Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قلم فروش!

محمد شہزاد

قلم فروش!

محمد شہزاد

MORE BYمحمد شہزاد

    ”اب تعلیم جاری نہیں رکھ سکتا!“ سلیم نے اپنے دوست وارث سے کہا۔ اس کے چہرے سے اداسی اور بے بسی جھلک رہی تھی۔

    ”کیوں؟“

    ”یونیورسٹی کے اگلے سمسٹر کی فیس، ہاسٹل کی فیس اور دیگر اخراجات کے لیے پیسے نہیں۔ میرا تو کوئی بھائی بھی نہیں۔ بوڑھا باپ کب تک کھیتی باڑی کر کے میرا خرچہ اٹھائے گا۔ بی اے کر لیا۔ بہت ہے۔ کوئی چھوٹی موٹی نوکری تو مل ہی جائے گی۔“

    فکر نہ کر پیارے۔ میں دے دیتا ہوں پیسے۔“

    ”نہیں۔ میں پہلے ہی تیرا مقروض ہوں۔ میرے لیے تو بی اے بھی بہت فخر کی بات ہے۔ ہمارے خاندان میں تو کسی نے سکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔“

    ”فکر نہ کر۔ میں فیس بھر دونگا۔“ ہمیشہ کی طرح وارث نے آج بھی اسے تسلی دی۔ مگر سلیم نہ مانا۔ اچانک وارث کے ذہن میں ایک خیال آیا۔

    ”یار تو بہت اچھا لکھاری ہے۔ ادبی رسائل میں تیری کہانیاں چھپتی ہیں۔ اس آخری سمسٹر کی فیس میرے ذمے چھوڑ دے۔۔۔ قرض سمجھ کر۔ اچھا سا ڈرامہ لکھ کسی پرائیویٹ ٹی وی چینل کے لیے۔ یہ لوگ بھاری معاوضہ دیتے ہیں۔“

    ”اچھا مذاق ہے! میری پہنچ تو کسی چینل کے چپڑاسی تک نہیں۔ تو بات کرتا ہے ڈرامے اور بھاری معاوضے کی!“

    ”میں سوچ سمجھ کر کہہ رہا ہوں۔ غور سے سن۔ وہ اپنا کلاس فیلو ہے نہ رحمان۔ اس کی بہن سونیا سے میرا چکر چل رہا ہے۔ وہ بہت بڑے لکھاری کی بیٹی ہے۔ لیکن رحمان نے یہ بھید آج تک کسی پر نہیں کھولا۔ یہ بات مجھے سونیا نے بتائی۔۔۔“

    ”رحمان نے کیوں خفیہ رکھی ہوئی ہے یہ بات؟“ سلیم نے وارث کی بات کاٹتے پوچھا۔

    ”اگر تو میری بات نہ کاٹتا تو تجھے اس سوال کا جواب مل جاتا! دوبارہ ایسا نہ کرنا! سونیا اور رحمان کا باپ ہمارے ملک کا مصروف ترین ڈرامہ اور فلم رائٹر ہے۔ چند فلموں میں اداکاری بھی کر چکا ہے۔ بہت اثر و رسوخ والا ہے۔ میں عنقریب اس کا داماد بننے جا رہا ہوں۔ میں تجھے اس کے پاس لے کر جاؤنگا۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ تیری مدد نہ کرے۔“

    ”کون ہے اس کا باپ؟“

    ”یار وہ ہی۔۔۔ مشہور زمانہ شمر۔۔۔“ وارث بولا۔

    ”اچھا وہ بدتمیز جاہل۔۔۔“

    ”ہاں!“

    ”وہی کالا کلوٹا جس کے دانت سگرٹ کی نکوٹین سے زرد ہو چکے ہیں۔۔۔“

    ”ہاں وہی!“

    ”وہ جسے اتنی تمیز نہیں کہ کسی پروگرام میں شرکت کیسے کرنی ہے۔ وہ جو ہر پروگرام میں بھڑووں کی طرح کان سے سگرٹ نکال کر سلگاتا ہے اور اسے مکہ بنا کر کش لگاتا ہے۔ میزبان اور مہمانوں کے منہ پر دھواں چھوڑتا ہے۔ چاہے وہ عورت ہو یا مرد؟“

    ”ہاں ہاں!“ وارث نے جھنجھلا کر کہا۔

    ”یہ رحمن اس جاہل کا بیٹا ہے؟“

    ”ہاں یار اسی کا بیٹا ہے!“

    ”اور تو اس چوتیے کا ہونے والا داماد؟“

    ”ہاں ہاں۔ لیکن ہمیں اس سے کیا لینا دینا؟ میں اس کی بیٹی سے شادی کر رہا ہوں۔ اس سے نہیں۔“

    ”یقین نہیں آتا رحمن جیسا نفیس انسان اس ذلیل کا بیٹا ہو سکتا ہے؟“

    ”اس میں حیرت کی کیا بات ہے۔ فرعون کے یہاں ہی موسی پیدا ہوتا ہے۔“

    ”تب ہی رحمن اپنی ولدیت ظاہر نہیں کرتا۔ ویسے یار میں اس شخص کو بالکل برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔“

    ”ابے تجھے کون کہہ رہا ہے برداشت کرنے کو۔ ہم نے اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔ تو ڈرامہ سیریل لکھ۔ شمر کے تعلقات ہیں۔ تجھے اتنے پیسے مل جائینگے کہ میرا سارا قرضہ بھی چکا دے گا اور آرام سے پی ایچ ڈی تک کر لے گا۔ تیرے باپ کو بھی کچھ کرنے کی ضرورت نہ رہے گی۔ گاؤں میں گھر بھی پکا بن جائے گا۔“

    ”میں اس شخص کو بالکل برداشت نہیں کر سکتا مگر ایک چیز میں اس کا فین ہوں۔۔۔“

    ”کیا؟“ وارث نے پوچھا۔

    ”یار یہ شمر ایک نمبر کا بددماغ، جاہل، گنوار اور بدتمیز ہے۔ جو منہ میں آئے بھونکنا شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن مجھے بہت خوشی ہوئی جب اس نے ساروی کی طبیعیت صاف کی۔“

    ”کون ساروی؟“

    ”یار وہ کالی موٹی بھینس جو لال ساڑھی اور بندیا لگا کر ٹی وی چینلز پر بھونک بھونک کر کہتی ہے میرا جسم میری مرضی!“

    اچھا وہ فیمی نازی ساروی سرمست جس کے بارے میں شمر کہہ رہا تھا ساروی تو بہت حسین ہے۔ ہر سانڈ تجھ پر مرتا ہے!“

    ”ہاں ہاں وہی ساروی! اچھے طرح جانتا ہوں اسے۔ چکلہ چلاتی ہے این جی او کی آڑ میں۔ مجھ سے ترجمے کرائے بیس ہزار کے اور ایک پیسہ نہ دیا۔ یہ تو حال ہے ہماری سول سوسائٹی کا۔“ سلیم بولا۔

    ”گولی مار ساروی کو۔ ایک ڈرامہ سیریل لکھ۔ کم از کم پانچ قسطیں لکھ۔ تجھے لے کر چلتا ہوں شمر کے پاس۔ وہ تجھے متعارف کرا دے گا کسی ٹی وی چینل پر۔ تیری ایک دو سیریلز ہٹ ہو گئیں تو وارے نیارے۔ کروڑوں میں کھیلے گا تو کروڑوں میں!“

    ”لیکن وہ مجھے کیوں متعارف کرائےگا؟ وہ تو انتہائی مغرور، بد دماغ اور موقع پرست انسان ہے۔“

    ”ابے میں اسکا ہونے والا داماد ہوں۔ میرے تو وہ نیچے لگا ہوا ہے!“

    *

    کچھ دن بعد سلیم اور وارث شمر کے پرتعیش لاؤنج میں تھے۔ وارث کی وجہ سے شمر سلیم سے اچھی طرح پیش آیا جو ناقابل یقین تھا۔

    ”برخوردار اچھا لکھتے ہو۔ کہانی میں دم ہے۔ مکالمے بھی جاندار ہیں۔ یہ بتاؤ کیا مزید پچاس ساٹھ قسطیں لکھ لو گے!“ شمر نے پوچھا۔

    ”جی کیوں نہیں۔ یہ بہت زبردست لکھاری ہے!“ سلیم کے بجائے وارث بولا۔

    ”بیٹے میں نے آپ سے نہیں پوچھا۔ اور آپ ذرا سونیا بٹیا کے پاس جائیے۔ ان کا حال چال پوچھیے۔ میں نے تنہائی میں کچھ سوال جواب آپکے لکھاری دوست سے کرنے ہیں۔“ شمر نے وارث کی جانب معنی خیز نگاہوں سے دیکھا۔ وارث پیغام سمجھ گیا اور لاؤنج سے باہر نکل گیا۔ اب کمرے میں صرف سلیم اور شمر تھے۔

    *

    چند برس بعد سلیم پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے قریب تھا۔ اب وہ ایک پیسے والا انسان تھا۔ وارث نے اسے شمر سے ملایا اور شمر نے دولت سے۔ مگر شہرت اسے نصیب نہ ہو سکی۔ سلیم کی لکھی ہوئی ہر فلم اور ڈرامہ سیریل ہٹ ہوئی مگر شمر کے نام سے۔ بھاڑ میں گیا نام۔ پیسہ ہونا چاہیے! غربت انسان کو مقروض کر دیتی ہے اور قرض ذلیل و رسوا۔ سلیم کے دماغ میں روز ایک سوچ آتی۔۔۔ وہ ایک قلم فروش ہے۔ ایک سوچ اور آتی۔۔۔ اسکی قلم فروشی لوگوں میں خوشیاں بانٹتی ہے۔ شمر کی طرح اس نے کسی کا حق نہیں مارا۔ وہ قلم فروش ہے ضمیر فروش نہیں!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے