سلیکون وائف

نعیم بیگ

سلیکون وائف

نعیم بیگ

MORE BYنعیم بیگ

    (عہد جدید کی ایک کہانی انسانی نفسیات کے تناظر میں)

    ابھی پچھلے دنوں میرا عزیز ترین شاعر دوست جعفری جو مجھ میں عمر میں کافی چھوٹا ہے، کہنے لگا، ایک مسٗلہ ہے مجھے آپ سے وقت چاہیے۔ میں نے کہا چلے آؤ۔ اور ہاں اپنی تازہ ترین نظمیں بھی لیتے آنا، تاکہ میں بھی تمہیں اپنے چند افسانچے سنا سکوں۔

    جب آیا، تو وہ مجھے کافی رنجیدہ سا لگا، سو نظموں افسانوں کی بات درمیان میں رہ گئی اور ہم کافی دیر تک ادھر ادھر کی گپ شپ کرتے رہے۔ میرا تجسس بڑھتا گیا، میں انتظار میں تھا کہ وہ کب مطلب کی بات کرتا ہے۔ تنگ آکر پوچھ بیٹھا۔۔۔ ”یار وہ تم نے کیا بات کرنی تھی؟ کیا مشورہ لینا تھا؟“

    کہنے لگا، ”آپ تو جانتے ہیں۔ ابھی چند برس پہلے ہی شادی کی ہے، نبیلہ نے طے کیا تھا کہ اولاد کا فیصلہ جب بھی ہوگا‘‘ اس کا ہوگا، کیونکہ بلاوجہ اس مصیبت کو مول نہیں لی سکتی جب تک وہ ذہنی طور پر بچے کو پالنے کے لئے تیار نہ ہو۔“

    ”کیا مطلب؟“ مجھے حیرت ہوئی۔

    ”سر میرا کہنے کا مطلب ہے کہ نبیلہ کا پہلے دن سے ہی اصرار تھا کہ وہ اپنی نوکری ابھی چھوڑنا نہیں چاہتی، سو اگر شادی کر لی، تو اس کے جھمیلوں میں پڑ کر مجھے گھر داری اور بچوں میں الجھنا پڑے گا جو وہ ابھی نہیں چاہتی۔ وہ کہتی ہے، کہ میں اپنے پروفیشن میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔ میں اس سے وعدہ کر بیٹھا کہ ہاں ایسا ہی ہوگا، جیسا تم چاہوگی۔

    اب دیکھئے نا آپ! شادی کو پانچ برس ہونے کو آئے ہیں ہم بچے سے محروم ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ صرف ایک بچہ ہو جائے، تاکہ سماجی بندھن مضبوط ہو، اور دوسری طرف مجھے اپنے اندر خاندان کے وجود کا احساس ہو۔ میری ماں بہنوں اور دوسروں کو یہ احساس ہو کہ میں ایک ذمہ دار سماجی اکائی ہوں۔ مگر وہ اب بھی نہیں مانتی، جس سے میں اپنے اندر کا اعتماد کھو رہا ہوں۔“

    ”ہاہاہا۔۔۔ تم در اصل اپنے اندر مردانگی کے احساس کو فخر میں بدلنا چاہتے ہوں۔“ میں نے اسے چھیڑا۔

    ”ارے نہیں سر۔۔۔“ وہ پھیکی سی ہنسی ہنسا۔ ”وہ تو میں اسے کئی بار حاملہ کر چکا ہوں، لیکن وہ ہے کہ فوراً جان چھڑا لیتی ہے۔“

    ”تو اسے کہو نا، کہ سماج میں رہنے کے لئے کچھ فطری اور کچھ سماجی و خاندانی رکھ رکھاؤ کو ایک ساتھ اہمیت دینی پڑتی ہے۔“ میں نے اسے سمجھایا۔

    ”سر، آپ جانتے ہیں نا! وہ آج کی لڑکی ہے، خود مختار ہے۔ اس سے جب بھی خاندانی یا سماجی دباؤ کی بات کی، تو وہ ایک دم بِدک جاتی ہے۔ براہ راست تعلق توڑنے پر آ جاتی ہے، اُس کے تئیں جو اس نے کہہ دیا وہ حرف آخر ہے۔“

    ”تو یار۔۔۔ اس کے آگے پیچھے کوئی تو ہوگا۔ میرا مطلب بھائی، بہن، اماں ابا یا کوئی دوست، ان سے بات کر کے دیکھنی تھی؟“ میں نے کہا۔

    ”ابا مر چکے ہیں، باقی سب ہیں، اپنی اپنی کوشش کر چکے ہیں، اکثر میری سوچ سے متفق ہیں۔ تاہم وہ اگر تھوڑی بہت بات مانتی ہے تو اپنی بہن کی بات، اور بہن اس کی سوچ حامی ہے۔ اس کا بھی یہی خیال ہے، ورنہ ماں اور بھائی کو تو وہ خاطر میں نہیں لاتی۔ صاف کہہ دیتی ہے کہ یہ میری زندگی ہے، بہتر ہے اس میں دخل اندازی نہ کرو۔“ یہ کہہ کر وہ کچھ لمحوں کے لئے خاموش ہوگیا۔

    ہم کافی دیر تک خاموش رہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ وہ واقعی بہت بڑے ذہنی دباؤ میں ہے۔ مجھے احساس ہونے لگا کہ جب عورت مالی طور پر خود کفیل ہو اور سماجی رتبہ بھی رکھتی ہو، تو ہم جیسے تیسری دنیا کے باسی، جو عورت کو چونکہ قرار واقعی وہ سماجی مقام نہیں دیتے جس کی وہ حق دار ہوتی ہے، لہذا وہ ضد اور انانیت میں الجھ جاتی ہے اور کچھ ذاتی معاملات میں ہٹ دھرمی دکھا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔

    ”بس ایک کام کرو۔ اسے کسی ڈاکٹر ماہرِ نفسیات سے ملواؤ، لیکن اسے معلوم نہ ہونے پائے کہ وہ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ہے۔“

    ”سر۔۔۔ ابھی چند مہینے پہلے ہی یہ کام کر چکا ہوں، وہ ہیں نا اپنے ڈاکٹر حسن شہریار، جو ابھی ابھی اسلام آباد سے ٹرانسفر ہوئے ہیں اور مشاعروں کے رسیا ہیں۔ انھیں ساری بات بتا کر گھر دعوت پر بلایا۔ معمول کی گفتگو کے بعد انھوں نے کوئی گھنٹہ بھر کچھ میری موجودگی اور کچھ میری غیر موجودگی میں جب میں اتفاقاً اپنے باس کے فون آجانے پر دوسرے کمرے میں چلا گیا تھا، مکمل بات کی۔ بعد میں انھوں نے بتایا کہ جعفری، میرے بھائی۔۔۔ بھابی کے دلائل بہت مضبوط ہیں۔

    میں نے انھیں عمومی طور پر عورتوں کے جلد بڑھاپے، مالی، معاشی، سماجی اور سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے مسائل، جن میں مرد کی اور اولاد کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، وہ بتائے۔ اولاد پر بلا کسی امتیاز و تفریق کہ وہ لڑکی ہے یا لڑکا، عورت ہونے کے فطری وجود کی تکمیل جیسے فلسفے اور گفتگو زیر بحث لایا ہوں، اولاد کی سماجی ضرورت سے آگاہ کیا، جسمانی تبدیلیوں اور ہارمونز کی بات کی۔ وہ کچھ کچھ سمجھتی تو ہیں، لیکن شاید ابھی پوری طرح گہرائی میں اس بات کو سمجھنے کے لئے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں۔ سو بھائی۔۔۔ ابھی انتظار کرو۔ شاید کوئی حادثہ یا ذاتی تجربہ اسے اس بات پر سوچنے پر مجبور کر دے تو کردے۔ ورنہ ابھی تک وہ اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں اور خود کو درست سمجھتی ہیں۔

    وہ کہتی ہیں کہ ابھی تک کسی عورت نے مجھے ایسے نہیں قائل کیا۔ یہ سارے مرد ہی مجھے اولاد پیدا کرنے پر کیوں قائل کرتے ہیں۔ میرے پاس اس بات کا جواب نہ تھا، سو گفتگو ختم ہو گئی۔

    ”تو اس سلسلے میں بندہ کیا کر سکتا ہے۔“ میں نے بے بسی سے اپنے چہرے پر مسکراہٹ کو جگہ دی۔ ”یہ سمجھ لو کہ عورت نے سماجی بغاوت کر دی ہے۔ مرد پڑھ رہے ہیں۔ لکھ رہے ہیں۔ فلمیں، ڈرامے دیکھ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود عورت کو سمجھنے میں ناکام ہیں۔

    وہ کیا ہے نا، نطشے نے کہا تھا کہ ’عورت خدا کی دوسری غلطی ہے۔‘ ’’تو بھئی غلطی اوپر والے نے کی ہے، بھگت ہم رہے ہیں۔“ میں نے یونہی جلاپے میں کہا۔

    ”آپ میری مدد کر سکتے ہیں۔“ جعفری کا لہجہ پر اعتماد تھا۔

    ”وہ کیسے؟“ میرے چہرے پر تعجب ابھر آیا۔

    ”آپ نبیلہ کو ہمت کر کے آخری بار سمجھانے کی کوشش کر لیں شاید مان جائے۔“ جعفری کے چہرے پر شیطانی سی مسکراہٹ ابھر آئی۔

    ”وہ تو میں خیر ہمت کر ہی لوں۔ لیکن تمہارے چہرے پر یہ حضرت ابلیس کیوں مسکرا رہے ہیں؟“ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

    ”در اصل اس کے بعد کیا ہوگا، میں اُس خیال کے تحت عجیب سا سوچ رہا تھا۔“

    ”وہ بتاؤ؟“

    ”نہیں سر، ابھی نہیں۔۔۔ لیکن بعد میں آپ کو سرپرائز دوں گا۔“ جعفری کے لہجے سے اعتماد جھلک رہا تھا۔ یہ سن کر میں نے اصرار نہیں کیا۔ اس کے بعد ہم اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے اور پھر وہ اٹھ کر چلا گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ نبیلہ کے مسلسل انکار پر وہ کسی حتمی نتیجے پر پہنچ چکا ہے۔

    اس کے بعد جعفری کئی ایک ہفتوں تک میری طرف نہیں آیا، نہ ہی اس نے مجھے نبیلہ سے ملنے کو کہا۔ اب مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں میاں بیوی کے معاملات میں از خود ٹانگ اڑاؤں، سو خاموش رہا۔ پھر وہی ہوا، جس کا مجھے احتمال تھا۔ میں نے سنا کہ میاں بیوی کی اَن بن ہو چکی ہے اور معاملہ علیحدگی تک جا پہنچا ہے۔ میرے لئے یہ اچھنبے کی بات تھی کہ نبیلہ صرف اپنی ذاتی ایمبیشن کے آگے گھٹنے ٹیک کر ایک اچھے شوہر کو کھو رہی ہے۔ اسے اپنے سوشل سٹیٹس اور سماجی رکھ رکھاؤ کا کچھ لحاظ رکھنا چاہیے تھا، اور بچے تو بائنڈگ فورس ہوتے ہیں جو دونوں دھڑوں کو ملا کر رکھتے ہیں، لیکن شاید فی زمانہ اب اس بائنڈنگ فورس کی ضرورت نہ رہی ہے۔ نوجوان مرد و عورت اپنی شخصی و معاشی آزادی کو ترجیح دیتے ہیں۔

    میں جعفری کو دل سے عزیز رکھتا تھا، لیکن مجھے اِس بات پر اِس کا گھر برباد ہوتے کچھ اچھا نہ لگا۔ جعفری کو بھی کچھ انتظار کرنا چاہیے تھا، لیکن شاید اب وقت ہی ایسا آگیا تھا۔ مجھے یونیورسٹی میں بھی نوجوانوں کو پڑھاتے ہوئے کسی بات کو سمجھاتے ہوئے اب تردد سا ہونے لگا تھا، کیونکہ وہ بات سن تو لیتے تھے، لیکن اپنی ذہنی کیفیات کو کسی اخلاقی یا نظریاتی فلسفے کی بجائے جاہلانہ اور سنی سنائی باتوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کرتے جس سے نتائج اکثر بدمزگی پیدا کرتے یا منفی نکلتے۔ اب اِسی مسئلہ کو لے لیجئے، مجھے محسوس ہوا کہ دونوں شاید کسی اور قسم کے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ بات اتنی سادہ نہ تھی جس طرح سے نظر آ رہی تھی۔ بچے کی خواہش فطری جذبہ ہے جو باپ سے کہیں زیادہ ماں کے اندر موجود ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں ماں ہی انکار کر رہی تھی‘ جو بہت اہم بات تھی۔ کیا ایسا تو نہیں کہ نبیلہ جعفری کی جنسی خواہشات کو رد کر رہی ہو، سوچ کے اِس جھماکے باوجود نبیلہ مجھے کم قصور وار نظر آئی۔ یہ ایک یونیک نفسیاتی کیس تھا۔ مجھے نبیلہ اور جعفری دونوں ایک عجیب مخمصہ کا شکار نظرآئے۔ جس کی بنیادی وجہ ہمارا فرسودہ روایتی خاندانی سٹریکچر تھا، جو رفتہ رفتہ پوسٹ ماڈرن ازم کا شکار ہو رہا تھا۔

    ایک روز شام کو مارکیٹ میں مجھے جعفری نظر آ گیا، وہ لپک کر میرے پاس پہنچا اورمعذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا‘ سر آپ کی طرف آنے کا ارادہ تھا، لیکن فرصت نہیں ملی۔ چلیں گھر چلتے ہیں۔ میرے جواب سے پہلے ہی ایک آٹو روک چکا تھا، پھرتی سے اس نے ہاتھوں میں پکڑے شاپرز آٹو کی سیٹ پر پھینکے اور مجھے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بیٹھنے کو کہا۔ گھر پہنچے تو جیب میں ہاتھ ڈال کر گھر کی چابیاں ڈھونڈنے لگا۔

    ”بس سر، اکیلا رہنے میں یہ مصیبت ہے، کہ چابیاں ہر وقت جیب میں رکھنی پڑتی ہیں۔ تین چار جیبوں کی تلاشی کے بعد اسے چابیاں ملیں تو ہم اندر داخل ہوئے۔ سامنے ہی لاونج میں ایک خوبصورت لڑکی نے ہمارا استقبال کیا۔ وہ خاموشی سے صوفہ پر نیم دراز تھی۔ گوری پنڈلیوں سے اٹھی ہوئی جسم سے چپکی جینز اور اوپر جامنی رنگ کی شرٹ پہنے ہماری طرف مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ سامنے سے سینہ کا ابھار قدرے نمایاں تھا۔ شکل صورت سے کوئی یورپین لڑکی لگتی تھی، لیکن نقوش کچھ کچھ تیکھے ہونے کی وجہ سے مشرقی بلکہ مقامی رنگ بھی نمایاں تھا۔ میں نے حیرت سے پہلے جعفری کو دیکھا، جس کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی۔ اس نے لڑکی کو دیکھتے ہوئے شاپرز کرسی پر ڈالے اور صوفہ پر جھکتے ہوئے سرگوشیانہ انداز میں اسے کچھ کہا اور اس کا بوسہ لے لیا۔ پھر میری طرف آنکھ مارتے ہوئے کہنے لگا۔ ”آئیں نا‘‘ سر۔۔۔ یہاں اِس کے پاس بیٹھیں۔ یہ آپ کو کچھ نہ کہے گی، کسٹومائزڈ ہے۔“

    ”جعفری! یہ سب کیا ہے۔“ میرے چہرے پر حیرت کے تاثرات ابھرنے لگے۔ ”کون ہے یہ اور تم اس قدر واہیات کیوں ہو رہے ہو؟“

    ”سر! آپ یہاں ساتھ بیٹھیں نا، سب کچھ آپ کو بتاتا ہوں، جلد ہی آپ بھی واہیات ہو جائیں گے۔“ جعفری کے چہرے پر دبی دبی سی مسکراہٹ تھی۔ ”جب سب کچھ مجھے ہی کرنا ہے، تو اِس سے بہتر لڑکی کیا ہو گی۔ آپ تو میری ازدواجی مشکلات جانتے ہی تھے۔

    ’’کسٹومائزڈ سائلنٹ بیوٹی۔۔۔“ اس نے لڑکی کے ہونٹوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا تو میں ایک دم چونک سا گیا۔ ان چند منٹوں میں لڑکی کی مسلسل خاموشی نے سارا عقدہ کھول دیا تھا۔

    ”سر، اِس سے ملئے۔ یہ کیٹی ہے۔ میری سِلیکون بیوی“ پھر لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔ ”کیٹی، یہ ہیں میرے دوست، سر صدیقی، آج سے تمہارے بھی دوست ہیں۔“

    کیٹی خاموش رہی اور میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY