نیو ورلڈ آرڈر

بانو قدسیہ

نیو ورلڈ آرڈر

بانو قدسیہ

MORE BYبانو قدسیہ

    کہانی کی کہانی

    یہ ایک تعلیم یافتہ دوشیزہ کی کہانی ہے۔ دوشیزہ تیس سال کی ہو چکی ہے لیکن کنواری ہے۔ شادی کے لیے اس نے بہت سے لڑکے دیکھے لیکن کوئی اس کے معیار پر پورا ہی نہیں اترتا تھا۔

    ڈرائینگ روم کا دروازہ کھلا تھا۔ طاہرہ گیلری میں کھڑی تھی۔ یہاں ان ڈور پلانٹ، دیواروں کے ساتھ سجے تھے۔ فرش پر ایرانی قالین کے ٹکڑے تھے۔ دیوار پر آرائشی آئینہ نصب تھا۔ لمحہ بھر کو اس آئینے میں طاہرہ نے جھانک کر دیکھا۔ اپنے بال درست کئے اور کھلے دروازے سے ڈرائینگ روم میں نظر ڈالی۔

    ابھی ڈنر شروع نہ ہوا تھا اور مہمان کچھ کھڑے کچھ بیٹھے، قسم قسم کا ڈرائی فروٹ اور چپس کھاتے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ اخباروں کے رسیا سیاسی پیش بندیاں کر رہے تھے۔ کچھ اہل دل صاحب کرامت بنے معاشرے کے عبرتناک انجام کی پیش گوئیوں میں مصروف تھے۔ بزعم خود دانشور فلسفیانہ دور اندیشیوں میں محو خود کلامی کے انداز میں ساتھیوں پر رعب گانٹھ رہے تھے۔ بوڑھے، بوڑھیاں ماضی کی یاد میں مگن NOSTALGIA کا شکار متلائے ہوئے انداز میں موجودہ عبوری دور کے نقائص بیان کرنے میں ساری قوت لگا رہے تھے۔ خوش وقتی کے طالب اٹکل سے کبھی ادھر کبھی ادھر ہونے والی گفتگو میں موج میلہ منانے میں مشغول تھے۔ مہمان باتوں میں ایک دوسرے کو بہلا رہے تھے، رگید رہے تھے۔ شیشے میں اتار کے ہم خیال بنانے کی شغل میں تھے۔ طاہرہ اس مجلس دوستاں کے خلا ملا کو چھوڑ کر گیلری میں آگے نکل گئی۔

    یہ ڈنر مسرت بھابھی اور سعید بھائی نے اپنی شادی کی سالگرہ منانے کے لیے دے رکھا تھا۔ نہ جانے کیوں طاہرہ ڈرائینگ روم سے آگے دادی اماں کے بیڈروم کی طرف چلی گئی۔ اس نے جمعہ گوٹ میں رہ کر کئی باتیں سیکھی تھیں۔ اچار گوشت پکانا، دوپٹوں کو ٹائی اینڈ ڈائی کرنا اور گھر میں داخل ہوتے ہی بزرگوں کو سلام کرنے جانا۔۔۔ آخری عادت بیس پچیس سال لاہور رہ کر کمزور پڑ گئی تھی لیکن اس کے سندھی پلاؤ اور اچار گوشت کی ابھی تک دھوم مچی تھی۔ پچھلے چھے ماہ سے اسے احساس جرم کھائے جا رہا تھا۔ وہ جب بھی سعید بھائی کے گھر آتی کبھی دادی اماں کو ملنے کی تکلیف گوارہ نہ کرتی۔ لیکن اس رات بیڈروم کے دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر جواب کا انتظار کئے بغیر وہ اندر چلی گئی۔ دادی اماں کڑھائی کیا ہوا سفید دوپٹہ اوڑھے خالی ذہن صوفے پر بیٹھی تھی۔

    ’’کون ہے۔۔۔؟‘‘ آدھی سوئی آدھی جاگی، آدھی مری آدھی زندہ دادی نے اپنی گول آنکھیں پھرا کر پوچھا۔

    ’’کون ہے بھئ۔۔۔؟‘‘

    ’’میں، دادی میں۔۔۔‘‘ اسی میں، نے پچھلے چھے ماہ سے دادی کا چہرہ بھی نہ دیکھا تھا۔

    ’’بھائی میں کون۔۔۔؟‘‘ دادی اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پہچاننے کے مرحلے میں تھی۔

    ’’دادی جی۔۔۔ میں۔۔۔ طاہرہ اگرو۔۔۔ مسرت کی دوست۔‘‘

    ’’وعلیکم سلام، لیکن مسرت کون ہے۔۔۔؟‘‘ ایک اور سوال دادی نے ہوا میں پھینکا۔

    ’’آپ کی بہو، دادی جی۔۔۔ سعید بھائی آپ کے بیٹے کی بیوی۔۔۔ مسرت۔‘‘

    ’’اچھا۔۔۔ کون سی بہو۔۔۔؟‘‘ سوال دادی اماں کا پیچھا سارا دن نہ چھوڑتے۔ ان ہی سوالوں کی مدد سے وہ اپنی گڈ مڈ دنیا میں ایک ربط قائم کرنا چاہتی تھی۔

    ’’چھوڑیں دادی ماں، ایک ہی تو بہو ہے آپ کی۔۔۔‘‘ دادی ماں شرمندہ سی ہو گئی۔ سرجھٹک کر بولی، ’’ہاں تو اچھا۔۔۔ بیٹھو۔۔۔ ۔ تم طاہرہ ہونا۔۔۔‘‘

    ’’جی بالکل۔۔۔‘‘

    دادی ماں ایٹ ایز ہو گئی۔ اس کی عمر نہ سمجھنے کی تھی نہ سمجھانے کی۔ پل بھر پہلے کی بات بھی اسے یاد نہ رہتی۔ لیکن عجیب بات ہے کہ جوانی کے کچھ واقعات اسے ازبر تھے۔ ان کی تفصیلات کو وہ کبھی نہ بھولتی اور باربار ان کو دہرانے پر بھی رتی بھر فرق ان کے بیان میں نہ آتا۔ طاہرہ دل میں شرمندہ سی ہونے لگی۔۔۔ یہ کیسی مصروفیات ہیں جو ہمیں اپنے بنیادی فرائض بھی بھولتے جا رہے ہیں۔ یہ کیسے ہوا کہ ہو دوسرے تیسرے مسرت کے گھر آتی رہی اور دادی ماں کا اسے خیال تک نہ آیا۔

    ’’آپ کو مبارک ہو دادی جان۔۔۔‘‘ طاہرہ نے احساس جرم تلے کہا۔

    ’’کیسی مبارک۔۔۔؟‘‘ دا دی نے پوچھا۔ اسی وقت مریم کپڑے اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔

    ’’کون ہے۔۔۔؟‘‘

    ’’میں دادی ماں۔۔۔ اینی ورسری کا کیک لائی ہوں۔۔۔‘‘ مریم نے کہا۔

    ’’کیک۔۔۔؟ وہ کیوں۔۔۔‘‘ بھولی بھلائی دادی ماں نے پوچھا۔

    ’’بس جی آپ کیک کھائیں۔۔۔ کیوں کیسے کے بکھیڑے میں نہ پڑیں۔۔۔ بڑا سوفٹ چاکلیٹ کیک ہے، دادی چبانا نہیں پڑے گا۔۔۔‘‘ مریم نے ٹرے تپائی پر رکھ دیا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی حکم کے تحت آئی ہے۔ اپنی خوشی سے کیک نہیں لائی۔ دروازے میں رک کر مریم بولی، ’’آنٹی طاہرہ پلیز آپ اندر آجائیں۔۔۔ امی آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔‘‘

    مریم دادی کو دیکھے بغیر چلی گئی۔۔۔ تیس برس کی یہ لڑکی بڑی تندرست، پر اعتماد اور صاحب رائے تھی۔ وہ اپنی زندگی دو فیز میں بانٹ چکی تھی۔ کچھ عرصہ وہ آئس کریم، کوک، برگر، چائنیز کھانے، ملائی ملی سلادیں، چیز کیک اور مرغن دعوتی کھانے کھاتی۔ اس کی جلد چمکدار، نچلا حصہ گھوڑے کی طرح مضبوط، ہاتھ پاؤں میں لچک اور چال میں کتھک ناچنے والی کی سی پھرتی آجاتی۔ ان دنوں میں وہ مائیکل انجلز کا ماڈل لگتی۔ صحت کے اشتہار بنے ابھی کچھ ہی دن گزرتے تو اسے انچی ٹیپ اور وزن کرنے والی مشین یاد آ جاتی۔ اس کی سہیلیاں ملنے والیاں بھی جلد ہی یاد دلاتیں کہ کمر پر ٹایر بڑھ رہے ہیں اور وہ ماڈل گرل سے زیادہ مڈل کلاس کی گرہستن نظر آتی ہے۔

    اب مریم ڈائٹنگ پر اترآئی۔ صرف جوس پر اکتفا کرتی۔ کبھی کسی سلمنگ پارلر سے کھانے کا پرنٹڈ پروگرام خرید لاتی۔ خوب ورزش سے بدن تھکاتی۔ وزن گھٹانے کا ہر FAD استعمال کرتی۔ ایسے ہی جنونی عہد میں اس نے و رزش کے لیے ایک ورزشی سائیکل بھی خرید لی تھی۔ اپنے جسم پر غیر معمولی جور و ستم کرنے کی وجہ سے وہ اینورکسیا کی مریض نظر آتی۔۔۔ آنکھیں اندر دھنس جاتیں، رنگ سنولا جاتا، اٹھنے بیٹھنے میں چستی نہ رہتی، سرمیں درد ٹھہر جاتا اور سب سے بڑی بات ایسے دنوں میں جب وہ ڈائٹنگ کے فیز میں ہوتی تو اسے بہت غصہ آتا۔ وہ سیلولر فون کی ایک کمپنی میں مارکیٹنگ اسسٹنٹ تھی۔ ڈائٹنگ کے دنوں میں اس کا جھگڑا مارکیٹنگ منیجر، باقی اسٹاف خاص کر فون آپریٹر اور لفٹ مین سے ضرور ہوتا۔ ان دنوں میں اس کی سیلز بھی کم ہو جاتی اور اسی وجہ سے اس کی کارکردگی کو ہیڈ آفس کے نوٹس میں لایا جاتا۔ ان دنوں میں اسے سب سے زیادہ غصہ اپنی ماں پر آتا جو پچھلے دس بارہ سال کی کوشش کے باوجود اس کے لیے ایک معقول رشتہ بھی تلاش کرنے سے معذور رہی تھی۔ ایسے ماں باپ کا کیا فائدہ جو اسے بیٹوں کی طرح پیروں پر کھڑا کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن ز ندگی کے لمبے سفر کے لیے سہارا مہیا نہ کر سکے۔

    ’’یہ کون تھی۔۔۔؟‘‘ دادی نے کیک کو غور سے دیکھ کر پوچھا۔

    ’’مریم۔۔۔ دادی جی۔‘‘

    ’’مریم۔۔۔؟ وہ کون ہے؟‘‘

    دادی کی عمر سمجھنے سمجھانے کی نہ تھی۔

    ’’یہ۔۔۔ یہ کیوں چلی گئی فوراً۔۔۔‘‘

    ’’دادی جی۔۔۔ آپ کی پوتی اتنی تندرست و توانا ہے، اتنی اینرجی ہے اس میں کہ وہ کسی جگہ زیادہ دیر ٹک کر بیٹھ نہیں سکتی۔۔۔ اس کا اندر اسے لڑائے پھرتا ہے۔۔۔‘‘

    آج کل مریم تندرستی کے فیز میں تھی!

    ’’جب میں اس کی عمر کی تھی تو اس کا باپ سات برس کا تھا۔ اس کی ماں کو کچھ فکر نہیں، بیٹی دھرتی دہلائے پھرتی ہے یا تو کھانے کو کم دے۔۔۔ ہماری اماں ہمیں کبھی انڈہ کھانے کو نہیں دیتی تھیں اور یہ پورا چکن روسٹ کھاتی ہے سالم۔۔۔ کہیں باندھ دے اسے طاہرہ۔۔۔ صبح کارساتھ لےجاتی ہے، نہ جانے کہاں کہاں پھرتی ہے ماری ماری۔۔۔‘‘

    بھبھول رنگت دادی کے پاس طاہرہ بیٹھ گئی۔ آج اسے اس مرن مٹی پر پیار آ رہا تھا۔ بوڑھی دادی کے ہاتھ کی نسیں انگلیوں سے بھی نمایاں تھیں۔ طاہرہ نے دادی کا ہاتھ پکڑ کر سوچا کبھی اس دادی کو دیکھنے کے لیے کسی کی آنکھیں ترستی ہو ں گی۔ وہ راستوں میں، کھڑکیوں سے، دروازوں کی آڑ سے، پراشتیاق نظروں سے دادی کو گھورتا ہوگا۔۔۔ دادی بھی اپنے گورے چٹے رنگ، دراز قد، لمبے بالوں پر نازاں ہوگی۔ بناؤ سنگھار کی چیزوں سے دادی نے بھی ٹوٹ کر پیار کیا ہوگا۔ کپڑے لتے پر جان دی ہوگی۔ دادی کو دیکھ کر یہ سوچنا مشکل تھا کہ اس چرمر، پانسہ پلٹی، بلا بدتر، بساندھی سی چیز پر کبھی کسی نے جان بھی وار دینے کو معمولی بات سمجھا ہوگا۔۔۔

    دادی بھی دلہن بنی ہوگی۔ اس کے ہاتھوں پر بھی مہندی کے گل بوٹے ابھرے ہوں گے۔ اس نے بھی شرما لجا کر کسی کو اپنی محبت کا تعویذ بنایا ہوگا۔ حسن۔۔۔ عشق۔۔۔ غیرت، شہرت نہ جانے کیا کیا وقت کی لہروں پر بہہ گیا۔ جس محبت کا چرچا بکھیڑا، اشانتی جوانی ہڑپ کر جاتی ہے، وہ محبت بڑھاپے میں کہاں جاتی ہے۔۔۔ دادی کو تاکنے جھانکنے والے جو آج اسے دیکھ لیں تو اس کا کیا آگت سواگت کریں۔۔۔ کیا محبت اس درجہ جسم کی مرہون منت ہے۔۔۔ وہ بھی نوجوان جسم بلکہ نوجوان خوب صورت جسم کی۔۔۔ انسان کی ساری خوبیاں بڑھاپے میں کہاں جاتی ہیں۔۔۔ کہاں اور کیوں۔۔۔؟

    ’’تم ہی ذرا میری بہو بیٹے کو سمجھاؤ، بیٹی بھی مشین کی طرح ہے بہت جلد پرانی ہو جاتی ہے۔۔۔ ابھی تو مریم پر آنکھ ٹکتی ہے پھر پھسلے گی۔۔۔ سن طاہرہ تیرا ملنا ملانا بہت ہے۔۔۔ تیرا میاں وہ۔۔۔‘‘ وہ پھر گم ہو گئیں۔

    ’’ڈاکٹر ہے جی۔۔۔‘‘

    ’’لو میں کوئی بھولی ہوں فضل کو۔۔۔ میرا بلڈ پریشر چیک کرنے آتا ہے۔ بہت لوگ آتے ہیں اس کی کلینک پر، کوئی بر تلاش کرو تم دونوں مریم کے لیے۔۔۔ میری بہو تو اُوت ہے اُوت۔۔۔‘‘

    شادی بیاہ کی بات ہو یا سسرالی رشتے داروں کی غیبت۔۔۔ دادی ماں کی سوچ فوراً سیدھی ہو جاتی، پھر نہ کوئی تفصیل بھولتی نہ یاداشت اڑنگے لگاتی۔ اچانک دادی اماں نے کچھ اسی ڈھب سے فلسفیانہ انداز میں مربوط گفتگو کی کہ طاہرہ بھی بیاہنے جوگ مریم کے فکر میں گھلنے لگی۔ گولڈن اینیورسری کا فنکشن رات ساڑھے بارہ بجے ختم ہوا۔ اس کے بعد بھی چند مہمان سیاسی صورت حال کو باہم ڈسکس کرتے رہے۔ عورتوں میں غیبت کا سیشن شروع ہوا۔ بڑی باریک بینی کے ساتھ اپنے ہی جنس کو باہم تکا بوٹی کرتے ہوئے وہ بہت خوشی محسوس کر رہی تھیں۔۔۔ کسی مرد پر کوئی عورت حرف نہ دھر رہی تھی۔ آخر مہمانوں کو وداع کرنے جب سعید بھائی اور مسرت باہر کاروں تک آئے اور آخری جوڑا طاہرہ اور ڈاکٹر فضل اگرو کارہ گیا تو طاہرہ نے موقع غنیمت جان کر پوچھا، ’’مسرت بھلا مریم کی عمر کیا ہے۔۔۔؟‘‘ مسرت نے کان کھجلا کر کہا، ’’اس جون میں تیس کی ہو جائے گی۔۔۔‘‘

    ڈاکٹر فضل اگرو بھی ڈرائیور سیٹ پر بیٹھے تھے۔ گاڑی بند کر کے باہر آگئے۔ اب یہ چاروں گاڑی کے اردگرد کھڑے مریم بوٹی پھڑکنی کے متعلق باتیں کرنے لگے۔

    ’’بھئی کچھ بیٹی کے متعلق بھی سوچو کہ یہ اپنی اینی رسریاں ہی منانے میں مگن رہو گے۔۔۔‘‘ ڈاکٹر فضل اگرو نے کچھ مذاق کچھ سنجیدگی سے کہا۔ سعید بھائی کھسیانی ہنسی ہنس کر بولے، ’’لو ہم نہیں سوچتے بھلا۔ ہم نے تو اتنا سوچا، اتنا سوچا کہ اسے اپنے پیروں پر کھڑا کردیا۔ مرد کی طرح کماتی ہے، کسی کی محتاج نہیں۔۔۔ سوچ رہی ہے باہر جا کر پی ایچ ڈی کر آئے۔۔۔‘‘

    ’’اور شادی۔۔۔ وہ سعید بھائی، وہ کون کرے گا۔۔۔؟‘‘ طاہرہ نے سوال کیا۔

    ’’تم تو الٹا ہمیں چور سا بنارہی ہو طاہرہ۔۔۔ اس کو تو کوئی پسند ہی نہیں آتا۔۔۔ اوپر سے نوکری کر لی ہے، ہنسنے بولنے کو وہاں ہم عمر مل جاتے ہیں جوب پر۔۔۔ اگر بن گائے پالے دودھ ملے تو یہ بتاؤ گائے کیوں پالے مریم، کس لیے۔۔۔ کسی قسم کی DEPENDENCY تو رہی نہیں مرد پر، پھر شادی کیوں کرے، مرد عورت کا رابطہ ہو، ماں بچے کا رشتہ ہو، دوستی ہو۔۔۔ بھائی جہاں کسی کی محتاجی ہی نہ ہو، وہاں جھنجھٹ ہی کیوں مول لے کوئی۔۔۔‘‘ مسرت بولے گئی۔ یوں لگتا تھا وہ اندر ہی اندر اپنی کوششوں سے تھک چکی تھی۔

    ’’اچھا بھائی آپ لوگ مجھے بتائیں کیسا لڑکا پسند کرے گی ہماری مریم۔۔۔؟‘‘

    ’’ایک تو وہ کہتی ہے کہ لڑکا دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک ہو۔ امریکن ایکٹر جیسا نہ سہی، پر لوگ باگ اس کے قد، رنگ، شکل پر پھبتیاں نہ کسیں۔‘‘

    ’’سنا تو یہی ہے کہ مرد کی شکل نہیں اس کی کمائی دیکھی جاتی ہے لیکن خیر۔۔۔ اکیسویں صدی کا ورلڈ آڈر یہی ہو گا۔۔۔ اور۔۔۔‘‘

    اب سعید بھائی کھنکارے اور دبی آواز میں بولے، ’’دوسرا بھئی کھاتا پیتا ہو، شادی کے بعد وہ سارے سکھ مریم کو مل سکیں جو اس کے بوڑھے ماں باپ نے دے رکھے ہیں۔ وہ کسی کنگلے کے ساتھ زندگی کی جدوجہد میں شامل ہونا نہیں چاہتی، وہ جن کمفرٹس کی عادی ہے وہ اسے ملنی چاہییں۔‘‘

    ’’رائٹ۔۔۔‘‘ طاہرہ نے سمجھنے کے انداز میں کہا، ’’میں سمجھ گئی لڑکا سیلف میڈ نہ ہو، یہی مطلب ہے نا۔۔۔ نہ سیلف میڈ ہو نے کے خواب دیکھے۔۔۔ بنا بنایا ہو۔۔۔‘‘

    ’’سمجھونا طاہرہ۔۔۔ ٹھیک کہتی ہے مریم۔۔۔ بھلا تیس چالیس برس مریم نے مرد کو بنانے میں گزارے۔ تو اس نے کیا انجوائے کیا۔۔۔‘‘ محبت سے ڈاکٹر فضل اگرو نے کہا۔

    طاہرہ نے تعجب سے ڈاکٹر صاحب پر نظر ڈالی۔ جب ڈاکٹر صاحب سے اس کی شادی ہوئی تھی تب فضل اگرو معمولی ہاؤس جاب کر رہا تھا۔ وہ کیمبل پور کے ڈپٹی کمشنر کی بیٹی تھی۔ پر ماں نے بڑی محبت سے سمجھایا تھا کہ ڈاکٹر دین کا پابند اور شرافت کا پاسدار ہے۔ رزق کا اللہ مالک ہے، وہ ہر جگہ بہم پہنچائے گا۔ پہلی پوسٹنگ کو ٹری جنکشن سے آگے جمعہ گوٹ میں ہوئی۔ یہاں کوئی سوشل لائف تھی نہ جگمگاتے بازار گلیاں۔ طاہر کو ڈاکٹر فضل اگرو کے ساتھ وقت گزارنے کا کنواں بھر پانی میسر آیا جس میں ڈول ڈال ڈال کر وہ اپنی تنہائیاں سیراب کرتی رہی۔ سندھی ڈاکٹر نفیس آدمی تھے۔ لطیف بھٹائی کے سچے عاشق، بابا بلھے شاہ کے شیدائی۔۔۔ نہ تو انہوں نے طاہرہ کی زندگی میں زہر گھولا، نہ ہی طاہرہ نے بھی کیمبل پور کی زندگی کو یاد کر کے آنسو بہائے۔ اتنی فراغت، تنہائی، غریبی کے ہوتے ہوئے وہ ساتھ رہنے کو زندگی کی سب سے بڑی عیاشی سمجھتے رہے۔ شاید طاہرہ پرانے خیالات کی تھی یا ممکن ہے فضل اگرو کے ساتھ ہی وقت ایسے گزرا کہ وہ سمجھنے لگی ساتھی کو کھلا کپڑا ہونا چاہیے۔۔۔ اس کی کتر بیونت۔۔۔ سجاوٹ ناپ سب کچھ اپنے دوسرے ساتھی پر چھوڑ نا چاہیے۔

    ’’اچھا جی اور کچھ۔۔۔‘‘ تھوڑی سی ہار کر طاہرہ بولی۔

    ’’ہاں بھئی ہاں۔۔۔ یاد آیا۔ اس کا EXPOSURE ضرور ہو۔ کنویں کا مینڈک نہ ہو اپنے ہی گن گانے والا۔۔۔ بلکہ اگر ہو سکے تو انٹرنیشنل لیول کا EXPOSURE ہو۔ بھلا ایسے آدمی کا بھی کیا فائدہ جو کراس کلچر نہ جانتا ہو۔ چھوٹی کھوپڑی والے سے کیا لینا۔۔۔؟‘‘ سعید بھائی بولے۔ طاہرہ نے کہنا چاہا کہ زیادہ EXPOSURE بھی کبھی کبھی خطرناک ہو سکتا ہے لیکن طاہرہ کو علم تھا کہ سعید بھائی بڑے باتونی تھے۔ ان کے پاس ڈسکوری، اکونومسٹ، نیوزویک، ٹائم، ایشیا ویک، جیوگرافیکل میگزین اور ایسے ہی کئی رسالے مروجہ علم اور انفارمیشن سے بھرے آتے تھے، وہ کئی ملکوں کی سیاحت بھی حکومتی خرچ پر کر چکے تھے۔ ایک وقت تھا جب وہ پرائم منسٹر کی تقریریں بھی لکھتے تھے اور سیاسی حالات پر ان کی بصیرت ثقہ بند تھی۔۔۔ لیکن یہ سارا لکھنا پڑھنا، انفارمیشن سے پر دماغ وہ اس لیے تر و تازہ رکھتے کہ انہیں بولنے کا شوق تھا۔ وہ پنٹاگون سے لے کر سی آئی تک اور کلوننگ سے لے پانچ ہزار سال پرانے مردے پر ریسرچ تک گفتگو کرکے محفل کو ہراساں اور حیرت زدہ کرنے کا فن جانتے تھے۔

    مریم بھی سعید بھائی کی طرح بڑی پڑھا کو تھی۔ اس کے پڑھنے لکھنے کے پیچھے بھی یہی تحریک تھی۔ وہ بھی ہم چشموں کو اپنی انفارمیشن سے دنگ کرنا چاہتی تھی۔ مردم بیزار مریم لوگوں کو پسند کرنے میں خاصی دقت محسوس کرتی۔ کوئی لڑکی اس کے معیار پر پوری نہ اترتی۔ کیوں کہ لڑکیاں عام طور پر فیشن، بازار، بیوٹی پارلر، گھر کی آرائش، چغلی غیبت سے آگے گفتگو روانی سے چلانا نہ جانتی تھیں۔ اردو میڈیم کی پڑھی ہوئی لڑکیاں خاص طور پر اس کے پیمانے پر پوری نہ اترتیں۔۔۔ خراب انگریزی لب و لہجے رکھنے والیاں اسے جھلاہٹ میں مبتلا کر دیتیں۔

    کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک پرانی سہیلی سے مریم بازار میں ملی۔ اس وقت مریم بڑے اسٹائل سے ملک شیک پی رہی تھی۔ ایک سیاہ کار زناٹے سے گزری، پھر کچھ آگے بڑھ کر سکرچیں مارتی کار رکی اور پوری اسپیڈ سے REVERSE میں لوٹی۔ مریم تھوڑا سا گھبرا گئی۔ اخباروں میں دہشت گردی کے واقعات پڑھتے پڑھتے اس کا دھیان اب خیر کی طرف کم ہی منعطف ہوتا تھا۔ کار اس سے تھوڑی ہی دور جا کر رکی۔ ایک نوجوان عورت اس میں سے برآمد ہوئی۔۔۔ سیاہ لباس، سیاہ چشمہ، سیاہ سوئیٹر، چہرہ بلیچ شدہ، بالوں میں STREAKS، چہرے پر میک اپ ماسک کی طرح چپڑا ہوا۔۔۔ مریم کی سہیلی کسی بیوٹی کلینک کا ماڈل نظر آ رہی تھی۔

    آصفہ نے بھاگ کر ملک شیک پیتی مریم کو جھپی میں لے لیا۔ پھر اسے گھما پھرا کر دیکھا۔ محبت سے دائیں گال کو چوما اور بڑے جذبے سے انگریزی میں بولی، ’’بھائی مریم کہاں ہوتی ہو تم۔۔۔ میں نے تو کئی دوستوں سے پوچھا۔ کسی کے پاس سے نہ تمہارا فون نمبر ملا نہ ایڈریس۔ اولڈ گرلز کے فنکشن میں بھی تم نہیں آئیں۔ کمال ہے۔۔۔ تم تو مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہو گئیں سنگدل۔‘‘

    ’’میں تو یہیں تھی لاہور میں۔۔۔ میرا تو مستقل ایڈریس بھی وہی ہے جو کالج میں تھا۔‘‘ آصفہ نے ابرو اٹھا کر تعجب سے کہا، ’’یہ کالج والے بھی عجیب ہیں۔ ایک اولڈ اسٹوڈنٹ کا پتہ نہیں کر سکے۔‘‘ پھر آصفہ نے کار میں اچھل کود کرتے اپنے بچوں کو ڈانٹ پلائی، ’’دو منٹ تم لوگ آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔ کیا قیامت آگئی، چپ چاپ بیٹھو ورنہ پٹائی ہوگی۔۔۔‘‘ بچوں پر برس کر وہ تازہ مسکراہٹ لیے مریم کی طرف متوجہ ہوئی، ’’یار اس کارٹون چینل نے تو بچوں کی سائیکالوجی ہی بدل دی ہے لیونارڈو آرام سے بیٹھو۔۔۔ ماما آرہی ہے۔۔۔‘‘ پتہ نہیں بچے تین تھے کہ چار لیکن سارے ہی تھوڑی دیر کے لیے دبک گئے۔

    ’’تمہارے کتنے بچے ہیں مریم۔۔۔‘‘ آصفہ کی جانب سے سوال آیا۔ جب بھی یہ سوال مریم سے پوچھا جاتا تھا وہ عجیب طرح کی خفت محسوس کرتی گویا وہ جسمانی طور پر کسی قسم کی نااہلیت میں مبتلا تھی۔ چند لمحے توقف کے بعد مریم بولی، ’’میرے بچے۔۔۔؟ میری تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔۔۔‘‘

    ’’تت تت تت۔۔۔ بھئی جلدی کرو، زیادہ دیر نہ ہو جائے۔ یہ بے حیا مرد لوگ بھی نوجوان بلونگڑیاں پسند کرتے ہیں۔۔۔ تم کیا سوچ رہی ہو آخر۔۔۔؟‘‘ مریم کچھ ہل سی گئی، ’’سوچ کچھ نہیں رہی، میرے مطلب کا آدمی ابھی ملا نہیں۔۔۔ ایویں کیویں کے ساتھ زندگی خراب ہوگی۔۔۔‘‘

    آصفہ نے چلا کر اپنی اچھلتی کودتی فوج کو دبکا مارا، ’’نوٹنڈو، بہت مار پٹے گی گھر چل کر، آرام سے بیٹھو سب۔‘‘ پھر وہ مریم کو تنقید بھری نظروں سے دیکھ کر بولی، ’’ہم دونوں کی سال گرہ ایک ہی دن آیا کرتی تھی، یاد ہے نا کیفے ٹیریا میں سال گرہ منایا کرتے تھے، تھرٹی کی تو ہو گئیں ہم دونوں اب، سوچ کیا رہی ہو مس پڑھاکو۔‘‘

    ’’سیلولر فون کی ایک کمپنی میں کام کرتی ہوں، مجھے اچھی تنخواہ ملتی ہے۔‘‘ جھینپ کر مریم نے اپنی وجہ عزت بیان کی۔

    آصفہ نے نچلا ہونٹ دانتوں میں دبایا۔ پھر ٹاپک بدل دیا۔ تھوڑی دیر وہ پرانی سہیلیوں، کالج کی پروفیسروں، سیاسی حالات کی باتیں کرتی رہیں۔ اتنی دیر میں بچوں نے ہارن بجانا شروع کر دیا۔ بھس میں شادی کی چنگاری ڈال کر اللہ حافظ کہتی ملین ڈالر کی مسکراہٹ بکھیرتی آصفہ اپنے سوپر مین، مائیکل اینجلو، نوٹنڈو، بیٹ مین لے کر رخصت ہو گئی۔

    بہت سارے وعدوں کے باوصف دونوں پھر ایک دوسرے کو مل نہ پائیں۔ موجود ہ عہد کی زندگی نے جہاں اور بہت ساری چیزوں کو ختم کر دیا تھا، وہاں یہ ذاتی فراغت کی موت کا باعث بھی ہوئی تھی۔ کھاتے پیتے گھرانوں میں بنک، مارکیٹ، سوشل فنکشن، فیشن، سیاحت کے لیے تو وقت تھا لیکن کتاب پڑھنے، میل جول کے لیے وقت نہ چھوڑا تھا۔ بچے بوڑھے بری طرح متاثر ہو رہے تھے۔ مصروفیت ہی اس قدر تھی کہ معاشرے کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور وہ بدل بدلا کر رہ گیا۔ آصفہ سے ملاقات کے بعد مریم سنجیدگی سے سوچنے لگی کہ کہیں اب واقعی دیر نہ ہو گئی ہو۔ آصفہ کے بچے دیکھ کر اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔

    اب تک جتنے امیدوار وہ مسترد کر چکی تھی سب کو سنی سنائی پر REJECT کیا تھا۔ کبھی کسی سے ملاقات نہ کی تھی۔ اس قدر ضرور ہوا کہ مریم بر دکھوے کی رسم پر مان گئی اور پہلی بار مسرت نے سکھ کا سانس لیا کہ کم از کم مریم نے اتنی حامی تو بھری کہ ٹرولی دھکیلتی اندر ڈرائینگ روم میں آجائے گی۔ ساری عمر تو وہ اسے چیپ حرکت سمجھتی رہی۔ اب خود بر دکھوے میں شامل ہو کر جواب دے گی۔ فوراً مسرت نے فون ملایا اور حلیہ نویس طاہرہ سے تفصیل کے ساتھ مریم کی پسند اور ناپسند کی اطلاع دی۔ ڈاکٹر فضل اگرو بھی اب تک مریم کے معاملات کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ مریضوں کو اب وہ ایک اور نظر سے دیکھتے پرکھتے اور پھر گھر پر طاہرہ کو انفورم کرتے۔ یہ دونوں بڑے دو اور دو چار قسم کے پریکٹیکل لوگ تھے لیکن ذرا سے چھوٹے واقعے نے انہیں گویا مریم کے گوڈ فادر اور گوڈ مدر بنا دیا۔

    ان ہی دنوں ایک شائستہ سے بزرگ طاہرہ سے کلینک پر ملے۔ یونس صاحب دس سال ہوئے سول سروس سے ریٹائر ہو کر کئی بیماریوں کی سنگت میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے تھے۔ باریش سرخ و سفید، دراز قد پیر مرد ڈاکٹر صاحب کے کلینک پر آتے۔ تمام مریض بھگت جانے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کرتے۔ انہیں بلڈ پریشر اور شوگر کی تکلیف تھی ہی لیکن اس کے علاوہ جوڑوں کا درد، گلے کی شکایت، قبض، اسہال، نیند کی کمی، نیند کی زیادتی، گیس ایسی کئی علتیں بھی ساتھ تھیں جن کی وجہ سے عام طور پر انہیں ڈاکٹر فضل اگرو کے پاس آنا پڑتا۔

    ’’یہ میری بیوی ہے سر طاہرہ۔۔۔‘‘

    ’’سلام علیکم سلا م علیکم۔‘‘ یونس صاحب بولے۔

    ’’آ پ تو غالباً سب سے بعد میں دکھائیں گے؟‘‘ ڈاکٹر صاحب نے سوال کیا۔

    ’’جی جی۔۔۔‘‘ بوڑھا یونس کلینک کو غالباً کلب کے طور پر بھی استعمال کرتا تھا۔

    ’’تو آپ اور طاہرہ وہاں صوفے پر بیٹھیں، میں کافی بھجواتا ہوں۔۔۔‘‘ طاہرہ اور یونس صاحب لمبے صوفے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ جلد ہی طاہرہ کو احساس ہوا کہ یونس صاحب کی زبان بات کرنے کو ترسی ہوئی ہے۔

    ’’میں یہاں قریب ہی رہتا ہوں۔ وائف پچھلے سال فوت ہو گئیں۔ اب شدید تنہائی ہے۔۔۔ بارہ کنال کی کوٹھی۔۔۔ غسل خانے ریلوے اسٹیشن کے غسل خانوں سے مشابہہ ہیں۔ کسی کا شاور چلتا ہے تو رکتا نہیں۔۔۔ ڈبلیو سی ایسے رستے ہیں کہ ٹائلز میں اورنج رنگ کا زنگ لگ گیا ہے۔۔۔ ٹائلیں چکٹ۔۔۔ پردے گرا چاہتے ہیں۔ قالینوں پر چلو تو مٹی دھب دھب اٹھتی ہے۔ جب گھر والی نہ رہے تو گھر کہاں رہتا ہے۔‘‘

    ’’بچے وچے۔۔۔ یعنی کوئی بہو وغیرہ۔۔۔‘‘ کافی کا چھوٹا سا گھونٹ پی کر طاہرہ نے سوال کیا۔ لیکن بن سنے یونس صاحب بولتے چلے گئے، ’’ دو مالی رکھے ہیں۔ آپ کسی دن ڈاکٹر صاحب کو لے کر آئیں۔ سارا گھر جھاڑ جھنکار بن چکا ہے۔ ہمارے ابا شکاری تھے۔ گیلری، ڈرائینگ روم، کھانے کے کمرے میں حنوط شدہ شیر چیتے، ہڑیال ٹنگے ہیں۔ کہیں دیواروں پر، کہیں سیڑھیوں پر۔۔۔ یوں لگتا ہے ہم جانوروں کے میوزیم میں آگئے ہیں۔۔۔‘‘

    ’’تو آپ انہیں اٹھوا کر کسی علیحدہ کمرے میں رکھوا دیجئے۔۔۔‘‘

    جھریوں بھرے بڈھے نے سفید ہاتھوں کو مل کر جواب دیا، ’’اب ہم ٹھہرے پرانے آدمی، اتنی آسانی سے ماضی کے ساتھ رشتے بھی نہیں توڑ سکتے۔ جہاں ابا ان جانوروں کو لٹکا گئے ہیں، وہیں بھلا لگتا ہے۔۔۔ اگر اٹھوا دئیے تو ہم ہی بے وفائی کریں گے ابا کے ساتھ۔۔۔‘‘

    ’’کوئی بیٹی۔۔۔ بہو۔۔۔؟‘‘ طاہرہ نے پھر پوچھا۔ لیکن وہ اپنی روانی میں بولتے گئے، ’’رات کے وقت باہر نکلیں کمرے سے تو لگتا ہے جانور زندہ ہو گئے ہیں۔ کوٹھی کے خالی کمروں میں بھاگےپھرتے ہیں حنوط شدہ۔۔۔‘‘

    ’’لیکن۔۔۔ آپ کسی کو ساتھ رکھیے نا۔۔۔ یہ تو بری بات ہے۔‘‘ اب طاہرہ، یونس صاحب پر بھی ویسا ہی ترس کھانے لگی جیسا اسے مریم پر آتا تھا۔

    ’’میں نے شکاگو خط لکھ دیا ہے اپنے بیٹے کو۔۔۔ وہ ڈاکٹر ہے وہاں۔۔۔ اکلوتا ہے بڑا سعادت مند۔۔۔ سب کام وام چھوڑ کر آرہا ہے۔ اس کے آنے پر سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔‘‘ طاہرہ کو اس بوڑھے کی رجائیت پر ترس آگیا۔۔۔ اگر ڈاکٹر واپس بھی آجائے تو اس بات کی کیا گارنٹی کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ آواز گرا کر یونس صاحب بولے، ’’کسی کسی رات کو لگتا ہے کہ جانوروں میں جان پڑ گئی ہے اور وہ خالی کمروں میں دندناتے پھرتے ہیں۔۔۔ اچانک ریچھ کی ڈفلی بجنے لگتی ہے۔۔۔ شیر گرجتا ہے۔ چیتوں کی چاپ سنائی دیتی ہے۔۔۔ عجیب قسم کا خوف آتا ہے۔۔۔‘‘

    طاہرہ کو یونس صاحب کی حالت پر رحم آنے لگا! کافی کی پیالی تپائی پر رکھ کر یونس صاحب آہستہ سے بولے، ’’میرا خیال ہے کہ بیٹی کے پاس کراچی چلا جاؤں، وہ بڑے اصرار سے بلاتی ہے۔۔۔ لیکن گھر جوائی کی کیا عزت ہوتی ہے بھلا گھر سسرے کس باغ کی مولی۔۔۔‘‘ پیر مرد نے اپنے اوپر ہنسنا چاہا لیکن اس کا منہ لٹک سا گیا۔ یونس صاحب کو ایک مدت کسی سے بات کیے ہو چکی تھی۔ اسی لیے وہ سرپٹ زبان سے اپنی تنہائیوں کی داستان بغیر کوما، فل اسٹاپ کے سنانا چاہتے تھے۔

    ’’کیا آپ کا بیٹا یہاں ایڈجسٹ ہو جائے گا۔۔۔؟‘‘

    یونس صاحب نے مسکرا کر کہا، ’’پہلے مشکل یہ تھی کہ وہ شادی پر رضامند نہیں تھا۔ اب مان گیا ہے۔ اس کی بیوی اسے اپنے وطن میں ایڈجسٹ کرائے گی۔۔۔‘‘

    طاہرہ کے دل کی گھنٹی بجی۔۔۔ پالیا۔۔۔ اس نے اندر ہی اندر ارشمیدس کی طرح نعرہ لگایا۔۔۔ شکاگو کا ڈاکٹر۔۔۔ ہڈیوں کے علاج کا ماہر۔۔۔ بارہ کنال کی کوٹھی۔۔۔ نہ کوئی ساس نہ نندیں۔۔۔ اکیلا ایک سسر وہ بھی چند روزہ۔۔۔ آزادی ہی آزادی۔۔۔ راج ہی راج۔۔۔ تمہاری تو گرینڈ پرکس لاٹری نکل آئی مریم۔

    ڈاکٹر معظم کے آنے سے پہلے طاہرہ اور مسرت کی لمبی ملاقاتیں اور فون پر لمبی باتیں ہوئیں۔۔۔ سعید بھائی اور ڈاکٹر فضل اگرو بھی پہلے کی نسبت ایک دوسرے سے گرم جوشی سے ملنے لگے۔ وہ سب ایک طرح کے یوفوریا میں مبتلا تھے۔ حتیٰ کہ دادی ماں بھی اپنی سہاگ رات، شادی کا جوڑا، سسرالی رشتے داروں کو بار بار زیادہ یاد کر رہی تھیں۔ ویسے تو لگتا تھا کہ الزائمر کی مریضہ تھیں اور پل بھر پہلے کی بات یاد نہیں رکھ سکتیں لیکن ان دنوں وہ پرانے ڈھولک گیت سنا کر سب کو حیران کر دیتیں۔

    شام ڈھل رہی تھی جب ڈاکٹر معظم اپنے بوڑھے باپ کا ہاتھ تھامے اندر آیا اور سعید بھائی کے پاس خاموشی سے بیٹھ گیا۔ دراز قد، پر اعتماد، گورا چٹا وجیہہ، دھیمی آواز میں بولنے والا، شلوار قمیص پہنے ہوئے تھا۔ تھوڑی دیر بعد جب مریم ٹرولی دھکیلتی اندر آئی تو اس نے بھر پور نگاہوں سے ڈاکٹر معظم کو دیکھا لیکن ڈاکٹر نے لمحہ بھر کو بھی نگاہیں اٹھا کر مریم کی جانب نہ دیکھا۔ ڈاکٹر فضل اگرو سے وہ بڑے تحمل کے ساتھ کسی مریض کی کیس ہسٹری ڈسکس کرتا رہا۔ مریم کو اگر ڈاکٹر نے دیکھ لیا تھا تو وہ محض اتفاقاً تھا۔ گھر لوٹنے سے پہلے یونس صاحب نے طاہرہ کو اپنی رضامندی سے بھی مطلع کر دیا۔

    رات گئے سعید بھائی کا فون آیا۔ نیم سوئی نیم جاگی۔ طاہرہ اس کال کے لیے تیارنہ تھی۔ پہلے اسے خیال آیا کہ کوئی رانگ نمبر رنگ ہے۔ سعید بھائی کی آواز سن کر اس نے اندازہ لگایا کہ غالباً وہ لڑکے والوں کی رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب سے سعید بھائی کی آواز آئی، ’’ہم لوگ بڑے شرمندہ ہیں طاہر ہ بہن۔۔۔ بلکہ مسرت تو مارے شرم کے فون بھی نہیں کر پائیں۔۔۔ ہمیں افسوس ہے کہ۔۔۔ ہم یہ شادی نہیں کر پائیں گے۔۔۔‘‘

    ’’لیکن کیوں سعید بھائی۔۔۔ آخر وجہ؟‘‘

    سعید بھائی کی آواز آئی، ’’دیکھئے ڈاکٹر معظم کا بھی کوئی خاص قصور نہیں ہے۔ ملک سے باہر جا کر کچھ لوگوں پر رد عمل ہو جاتا ہے، اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے وہ زیادہ مذہب پرست ہو جاتے ہیں۔ اپنی پہچان قائم رکھنے کو وہ ضرورت سے زیادہ RIGID ہو جاتے ہیں۔ لیجئے جو شخص امریکہ میں رہ کر زکوٰۃ دیتا ہے۔۔۔ بینک کا سود نہیں لیتا۔۔۔ عورتوں سے آشنائی نہیں رکھتا۔۔۔ وہ تو پکا فنڈا منٹلسٹ ہوا ناں۔‘‘

    طاہرہ ذرا سی چڑ گئی، ’’کمال ہے سعید بھائی۔ غیر مسلم جو مرضی کہیں، آپ تو ڈاکٹر معظم کو کچھ نہ کہیں جی۔۔۔ اس کی تو دنیا بھی سنور گئی اور آخرت بھی۔۔۔‘‘ سعید بھائی کی آواز میں کچھ کھردرا پن آگیا، ’’اب اس جوانی میں داڑھی رکھے بیٹھا ہے تو بیوی کو بھی تو حجاب پہنائے گانا۔۔۔ ہم اس سے کیا امید رکھ سکتے ہیں۔‘‘ طاہرہ کو دھچکا لگا، ’’اس قدر خوب صورت، باپ پرست۔۔۔ شائستہ آدمی پھر کب ملے گا؟‘‘

    ’’بات یہ ہے طاہرہ بہن۔۔۔ سب کچھ ٹھیک ہے۔ ہمیں معظم پسند بھی آیا ہے لیکن اس نے ساری شام نظریں نیچی رکھیں۔ مریم کی جانب غور سے دیکھا تک نہیں۔ اب جو خود شرع کا اس حد تک پابند ہو، وہ بیوی سے بہت زیادہ توقعات رکھے گا۔ ہم نے مریم کو اتنی تعلیم اسی لیے تو نہیں دلوائی کہ وہ اکیسویں صدی میں اپنی نانی دادی کی زندگی گزارے۔‘‘

    ’’آپ کی ساری باتیں مجھے بڑی فروعی لگ رہی ہیں سعید بھائی۔۔۔ میں واقعی آپ کی بات سمجھی نہیں۔۔۔‘‘

    تھوڑی دیر فون پر خاموشی رہی پھر سعید بھائی کھنکار کر بولے، ’’طاہرہ ہمارا یہ خیال ہے یعنی مسرت، مریم اور میرا۔۔۔ کہ مذہب کے پیرو کار عام طور پر بڑے تنگ نظر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اول تورہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ شخصی آزادی قدم قدم پر مجروح ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جو شخص مذہب کے فریم ورک میں رہتا ہے وہ نہ تو اچھا انسان ہوتا ہے نہ شوہر۔۔۔ ہم ڈاکٹر معظم کی دل آزاری کرنا نہیں چاہتے۔ آپ مہربانی فرما کر انہیں طریقے سے انکار کردیں۔ بس ان کی دل آزاری بھی نہ ہو۔۔۔ اور انکار بھی ہو جائے۔۔۔ اس کے ابا کو میں خود سمجھا لوں گا۔۔۔ میرے نزدیک دل آزاری سب سے بڑا گنا ہ ہے۔

    ڈاکٹر معظم جیسے لوگ نہ خود آزاد ہوتے ہیں، نہ کسی اور کو آزادی دے سکتے ہیں۔ یہ خواہشات کو پورا کرنے کے بجائے انہیں دبانے کے درپے رہتے ہیں۔ ہم اپنی بیٹی کی شادی اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ وہ خوش رہے۔ گرفتار مذہب کا ساتھی بنا کر اسے آزمائشوں میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ انسان اپنی خواہشیں بھی پوری نہ کرے تو وہ یہاں آیا کیوں ہے۔۔۔؟‘‘ دوسری طرف سے فون بند ہوگیا۔

    صبح تک طاہرہ کروٹیں بدل کر سوچتی رہی کہ یونس صاحب کو کیا کہہ کر انکار کر ے۔۔۔ وہ بیچارے تو مریم کو دیکھ کر سمجھنے لگے تھے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ کیا نیو ورلڈ آڈر میں مذہب کی گنجائش نہ تھی۔۔۔ کیا ایسے لوگ جو مذہب سے وابستہ تھے آگے نہ بڑھ سکتے تھے۔۔۔ کیا نیو ورلڈ آرڈر صرف ہیومن رائٹس کی لاٹھی ٹیک کر چلنا چاہتا تھا؟

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY