شہر کوفے کا ایک آدمی

اسد محمد خاں

شہر کوفے کا ایک آدمی

اسد محمد خاں

MORE BYاسد محمد خاں

    کہانی کی کہانی

    کربلا کے تاریخی واقعات پر مبنی یہ ایک علامتی افسانہ ہے۔ ایک شخص سوچتا ہے کہ اگر وہ جنگ کربلا کے وقت ہوتا تو بہت کچھ کر سکتا تھا لیکن موجودہ وقت میں حق کے لیے جو جنگ ہو رہی ہے اس میں وہ خاموش ہے۔ در اصل ہر شخص مصلحت اور منافقت کے کوفے میں آباد ہے اور چاہتے ہوئے بھی حق کی اس جنگ کا حصہ دار نہیں ہو پا رہا ہے۔

    ایک ایسے آدمی کا تصور کیجیئے جس نے کوفے سے امامؓ کو خط لکھا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ دارالحکومت میں تشریف لایئے حق کا ساتھ دینے والے آپ کے ساتھ ہیں۔ وہ آدمی اپنے وجود کی پوری سچائی کے ساتھ اس بات پر ایمان بھی رکھتا ہو، لیکن خط لکھنے کے بعد وہ گھر جا کر سو گیا۔

    جب دس ہزار دنیا زادوں نے امامؓ کے مقابل صف بندی شروع کی تو یہ آدمی زیتون کے روغن میں روٹی چور چور کر کے کھا رہا تھا۔ پاس ہی دودھ بھرے پیالے میں حلب کے خرمے بھیگے پڑے تھے۔ شیشے کے ایک ظرف میں کوئی مشروب تھا۔

    جب اسے خبر ملی کہ اشرار آمادہ فساد ہیں تو اس آدمی نے روغن سے ستے ہوئے دونوں ہاتھ طمانیت کے ساتھ چہرے پر ملے اور بولا امامؓ حق پر ہیں اور حق غالب آنے والا ہے۔ اس نے پھر ڈکار لی اور امامؓ کو یاد کیا۔ ان کی حمایت کے لئے اللہ سے نصرت طلب کی۔ اور دستر خوان کے برابر پڑے ہوئے تکئے پر ٹیک لگا سو گیا۔

    جب خبر آئی کہ بچوں پر پانی بند کر دیا گیا ہے تو روتے روتے اس نے ہاتھ کی ضرب سے عرق کا ظروف الٹا دیا اور کہنے لگا، ’’وائے افسوس! سگ دنیا ابن زیاد نے، اس کے کتوں نے اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔‘‘ اس بار وہ بہت دیر تک رویا اور کرب و انتشا میں جاگتا رہا۔ پو پھٹنے کے قریب اسے نیند آئی۔

    جب اسے پتہ چلا کہ ایک پاکیزہ خصلت نوجوان بچوں اور بیماروں کے لئے پانی سے بھرا مشکیزہ لاتا تھا کہ بد خصالوں کے ہاتھوں شہید ہوا، تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اب کے اس نے ایک پہر نالہ و شیون کیا اور سینہ کوبی کی۔ اس کی بھوک پیاس رخصت ہو گئی اور وہ سوچتا رہا کہ کچھ کرے کیونکہ ان صادقوں کے لئے اس کا دل خون کے آنسو روتا تھا۔

    اس نے اور کچھ نہیں کیا بس گڑگڑا کر دعا کی، ’’بار الہا! تیرے محبوب کی آل اپنے گھروں سے نکلی ہے۔ تو ہی ان کا حامی و ناصر ہے۔‘‘ وہ کیونکہ اس کاوش سے تھک گیا تھا۔ اس لئے روتے روتے اس نے کچھ دیر آرام کیا اور دیوار سے ٹکے ٹکے سو گیا۔

    جب کسی نے پکار کر کہا کہ سگ دنیا شمر ذوالجوشن نے بھیانک ارادے کے ساتھ اپنا گھوڑا امام کی طرف بڑھا دیا ہے تب، اسی وقت وہ چیخ مار کر اٹھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ کھڑا ہو گیا اور اس نے عجیب کام یہ کیا کہ اپنے چھپر کو سہارنے والی تھونی جھٹکے سے اکھاڑ لی۔ وہ اسے گرز کی مانند گردش دیتا ہوا نہر فرات کی طرف بڑھ گیا۔ اور حق تو یہ ہے کہ اس نے لمحے بھر کے لئے بھی یہ نہیں سوچا کہ اس چھپر کے نیچے اس کے بیوی بچے بیٹھے ہوئے ہیں۔

    امام ؓ کے لئے اس کی محبت بلاشبہ حد درجہ تھی۔

    وہ چھپر کی تھونی اٹھائے دوڑا چلا جا رہا تھا۔ شریروں، بد خصالوں اور قاتلوں کے لئے اس کی زبان پر نا ملائم کلمات تھے اور کبھی کبھی وہ فحش کلامی بھی کرتا تھا کیونکہ سخت آزردہ تھا۔ لگتا تھا کہ وہ ان ہزاروں سگان دنیا کو اپنی مغلظات سے پارہ پارہ کر دے گا جو بچوں اور گواہی دینے والوں کو قتل کرنے آئے تھے۔ اس کی فحش کلامی جاری رہی پھر بند ہو گئی۔ اس لئے کہ آگے مقام ادب آ گیا تھا۔ وہ مطہر سماعتیں آگے تھیں جنہوں نے مقدس رسول کو کلام فرماتے سنا تھا۔

    اسی لمحے اس کی وابستگی اور اس کے باطن کی سچائی نے ظہور کیا اور اس اگلے لمحے میں جب شمر نجس کا وار امامؓ پر ہوتا اور انسانی تاریخ کا سب سے بھیانک جرم سرزد ہو جاتا، اس اگلے لمحے وہ آدمی امام ؓ اور قاتل کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ اس نے دل دہلا دینے والا نعرہ بلند کیا اور اپنی ٹیڑھی میڑھی لاٹھی سے شمر ذولجوشن پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نجس اپنے خود کی چوٹی سے لے کر اپنے مرکب کے زنگ آلود نعلوں تک ہل کر رہ گیا، لیکن لکڑی ٹوٹ گئی۔

    شمر نے تب اپنے گھوڑے کو آگے بڑھایا اور اسے، جو تاخیر سے نہتا ہی اپنے ذی حشم مہمان کی سپر بننے آیا تھا، روندتا مسلتا ہوا اپنے آخری جرم کی طرف بڑھ گیا۔ وہ آدمی گر گیا اور دودھ، پنیر، شہد، روغن زیتون اور تازہ خرموں پر پلا ہوا اس کا بدن امام پر نثار ہو گیا۔

    اور پھر وہ آخری جرم سرزد ہوا جس نے ترائی پر چمکنے والے سورج کو سیاہ کر دیا اور رات آ گئی۔ رات کے کسی وقت بلند قامت حر بن ریاحی کے قبیلے والے آئے اور اپنے آدمی کا لاشہ اٹھا لے گئے۔

    اس کے بعد زمرد، یاقوت اور مشک و عنبر کے بہتر تابوت لے کر تاریخ آئی اور اس نے بہتر آسمان شکوہ لاشے سنبھالے۔ اس میں ایک سر بریدہ لاشہ صبر و رضا والے، استقامت والے امام ؓ کا تھا جن کا قدم بلندی پر تھا، اسی لئے انہیں بادلوں پر جگہ ملی۔

    اس کے بعد سگان دنیا کے ورثا اپنے مسخ شدہ حرام کے مردے کھینچ کر لے گئے اور میدان خالی ہو گیا۔ لیکن وہ آدمی جس کی کہانی میں سنا رہا ہوں، وہیں پڑا رہا۔ شمر کے گھوڑے کی لید میں لت پت اس کا بھیجہ، قیمہ اور سری پائے وہیں پڑے رہ گئے۔ صبح سویرے جب چیونٹیوں کی پہلی قطار نے انہیں دریافت کیا، تو آہستہ آہستہ انہیں منہدم کرنا شروع کر دیا اور یہ انہدام دیر تک جاری رہا۔

    آپ ایک ایسے شخص کا تصور کریں جس نے امامؓ کو خط لکھا اور خط لکھنے کے بعد گھر جا کر سو گیا، لیکن آخری لمحے میں اپنے باطن کی سچائی اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے اور عجب طریقے سے مقبول بارگاہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایسے آدمی کا تصور کریں تو وہ جیم الف ہو گا (جیم الف۔ عربی۔ عام آدمی) جس کی کہانی میں آپ کو سنا رہا ہوں لیکن یہ تھا ماضی کا جیم الف۔

    آج کا جیم الف کو ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں کچھ لکھ لکھا کر اپنے کنبے کو پال رہا ہے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی سبک باتوں سے گاتی گنگناتی، دکھ سہتی غزلیں لکھتا ہے اور انہیں چھوٹی چھوٹی اشاعتوں والے رسالوں میں چھاپ دیتا ہے۔ وہ پکی روشنائی میں اپنا نام دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے اور مشاعروں میں گانا بجا لیتا ہے۔ اس سے بڑے گناہ سرزد نہیں ہوئے ہیں اور نہ اس خیر کا کوئی بڑا کام کیا ہے۔ اس کا گذارا چھوٹی موٹی نیکیوں اور ہلکے پھلکے گناہوں پر ہے۔ میں نے سید الشہدا کے نام نامی کے ساتھ اس شخص کے تذکرے کی جسارت اس لئے کی ہے کہ میں اس کی سچائیاں اور وابستگیاں بتانا چاہتا ہوں۔

    یہ زیادہ پرانی بات نہیں ہے ایک دفعہ اس آدمی کو ایک مشاعرے میں بلوایا گیا تو وہ میزبانوں سے یہ کہنے لگا کہ یہاں سے اللہ کا گھر بہت قریب ہے مجھے عمرہ کروا دو۔ تمہارا زیادہ خرچہ نہیں ہو گا۔ پھر وہ عمرہ کرنے گیا۔ طواف کرتے ہوئے وہ بے ڈھنگے پن سے دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ آپ یہ سمجھیں ساری عمر میں اس یہی نیکی ہوئی تھی لیکن رونے کو آپ اس کی بے بسی بھی کہ سکتے ہیں۔

    جب وہ واپس آیا تو اس نے مجھے بتایا کہ کہ میں نے حرم شریف میں دنیا کے پہلے مظلوم اور مستقیم آدمی سے لے کر فلسطینیوں اور کشمیریوں کے دعا کی۔ لیکن مجھے اپنی ذلالت اور بے بسی پر رونا بھی آیا کہ اگر میں کربلا کے سن ہجری میں ہوتا تو اپنے گھر میں پڑا کُڑھتا رہتا اور یقیناً مجھ میں اتنی استقامت بھی نہ ہوتی کہ جلانے کی لکڑی کھینچ کر ہی ظالموں کے سامنے جا کر کھڑا ہو جاتا۔

    اس نے کہا دیکھ لو، میں یاسر عرفات کے سن ہجری میں ہوں اور گالیاں بکنے اور دعائیں مانگنے کے سوا کچھ اور نہیں کر سکتا۔ میں کسی جارح ٹینک کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ مجھے گڑگڑاتی ہوئی لوہے کی اس پٹی سے خوف آتا ہے جو لمحہ بھر میں قیمہ بنا دیتی ہے۔ لیکن میں ضمیر اس گڑگڑاتی آواز سے بھی قیمہ ہو جاتا ہوں جو ہم سے اکثر کو اندر سے سنائی دیتی ہے۔

    اس نے آخری بات مجھ سے یہ بھی کہی، بھائی میرے! میں بھی، تم بھی اور ہم سب اصل میں اپنی اپنی مصلحت اور منافقت کے کوفے میں آباد ہیں اور حق کے لئے جنگ کرنے والے کسی وجود سے آنکھیں نہیں ملا سکتے چاہے وہ استقامت کی سب سے بڑی علامت حسین ؓ ہوں یا موجودہ تاریخ کے فلسطینی اور کشمیری۔

    یہ سن کر میں اس کا شانہ قلم سے چھوتا ہوں۔ یہ بھی نائٹ بنانے کی ایک رسم ہے۔ پہلے اس موقع پر قلم کی جگہ تلوار استعمال ہوتی تھی۔ تو میں اسے مایوسی اور بے بسی کا نائٹ مقرر کرتا ہوں اور اسے کہتا ہوں، ’’پیارے جیم الف! ہمیں پنیر، روغن زیتون اور خرمے کھا گئے ہیں۔ اب تم بھی گھر جاؤ اور کھانا کھا کر آرام کرو۔‘‘

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY