر دیکھا ۔ کمرا خالی تھا۔۔۔ بالکل خالی بھی نہ تھا۔۔۔اس میں بچھے اس ایرانی قالین پر وہ سب ننگے قدموں سے کھڑے تھے جس پر کچھ دیر پہلے میں لیٹا پڑا تھا ۔ سارے میں ایک بوجھل خوشبو پھیلی ہوئی تھی جو نتھنوں میں گھسے آتی تھی۔ میں نے اپنے پاس کھڑے ہونے والوں کی ٹانگوں کے بیچ سے دائیں دیوار کے پاس پڑا ایک تابوت بھی دیکھ لیا جوگلاب کی پتیوں سے لدا ہوا تھا۔

    دل میری چھاتی کے شکنجے سے نکلا اور حلق کی سمت اچھلا ۔ میں تابوت کے پاس جانا چاہتا تھا اور اس کا تختہ اکھیڑ کر اندر پڑی لاش کی چھاتی سے لگ جانا چاہتا تھا مگر ان ( نوٹ: یہاں پہنچ کر راوی نفرت یا پھر غصے کے سبب خاموش ہوجاتا ہے لہذا کچھ اندازے لگانا پڑتے ہیں :

    اندازہ نمبر ۱

    کہانی کے اس مرحلے پرراوی کی عقل ماری گئی ہوگی تب ہی تو اس نے بے قابو ہوکر گالی بک دینا چاہی تاہم وہ تہذیب یافتہ شخص تھا لہذا کسی اور احساس یا پھر اپنی آپ کو ناحق برہم پاتے پا کر ندامت سے دوچار ہوااور گالی کو ہونٹوں میں دبالیا ہوگا ۔

    اندازہ نمبر ۲

    راوی نے یہ نہیں بتایا کہ ان سب کی داڑھیاں کیوں گیلی تھیں لیکن اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا سبب ان کی آنسو نہیں ہو سکتے تھے ۔ وہ سب یقیناًوضو کرکے اس کا انتظار کررہے ہوں گے۔ انہیں بارڈر پار جانا تھا وہ روشنی میں سرحد پار کرنا چاہتے تھے اس کے پہنچنے اور جنازے میں شامل ہونے کے بعد ہی لاش کو واپس لے جایا جا سکتا تھا مگر راوی اتنے کمزور ایمان اور بودے دل والا نکلا کہ اس عظیم وقوعے کو صبرواستقامت سے برداشت کرنے اور وقار سے اپنے شہید بھائی کو رخصت کرنے کی بہ جائے بے ہوش ہو گیا تھا۔

    اندازہ نمبر۳

    وہ غالبا روشنی میں اس لیے سرحد تک پہنچ جانا چاہتے تھے کہ ادھر سے انہیں پوری محافظت دینے والوں کا یہی حکم ہوگا۔ جب کہ رات کو کچھ اور خطروں کے جاگ اٹھنے کا احتمال بھی ہوگا۔

    اندازہ نمبر۴

    ہو ش میں آنے کے بعد بھی انہیں اسے وضو کرنے اور جنازہ پڑھنے تک شہید کی لاش سے قدرے فاصلے پر رکھنے میں بہت دقت کا سامنا کرنا پڑا ہوگا۔

    ان اندازوں کے بعد کہانی راوی کے بیان سے جڑ جاتی ہے۔ )

    خدا خدا کرکے نماز جنازہ ہوچکی تو میں بھاگ کر تابوت تک پہنچا میں اتنی تیزی سے تابوت کی طرف لپکا تھا کہ اوپر کا تختہ الٹنے تک وہ مجھ تک نہ پہنچ پائے تھے ۔

    تختہ الٹ دینے کے بعد وہاں کوئی بھی نہیں تھا ۔

    وہ سب جو مجھے قدم قدم پر روک رہے تھے‘ وہ بھی نہیں ۔

    میں جو تابوت پر جھکا ہوا تھا ‘میں بھی نہیں۔

    وہ لاش جسے تابوت میں ہونا چاہیے تھا حتی کہ وہ بھی نہیں۔

    میں نے کفن کی اس جانب کو ٹٹولا جہاں سر ہونا چاہیے تھا ۔۔۔وہاں سر نہیں تھا۔ میں نے کفن الٹ دیا وہاں سرخ سرخ بوٹیوں کا ڈھیر پڑا تھا ۔ میں نے وہاں ہاتھ سرکایا جہاں کندھے ہوتے ہیں وہاں کندھے بھی نہ تھے چھاتی بھی گوشت کا ڈھیر تھی خون کی پھٹکیوں اور مہک میں بسا ہوا گوشت کا ڈھیر ۔

    مجھے گمان گزرا ایک لمحے کے لیے کہ وہ میرے بھائی لاشہ نہیں تھا اس سے پہلے کہ میں انہیں جھوٹا کہ کر ان پر چڑھ دوڑتا میری انگلیاں ایک جگہ سلامت جلد کا لمس پاکر رک گئیں۔ میں نے وہاں سے کفن الٹ ڈالا لہو میں ڈوبا بازو میرے سامنے تھا ۔ میں نے پہچان لیا وہ سب جھوٹے نہیں تھے ‘یہ بازو میرے بھائی ہی کا تھا۔ اس کی دو انگلیاں اندر کو مڑی ہوئی انگوٹھے کو چھو رہی تھیں جبکہ دوسری دو اوپر کو اٹھی ہوئی تھیں جیسے کوئی تتلی اڑان بھر رہی ہو۔ میں نے بازو کو وارفتگی میں اٹھا کر بو سہ دینا چاہا تو وہ کہنی سے کٹا بازو میرے ہاتھوں میں جھولنے لگا یوں کہ میں بو سہ دینا بھول گیا اور ڈھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔وہ مجھے سنبھال رہے تھے اورمیں روتے روتے ایک بار پھر بے ہوش ہو گیا تھا ۔

    ( نوٹ : راوی یہاں پہنچ کر چپ ہو جاتا ہے اور کچھ وقفے کے بعد کہانی سے بر گشتہ باتیں کرنے لگتا ہے یوں‘ جیسے وہ سننے والوں کو نظر انداز کرکے خود سے کلام کر رہا ہو ۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہیں کہانی سے جوڑنے میں مجھے دقت ہو رہی ہے لہذا قوسین کے بعد اس نوٹ کی ذیل میں ان کو صرف اشاروں کی صورت دے رہا ہوں تاکہ راوی کی ذہنی کیفیت کا درست درست اندازہ لگایاجا سکے ۔

    پیلر بر گشتہ بات کا اشارہ

    راوی نے مٹھیاں بھینچیں اور کہا اب سارے بھیگی داڑھیوں والے اور خود کو ملت واحد کہنے والے بھیگی بلیاں بنے ہوے ہیں ۔

    دوسری بر گشتہ بات کا اشارہ

    اب کون ہے جو اس زمین پر ٹکنا چاہتا ہے ۔ ایسی زمین پر جہاں قربانی حماقت ہو گئی ہے نیکی بے وقوفی اور ایمان سے وابستگی تنگ نظری ۔ ایسا کہتے ہوے راوی کے ہونٹوں سے سسکی نکلی تھی (جب راوی کی سسکی نکلی تو میرا گمان ہے کہ راوی نے اپنے اس تایا کو یاد کیاہوگا جو ہجرت کرتے ہوے مارا گیا تھا اور اس پھوپھی کی بابت بھی سوچا ہوگا جو اٹھالی گئی تھی۔)

    تیسری بر گشتہ بات کا اشارہ

    راوی نے ایک پرانا اخبار جیب سے نکالا تھا جس میں اس ہیرو کی تصویر چھپی ہوئی تھی جو اب ہیرو نہیں رہا تھا اور قہقہہ لگاتے ہوے الفاظ چبا چبا کر کہا تھا وہ جس کی ہم جوتیاں چاٹتے ہیں وہ جب چاہتا ہے ہمارے ہاتھوں سے ہمارے ہیرو کو زیرو بناتا ہے جب چاہتا زیرو کو ہیرو بنوالیتا ہے ۔ہم اپنے پیاروں کو خود رسوا کرتے ہیں اور اپنے غداروں کو خود کندھا دیتے ہیں۔ اس کے بعد راوی کئی روز کے لیے خاموش ہو جاتا ہے ۔اس کی خاموشی بھی کہانی سے برگشتہ باتوں پر عین محرم کی دسویں کو ٹوٹی تھی۔

    چوتھی برگشتہ بات کا اشارہ

    راوی یہ بات بتاتے ہوے خود رونے لگا تھا کہ ماں اب مصعب کو یاد کرکر کے روتی تھی اور زور زور سے بین کرتے ہوے انہیں بھی یاد کرتی تھی جن سے کوفے والوں نے غداری کی تھی اورجنہیں کربلا میں شہید ہونا پڑا تھا ۔ وہ ان مقدس ہستیوں کو روتے روتے تقسیم کے دوران اپنے بچھڑے ہوے پیاروں کو یاد کرنے لگتی تھی اور وہ سارے آنسو بہا دینا چاہتی تھی جو بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر اس نے روک لیے تھے)

    ( پیارے انور ایک نوٹ تمہارے لیے :یہاں موت کی کہانی ختم ہونے کے قریب ہے ۔ وہ کہانی جو تم لکھوانا چاہتے تھے اس کہانی کے اندر ہی کہیں تحلیل ہوگئی ہے اب چاہے کوئی ماں کی کوکھ سے جنم لیتے لیتے سانسیں توڑ بیٹھے اپنے بستر پر طویل عمر پاکر بے بسی کی موت مرے‘ سڑک پر چلتے چلتے کسی ٹرک تلے کچلا جائے یا کسی اعلاآدرش کے لیے جان دے دے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ بعد میں سب موتوں کے معنی بدل جانے ہوتے ہیں ۔ اب تو کہانیوں کاوہ متن بھی بے وفا ہو گیا ہے ‘جسے تم نے یا میں نے لکھا ہوتا ہے کہ پڑھنے والا اس پر زیادہ استحاق رکھنے لگا ہے۔ بالکل اسی طرح‘جس طرح ہم جس کے تصرف میں ہیں اکیلے اکیلے یا ایک گلے کی صورت میں‘وہ جس طرف چاہتا ہے ہماری زندگیوں کو ہانک لے جاتا ہے اور جب چاہتا ہے ہماری شہادتوں کو تہمت بنادیتا ہے ۔ لو میں بھی بہک گیا ہوں راوی ادھر ہی کو آرہا ہے لہذا میں اپنی بات موقوف کرتا ہوں راوی کے آخری جملے سن لو کہ کہانی تکمیل کو پہنچے )

    ماں اس وقت بالکل نہ روئی تھی جب میں گھر پہنچا تھا ہاں ماسی جو پاس ہی بیٹھی تھی ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا اٹھا کر بین کرنے لگی تھی ۔ ماں نے ماسی کے اٹھے ہوے ہاتھ جھٹک کر گرا دیئے اور اسے رونے سے منع کر تے ہوے کہا تھا کہ شہیدوں پر رویا نہیں کرتے ۔ میں ماں کے حوصلے پر دنگ اور اس کی سادگی پر برہم تھا۔۔۔لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ تب ایمان کے معاملے میں وہ اندر سے اتنی مضبوط تھی کہ میں اندر سے کافر ہوتے ہوے بھی اسے ٹوک نہ پاتا تھا ۔۔۔مگر یہ تو تب کی بات ہے جب ایمان اور زمین کی کوئی وقعت تھی اب تو ماں روتی ہے اور رلاتی بھی ہے ۔ اتنا زیادہ ‘اور اتنے تسلسل سے ‘کہ میں بھی رونے لگتا ہوں اور بچھڑے ہوؤں کو یاد کر نے بیٹھ جاتا ہوں۔ میں بچھڑے ہوؤں کواتنا یاد کرتا ہوں کہ اندر کا کافردل پسیج کرایمان اورزمین سے وابستہ ان جذبوں کو اپنے ہی اندر سے ڈھونڈنکالتا ہے‘ جو وہاں کبھی تھے ہی نہیں ۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY