شرابی

MORE BYسہیل عظیم آبادی

    جب اس کی آنکھ کھلی تو سورج اونچا اٹھ چکا تھا اور اس کی تیز کرنیں اس کے چہرے پر پڑ رہی تھیں، اس نے اٹھتے ہی چاروں طرف نظر پھرا کر دیکھا، ہر طرف سناٹا تھا، اس نے سر میں ہلکا ہلکا درد محسوس کیا، ماتھے پر ہاتھ‘‘ پھیرتے ہی اس کا ہاتھ پسینے سے بھیگ گیا تھا، تھکن سے اس کا سارا بدن چور اور ٹوٹتا ہوا معلوم ہو رہا تھا۔ ماتھے کو دو چار بار دبانے کے بعد اس نے‘‘ ایک لمبی جمائی لی اور کوشش کر کے سارے جسم‘‘ کو زور دے کر کھینچا۔ اٹھنے کی کوشش کی، لیکن جی نہ چاہا۔ وہ سر جھکائے بیٹھا رہا۔

    شراب کی ٹوٹی ہوئی بوتل اور گلاس کے ٹکڑے اس کے سامنے بکھرے پڑے تھے، اس پر اس کی نظر جم گئی۔ وہ بالکل خالی دماغ تھا، کوئی بات اس کی سمجھ میں نہ آ رہی تھی۔۔۔ رات کے واقعہ پر وہ غور کرنے لگا، رات کتنی پیاری تھی، چاندنی رات تھی، کبھی کبھی بادل کے ٹکڑے چاند کو چھپا لیتے تھے، پروائی تیزی کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ اپنے چمن میں بیٹھا تھا، چمن کی یاد آتے ہی اس کو کچھ تکلیف سی ہوئی اور‘‘ تھوڑی دیر کے لئے اس کے خیالات غائب ہو گئے۔۔۔ مگر پھر اس کو خیال آیا۔۔۔ ایسے وقت میں طبعیت چاہی کچھ پینا چاہئے۔ یہ خیال آتے ہی وہ سوچنے لگا، اسی پینے نے کہیں کا نہیں رکھا، چار مکان، زمینداری اور کل نقدی۔۔۔ اب کچھ نہیں۔۔۔ اس کو اپنے کئے پر افسوس آنے لگا۔۔۔ وہ بری طرح پچھتانے لگا، آخر اس نے شراب پی کیوں تھی، اس کمبخت کو منہ ہی کیوں لگایا تھا۔۔۔ برا ہوا تھا ان دوستوں کا جنہوں نے اس کی چاٹ دلائی، اب کوئی کمبخت آتا بھی نہیں۔

    میں اب بھی وہی ہوں، میرا مکان وہی ہے، میرا چمن وہی ہے۔۔۔ ہاں پہلے جیسا ہرا بھرا نہیں۔ اس کے دل پر ایک دھکا لگا۔۔۔ آہ کتنا خوبصورت چمن تھا۔ لوگ دیکھ کر تعریفیں کرتے تھے۔ وہ اسی چمن میں بیٹھا تھا، دوست احباب بیٹھے تھے اور پینے کی بات چھڑی۔۔۔ اور یہ لعنت سر پر بھوت بن کر سوار ہو گئی۔ اس نے یکایک محسوس کیا، اس کی پسلی میں کچھ درد سا ہو رہا ہے، قمیص اٹھا کر ٹٹول کر دیکھا، پسلی پر نیلا نشان اور ابھار تھا اور درد بھی۔ یاد آ گیا کہ اس کو لوگوں نے مارا بھی ہے، تھوڑی دیر تک وہ اپنے کئے پر پچھتاتا رہا، سوچنے لگا، اگر شراب نہ پیتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی، آج اس حال میں نہ ہوتا۔ مگر اس کا خیال بہک کر ایک ہوٹل میں پہنچا جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جاکر شراب پیا کرتا تھا، صاف صاف کپڑے پہنے بیرے، چمکتی ہوئی بوتلیں، جھلکتے ہوئے گلاس، بیروں کا ادب، سگریٹ کی سنہری ڈبیہ۔۔۔ ساری چیزیں یاد آئیں۔ تھوڑی دیر کے لئے خود کو اسی ماحول میں محسوس کرنے لگا، اپنی موجودہ حالت کو بھول گیا۔۔۔ پھر باتیں یاد آئیں۔۔۔ اپنے عالی شان بنگلے میں دوستوں کی دعوتیں۔۔۔ پیلی پیلی چمکتی ہوئی بوتلیں۔۔۔ دوستوں کے قہقہے دلچسپیاں۔۔۔ پھر چمپؔا سے ملاقات اور ساری‘‘ دلچسپیاں۔

    چمپؔا کی یاد نے‘‘ اس کو‘‘ تھوڑی دیر کے لئے بےچین کر دیا، اس کی بے رخی اس کو یاد آگئی، وہ روٹھ کر چلی گئی تھی، اس کی فرمائش تھی ایک ہار کی۔ وہ پورا نہ کر سکا تھا۔ حالانکہ ہزاروں روپے لے چکی تھی، مگر اس نے آنکھ بدل دی، ایک ہی بار میں۔ چمپؔا کی بےرخی کے ساتھ ہی اس کو اپنی بیوی کی یاد آ گئی جس کو اس نے خوب خوب ستایا اور رلایا تھا، مگر پھر بھی جب پیسے ختم ہو گئے، تو اس نے اپنا سارا گہنا بھی اس کے حوالہ کر دیا، اس کو اپنی زیادتیاں یاد آئیں اور دل دکھنے لگا، اگر اب وہ موجود ہوتی تو گڑگڑاکر اس سے معافی مانگ لیتا، لیکن وہ مر چکی تھی، یہ خیال آتے ہی اس کو اور بھی افسوس ہوا۔ آہ میں نے اس‘‘ کے نام پر ایک دھیلا خیرات بھی نہیں کیا، اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔

    بیوی کی موت کے خیال نے اس کو اپنی موت کی یاد دلا دی۔ وہ سوچنے لگا مجھے بھی ایک دن مرنا ہے۔ آہ کتنے گناہ میں نے کئے ہیں، نہ دین کا رہا نہ دنیا کا، دونوں گنوا بیٹھا، خدا کو کیا منہ دکھاؤں گا، مرنا تو ایک دن ہوگا ہی، آہ کبھی ایک وقت نماز بھی تو نہیں پڑھی اور یہ سب کچھ شراب کی وجہ سے ہوا۔۔۔ شراب کی یاد آتے ہی پھر دوسری باتیں یاد آنے لگیں، برانڈی، وہسکی، شامپین۔۔۔ پھر رم، پورٹ۔۔۔ پھر پیسوں کی کمی نے دیسی شراب پلائی۔۔۔ بھٹی کی بدبو، گندے لوگوں کی‘‘ فضول بکواس، ذلیل قسم کے گانے۔۔۔ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔ اس کو اپنے آپ سے نفرت ہونے‘‘ لگی۔۔۔ وہ اپنے کاموں پر کڑھنے لگا، اس کا دل دکھنے لگا، آنکھ میں آنسو بھر آئے۔ ’’اس کمبخت شراب نے مجھے کہیں کا نہیں رکھا۔‘‘ اس نے دل ہی میں کہا اور رونے لگا۔ دیر تک روتا رہا، سارا چہرا آنسو اور پسینے سے تر ہو گیا، رات کو کچھ دوستوں کے ساتھ بھٹی سے آیا تھا، ان لوگوں نے جن کے روئیں روئیں پر میرے احسانات ہیں، آہ یہ سب کچھ میری نا سمجھی سے ہوا، لیکن اب مجھے سنبھل جانا چاہئے۔

    اس نے یہ فیصلہ کیا، اب کبھی شراب نہ پئےگا، نماز پڑھے گا، شریف آدمیوں کی سی زندگی گزارےگا، وہ سجدے میں گر پڑا اور خوب رویا دھوپ تیز ہوئی، گرم ہوا چلنے لگی تو وہ اٹھا اور سر جھکائے گھر کی طرف چلا۔ سناٹا میدان تھا۔ ایک آدمی‘‘ نظر نہ آیا، کہیں کہیں پر درخت تھے اور بس۔ وہ برابر چلتا رہا، نیک بننے کا وہ مضبوط فیصلہ کر چکا تھا، زبان پر برابر توبہ استغفار توبہ استغفار کا دورہ تھا۔

    آخر وہ شہر میں پہنچا، ساری رونقیں تھیں، کہیں کچھ کمی نہ تھی۔۔۔ ایک دکان پر گراموفون بج رہا تھا، لوگوں کی بھیڑ تھی، ریکارڈ بھی اچھا تھا، اس بھیڑ میں وہ بھی جا ملا، سب کے ساتھ سنتا رہا۔ گراموفون بجنا بند ہوا تو وہ گھر کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں گاڑی، گھوڑے، موٹر، سائیکل اور سواریاں ملیں، ہٹو بچو کے ہنگامے نے ساری باتیں اس کے دماغ سے نکال دیں، صرف بچنے کا خیال اس کے دماغ میں رہ گیا۔ وہ کچھ دور اور بڑھا، دور سے دیسی شراب کی بو ناک میں آئی لیکن وہ سر جھکائے بڑھتا گیا۔ دل چاہا کہ اس طرف چلے لیکن وہ چند قدم اور آگے بڑھا۔۔۔ پھر راستہ بدل کر بھٹی کی طرف چلا، خیال ہوا، پئیں گے نہیں، مگر شاید کوئی کمبخت نظر آ جائے، وہ اسی بھٹی کی طرف بڑھتا گیا اور بھٹی کے سامنے پہنچا، بہت سے آدمی بیٹھے تھے، سب کو دیکھنے لگا۔

    دیر تک دیکھتا رہا، گرمی معلوم ہوئی، خیال ہوا کہ کہیں چھاؤں میں تھوڑی دیر‘‘ بیٹھنا چاہئے۔۔۔ خیال ہوا بھٹی میں۔۔۔ لیکن پھر خیال بدل گیا، وہاں جانا ہی برا ہے۔ دیر تک سوچتا رہا، شراب کی بو برابر آ رہی تھی، دل چاہتا، لیکن وہ توبہ کر چکا تھا۔ دل کڑا کئے کھڑا رہا، لیکن پاؤں جم کر رہ گئے، آگے نہ بڑھے۔۔۔ آخر اس نے سوچا۔۔۔ توبہ تو کر ہی لی ہے اور اس کمبخت کو ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ہی ہے۔۔۔ بس آج بھر۔۔۔ کل سے بالکل نہیں۔ یہ خیال آتے ہی وہ بھٹی میں گھسا، کچھ پیسے جیب میں تھے، شراب خریدی، کلھڑ میں انڈیل کر ایک کلھڑ اس نے پیا، شراب حلق سے نیچے اتری اور وہ ساری باتوں کو بھول گیا۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY