سرمہ

MORE BYسعادت حسن منٹو

    کہانی کی کہانی

    فہمیدہ کو سرمہ لگانے کا بے حد شوق تھا۔ شادی کے بعد شوہر کے ٹوکنے پر اس نے سرمہ لگانا چھوڑ دیا۔ پھر اس نے نومولود بچے کے سرمہ لگانا شروع کیا لیکن وہ ڈبل نمونیا سے مر گیا۔ ایک دن جب فہمیدہ کے شوہر نے اسے جگانے کی کوشش کی تو وہ مردہ پڑی تھی اور اس کے پہلو میں ایک گڑیا تھی جس کی آنکھیں سرمے سے لبریز تھیں۔

    فہمیدہ کی جب شادی ہوئی تو اس کی عمر انیس برس سے زیادہ نہیں تھی۔ اس کا جہیز تیار تھا۔ اس لیے اس کے والدین کو کوئی دقت محسوس نہ ہوئی۔ پچیس کے قریب جوڑے تھے اور زیورات بھی، لیکن فہمیدہ نے اپنی ماں سے کہا کہ وہ سرمہ جو خاص طور پر ان کے یہاں آتا ہے، چاندی کی سرمے دانی میں ڈال کر اسے ضرور دیں۔ ساتھ ہی چاندی کا سرمچو بھی۔

    فہمیدہ کی یہ خواہش فوراً پوری ہوگئی۔ اعظم علی کی دکان سے سرمہ منگوایا۔ برکت کی دکان سے سرمے دانی اور سرمچو لیا اور اس کے جہیز میں رکھ دیا۔

    فہمیدہ کو سرمہ بہت پسند تھا۔ وہ اس کو معلوم نہیں، کیوں اتنا پسند تھا۔ شاید اس لیے کہ اس کا رنگ بہت زیادہ گورا تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ تھوڑی سی سیاہی بھی اس میں شامل ہو جائے۔ ہوش سنبھالتے ہی اس نے سرمے کا استعمال شروع کر دیا تھا۔

    اس کی ماں اس سے اکثر کہتی، ’’فہمی !یہ تمھیں کیا خبط ہوگیا ہے۔۔۔ جب نہ تب آنکھوں میں سرمہ لگاتی رہتی ہو۔۔۔‘‘

    فہمیدہ مسکراتی، ’’امی جان۔۔۔ اس سے نظر کمزور نہیں ہوتی۔۔۔ آپ نے عینک کب لگوائی تھی؟‘‘

    ’’بارہ برس کی عمر میں ‘‘فہمیدہ ہنسی۔ ’’اگر آپ نے سرمے کا استعمال کیا ہوتا، تو آپ کو کبھی عینک کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ اصل میں ہم لوگ کچھ زیادہ ہی روشن خیال ہوگئے ہیں لیکن روشنی کے بدلے ہمیں اندھیرا ہی اندھیرا ملتا ہے۔ ‘‘

    اس کی ماں کہتی، ’’جانے کیا بک رہی ہو۔‘‘

    ’’میں جو کچھ بک رہی ہوں صحیح ہے ۔آج کل لڑکیاں نقلی بھویں لگاتی ہیں۔ کالی پنسل سے خدا معلوم اپنے چہرے پر کیا کچھ کرتی ہیں ،لیکن نتیجہ کیا نکلتا ہے۔۔۔ چڑیل بن جاتی ہیں۔ ‘‘

    اس کی ماں کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا، ’’جانے کیا کہہ رہی ہو۔ میری سمجھ میں تو خاک بھی نہیں آیا ۔‘‘

    فہمیدہ کہتی، ’’امی جان! آپ کو اتنا سمجھنا چاہیے کہ دنیا میں صرف خاک ہی خاک نہیں۔۔۔ کچھ اور بھی ہے۔ ‘‘

    اس کی ماں اس سے پوچھتی، ’’اور کیا ہے ؟‘‘

    فہمیدہ جواب دیتی، ’’بہت کچھ ہے۔۔۔ خاک میں بھی سونے کے ذرے ہوسکتے ہیں۔ ‘‘

    خیر۔۔۔ فہمیدہ کی شادی ہوگئی۔۔۔ پہلی ملاقات میاں بیوی کی بڑی دل چسپ تھی۔ جب فہمیدہ کا خاوند اس سے ہم کلام ہوا ، تو اس نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں میں سیاہیاں تیر رہی ہیں۔

    اس کے خاوند نے پوچھا، ’’یہ تم اتنا سرمہ کیوں لگاتی ہو؟‘‘

    فہمیدہ جھینپ گئی اور جواب میں کچھ نہ کہہ سکی۔

    اس کے خاوند کو یہ ادا پسند آئی اور وہ اس سے لپٹ گیا۔ لیکن فہمیدہ کی سرمہ بھری آنکھوں سے ٹپ ٹپ کالے کالے آنسو بہنے لگے۔

    اس کا خاوند بہت پریشان ہوگیا، ’’تم رو کیوں رہی ہو ؟‘‘ فہمیدہ خاموش رہی۔

    اس کے خاوند نے ایک بار پھر پوچھا، ’’کیا بات ہے ؟ آخر رونے کی وجہ کیا ہے؟ میں نے تمھیں کوئی دکھ پہنچایا؟‘‘

    ’’جی نہیں۔‘‘

    ’’ تو پھر رونے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟‘‘

    ’’ کوئی بھی نہیں۔‘‘

    اس کے خاوند نے اس کے گال پر ہولے ہولے تھپکی دی اور کہا، ’’جان من جو بات ہے مجھے بتا دو۔۔۔ اگر میں نے کوئی زیادتی کی ہے تو اس کی معافی چاہتا ہوں۔۔۔ دیکھو تم اس گھر کی ملکہ ہو۔۔۔ میں تمہارا غلام ہوں۔۔۔ لیکن مجھے یہ رونا دھونا اچھا نہیں لگتا۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ تم سدا ہنستی رہو۔ ‘‘

    فہمیدہ روتی رہی۔

    اس کے خاوند نے اس سے ایک بار پھر پوچھا، ’’آخر اس رونے کی وجہ کیا ہے؟‘‘

    فہمیدہ نے جواب دیا، ’’کوئی وجہ نہیں ہے، آپ پانی کا ایک گلاس دیجیے مجھے۔‘‘

    اس کا خاوند فوراً پانی کا ایک گلاس لے آیا۔ فہمیدہ نے اپنی آنکھوں میں لگا ہوا سرمہ دھویا۔ تولیے سے اچھی طرح صاف کیا۔ آنسو خود بخود خشک ہوگئے اس کے بعد وہ اپنے خاوند سے ہم کلام ہوئی۔

    ’’ میں معذرت چاہتی ہوں کہ آپ کو میں نے اتنا پریشان کیا، اب دیکھیے میری آنکھوں میں سرمے کی ایک لکیر بھی باقی نہیں رہی۔ ‘‘

    اس کے خاوند نے کہا، ’’مجھے سرمے پر کوئی اعتراض نہیں ، تم شوق سے اس کو استعمال کرو، مگر اتنا زیادہ نہیں کہ آنکھیں ابلتی نظر آئیں۔ ‘‘

    فہمیدہ نے آنکھیں جھکا کر کہا، ’’مجھے آپ کا ہر حکم بجا لانا ہے، آئندہ میں کبھی سرمہ نہیں لگاؤں گی۔ ‘‘

    ’’ نہیں نہیں۔۔۔ میں تمھیں اس کے استعمال سے منع نہیں کرتا ۔۔۔میں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ اس چیز کو بقدر کفایت استعمال کیا جائے، ضرورت سے زیادہ جو بھی چیز استعمال میں آئے گی، اپنی قدر کھو دے گی۔‘‘

    فہمیدہ نے سرمہ لگانا چھوڑ دیا۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ اپنی چاندی کی سرمے دانی اور چاندی کے سرمچو کو ہر روز نکال کر دیکھتی تھی اور سوچتی تھی کہ یہ دونوں چیزیں اس کی زندگی سے کیوں خارج ہوگئی ہیں، وہ کیوں ان کو اپنی آنکھوں میں جگہ نہیں دے سکتی۔

    صرف اس لیے کہ اس کی شادی ہوگئی ہے؟ صرف اس لیے کہ وہ اب کسی کی ملکیت ہوگئی ہے؟ یا ہوسکتا ہے کہ اس کی قوتِ ارادی سلب ہوگئی ہو۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی تھی۔کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تھی۔

    ایک برس کے بعد اس کے ہاں چاند سا بچہ آگیا۔ فہمیدہ نڈھال تھی لیکن اسے اپنی کمزوری کا کوئی احساس نہیں تھا اس لیے کہ وہ اپنے لڑکے کی پیدائش پر نازاں تھی۔ اسے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس نے کوئی بہت بڑی تخلیق کی ہے۔

    چالیس دنوں کے بعد اس نے سرمہ منگوایا اور اپنے نومولود لڑکے کی آنکھوں میں لگایا۔۔۔ لڑکے کی آنکھیں بڑی بڑی تھیں۔۔۔ ان میں جب سرمہ کی تحریر ہوئی تو وہ اور بھی زیادہ بڑی ہوگئیں۔ اس کے خاوند نے کوئی اعتراض نہ کیا کہ وہ بچے کی آنکھوں میں سرمہ کیوں لگاتی ہے ، اس لیے کہ اسے بڑی اور خوب صورت آنکھیں پسند تھیں۔

    دن اچھی طرح گزر رہے تھے۔ فہمیدہ کے خاوند شجاعت علی کو ترقی مل گئی تھی۔ اب اس کی تنخواہ ڈیڑھ ہزار روپے کے قریب تھی۔ ایک دن اس نے اپنے لڑکے، جس کا نام اس کی بیوی نے عاصم رکھا تھا، سرمہ لگی آنکھوں کے ساتھ دیکھا۔ وہ اس کو بہت پیارا لگا، اس نے بے اختیار اس کو اٹھایا چوما چاٹا اور پلنگڑی پر ڈال دیا۔ وہ ہنس رہا تھا، اور اپنے ننھے منے ہاتھ پاؤں ادھر ادھر مار رہا تھا۔

    اس کی سالگرہ کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ فہمیدہ نے ایک بہت بڑے کیک کا آرڈر دے دیا تھا۔ محلے کے سب بچوں کو دعوت دی گئی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کے لڑکے کی پہلی سالگرہ بڑی شان سے منائی جائے۔

    سالگرہ یقیناً شان سے منائی جاتی، مگر دو دن پہلے عاصم کی طبیعت نا ساز ہوگئی اور ایسی ہوئی کہ اسے تشنج کے دورے پڑنے لگے ۔ اسے ہسپتال لے گئے، وہاں ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا۔ تشخیص کے بعد معلوم ہوا کہ اسے ڈبل نمونیا ہوگیا ہے۔ فہمیدہ رونے لگی، بلکہ سر پیٹنے لگی، ’’ہائے میرے لال کو یہ کیا ہوگیا ہے۔ ہم نے تو اسے پھولوں کی طرح پالا ہے۔‘‘ ایک ڈاکٹر نے اس سے کہا، ’’میڈم یہ بیماریاں انسان کے احاطہ اختیار میں نہیں۔ ویسے بحیثیت ڈاکٹر میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ بچے کے جینے کی کوئی امید نہیں۔ ‘‘فہمیدہ نے رونا شروع کر دیا، ’’میں تو خود مر جاؤں گی۔ خدا کے لیے ، ڈاکٹر صاحب! اسے بچا لیجیے، آپ علاج کرنا جانتے ہیں، مجھے اللہ کے گھر سے امید ہے کہ میرا بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

    ’’ آپ اتنے نا امید کیوں ہیں؟‘‘

    ’’میں نا امید نہیں۔ لیکن میں آپ کو جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا۔‘‘

    ’’جھوٹی تسلیاں، آپ مجھ کو کیوں دیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ میرا بچہ زندہ رہے گا۔ ‘‘

    ’’خدا کرے کہ ایسا ہی ہو‘‘

    مگر خدا نے ایسا نہ کیا اور وہ تین روز کے بعد ہسپتال میں مر گیا۔

    فہمیدہ پر دیر تک پاگل پن کی کیفیت طاری رہی اس کے ہوش و حواس گم تھے کوئلے اٹھاتی انھیں پیستی اور اپنے چہرے پر ملنا شروع کر دیتی۔ اس کا خاوند سخت پریشان تھا۔ اس نے کئی ڈاکٹروں سے مشورہ کیا۔ دوائیں بھی دیں لیکن خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ فہمیدہ کے دل و دماغ میں سرمہ ہی سرمہ تھا۔ وہ ہر بات کا لک کے ساتھ سوچتی تھی۔ اس کا خاوند اس سے کہتا، ’’کیا بات ہے تم اتنی افسردہ کیوں رہتی ہو؟‘‘ وہ جواب دیتی ’’جی، کوئی خاص بات نہیں۔۔۔ مجھے آپ سرمہ لا دیجیے ‘‘اس کا خاوند اس کے لیے سرمہ لے آیا، مگر فہمیدہ کو پسند نہ آیا۔ چنانچہ وہ خود بازار گئی اور اپنی پسند کا سرمہ خرید کر لائی۔ اپنی آنکھوں میں لگایا اور سو گئی۔۔۔ جس طرح وہ اپنے بیٹے عاصم کے ساتھ سویا کرتی تھی۔

    صبح جب اس کا خاوند اٹھا اور اور اس نے اپنی بیوی کو جگانے کی کوشش کی تو وہ مردہ پڑی تھی اس کے پہلو میں ایک گڑیا تھی جس کی آنکھیں سرمے سے لبریز تھیں۔

    مأخذ :
    • کتاب : منٹو نوادرات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے