- کتاب فہرست 177925
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1376 قصہ / داستان1580 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت202 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4284 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6588افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5849-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1255
- ہائیکو12
- حمد51
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4839
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت576
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام33
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
الطاف فاطمہ کے افسانے
ننگی مرغیاں
’’یہ کہانی جدیدیت کی رو میں ہو رہی عورتوں کے استحصال کی بات کرتی ہے۔ خود مختاری، آزادی اور خود کفیل ہونے کے چکر میں عورتیں سماج اور خاندان میں اپنی حقیقت تک کو بھول گئی ہیں۔ مغرب کے زیر اثر وہ ایسے کپڑے پہن رہی ہیں کہ کپڑے پہننے کے بعد بھی ننگی نظر آتی ہیں، جنہیں کوئی کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کر سکتا۔‘‘ "
سون گڑیاں
تب وہ دن بھر کی تھکی ہاری دبے پاؤں اس کوٹھری کی طرف بڑھتی، جہاں دن بھر اور رات گئے تک کام خدمت میں مصروف رہنے کے بعد آرام کرتی، اور پھر ایک بار ادھر ادھر نظر ڈالنے کے بعد کہ آس پاس کوئی جاگتا یا دیکھتا تو نہیں، وہ کوٹھری کے کواڑ بند کرلیتی۔ طاق پر سے
کہیں یہ پروائی تو نہیں
’’تقسیم سے پیدا شدہ حالات کے درد کو بیان کرتی کہانی ہے۔ اچانک لکھتے ہوئے جب کھڑکی سے پروائی کا ایک جھونکا آیا تو اسے بیتے ہوئے دنوں کی یاد نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ بچپن میں اسکول کے دن، جھولتے، کھاتے اور پڑھائی کرتے دن۔ وہ دن جب وہ گھر کے ملازم کے بیٹے ربی دت کے پاس پڑھنے جایا کرتے تھے۔ ربی دت، جو انہیں اپنی بہن مانتا تھا اور ان سے راکھی بندھوایا کرتا تھا۔ مگر اب نہ تو راکھی بندھوانے والا کوئی تھا اور نہ ہی اس کا دکشنا دینے والا۔‘‘
تار عنکبوت
کتنے ہی عرصہ سے ایک خواہش اس کے اندر بڑی شدت سے سراٹھارہی تھی۔ عجیب سی خواہش جو رفتہ رفتہ ارمان بنتی جارہی تھی۔ اس گھر کے کسی کونے میں چھت اور دیوار کے کسی جوڑ میں مکڑی کا ایک جال لگانظر آجائے۔ خاکستری سادھوانسا، دھوانسا ساجالا جو کتنے ہی دن تک ایک
درد لادوا
یہ کہانی ہاتھ سے قالین بننے والے دستکاروں کے ہنر اور ان کے معاشی اور جسمانی استحصال کو بیان کرتی ہے۔ قالین بننے والے لوگ کرگھے میں کتنے رنگوں اور کس صفائی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ان کے اس کام میں ان کی انگلیاں سب سے زیادہ معاون ہوتی ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب یہ انگلیاں خراب بھی ہو جاتی ہے۔ اس کرگھے میں کام کرنے والی سب سے ہنرمند لڑکی کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ پھر رہی سہی کسر کرگھوں کی جگہ نئی مشینوں نے پوری کر دی۔
نیون سائنز
یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ ایک سرد، اندھیری رات میں سڑک پر چلی جا رہی ہے۔ وہ ایک جانی پہچانی سڑک ہے۔ مگر اس سے گزرتے ہوئے انہیں ڈر لگ رہا ہے۔ اس سڑک پر ایک بڑا برگد کا پیڑ بھی ہے، جس کے متعلق اس لڑکی کا ساتھی اسے ایک داستان سناتا ہے جب اس نے اس کے پاس اس نیون سائنز کو دیکھا تھا، جس میں ڈھیروں گول گول دائرے تھے۔ در حقیقت وہ دائرے کچھ اور نہیں بلکہ زندگی کی شکل پر ابھرے ہوئے دھبے تھے۔
چھوٹا
یہ کہانی بچہ مزدور کی شکل میں ہوٹلوں اور ڈھابوں میں کام کرنے والے بچوں کے استحصال کی روداد بیان کرتی ہے۔ کبھی بازار سے ملحق وہ علاقہ ایک دم سنسان تھا۔ پھر وہاں آکر کچھ لوگ رہنے لگے، جن میں کئی چھوٹے بچے بھی تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ علاقہ کافی پھل پھول گیا اور وہاں بستی کے ساتھ کئی طرح کے ہوٹل بھی ابھر آئے۔ انہیں ہوٹلوں میں سے ایک میں 'چھوٹا' بھی کام کرتا تھا۔ جو کام کے ساتھ ساتھ مالک کی گالیاں، جھڑکیاں اور مار بھی برداشت کرتا تھا۔
سانکھیا یوگی
’’یہ کہانی مقدس مذہبی صحیفہ گیتا کے اپدیش کے گرد گھومتی ہے، جس میں کرم یوگ اور سانکھیا یوگ پر غور کیا گیا ہے۔ کرم یوگی ہمیشہ سانکھیا یوگ پر بھاری پڑتا ہے، کیونکہ وہ سننیاسی ہوتا ہے۔ مگر وہ کرم یوگی نہیں بن سکا تھا، اسے جو کام سونپا گیا تھا اسے کرنے میں وہ ناکام رہا تھا۔ فائٹر جیٹ میں سوار ہوکر جب وہ لاہور پر بم گرانے گیا تھا تو اس نے فقط اسلئے اس کام پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اس شہر کی کسی بستی میں اس کی معشوقہ رہتی تھی۔‘‘
شیردہان
یہ ایک ایسی کتابوں کی دکان کی کہانی ہے، جو اپنے زمانہ میں بہت مشہور تھی۔ علاقے کے ہر عمر کے لوگ اس دکان میں آیا کرتے تھے اور اپنی پسند کی کتابیں لے جاکر پڑھا کرتے تھے۔دھیرے دھیرے وقت بیتا اور لوگوں کی زندگیوں میں تفریح کے دوسرے ذرائع شامل ہو تے گئے۔ لوگوں نے اس دکان کی طرف جانا چھوڑ دیا۔ دکان کا مالک خاموش بیٹھا رہتا ہے، اس کا خیال ہے کہ یہ وقت شیر کا منہ ہے جو ساری چیزوں کو نگلتا جا رہا ہے۔
کمند ہوا
یہ کہانی تقسیم کے المیے میں انسان اور خاندانوں کے ٹوٹنے، بکھرنے اور پھر مہاجر ہو جانے کے درد کی داستان کو بیان کرتی ہے۔ وہ گھر، ان میں بسے لوگ اور ان سے جڑی یادیں، جو فقط ایک ہوا کے جھونکے سے بکھر کر رہ گئی۔ پھر ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کے بعد وہ ہوا رک گئی ہو۔ وہ ابھی بھی مسلسل چل رہی ہے اور اس کے بہاؤ میں لوگ اپنی جڑوں سے کٹ کر یہاں وہاں بکھرے پھر رہے ہیں۔
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
