سانکھیا یوگی

الطاف فاطمہ

سانکھیا یوگی

الطاف فاطمہ

MORE BY الطاف فاطمہ

    تب سری بھگوان نے یہ اُپدیش دیا:

    ’’سانکھیا یوگ اورکرمایوگ دونوں ہی مہاآنند کا کارن بنتے ہیں، پرنتودونوں میں کرمایوگ، سانکھیایوگ پربھاری ہے۔ ‘‘

    اور سری بھگوان نے یہ بھی کہاکہ کرمایوگی توسنیاسی ہے۔

    سری بھگوان، سانکھیایوگ، کرمایوگ اورسنیاس۔ آہ!

    ’’اوف، اوگوش، وہ کدھر گیا۔ کون تھا۔۔۔ ہوں۔۔۔ ذراسننے دو، میرے کان بہرے۔۔۔ مگر انسانوں کوکانوں سے نہیں، آنکھوں سے دیکھو۔۔۔ آنکھوں سے۔‘‘ وہ چلاّ رہاہے۔ اس کی آنکھیں سُرخ ہوکرباہرکواُبلی پڑتی ہیں، وہ اُٹھ کربیٹھنے کی کوشش کررہاہے، مگر۔۔۔ مگروہ نہیں اُٹھ سکے گا۔۔۔ نہیں، وہ نہیں اُٹھ پائے گا۔ ’’مگرمیرادل چاہ رہاہے دواؤں اورانجکشنوں سے بھری ہوئی یہ سفید ٹرے زور سے زمین پر دے ماروں۔۔۔ ‘‘

    اورہاں نہیں توپھراسے سمجھانے کا اور آخر کون سا طریقہ نکالوں۔ ہاں میں اسے سمجھانا چاہتی ہوں کہ تم نہیں اُٹھ سکوگے۔ اس وقت۔۔۔ اورشاید یوں بھی ہوکہ کبھی نہیں، مگر وہ نہیں سمجھے گا۔۔۔ اُف! میرے خدا! یہ میرا سر کیوں چکرارہاہے۔

    وہ لڑکھڑا کر کرسی پر بیٹھ گئی تھی اور پھر اس نے اپناسر کرسی کی چوبی پُشت کے ساتھ ٹیک دیا۔

    اور پھر وہ بھی چیختے چیختے خاموش ہوگیا۔

    اس نے اپنااُٹھتاہواسربے بسی سے تکیے پرٹکادیاہے۔

    سُرخ آنکھوں سے آنسوبہ بہ کرتکیے کے ملگجے غلاف میں جذب ہورہے ہیں۔

    اُس نے کرسی کی پشت پرسے سر اُٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھا ہے، جیسے وہ خیال کی دنیا سے نکل کر حقیقت اور عمل کی دنیامیں واپس آنا چاہ رہی ہو۔

    اوہ! اچھا یہ تھرمامیٹر ؟ ہیں۔۔۔ اس نے حیرت سے سپرٹ میں بھیگی روئی کے اندر کھونسے ہوئے تھرمامیٹر کودیکھاہے۔ تھرمامیٹر! اچھا تو اس کا مطلب یوں ہوا۔۔۔ اور اب وہ قطعی سوچ بچار اور خواب کی دنیا سے باہر آ چکی تھی۔ ’’ اے اِی اپنا منہ کھولو ذرا۔۔۔‘‘

    ’’ہوں ! ہیں کیا ہے بھئی۔‘‘

    بہت زورسے جھلاّئی آواز میں اس کی چیخ سن کروہ بھی جھلاّ گئی ہے۔

    ’’تم اتنا غُل کس لیے مچا رہے ہو۔ اس جگہ اوربھی بہت مریض ہیں۔۔۔ ‘‘اور پھر وہ اپنے لہجے کی ترشی پر ہنس دی ہے۔

    اتنی بات سننے اور سمجھنے کا ہوش کس کو ہے اور بلاکہے سنے تھرمامیٹراس کے منہ میں گھسیڑ دینے کے ارادے سے وہ اس کے اُوپرجھکی ہے۔

    ’’ارے ! تم رو رہے ہو!‘‘اُس نے افسردگی سے کہاہے اورخودہی جان لیاہے کہ اس کی بات کا جواب نہیں ملے گا۔

    سُرخ سُرخ آنکھیں بہت موٹی موٹی نظر آ رہی ہیں۔ ان کے گوشوں میں سے بہتے ہوئے موٹے موٹے اُجلے اُجلے قطرے کس سہولت سے بہ بہ کرتکیے کے ملگجے غلاف کو نم کر رہے ہیں۔

    وہ بے بسی سے تکیے پر سر اِدھر اُدھر رگڑ رہاہے۔ ’’ممی۔۔۔ماں۔۔۔ ماتا۔۔۔‘‘ وہ بڑبڑایا ہے۔۔۔ ایکاایکی پوری قوت سے دھاڑاہے۔۔۔ ’’مم ڈارلنگ۔‘‘ اس کے گلے کی رگیں چلاّنے کی وجہ سے پھُول آئی ہیں اوراس نے بڑی عاجزی سے سوال کیاہے، ’’تم مجھے نظرنہیں آرہی ہو۔ مم، کہاں ہو تم۔ ‘‘

    ’’ہاں میرے لال چندا، ہاں میرے راجا، یہ رہی مَیں تو۔‘‘

    یہ اندرہی اندرسرگوشیاں سی کون کررہا ہے۔ اس نے بڑی حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا ہے۔ سرگوشیاں بڑھ رہی ہیں، مگر یہ اس کی آواز کے جواب میں کون سرگوشیاں کر رہا ہے۔ تھرمامیٹراس کے ہاتھ سے چُھوٹ کرفرش پر گر پڑا ہے۔

    نحن اقرب الیہ من حبل الورید۔۔۔

    ’’ہم تواس کی رگِ گُلوسے بھی نزدیک ہیں۔۔۔ اوربیٹا، اللہ تویہ کہتاہے کہ میرا بندہ جب بھی مجھے تڑپ کر آواز دیتا ہے، تومَیں اسی وقت اس کوجواب دیتاہوں۔ وہ تو ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے۔۔۔‘‘ اوراب یہ کس کی آوازہے۔ وہ اوربھی سراسیمہ ہوگئی تھی۔ یہ تواس کی اپنی ماں کی آواز تھی جو کتنے ہی سال ہوئے فضامیں تحلیل ہوکر فنا ہو چکی تھی۔ خدایا!یہ سب کیاہے، کہیں مَیں پاگل تو نہیں ہورہی ہوں۔اس نے چکرا کر اس کے پلنگ کاکٹہرا پکڑ لیا۔

    ’’مم۔۔۔ مم ڈارلنگ۔‘‘ وہ پھربے قراری سے چلاّیاہے۔

    ’’ہاں میرے لال۔‘‘

    اور بالآخر اس کو جوابی سرگوشی کا کھوج مل گیااور یہ کتنی معمولی سی بات تھی۔

    خدا، بندہ، ماں، ماتا، مم اور وہ خودہی مل کرتوایک اکائی بنے ناں۔۔۔

    چناں چہ وہ بے قراری سے اُس پرجھک گئی۔ اس نے اپنی نرم نرم انگلیوں میں ان موٹے موٹے اُجلے قطروں کوجذب کرنے کی کوشش کی ہے۔

    ’’ماتا۔۔۔مم۔۔۔‘‘ وہ ایک چھوٹے بچے کی طرح سسکاہے۔

    ہاں میرے لال۔۔۔ ایک لفظ بولے بغیر اس نے خود اپنی آوازسنی ہے اور اس کویوں محسوس ہوا ہے جیسے اس کی پلکوں کے اس طرف برکھا سی ہوئی ہو۔

    ’’میں کرما یوگی نہیں بن سکا اور وہی تو سنیاس کا درجہ پاتا۔۔۔ میں سانکھیا یوگی۔۔۔ اوہ! ہائے مم۔۔۔ میں اُٹھ کربیٹھناچاہتاہوں۔۔۔ میں اُٹھ کربیٹھوں گا۔‘‘ اس نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھ کر التجا کی ہے۔

    ان آنکھوں میں کتنی بے ہوشی ، بے خودی اوراپنی حالت سے لاعلمی ہے۔ کسی محاذ پر سے آتی ہوئی توپوں کی دھس دھس کی آوازسے قدموں تلے کی زمین لرزتی معلوم ہوتی ہے۔

    لیکن بالآخر ہمیں اور ہر کسی کو اپنی ڈیوٹی پوری کرنی ہی پڑتی ہے کہ عمل، علم اورسوچ سے بہرطور افضل ہے۔

    تیسرے پہر جب وہ راؤنڈ پرآئی، تووہ صبح کے مقابلے میں پُرسکون تھا اور تیسرا قیدی بہت شور مچا رہا تھا۔ لیکن وہ پُرسکون ہونے کے باوجود بھی غفلت میں تھا اور ابھی اس نے کوئی گڑبڑکیے بغیر تھرمامیٹرمنہ میں لے لیا تھا۔ اور جب اس نے ٹمپریچر دیکھنے کے لیے اسے آنکھوں کے سامنے کیا، تو وہ پھر سے اپنی زیرِ لب گفتگو کا سلسلہ جوڑ چکا تھا۔

    "You know Mum, Karma Yogi is the Yoga of action, and is superior to knowledge."

    اس نے خاموشی سے دوا کا آؤنس اس کے منہ میں انڈیل دیا۔

    ’’اونہہ! کیا بدتمیزی ہے۔‘‘وہ جھلا گیا۔

    ’’You know I never drink. ۔تم کیا جانو، میں نے میّاسے وعدہ کیا ہوا ہے۔‘‘ پھر وہ اونچی آوازمیں بولا: ’’مم اور ہے، اور میّا اور۔۔۔‘‘

    ’’میّا، یہ میّا کون ہے۔ ‘‘ اس نے تھرمامیٹر کو جھٹکااور سپرٹ سے بھیگی ہوئی رُوئی میں کھونس دیا۔

    ’’سو جاؤ۔‘‘ اس نے اس کی موٹی موٹی سُرخ آنکھوں کی طرف اشارہ کیا۔ ’’آنکھیں بندکرلو!‘‘

    ’’آنکھیں بند کرلوں! آنکھیں بند کر لوں!‘‘ وہ غنودگی کے عالم میں دھیرے دھیرے بڑبڑایا، ’’مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ‘‘

    اب تو اس کی آواز بتدریج بلند ہو رہی تھی۔ ’’اب میرا ہنٹر ٹھیک لاہور کی فضا پر پرواز کررہا ہے۔ ہاں میں نقشے میں صاف دیکھ رہا ہوں۔ میرے ایک طرف نیلا آکاش ہے اوردوسری طرف دھرتی۔۔۔ اوراب مَیں بمباری کے لیے بالکل تیارہوں، مگرمشکل تویہ آن پڑی ہے کہ مَیں کچھ سونچ رہا ہوں۔۔۔ مَیں کچھ نہیں کر پا رہا ہوں۔۔۔ مَیں سونچ رہاہوں۔۔۔ مَیں جانتا ہوں کہ حرکت اور عمل، سونچ سے افضل ہے، پھر بھی مَیں سونچ رہاہوں اور اس جیٹ نے مجھے آ لیا ہے۔۔۔ خیر دیکھا جائے گا، مگر مَیں ائیریفنگ کیوں نہیں شروع کردیتا۔ ‘‘ وہ زورسے چیخا ہے، ’’مجھے ایئریفنگ کرناچاہیے۔ ‘‘

