نیو ورلڈ آرڈر

بانو قدسیہ

نیو ورلڈ آرڈر

بانو قدسیہ

MORE BYبانو قدسیہ

    کہانی کی کہانی

    یہ ایک تعلیم یافتہ دوشیزہ کی کہانی ہے۔ دوشیزہ تیس سال کی ہو چکی ہے لیکن کنواری ہے۔ شادی کے لیے اس نے بہت سے لڑکے دیکھے لیکن کوئی اس کے معیار پر پورا ہی نہیں اترتا تھا۔

    ڈرائینگ روم کا دروازہ کھلا تھا۔ طاہرہ گیلری میں کھڑی تھی۔ یہاں ان ڈور پلانٹ، دیواروں کے ساتھ سجے تھے۔ فرش پر ایرانی قالین کے ٹکڑے تھے۔ دیوار پر آرائشی آئینہ نصب تھا۔ لمحہ بھر کو اس آئینے میں طاہرہ نے جھانک کر دیکھا۔ اپنے بال درست کئے اور کھلے دروازے سے ڈرائینگ روم میں نظر ڈالی۔

    ابھی ڈنر شروع نہ ہوا تھا اور مہمان کچھ کھڑے کچھ بیٹھے، قسم قسم کا ڈرائی فروٹ اور چپس کھاتے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ اخباروں کے رسیا سیاسی پیش بندیاں کر رہے تھے۔ کچھ اہل دل صاحب کرامت بنے معاشرے کے عبرتناک انجام کی پیش گوئیوں میں مصروف تھے۔ بزعم خود دانشور فلسفیانہ دور اندیشیوں میں محو خود کلامی کے انداز میں ساتھیوں پر رعب گانٹھ رہے تھے۔ بوڑھے، بوڑھیاں ماضی کی یاد میں مگن NOSTALGIA کا شکار متلائے ہوئے انداز میں موجودہ عبوری دور کے نقائص بیان کرنے میں ساری قوت لگا رہے تھے۔ خوش وقتی کے طالب اٹکل سے کبھی ادھر کبھی ادھر ہونے والی گفتگو میں موج میلہ منانے میں مشغول تھے۔ مہمان باتوں میں ایک دوسرے کو بہلا رہے تھے، رگید رہے تھے۔ شیشے میں اتار کے ہم خیال بنانے کی شغل میں تھے۔ طاہرہ اس مجلس دوستاں کے خلا ملا کو چھوڑ کر گیلری میں آگے نکل گئی۔

    یہ ڈنر مسرت بھابھی اور سعید بھائی نے اپنی شادی کی سالگرہ منانے کے لیے دے رکھا تھا۔ نہ جانے کیوں طاہرہ ڈرائینگ روم سے آگے دادی اماں کے بیڈروم کی طرف چلی گئی۔ اس نے جمعہ گوٹ میں رہ کر کئی باتیں سیکھی تھیں۔ اچار گوشت پکانا، دوپٹوں کو ٹائی اینڈ ڈائی کرنا اور گھر میں داخل ہوتے ہی بزرگوں کو سلام کرنے جانا۔۔۔ آخری عادت بیس پچیس سال لاہور رہ کر کمزور پڑ گئی تھی لیکن اس کے سندھی پلاؤ اور اچار گوشت کی ابھی تک دھوم مچی تھی۔ پچھلے چھے ماہ سے اسے احساس جرم کھائے جا رہا تھا۔ وہ جب بھی سعید بھائی کے گھر آتی کبھی دادی اماں کو ملنے کی تکلیف گوارہ نہ کرتی۔ لیکن اس رات بیڈروم کے دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر جواب کا انتظار کئے بغیر وہ اندر چلی گئی۔ دادی اماں کڑھائی کیا ہوا سفید دوپٹہ اوڑھے خالی ذہن صوفے پر بیٹھی تھی۔

    ’’کون ہے۔۔۔؟‘‘ آدھی سوئی آدھی جاگی، آدھی مری آدھی زندہ دادی نے اپنی گول آنکھیں پھرا کر پوچھا۔

    ’’کون ہے بھئ۔۔۔؟‘‘

    ’’میں، دادی میں۔۔۔‘‘ اسی میں، نے پچھلے چھے ماہ سے دادی کا چہرہ بھی نہ دیکھا تھا۔

    ’’بھائی میں کون۔۔۔؟‘‘ دادی اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پہچاننے کے مرحلے میں تھی۔

    ’’دادی جی۔۔۔ میں۔۔۔ طاہرہ اگرو۔۔۔ مسرت کی دوست۔‘‘

    ’’وعلیکم سلام، لیکن مسرت کون ہے۔۔۔؟‘‘ ایک اور سوال دادی نے ہوا میں پھینکا۔

    ’’آپ کی بہو، دادی جی۔۔۔ سعید بھائی آپ کے بیٹے کی بیوی۔۔۔ مسرت۔‘‘

    ’’اچھا۔۔۔ کون سی بہو۔۔۔؟‘‘ سوال دادی اماں کا پیچھا سارا دن نہ چھوڑتے۔ ان ہی سوالوں کی مدد سے وہ اپنی گڈ مڈ دنیا میں ایک ربط قائم کرنا چاہتی تھی۔

    ’’چھوڑیں دادی ماں، ایک ہی تو بہو ہے آپ کی۔۔۔‘‘ دادی ماں شرمندہ سی ہو گئی۔ سرجھٹک کر بولی، ’’ہاں تو اچھا۔۔۔ بیٹھو۔۔۔ ۔ تم طاہرہ ہونا۔۔۔‘‘

    ’’جی بالکل۔۔۔‘‘

    دادی ماں ایٹ ایز ہو گئی۔ اس کی عمر نہ سمجھنے کی تھی نہ سمجھانے کی۔ پل بھر پہلے کی بات بھی اسے یاد نہ رہتی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ جوانی کے کچھ واقعات اسے ازبر تھے۔ ان کی تفصیلات کو وہ کبھی نہ بھولتی اور باربار ان کو دہرانے پر بھی رتی بھر فرق ان کے بیان میں نہ آتا۔ طاہرہ دل میں شرمندہ سی ہونے لگی۔۔۔ یہ کیسی مصروفیات ہیں جو ہمیں اپنے بنیادی فرائض بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوا کہ ہو دوسرے تیسرے مسرت کے گھر آتی رہی اور دادی ماں کا اسے خیال تک نہ آیا۔

    ’’آپ کو مبارک ہو دادی جان۔۔۔‘‘ طاہرہ نے احساس جرم تلے کہا۔

    ’’کیسی مبارک۔۔۔؟‘‘ دا دی نے پوچھا۔ اسی وقت مریم کپڑے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔

    ’’کون ہے۔۔۔؟‘‘

    ’’میں دادی ماں۔۔۔ اینی ورسری کا کیک لائی ہوں۔۔۔‘‘ مریم نے کہا۔

    ’’کیک۔۔۔؟ وہ کیوں۔۔۔‘‘ بھولی بھلائی دادی ماں نے پوچھا۔

    ’’بس جی آپ کیک کھائیں۔۔۔ کیوں کیسے کے بکھیڑے میں نہ پڑیں۔۔۔ بڑا سوفٹ چاکلیٹ کیک ہے، دادی چبانا نہیں پڑے گا۔۔۔‘‘ مریم نے ٹرے تپائی پر رکھ دیا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی حکم کے تحت آئی ہے۔ اپنی خوشی سے کیک نہیں لائی۔ دروازے میں رک کر مریم بولی، ’’آنٹی طاہرہ پلیز آپ اندر آجائیں۔۔۔ امی آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔‘‘

    مریم دادی کو دیکھے بغیر چلی گئی۔۔۔ تیس برس کی یہ لڑکی بڑی تندرست، پر اعتماد اور صاحب رائے تھی۔ وہ اپنی زندگی دو فیز میں بانٹ چکی تھی۔ کچھ عرصہ وہ آئس کریم، کوک، برگر، چائنیز کھانے، ملائی ملی سلادیں، چیز کیک اور مرغن دعوتی کھانے کھاتی۔ اس کی جلد چمکدار، نچلا حصہ گھوڑے کی طرح مضبوط، ہاتھ پاؤں میں لچک اور چال میں کتھک ناچنے والی کی سی پھرتی آجاتی۔ ان دنوں میں وہ مائیکل انجلز کا ماڈل لگتی۔ صحت کے اشتہار بنے ابھی کچھ ہی دن گزرتے تو اسے انچی ٹیپ اور وزن کرنے والی مشین یاد آ جاتی۔ اس کی سہیلیاں ملنے والیاں بھی جلد ہی یاد دلاتیں کہ کمر پر ٹایر بڑھ رہے ہیں اور وہ ماڈل گرل سے زیادہ مڈل کلاس کی گرہستن نظر آتی ہے۔

    اب مریم ڈائٹنگ پر اترآئی۔ صرف جوس پر اکتفا کرتی۔ کبھی کسی سلمنگ پارلر سے کھانے کا پرنٹڈ پروگرام خرید لاتی۔ خوب ورزش سے بدن تھکاتی۔ وزن گھٹانے کا ہر FAD استعمال کرتی۔ ایسے ہی جنونی عہد میں اس نے و رزش کے لیے ایک ورزشی سائیکل بھی خرید لی تھی۔ اپنے جسم پر غیر معمولی جور و ستم کرنے کی وجہ سے وہ اینورکسیا کی مریض نظر آتی۔۔۔ آنکھیں اندر دھنس جاتیں، رنگ سنولا جاتا، اٹھنے بیٹھنے میں چستی نہ رہتی، سرمیں درد ٹھہر جاتا اور سب سے بڑی بات ایسے دنوں میں جب وہ ڈائٹنگ کے فیز میں ہوتی تو اسے بہت غصہ آتا۔ وہ سیلولر فون کی ایک کمپنی میں مارکیٹنگ اسسٹنٹ تھی۔ ڈائٹنگ کے دنوں میں اس کا جھگڑا مارکیٹنگ منیجر، باقی اسٹاف خاص کر فون آپریٹر اور لفٹ مین سے ضرور ہوتا۔ ان دنوں میں اس کی سیلز بھی کم ہو جاتی اور اسی وجہ سے اس کی کارکردگی کو ہیڈ آفس کے نوٹس میں لایا جاتا۔ ان دنوں میں اسے سب سے زیادہ غصہ اپنی ماں پر آتا جو پچھلے دس بارہ سال کی کوشش کے باوجود اس کے لیے ایک معقول رشتہ بھی تلاش کرنے سے معذور رہی تھی۔ ایسے ماں باپ کا کیا فائدہ جو اسے بیٹوں کی طرح پیروں پر کھڑا کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن ز ندگی کے لمبے سفر کے لیے سہارا مہیا نہ کر سکے۔

    ’’یہ کون تھی۔۔۔؟‘‘ دادی نے کیک کو غور سے دیکھ کر پوچھا۔

    ’’مریم۔۔۔ دادی جی۔‘‘

    ’’مریم۔۔۔؟ وہ کون ہے؟‘‘

    دادی کی عمر سمجھنے سمجھانے کی نہ تھی۔

    ’’یہ۔۔۔ یہ کیوں چلی گئی فوراً۔۔۔‘‘

    ’’دادی جی۔۔۔ آپ کی پوتی اتنی تندرست و توانا ہے، اتنی اینرجی ہے اس میں کہ وہ کسی جگہ زیادہ دیر ٹک کر بیٹھ نہیں سکتی۔۔۔ اس کا اندر اسے لڑائے پھرتا ہے۔۔۔‘‘

    آج کل مریم تندرستی کے فیز میں تھی!

    ’’جب میں اس کی عمر کی تھی تو اس کا باپ سات برس کا تھا۔ اس کی ماں کو کچھ فکر نہیں، بیٹی دھرتی دہلائے پھرتی ہے یا تو کھانے کو کم دے۔۔۔ ہماری اماں ہمیں کبھی انڈہ کھانے کو نہیں دیتی تھیں اور یہ پورا چکن روسٹ کھاتی ہے سالم۔۔۔ کہیں باندھ دے اسے طاہرہ۔۔۔ صبح کارساتھ لےجاتی ہے، نہ جانے کہاں کہاں پھرتی ہے ماری ماری۔۔۔‘‘

    بھبھول رنگت دادی کے پاس طاہرہ بیٹھ گئی۔ آج اسے اس مرن مٹی پر پیار آ رہا تھا۔ بوڑھی دادی کے ہاتھ کی نسیں انگلیوں سے بھی نمایاں تھیں۔ طاہرہ نے دادی کا ہاتھ پکڑ کر سوچا کبھی اس دادی کو دیکھنے کے لیے کسی کی آنکھیں ترستی ہو ں گی۔ وہ راستوں میں، کھڑکیوں سے، دروازوں کی آڑ سے، پراشتیاق نظروں سے دادی کو گھورتا ہوگا۔۔۔ دادی بھی اپنے گورے چٹے رنگ، دراز قد، لمبے بالوں پر نازاں ہوگی۔ بناؤ سنگھار کی چیزوں سے دادی نے بھی ٹوٹ کر پیار کیا ہوگا۔ کپڑے لتے پر جان دی ہوگی۔ دادی کو دیکھ کر یہ سوچنا مشکل تھا کہ اس چرمر، پانسہ پلٹی، بلا بدتر، بساندھی سی چیز پر کبھی کسی نے جان بھی وار دینے کو معمولی بات سمجھا ہوگا۔۔۔

    دادی بھی دلہن بنی ہوگی۔ اس کے ہاتھوں پر بھی مہندی کے گل بوٹے ابھرے ہوں گے۔ اس نے بھی شرما لجا کر کسی کو اپنی محبت کا تعویذ بنایا ہوگا۔ حسن۔۔۔ عشق۔۔۔ غیرت، شہرت نہ جانے کیا کیا وقت کی لہروں پر بہہ گیا۔ جس محبت کا چرچا بکھیڑا، اشانتی جوانی ہڑپ کر جاتی ہے، وہ محبت بڑھاپے میں کہاں جاتی ہے۔۔۔ دادی کو تاکنے جھانکنے والے جو آج اسے دیکھ لیں تو اس کا کیا آگت سواگت کریں۔۔۔ کیا محبت اس درجہ جسم کی مرہون منت ہے۔۔۔ وہ بھی نوجوان جسم بلکہ نوجوان خوب صورت جسم کی۔۔۔ انسان کی ساری خوبیاں بڑھاپے میں کہاں جاتی ہیں۔۔۔ کہاں اور کیوں۔۔۔؟

    ’’تم ہی ذرا میری بہو بیٹے کو سمجھاؤ، بیٹی بھی مشین کی طرح ہے بہت جلد پرانی ہو جاتی ہے۔۔۔ ابھی تو مریم پر آنکھ ٹکتی ہے پھر پھسلے گی۔۔۔ سن طاہرہ تیرا ملنا ملانا بہت ہے۔۔۔ تیرا میاں وہ۔۔۔‘‘ وہ پھر گم ہو گئیں۔

    ’’ڈاکٹر ہے جی۔۔۔‘‘

    ’’لو میں کوئی بھولی ہوں فضل کو۔۔۔ میرا بلڈ پریشر چیک کرنے آتا ہے۔ بہت لوگ آتے ہیں اس کی کلینک پر، کوئی بر تلاش کرو تم دونوں مریم کے لیے۔۔۔ میری بہو تو اُوت ہے اُوت۔۔۔‘‘

    شادی بیاہ کی بات ہو یا سسرالی رشتے داروں کی غیبت۔۔۔ دادی ماں کی سوچ فوراً سیدھی ہو جاتی، پھر نہ کوئی تفصیل بھولتی نہ یاداشت اڑنگے لگاتی۔ اچانک دادی اماں نے کچھ اسی ڈھب سے فلسفیانہ انداز میں مربوط گفتگو کی کہ طاہرہ بھی بیاہنے جوگ مریم کے فکر میں گھلنے لگی۔ گولڈن اینیورسری کا فنکشن رات ساڑھے بارہ بجے ختم ہوا۔ اس کے بعد بھی چند مہمان سیاسی صورت حال کو باہم ڈسکس کرتے رہے۔ عورتوں میں غیبت کا سیشن شروع ہوا۔ بڑی باریک بینی کے ساتھ اپنے ہی جنس کو باہم تکا بوٹی کرتے ہوئے وہ بہت خوشی محسوس کر رہی تھیں۔۔۔ کسی مرد پر کوئی عورت حرف نہ دھر رہی تھی۔ آخر مہمانوں کو وداع کرنے جب سعید بھائی اور مسرت باہر کاروں تک آئے اور آخری جوڑا طاہرہ اور ڈاکٹر فضل اگرو کارہ گیا تو طاہرہ نے موقع غنیمت جان کر پوچھا، ’’مسرت بھلا مریم کی عمر کیا ہے۔۔۔؟‘‘ مسرت نے کان کھجلا کر کہا، ’’اس جون میں تیس کی ہو جائے گی۔۔۔‘‘

    ڈاکٹر فضل اگرو بھی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے تھے۔ گاڑی بند کر کے باہر آگئے۔ اب یہ چاروں گاڑی کے اردگرد کھڑے مریم بوٹی پھڑکنی کے متعلق باتیں کرنے لگے۔

    ’’بھئی کچھ بیٹی کے متعلق بھی سوچو کہ یہ اپنی اینی رسریاں ہی منانے میں مگن رہو گے۔۔۔‘‘ ڈاکٹر فضل اگرو نے کچھ مذاق کچھ سنجیدگی سے کہا۔ سعید بھائی کھسیانی ہنسی ہنس کر بولے، ’’لو ہم نہیں سوچتے بھلا۔ ہم نے تو اتنا سوچا، اتنا سوچا کہ اسے اپنے پیروں پر کھڑا کردیا۔ مرد کی طرح کماتی ہے، کسی کی محتاج نہیں۔۔۔ سوچ رہی ہے باہر جا کر پی ایچ ڈی کر آئے۔۔۔‘‘

    ’’اور شادی۔۔۔ وہ سعید بھائی، وہ کون کرے گا۔۔۔؟‘‘ طاہرہ نے سوال کیا۔

    ’’تم تو الٹا ہمیں چور سا بنارہی ہو طاہرہ۔۔۔ اس کو تو کوئی پسند ہی نہیں آتا۔۔۔ اوپر سے نوکری کر لی ہے، ہنسنے بولنے کو وہاں ہم عمر مل جاتے ہیں جوب پر۔۔۔ اگر بن گائے پالے دودھ ملے تو یہ بتاؤ گائے کیوں پالے مریم، کس لیے۔۔۔ کسی قسم کی DEPENDENCY تو رہی نہیں مرد پر، پھر شادی کیوں کرے، مرد عورت کا رابطہ ہو، ماں بچے کا رشتہ ہو، دوستی ہو۔۔۔ بھائی جہاں کسی کی محتاجی ہی نہ ہو، وہاں جھنجھٹ ہی کیوں مول لے کوئی۔۔۔‘‘ مسرت بولے گئی۔ یوں لگتا تھا وہ