    پھراس کی آوازمیں سراسیمگی آگئی۔

    ’’اب میرے ہنٹر کا دایاں بازو جل رہا ہے۔ ‘‘

    ’’میّاجی، اب بھی بتا دو نا۔۔۔ تم کدھر ہو۔۔۔‘‘ اس کی آوازمیں بڑی بے کسی تھی۔ اور پھر اس نے اس کی نبض ٹٹولتی ہوئی انگلیوں کو جھٹکادیا۔

    چھوڑو یار، کیامذاق ہے۔

    یہاں اس سی ایم ایچ میں کتنی افراتفری اورکتنا ہنگامہ ہے۔ کتنی مستعدی اور تاسف ہے۔ کتنی آہیں اورکرب ہے۔

    محاذ پردغتی ہوئی توپوں کی مسلسل آوازیں چلی آرہی ہیں۔ ان سے کہہ دو،اب ساری گنجائشیں ختم ہوچکی ہیں۔

    مَیں یہاں ہوں، لیکن یہاں اوروہاں میں کیا فرق ہے۔ یہی ہذیان ، یہی غفلتیں اور کرب۔ یہی ڈاکٹروں کی خاموش بے حس مستعدی اورنرسوں کی سردسرد شفقتیں، دل جوئی اور بے شمار آوازیں۔

    ’’ا چھا،ا چھا، یہ سورہاہے۔ ہی ازسوینگ اینڈ ہینڈ سم۔ اچھا یہ سپائنل کورڈکاکیس ہے۔‘‘

    ’’پھرکیااپنی اصل حالت پر آ سکے گا؟‘‘

    ’’کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ‘‘

    ’’پھربھی اس کوپورا آرام اور توجہ ملنی چاہیے۔ پُوربوائے۔Poor Brave Boy‘‘۔

    تم کون تھے؟ تمہاری آواز میں اتنی نرمی اورہمدردی کیوں تھی؟ مَیں تم کو دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔ کاش! مَیں آنے والوں کی آہٹ پر اپنی آنکھیں بند کرکے سوتا نہ بن جایا کروں۔ پھر یکایک ہی اس کو غصہ آ گیا۔

    ’’نہیں، مَیں بالکل ٹھیک کرتاہوں جو آنکھیں بندکرلیتاہوں، مَیں تمہاری شکلیں نہیں دیکھنا چاہتا۔ تم لوگوں کی آنکھوں میں نرمی کیوں ہوتی ہے، تمہاری آوازمیں میرے لیے ہمدردی اور تاسف کیوں ہے اورتم لوگ مجھے خصوصی توجہ کیوں دے رہے ہو۔ کیاتمہارے کان بہرے ہوچکے ہیں۔ کیاتم ان دھس دھس کی آوازوں کونہیں سن رہے ہو جو محاذ کی طرف سے آرہی ہیں۔ تم سب مل کر میرے ساتھ زیادتی کررہے ہو۔ یہ دیکھومیری بانہہ میںGiving Set کی سُوئی کانشان ہے جس کے ذریعے تم نے میرے اندر جوان اور توانا خون پہنچایا ہے۔ میری بانہہ اس خون کی آگ سے اب تک جل رہی ہے۔ یہ خون تمہارا تھا، تمہارے کسی جوان کاجس کے لیے میں اپنے ہنٹرمیں بیٹھ کر ہلاکت اور موت لایا تھا۔

    کیا تمہاری آنکھیں ان ٹرکوں کونہیں دیکھتیں جن میں گاجرمُولی کی طرح بھربھرکر تمہارے زخمی اور شہید آرہے ہیں۔

    آؤناں۔ پھرتم میرے منہ پرآکرتھوکتے کیوں نہیں۔ تم مجھے سے یہ کیوں پوچھتے ہو، تمہیں کچھ چاہیے تو نہیں۔ آؤمَیں بتاؤں مجھے تمہاری نفرتیں اور ملامتیں چاہئیں۔ آؤمجھ سے نفرت کرو۔۔۔اس لیے کہ مَیں کرما یوگی نہیں ہوں۔۔۔ اور سانکھیا یوگی کا مرتبہ کرما یوگی سے کم ہے۔ آہ ! مجھے سنیاس نہیں مل سکا۔

    ‘‘اوہ بھئی۔ تم پھرچیخ رہے ہو۔ تم پھرہذیان بک رہے ہو۔ ‘‘اس کے قدم دروازے میں داخل ہوتے ہوتے رک گئے۔ ’’آخرتمہیں ہوش کب آئے گا۔ ‘‘

    بکتے بکتے وہ پُرسکون ہو چلا تھا۔ اور اب وہ سن بھی سکتا تھا۔ وہ ڈاکٹرسے کہہ رہی تھی، ’’سر، یہ کسی کسی وقت ہوش میں آجاتاہے اور بالکل سکون سے لیٹارہتاہے۔ پھراچانک ہی بکنے لگتاہے۔ اتنی عجیب عجیب کہ۔۔۔‘‘

    بیڈ ریسٹ کے سہارے اونچا ہو کر مَیں اس سامنے والی کھڑکی سے باہر دیکھ سکتا ہوں اور اس کھڑکی کے اس طرف مجھے کتنی بہت سی جانی پہچانی چیزیں نظر آرہی ہیں۔ نیلے آسمان کا وہ کونا۔۔۔ گُل مہراوراملتاس کے درختوں کی پھننگیں اورسی ایم ایچ کی چاروں طرف پھیلی ہوئی عمارت کے کہیں کہیں سے اُبھرتے ہوئے دریچے اورستون اوران کے تلے بُھوری مٹّی والی زمین اور نیلے آکاش کے ساتھ ساتھ اُڑتے ہوئے چیل کوّے۔

    اوہ گوش، ان میں سے ایک چیزبھی توپرائی نہیں۔ مجھے ایساشک پڑتاہے جیسے آتی دفعہ یہ سب کاسب مَیں اپنے ہنٹرمیں رکھ لایا تھا۔ میرے ہنٹرمیں کوئی پائلٹ ، نیوی گیٹر اور کوئی بم نہ تھا۔ بس یہ نیلا آسمان تھا، بھوری مٹّی والی زمین تھی اورفضامیں تیرتے چیل کوّے۔

    اس نے پُرشوق اندازمیں بہ مشکل گردن کو قدرے بڑھا کر نظر کھڑکی سے اور آگے دوڑانے کی کوشش کی اور اسے عمارت کے درودیوار اور میدان کے درختوں کے اِدھر اُدھر چلتے ہوئے انسانوں کے اوپری دھڑ نظر آئے۔ چلتے ہوئے انسانوں کویوں چپ چاپ اور بے بس بیٹھ کر دیکھنا کتنا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ Really it is fun۔

    اس کی آنکھیں چلتے ہوئے انسانوں کا تعاقب کرتے کرتے ہانپ سی گئیں، جیسے انہیں پسینہ سا آگیا ہو۔

    ارے آج پھران سُرخ سُرخ ڈوروں والی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہیں۔ شکر ہے یہاں اس سائیڈروم میں آکر اس کی بکواس تو بند ہوئی اور اب یہ کچھ Improve بھی تو کررہا ہے اور وہاں وارڈ میں تواس نے دوسرے مریضوں کا سکون اُڑا رکھا تھا۔

    آج اس کو پھر اس پر ترس آرہا تھا۔ ’’کیوں، کیسی طبیعت ہے؟‘‘

    ’’ٹھیک ہوں۔ ‘‘ اس نے بددماغی سے سر ہلا دیا تھا۔

    اسے اس کی خر دماغی پرکبھی کبھی حیرت ہونے لگتی تھی۔ کم بخت اتنا بھی نہیں سوچتاکہ مَیں ان کا قیدی ہوں، کوئی لاٹ صاحب تو نہیں ہوں۔۔۔ مگر خیر کھانا تو اس کو کھلانا ہی پڑتا تھا۔ وہ تو کھا نہیں سکتا تھا۔

    اورپہلے د ن جب وہ کچھ کچھ ہشیار تھا،اپنے کھانے کو بغور دیکھ کر بگڑ گیا تھا۔

    ’’یہ کیا ہے؟‘‘

    ’’کھانا ہے اور کیاہے۔ ‘‘وہ بھی اس کی بددماغی پر چڑ گئی۔

    ’’مگریہ۔۔۔ یہ کھانا قیدی کا کھاناہے؟ تم لوگ کہیں گھاس تو نہیں کھا گئے ہو۔۔۔ ‘‘ پھر وہ ایک دم غرایا تھا، ’’یہ قیدیوں کاکھانا ہے! تم لوگ میرامذاق اُڑارہے ہو۔ ‘‘

    ’’یہ مریض کاکھاناہے۔ ‘‘

    ’’مگرمَیں قیدی ہوں۔ ‘‘

    ’’تم پاگل ہو اورکچھ نہیں۔ ‘‘

    ’’پاگل تم ہو۔ یا پھر تم جنیوارولزکی پابندی کررہے ہو۔ ‘‘

    جہنم میں جائیں جنیوا رولز،یہ رولز، کاغذی قانون، بھلا پابندی کے لائق ہوتے ہیں؟ اس نے سوچا اور فقط اتنا کہا تھا، ’’یہ جینوارولز کی پابندی نہیں ہے۔ ‘‘

    ’’توپھرکیاہے؟َ ‘‘

    ’’سرہے تمہارا۔ مَیں تمہاری تیماردار کی حیثیت سے تم کو حکم دے رہی ہوں کہ جوکچھ تم کو کھلاؤں، چپ چاپ کھالو، ورنہ۔۔۔ ‘‘

    ’’ورنہ۔۔۔ کیا؟‘‘

    ’’مَیں اپنی ڈیوٹی دوسرے وارڈ میں لگوا لوں گی۔ تم کومعلوم ہے کہ ہمارے اتنے زخمی۔۔۔‘‘ اس کی آوازگلوگیرہوگئی تھی اورفیڈنگ کپ اس نے اُٹھا لیا تھا۔

    ’’قوم کے مردِ مجاہد، تجھے کیاپیش کروں۔۔۔ ‘‘

    کسی کے ٹرانزسٹرکی بچھڑی ہوئی آوازاس کھڑکی سے ٹکرائی تھی۔

    وہ خاموشی سے اس آواز کو سنتارہا۔۔۔ اورپھراس نے سرجھکالیا۔ ہواکی ایک اور لہر اس کی کھڑکی کے راستے اندرآئی۔

    ’’میرے نغمے تمہارے لیے ہیں۔۔۔‘‘

    ’’اگرزحمت نہ ہو تو یہ کھڑکی بندکردو۔ ‘‘

    ’’کیوں؟ کیا بات ہے؟‘‘

    اس کی نرم نرم آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوامڈ آئے۔

    اور وہ سوچ رہی تھی، ان آنکھوں میں آنسو کس آسانی سے آجاتے ہیں اور وہ ان میں بھلے بھی لگتے اور بھلا یہ سپاہی یعنی دشمن کی آنکھیں ہیں۔

    پھردوبارہ جب وہ اس کی خبر لینے آئی تووہ بڑے آرام سے سویا ہوا تھا۔ سوتے میں وہ ذرا بھی اڑیل ضدی اورالجھا ہوا نہیں معلوم ہو رہا تھااور نہیں معلوم اس کو یہ کیا خبط تھاکہ اکثر سوتے سے جاگتا یا غفلت سے ہوشیار ہوتا تو سوال کرتا ، مجھے کوئی پوچھتاہوا تو نہیں آیا تھا؟ کوئی بوڑھی عورت مجھے ڈھونڈتی ہوئی تونہیں آئی تھی؟

    اور اس کو بھلا یہاں کون پوچھنے آسکتا تھا۔

    ’’تم شاید بھول رہے ہو،قیدیوں کو ڈھونڈنے کوئی نہیں آیا کرتا ہے۔ ‘‘ ایک مرتبہ اس نے اس کو یاد دلایا تھا۔ پھر وہ بڑی دیرتک اس کے لیے کڑھتی رہی تھی، جو اپنے ہنٹر میں بیٹھ کر اس کے شہر پر آگ برسانے آیا تھا اور اب اپنے نچلے دھڑ کو خود سے حرکت بھی نہ دے سکتا تھا۔

    اب محاذوں پر سے توپوں کی آوازیں آنا بند ہوچکی ہیں اور نہ ہی رات کے سناٹے میں خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں آتی ہیں۔ اکتوبر کی نرم نرم سی دوپہر سرکتے سرکتے شام کنارے آلگی ہے۔ اُجالے ملگجے ہوتے جارہے ہیں اور شام کے دُھندلکوں میں چپ چاپ کھڑے درختوں کی آڑ سے شفق نمودار ہو رہی ہے۔۔۔ سُرخیاں نیلی نیلی سیاہیوں میں ڈوبنے سے پہلے پوری طرح اُبھر رہی ہیں۔ میں بیڈ ریسٹ کے سہارے اونچا ہو کر کھڑکی کے باہر دیکھ رہا ہوں۔۔۔

    باہرجہاں سڑکیں ہیں، دُھول ہے، مکان اور ان کی کھڑکیاں ہیں، گلیاں اور بازارہیں اور بازاروں میں چلتی ہوئی خلقت ہے، وہ سب لوگ ہیں جواپنے نچلے اوراُوپری دھڑوں کویکساں طور پر حرکت دے سکتے ہیں۔ یہی وہ آبادی ہے جس پرہلاکت اورموت کا تحفہ لے کر مَیں اپنے ہنٹر میں بیٹھ کر پوری تیاری اور پورے سازوسامان کے ساتھ آیا تھا اور میرا ہنٹر بہترین حالت میں تھا۔ اس کانیوی گیٹر فقط میرے بٹن دبانے کا منتظر تھا اور مَیں بغیر غلطی کیے ہوئے اپنی منزل پرپہنچ گیا تھا۔

    پھر کیا بات ہوگئی کہ سب کچھ ہوا، مگرمَیں وہ نہ کر سکا جو مجھے کرنا تھا۔ اب یہ نومبر کا مہینہ ہے اور مجھے ان کی نگرانی میں پلنگ پرلیٹے دومہینے ہو چکے ہیں اور اب نہیں معلوم کہ مَیں ان کا قیدی ہوں یا مریض۔

    یہ دشمن کا علاقہ ہے اور اس کھڑکی سے باہر کا پورامنظربھی اسی کاہے، مگرمجھے یوں لگتاہے جیسے یہ میرے ساتھ آیاہو۔۔۔دُورسے نظر آتی چھتوں کی چمنیوں میں بَل کھاتا دُھواں ہر طرف پھیلتا جارہا ہے اور اب مجھے نیند آرہی ہے۔ اسی طرح کھڑکی کی طرف تکتے تکتے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔

    ’’پتابھی ہے تم کتنی دیرسوئے؟ ‘‘ آج اس کی آنکھوں میں پھرغفلت اوربے خودی تھی۔

    ’’تم میری بات کاجواب دو۔ تم نے اس کو کیوں بھیج دیا۔ وہ آئی بھی اور واپس لوٹ گئی۔ وہ مجھ سے ملنے آئی تھی۔ ‘‘ وہ زورسے چیخا۔

    ’’بیرو، تم پھر بہک رہے ہو۔ ‘‘ وہ تشویش سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔

    وہ دھیرے دھیرے بڑبڑایا، ’’وہ آئی تھی اورانہوں نے اس کوواپس بھیج دیا۔ ‘‘

    ’’کون آیاتھا۔ کوئی بھی تو نہیں آسکتا۔ بیرو سنگھ، تم سمجھتے کیوں نہیں۔۔۔ تم کو کیاہو جاتا ہے بیٹھے بٹھائے۔ ‘‘

    ’’کون آتا!‘‘ وہ بگڑگیا۔ ’’میّا آئی تھی اورتم کواتناخیال نہیں آیا۔۔۔‘‘ اس کی آواز گھٹ گئی۔ ’’اوراب جو وہ پاس آگئی ، تو اُس کو بھیج دیا ۔ ‘‘

    ’’میّا! میّا کون ہے، بیرو ۔۔۔‘‘

    ’’میّاکون ہے۔۔۔ میّاکون ہے !‘‘ اس نے غنودگی میں دہرایا۔

    ’’سنو بیرو سنگھ، تم اپنے آنسو پونچھ ڈالو۔ ‘‘

    وہ جلدی سے باہرنکل آئی۔ اب انسان ہروقت تواس موڈ میں نہیں ہوتا کہ اپنے دشمنوں کے آنسو اپنی نرم نرم اُنگلیوں میں جذب کرے۔۔۔ کجلائے ہوئے آسمان کی نیلگوں سیاہیوں پر پھیلی شفق کو تکتے تکتے اس کومحسوس ہواکہ اس کی پلکیں بھیگ رہی ہیں۔

    اس نے اندرنظردوڑائی۔ وہ شاید سو رہا تھا۔ آنکھیں بند کیے اسی طرح بیڈریسٹ کے سہارے قدرے اونچا اُٹھا ہوا۔

    کھیلنے کودے دوں مَیں تیروکمان

    سواری کولے دوں مَیں دُلدُل ساگھوڑا

    گھوڑے پرنکلے گاجب چھوٹاسابیر

    کوئی کہے آیا مغل یا پٹھان

    ’’کنورصاحب کی رانی جی کی حالت بہت غیر ہے۔‘‘ جب ڈپٹی صاحب کے اردلی نے آم کے تلے بچھی ہوئی بانس کی کھٹیا پر درازہوتے ہوئے کہا تھا تواس کی بیوی نے اپنے سینے پرہاتھ مار لیا۔

    ’’ہائے میّا! غضب، ارے ابھی تو اس کا جاپا ہوا تھا۔‘‘ اور پھر آموں کے بُورکی میٹھی میٹھی مہک میں بسے کئی گہرے گہرے سانس لے ڈالے۔

    ’’ہاں تو اور کیا۔ اندر سے باہر تک اُلٹ پلٹ ہو رہی ہے اور بچے کا تو کسی کو ہوش بھی نہیں۔ ان کی کہاری کہہ رہی تھی، ایک طرف کو پڑا ہے۔ ‘‘

    ’’ہے ہے ننھی سی جان، بھوکوں مرجائے گی۔ ‘‘ اس نے اپنی گود میں لیٹے عظمو کو باپ کے پاس پلنگ پر ڈالااور نہرکے ساتھ والی پگڈنڈی پر ہوتی ہوئی سامنے بغیا میں جاگھسی۔ رات گئے جب رانی جی کو آکسیجن ٹینٹ میں لیٹا چھوڑ کر کنور بلیرسنگھ واپس آئے تومعلوم ہواکہ بیرو کو پٹھانی لے گئی ہے۔

    ڈپٹیائن نے ان کو اطمینان دلادیا۔ ’’بھیا، تم بے فکر رہو۔ اس کا بچہ کاہے کو بھوکا رہے گا۔ اس موئی کا تویہ ہے کہ پلاتی ہے، پلاتی ہے اور پھر دھاریاں بہتی ہیں۔ وہ اپنی خوشی سے لائی ہے اور یہیں ہمارے یہاں کمرے میں دونوں بچوں کو لیے لیٹی ہے۔ ‘‘

    اور کنور صاحب اتنے بے فکرہوئے کہ پھررانی جی گھر آ بھی گئیں، توبھی بیرو، میّاکی گود میں چڑھ کر آتا اور جو وہ ذرا کی ذرا ان کی گود میں دیتی، تو ہمک ہمک کر اُسی طرف لوٹتا۔ پہلے ایک دومہینے تو پٹھانی نے کوئی حساب کتاب یوں نہ کیا کہ رانی جی ہسپتال سے آئیں تو ان ہی سے بات ہوگی۔ وہ آئیں، تو وہ بکھرگئی کہ میرا اور بیرو کا معاملہ ہے، میں جانوں اور وہ جانے۔ بیرو بڑا ہوتا گیا، کنور صاحب کے نہ بچوں کی کمی پہلے تھی اور نہ اب، بیروکے بعد تین اور ہو لیے تھے۔ البتہ میّا کے تین بچے تلے اُوپر جاکر ایک عظمو ہی بچا تھا اور یوں بیرواور عظمو اور بھی میّا کی جان بن کر رہ گئے تھے ۔ رات گئے جب وہ اور عظمو کہانی سنتے سنتے پٹھانی کے اہلو پہلو لیٹ کر سوجاتے توکہاری بڑبڑکرتی سوتے بیرو کو لے جاتی کہ اس کاوزن کنورصاحب کے ہربچے سے زیادہ تھا۔

    ’’اے واہ کلموہی، خبردارہے جو میرے والے کو ٹوکا، کلّے چیر دوں گی۔ معلوم ہے شاہ جہاں پورکی بنروال پٹھاننی ہوں۔ ‘‘

    اوردوسرے دن وہ بیرو پر سے لہسن پیازکے چھلکے اورسُرخ مرچیں اتار کرچولہے میں جھونک دیتی، توخاں صاحب دھانس کے مارے کھانس کھانس کر دُہرے ہوجاتے۔

    ’’اری نیک بخت، کہاں کے ٹوٹکے ٹامنے کرتی رہتی ہے۔ ‘‘

    بیرواتنابے سرااوراُدھمی اُٹھ رہاتھاکہ کتنی بار رانی جی اس پر جوتی لے کرپل پڑتیں۔ ’’بیروہتھیارے نہیں مانتا، چل جادُور ہو اپنی میّا پاس۔ ‘‘

    ابھی وہ سات سال ہی کا ہوا تھا کہ اس کے لچھنوں سے ڈر کر کنورصاحب نے اس کونینی تال بھجوا دیا اور جس دن وہ جانے کے لیے میّاسے مل کر چلا تھا، تو میّاروتی ہوئی دُور تک اُس کو چھوڑنے آئی تھی۔

    پھرجب وہ چھٹیوں میں آتا، تواس کی اور میّاکی بن آتی۔ گُڑ کی گجک، میٹھے سیو اور لیارام دانے کی ہر وقت اس کی جیبوں میں ٹھسی رہتی اور وہ گلے میں میّا کا ڈالا چاندی میں منڈھا تعویذ کُرتے کے اُوپر مٹکائے پھرتا رہتا۔ سال بہ سال عید بقرعید پر میّا اس کاجوڑا لاتی اور محرم میں وہ باقاعدہ فقیربنتا۔

    ’’اے ہے نگوڑا، صورت سے بھی تومسلمنٹا لگنے لگا ہے۔‘‘ اس کی پھوپھی نے کتنی بار چل کر کہاتھا۔ ویسے توجوبھی رانی جی، میّا کے ساتھ سلوک کردیتیں، مگروہ دودھ پلانے کاحساب کبھی بھی نہ چُک پایاکہ میّا اٹھلا اٹھلا کربڑے غمزے سے کہتی،’’کیوں یہ کیسی رہی میری ہنڈی۔‘‘ پھروہ بیروکوکلیجے سے لگالیتی۔ ’’ذرا اس کو کمانے قابل ہو لینے دو۔ ذراآلینے دواس کی بہوکو۔‘‘پھروہ بڑے مان اورتحکم سے پوچھتی: ’’تیری بہو آکر کس کے پیر پوجے گی۔ میرے یاتیری ممی کے۔‘‘

    تووہ اٹھلاکرجواب دیتا:’’میّاکے۔ ‘‘

    پھراس مرتبہ چھٹیوں میں اور حسبِ دستور ڈپٹی صاحب والی بغیا میں تووہاں ڈپٹی صاحب تھے نہ میّاتھی اورنہ عظمو اورخاں صاحب، اورعظمو گدھا تواس کی امانتوں لٹّو اورچائے دانی کی ٹونٹی سمیت غائب تھا۔

    جب ممّی اس کے گھڑی گھڑی کے سوالوں سے تنگ آئیں، توآخرانہوں نے اس کو جھڑکا، ’’چلی گئی تیری میّا، اب نہیں آئے گی۔ بس کہہ جو دیا۔ سمجھتا کیوں نہیں پاکستان چلی گئی۔ چل میرا دماغ مت چاٹ۔ ‘‘

    مگرجونہی حالات ذراٹھیک ہوئے، میّا کے خط کبھی کبھار آنے لگے۔

    پھرجب اس کی بیماری کی خبرملی، تو میّانے اس کی ممی کوسخت الفاظ میں لکھا تھا:

    ’’تم نے اس کومحرم میں فقیر کیوں نہیں بنایا۔ مَیں نے تواس کی منّت اُٹھائی تھی۔ ‘‘

    یوں توممی اس کی کوئی خاص پروانہیں کرتی تھیں۔ شاید وہ اس کی لمبی بیماری سے اُکتا گئی تھیں کہ انہوں نے اس کولیٹے لیٹے ہراکُرتااور کلاوہ پہنا دیا تھا۔

    پھریوں بھی ہواکہ میّا ویزا پر آنے جانے لگی۔ پراُس کا ویزاشاہ جہان پورکا ہوتا تھا۔ وہاں توبس اپنی نند سے ملنے کے بہانے دوچار دن کو آتی۔ بیروسے اس کی ملاقات کم ہی ہوتی۔ وہ کبھی کالج میں ہوتا اور پھر ائیرفورس کی ٹریننگ پر۔ البتہ میّا کے لائے تحفے اس کومل جاتے، وہی اونگی بونگی سی چیزیں، چنے کی دال کاحلوہ، سونف والی روٹی، باجرے کی ٹکیاں اورکُھسّے۔

    اس مرتبہ وہ آئی، تو وہ اس سے ملا تھا۔ وہ ان دنوں چھٹی پر آیا ہوا تھا۔ ائیرفورس کی وردی میں اسے دیکھ کر پُھولی نہ سما رہی تھی۔ اس نے اس کی چٹ چٹ بلائیں لی تھیں اور اُٹھ کر اس کی پیشانی چُوم لی تھی۔

    ’’میّا، عظمو کہاں ہے؟ ‘‘

    ’’ اے بھیا، کرانچی میں رکشا چلاوے ہے۔ بڑا خوش حال ہے۔ دو لونڈے ہیں، لونڈیا گود میں ہے۔ ‘‘ میّانے قناعت اورطمانیت سے کہا۔

    ’’میّا تم کراچی نہیں رہتیں ؟‘‘

    ’’نہ بھیا میراجی گھبراوے ہے۔ بس چندا مجھے تو اپنا لاہور بھاوے ہے۔ مَیں تو جس دنا سے گئی، وہیں رہی۔ ‘‘ پھر وہ چمک کربولی، ’’بیرو،توکدی آناں لاہور،گنے کارس پلاؤں گی۔ سچ یونیورسٹی کے کول بڑا بدبھیا رس ملتا ہے۔ ‘‘

    ’’میّا اب پنجابن ہوچلی۔ ‘‘ وہ ہنسا۔

    وہ بھی ہنسی۔ ’’رانی جی اب کر دو نا اس کابیاہ۔ اب کے سے آؤں، تو بہو میری پاؤں پجّی کرے۔ ‘‘

    ’’بس میّا بہت رہ لی لاہور، اب آ جا اِدھرہی۔ ‘‘

    ’’نہ میاں مَیں پاٹ فوس پہ آئی ہوں۔ ‘‘

    ’’چل لااِدھر اپناپاٹ فوس، مَیں پھاڑدیتاہوں ۔ ‘‘

    جوتیری حکومت نے مجھے پکڑاتب؟‘‘

    ’’تب کہہ دوں گا،میری میّا ہے مَیں نہیں جانے دیتا۔ ‘‘

    ’’ارے توجُگ جُگ جیے، توآنا میری بہو کو لے کر لاہور۔ بیرو تُوتوہوائی جہازوں کا افسر ہے۔ اپنے جہاز میں بیٹھ کر آنا۔ ‘‘

    ’’چل ہٹ تیرے لاہور میں کیا رکھا ہے، سڑا ہوا تو تیرا لاہور ہے، نہ بھئی ۔ ‘‘

    ’’بیرو دیکھ میری تیری لڑائی ہوگی۔ تُو میرے لاہور کوکچھ نہ کہیو، توکیا جانے اس مٹی پہ تو ہم نے سجدے کیے ہیں۔ اس مٹّی میں توہماری مٹّی مل کرسوارت ہو جائے گی۔ ‘‘

    میّا کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوتھے۔

    بیرو کا دل کٹ کے رہ گیا۔

    ’’میّا ۔ ‘‘

    ’’ ہاں چندا۔ ‘‘ اس کی آواز اب تک گلوگیر تھی۔

    ’’مجھے اپنے گلاس میں پانی پلائے گی؟‘‘

    ’’پھرکان لاادھر،ایک بات بتا؟‘‘

    میّا نے پُھس پُھس کرکے اس سے کچھ پوچھا تھا۔

    اورممی اس راز و نیاز پر پیٹ ہلا ہلا کر ہنس رہی تھی۔

    ’’ تیری قسم، مَیں نے کبھی نہیں ، وعدہ جوہے تیرا میرا، پھر تُو مجھے دودھ جونہیں بخشے گی۔ ‘‘

    جس صبح میّا کو واپس جانا تھا، اس رات وہ اس کے سر میں تیل دبانے بیٹھی تو بیرو نے بڑے مان سے فرمائش کی،’’ میّا وہ لوری سنا دو ایک بار۔ ‘‘

    ’’ کیا ننھا بچہ ہے جو لوری سن کر سوئے گا۔ اب تو تیرے بیٹے کو سناؤں گی۔ ‘‘

    ’’ تُو میری میّا نہیں ہے۔۔۔ سچ میّا اتنا دل چاہتا ہے۔ ‘‘

    ’’ارے اب کہاں ہے گلے میں آواز۔ ‘‘

    دھیرے دھیرے بند ہوتی آنکھیں کھول کر اس نے اس بوڑھے اورجھریائے چہرے اور اس کے کانوں میں ہلتی چاندی کی بالیوں کودیکھا تھا۔

    گھوڑے پہ نکلے گا جب چھوٹا سابیر

    کوئی کہے آیا مغل یا پٹھان

    اوریہی تووہ آواز تھی جو اس کے ہنٹر میں ہر طرف چلی آرہی تھی۔ اس کاہنٹر اُڑن گھوڑاہی تو تھا جو میّا کے لاہور پرمنڈ لا رہا تھا۔ اس کو بار بار وہم سا ہو رہا تھا، جیسے میّا اسے آواز دے رہی ہو:

    بیرو مَیں نے تیرے لیے یونیورسٹی کے کول سے گنّے کا رس لا کر رکھا ہے۔

    اس کے جھریائے ہوئے چہرے پر چاندی کی بالیاں جُھول رہی تھیں۔

    گھوڑے پر نکلے گا جب چھوٹا سا بیر

    چھوٹا سا بیر۔۔۔چھوٹا سا بیر۔۔۔

    اب میرے جہاز کا پَرجل رہاہے اورمَیں وہ نہیں کر پا رہا ہوں جو مجھے کرناہے۔

    یہ مجھے کیا ہوا ہے جو اس کی مخصوص دواؤں کی ٹرے لے کر اس سائیڈ روم کی طرف چلی آتی ہوں۔ مَیں کیوں بھول بھول جاتی ہوں کہ اب یہاں وہ لال ڈوروں والی موٹی موٹی آنکھیں موجود نہیں ہیں۔ اب کوئی اس کھڑکی کے باہر چلتے پھرتے انسانوں کو شک کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ اب یہاں کوئی ہذیانی بڑ نہیں سنائی دیتی۔

    بیرو سنگھ ، تم نے کتنا شور مچا رکھا تھا۔

    پریہ ہوا کیا، تم اچھے بھلے ہوچلے تھے۔ پھر ایک دن اور ایک رات مسلسل بولتے رہنے کے بعد تم نے چپ سادھ لی۔ چلو یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔ اب تو یہ اقرار کر لینے میں کوئی حرج نہیں کہ میں اس چھوٹے سے سائیڈ روم کو خالی پا کر چونک پڑتی ہوں، تب مجھے اس مُڑے تُڑے کاغذ کی یاد آتی ہے جو تمہارے تکیے کے نیچے سے نکلا تھا جس پر تم نے سُرخ پنسل سے شکستہ تحریر میں لکھ رکھا تھا:

    عمل، سوچ اور دانائی سے بہر طورافضل ہے اور اسی کا نام کرمایوگ ہے کہ یہ پگ مہاآنند کی اَورجاتی ہے۔

    یہ بات سری بھگوان نے بھی کہی تھی اور اسی بات کو دوسرے لفظوں میں ایئرفورس میں بھی بار بار جتایا گیا تھا اور یہ سب مَیں خوب جانتا تھا اور جانتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے دیس اورپرلوک دونوں ہی جگہ سوال کیا جائے گا کہ مَیں نے وہ کیوں نہ کیا جو مجھے کرنا تھا۔

    پر یہ مَیں کسی کو کیسے سمجھاؤں، مَیں کرنا تو وہی چاہتا تھا جو مجھے کرنا تھا ۔ اورمَیں اپنے ہنٹر میں سوار ہوکر ا س شہر میں وہی کرنے آیا تھا جو مجھے کرنا چاہیے تھا۔ پر کون یقین کرے گا کہ یہ شہر تو میّا کا شہر تھا جس کی مٹّی کو سوارت ہونا تھا۔۔۔ اور پھر یہ بھی تو نہیں پتا چلتا تھا کہ میّا نے اپنی جھگی کہاں ڈا ل رکھی ہے اور جو مجھے نقشہ دیتے وقت اور سارے نشانوں کے ساتھ یہ نشان بھی دکھا دیتے تو۔۔۔ خیر مگر اب کیا ہوسکتا ہے، دھیان نے کرما پر فتح پائی۔ مَیں نے عمل پر سوچ کو ترجیح دی اور مَیں سانکھیا یوگی ہوا۔۔۔ اور مَیں یہ تو نہیں کہوں گا کہ سری بھگوان کی بات غلط ہے، لیکن مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مَیں نے مہاآنند کو پا لیا ہے۔

    اور سانکھیا یوگی، ہم تمہاری راکھ ایک برتن میں محفوظ کر چکے ہیں جو وقت آنے پر بحفاظت تمہارے وطن پہنچا دی جائے گی، مگر شاید یہ تم کو کبھی نہ معلوم ہوسکے گا کہ تمہارے ہاتھ کا وہ نوشتہ ہمیشہ ہمیشہ میرے پاس محفوظ رہے گا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY