تاریک چوک کا دودھیا لیمپ

نعیم بیگ

تاریک چوک کا دودھیا لیمپ

نعیم بیگ

MORE BYنعیم بیگ

    شام ڈھل چکی تھی۔ عالمی ادبی کانفرنس دار الحکومت کے فائیو سٹار ہوٹل سے منسلک نئی سرکاری عمارت میں زور و شور سے جاری تھی۔ ادب کے متوالے شاعر و ادیب و نقاد چہروں پر مسکراہٹیں سجائے ایک دوسرے سے معانقہ و مصافحہ کرتے، رسم و راہ اور ملاقاتیں کرنے کو موجود تھے۔ بائیں جانب نسبتاً ایک چھوٹے ہال میں ہائی ٹی کا اہتمام تھا۔

    مرکزی ہال میں جاری سیشن کا آخری مقالہ پڑھا جا رہا تھا۔ عنوان تھا ”عہد حاضر کی توانا ادبی آوازیں۔“ مقالے کی حد درجہ تنقیدی زبان و بیاں نے مقالہ کی روح کھینچ لی تھی۔ جوہری خوشبو سے محروم اور بے اثر۔ البتہ روایتی لفاظی مقالے کی درجہ بندی میں بے حد اہم تھی۔

    مقالہ ختم ہوتے ہی بیشتر شرکاء فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ کچھ نے بڑھ کر مقالہ نویس کو مبارک باد پیش کی۔ باقی پروگرام کے مطابق ہائی ٹی بوفے کی طرف مڑ گئے۔ جہاں چند معروف ادیب و شاعر پہلے سے کافی کے مگ ہاتھ میں لئے علمی، فکری جہات اور عملی و سائنسی انتقادات کے منظر نامہ پر دانش کے دریا بہا رہے تھے۔

    اساطیری و کلاسیک ادب سے ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے عہد جدید میں لکھا جانے والا عصری ادب زیرِ بحث تھا۔ سماج کے ٹیبوز کو آشکار کیا جا رہا تھا۔ معاشی ناانصافیوں اور طبقاتی جنگ میں پیچھے رہ جانے والا انسان موضوعِ گفتگو تھا۔

    پرجوش گفتگو جب نقطہِ عروج پر پہنچی تو دلائل کے ساتھ جذبات اور چہروں پر متانت کی بجائے حریفانہ سرخی اور لہجوں میں دبی ہوئی خفگی اور ناراضگی نمایاں ہونے لگی۔

    سوال اٹھ رہے تھے کہ عصری ادب میں زندگی کہاں ہے؟ اور اگر ہے تو اتنی بے بس کیوں ہے؟ اس کے بازو شل اور اڑنے کی طاقت سے محروم کیوں ہیں؟ اِس لاغرپن کا آخر علاج ہے کیا؟

    ایک نوجوان نے پیچھے سے شرارت کی۔ ”بگو گوشے۔“

    ”کیا کہا؟“ ایک سینئر آواز کی طرف مڑے۔

    ”چھوڑئیے نا سر۔“ دوسرے نے بات کاٹ دی۔

    ایک اور آواز ابھری۔

    ’’سر یہ بتائیے کیا ان پرندوں کے پر کاٹ دئیے گئے ہیں یا ان کے بوڑھے پروں میں اب اڑنے کی سکت باقی نہیں رہی ہے؟‘‘

    نوجوان نے آگے بڑھ کر سوال داغ دیا۔

    ’’بھائی! یہ تو وہی بتائیں گے جن کے پر کاٹے گئے ہوں۔ ہم تو موجود ہیں۔“ کالے سوٹ میں ملبوس ایک صاحب بولے۔

    ’’لیکن سر! بے چینی بہت بڑھ رہی ہے؟“ ایک لڑکی نے کہا۔

    ”آوازیں ڈوب رہی ہیں۔ انفرادی مزاحمت تو ہے لیکن اجتماعی سروکار موجود نہیں۔“

    ’’ہاں! یقیناً کہیں کہیں خلا موجود ہیں، لیکن یہ طے رکھیئے سماج درست سمت میں سفر کر رہا ہے۔‘‘

    کالے سوٹ والے نے تائیدی نظروں سے سب کی طرف دیکھا۔

    ’’مطلب یہ کہ سماج درست سمت میں چلتے چلتے تھک کر بے حس ہو گیا ہے؟“ ایک شاعر دور سے چہکے۔

    ”ارے صاحب! بے حسی کس بلا کا نام ہے۔ بھول جائیے۔ آپ شعر کہیے۔ ہجر و فراق و وصال کے مدھر گیت گائیے۔ صدیوں سے آپ یہی کر رہے ہیں۔“ سوٹ والے نے مسکراتے ہوئے جب کہا تو ایک قہقہہ پھوٹ پڑا۔

    کالے سوٹ والے دوبارہ کہنے لگے ”دیکھئے نا، ہمارے تسلسل سے لکھے کالمز پر سرکار نے دارالحکومت میں انتہائی جدید سولر سسٹم نصب کر دیا ہے۔ اب شہر بھر کی ٹریفک سگنل لائٹس نئے نظام پر شفٹ ہو گئی ہیں۔“

    نیم دائرے میں کھڑے بیشتر لوگوں نے تائید میں سر ہلائے۔

    ہال کی دوسری جانب قریبی یونیورسٹی کے چند لڑکے لڑکیاں ایک دراز قد گھنے سیاہ بالوں والے لڑکے کو گھیرے میں لیے جمع تھے۔ لمبے بالوں والا مسلسل بول رہا تھا۔ سامعین خاموش لیکن پرجوش تھے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت و افلاس اور سماجی بے چینی، تحریر و تقریر پر پابندیاں، اخبارات و میڈیا میں سنسر اور ٹی وی پروگرامز کو انجانی مداخلت پر روک دیئے جانے پر وہ بے حد سیخ پا تھا۔

    ہال میں شرکاء کی آمد جاری تھی۔ داخل ہونے پر ان کی پہلی نظر گفتگو کرتے لمبے بالوں والے پر پڑتی، لیکن وہ اسے نظر انداز کرتے کافی پیتے گہرے رنگوں میں وولن سٹیم شدہ سوٹوں اور نکٹائیوں میں ملبوس ان دانشوروں سے جا ملتے، جن کے جھرمٹ میں خوش پوش خواتین دارالحکومت کی یخ بستہ سردی سے بچنے کے لئے لِینن اور گبرڈئین کے ملبوسات زیبِ تن کیے ہنس ہنس کر دوہری ہو رہی تھیں۔

    اِس بے حد پر اثر اور گداز ماحول میں کچھ پرجوش و جذباتی اہلِ علم اپنے دلائل کو پیش کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں اور آنکھوں سے اپنی اپنی سچائی کو ثابت کر رہے تھے، تاہم چند سنجیدہ ادیب و شاعر ایک جانب حیرت کا مجسمہ بنے سرگوشیوں میں بودے دلائل پر تعجب کا اظہار کر رہے تھے۔

    یہ گفتگو کا اوپن سیشن تھا جو وقت سے پہلے ہی مرکزی ہال کی بجائے چائے کی میز پر شروع ہو چکا تھا۔

    جوں جوں گفتگو میں تیزی آ نے لگی وہ بے سُری ہو کر فضا کو آلودہ کرنے لگی۔ چہروں پر کدورت کے سائے ابھرنے لگے۔ معاصرانہ چشمک کی آڑ میں مالی منفعت اور ایوارڈز کی آرزوئیں سر اٹھانے لگیں۔ شام کا حسن ماند پڑنے لگا۔

    لیکن ہمیں اجتماعی سماجی زندگی میں انسان کو ہر قیمت پر فوقیت دینا ہوگی۔ ہم انہیں کسی نئی جنگ کا ایندھن نہیں بننے دیں گے۔“

    لمبے بالوں والے نوجوان شاعر نے ہمت کرکے بڑوں کے سامنے زبان کھول دی۔

    دانشوروں کے کافی کے مگ منہ کے قریب رک گئے۔ ہاتھوں میں تھامے سموسے وہیں ٹھٹھر گئے۔ سب نے متعجب نگاہوں سے اس نوجوان کی طرف دیکھا۔ کئی ایک نے اپنی نکٹائیاں گردن سے ڈھیلی کیں۔ اوپن سیشن میں ابتدا ہونے سے پہلے گفتگو منجمد ہو گئی۔ لمبے بالوں والے کی اس جراٗت پر سبھی انگشتِ بدنداں تھے۔

    ”سینئرز کے سامنے لب کشائی؟“ ایک دبی ہوئی آواز ابھری۔

    لڑکا اور بپھر گیا۔

    ’’جان لیجیے۔ ہم تھیو سیڈی ڈیز ٹریپ کا حصہ نہیں بنے گے۔ وہ زمانے لد گئے۔ ہم سپارٹا ہیں نا ایتھنز!‘‘ نوجوان کے الفاظ تیر کی طرح نکلے۔

    پل بھر میں یہ بریکنگ نیوز کانفرنس ہال سے نکلتی سڑکوں سے ہوتی، ہتھیلیوں پر اچھلتی، سٹریٹ لیمپوں سے ٹکراتی ہواؤں کے دوش پر ہر سو پھیل گئی۔

    لمبے بالوں والے نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کیا اور وہ سب عمارت سے باہر نکل آئے۔ ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے۔ وہ سب احتجاج کر رہے تھے۔

    عمارت کے خارجی آہنی گیٹ کے قریب ہی دارالحکومت کی یخ بستہ ویران سڑک پر ٹریفک سگنل لائٹس سرخ سے پیلی اور سبز ہوتی ہوئی اپنی بے بس نگاہوں سے گذرتے ہوئے لوگوں کو دیکھ کر اپنے میکانکی انداز میں سڑک کے پار حال ہی میں اِستادہ طویل قامت خاموش نئے دودھیا لیمپ سے کبھی سرگوشیوں میں باتیں کرتیں، کبھی خاموش تماشائی بنی ٹھٹر تی رہتیں۔

    سبز ہوتی ہوئی روشنی نے بائیں جانب کی سرخ روشنی سے کہا۔

    ’’دیکھو۔۔۔ دیکھو۔ وہ سامنے کیا ہو رہا ہے۔ یہی وہ لمبے بالوں والا لڑکا ہے جس کی میں بات کر رہی تھی۔‘‘

    سامنے والی سرخ بتی ایکدم سبز ہو گئی۔ اسکی آنکھوں سے گرتے آنسو شبنم کے قطروں کیساتھ مل کر ایک دوسرے میں جذب ہوتے ہوئے پول سے نیچے اترنے لگے۔

    ”آہ۔۔۔ یہ بے چارے کانفرنس سے احتجاج کرتے باہر نکلے تو دھر لیے گئے۔‘‘

    ’’میں سامنے سے یہ سارا ہولناک منظر دیکھ رہی تھی۔ لڑکوں کے سر پر پستول تانے کچھ لوگ انہیں گاڑی میں دھکیل رہے تھے۔ انکی آنکھوں میں غصہ و انتقام تھا۔ وہ انہیں پِیٹ بھی رہے تھے۔‘‘

    سر خ روشنی نے شرم سے سر جھکا لیا۔

    ’’کیوں۔۔۔ تمہیں کیا ہوا؟ کیا تم نے نہیں دیکھا۔“ سبز نے آنکھیں نکالیں۔

    ’’دیکھا تھا۔۔۔ یہ وہی تھا، میں اسے تب سے جانتی ہوں جب مجھے برسوں پہلے یہاں چوک میں اِستادہ گیا تھا۔“ اس نے یاسیت بھرے لہجے میں بے بسی سے کہا۔

    ’’میرا پسندیدہ لمبے بالوں والا شاعر جو اکثر ہاتھ میں بھونپو لئے نظمیں سنا کر بچوں کے دل گھائل کرتا ہے۔‘‘

    یہ کہہ کر وہ سرخ ہو گئی۔

    ”تم نے ان گاڑیوں کو روکا کیوں نہیں؟“

    ’’میں سرخ تو تھی، لیکن وہ رکے ہی نہیں۔“ اس نے بے چارگی سے کہا۔

    ’’در اصل تم میں اتنی قوت ہی نہیں کہ تم دیر تک مسلسل سرخ رہو؟ مجھے دیکھو ساری رات سرد یخ بستہ ہوائیں ہوں کہ شدید گرمی اور لو چل رہی ہو۔ میں روشنی پھیلاتا رہتا ہوں، لیکن کیا مجال لمحہ بھر کو بند ہو جاؤں۔“

    سڑک کے اُس پار طویل قامت ٹھٹھرے ہوئے سفید لیمپ نے پہلی بار آنکھیں جھپکائیں۔

    ’’ہماری جلتی بجھتی روشنیوں میں تو صرف احکامات ہیں لیکن تم تو مسلسل روشنی بہم پہنچاتے ہو۔ کیا تم بھی یہاں اتنے ہی کمزور ہو۔‘‘

    سرخ، پیلی اور سبز روشنیوں نے ایک ساتھ آہ بھری، درد نمایاں تھا۔

    ’’رکو۔۔۔ وہ دیکھو سامنے سے کچھ اور لوگ ہاتھ بلند کئے نعرے لگاتے آ رہے ہیں۔“ بلند و بالا سفید روشنی کا لیمپ چلایا۔

    ”یہ گرفتار ہونے والوں کے ساتھی ہیں۔۔۔ انہیں ہم اکثر یہاں سے گزرتے دیکھتے ہیں۔“

    ”لیکن ان میں تو کافی عمر رسیدہ لوگ جیبوں میں ہاتھ ڈالے بھی ہیں۔ یہ کون ہیں؟“

    ”یہ وہی ہیں جن کا ڈنر فائیو سٹار ہوٹل میں آج طے ہے۔“

    ”تو کیا یہ احتجاج کرنے یہیں لڑکوں کے ساتھ نکل آئے ہیں؟“

    نہیں۔۔۔ نہیں۔ یہ چہل قدمی کرتے کھانے پر جا رہے ہیں۔“ دوسری بولی۔

    لیکن یہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کیوں چل رہے ہیں؟“

    ایک دور اِستادہ لیمپ بول پڑا۔

    ’’اس لئے کہ کہیں نشان زد نہ ہو جائیں۔“ یہ سنتے ہی سب روشنیوں کے منہ اتر گئے۔

    احتجاج بڑھتا جا رہا تھا۔ نوجوانوں کی آوازیں بلند ہورہی تھیں کہ شہر کی سڑکوں پر سرکاری گاڑیاں سائرن بجاتی دندنانے لگیں۔ پھر اچانک فضا میں ناقابلِ برداشت بو پھیل گئی، جیسے بہت سے جانوروں نے ایک ساتھ اپنا فضلہ سڑکوں پر نکال پھینکا ہو۔

    بدبو پھیلتے ہی سرخ، پیلی اور سبز بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ اِن کے بجھتے ہی دوسری روشنیاں بھی بجھ گیں۔ سڑک پر روشنیوں کا سیلاب یکلخت تاریکی میں بدل گیا۔ رفتہ رفتہ سارے شہر کی روشنیاں بجھا دی گئیں۔ گزرنے والوں پرقیامت ڈھے گئی۔ کوئی نہیں جانتا تھا، اب تاریکی کب چھٹے گی؟

    لیکن یہ کیا؟ گھپ اندھیرا ہوتے ہی شہر میں چاندنی واضح ہونے لگی۔

    سڑکوں کے آر پار ہر سو چاندنی پھیل گئی۔ خاموش سرخ، پیلی، سبز بتیاں اور سٹریٹ لیمپ اندر سے مسکرانے لگے۔

    فٹ پاتھ کی پٹی پر گملوں میں سجی ننھی پتیوں پر شبنم کے قطرے نمایاں ہو ئے تو روشنی منعکس ہوکر دور دور تک گھروں کے اندر پہنچنے لگی۔

    ’تاریک چوک میں اِستادہ بڑے دُودھیا لیمپ نے بالآخر سکوت توڑا۔‘

    ’’امن، سکون اور چاہتوں کے پیغام کبھی اِن کی مارکیٹ کے پروڈکٹ نہیں رہے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں اِس کے دام نہیں ملتے نا۔ یہ صرف جنگوں کے تاجر ہیں۔‘‘

    ”تب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟“ تاریک روشنیوں کی کانپتی ہوئی آوازیں ایک ساتھ ابھریں۔

    ’’ہم روشنیوں کو جاری رکھیں گے۔ سڑکیں روشن رکھیں گے۔ اِن کے احکامات رد کر دیں گے۔ ہم اپنی طاقت سے انہیں روکیں گے۔ ہم احتجاج کرنے والوں کے لئے ساری ساری رات سردی میں ٹھٹھر کر انہیں روشن مستقبل دیں گے۔ آؤ میرے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دو۔‘‘

    بڑے دودھیا لیمپ نے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں پھیلا دئیے۔ چوک میں اِستادہ سارے بل بورڈز، نیون سائنز اور تاریک روشنیوں نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو تھام لیا۔

    ’’اب رات کے آخری پہر میں اپنے دامن میں کسی لمحہِ پیار کے چند بول باندھ رکھو۔ یہی رخت سفر ہے۔‘‘

    ’’زنداں میں یہی سامان میسر ہوگا تو شب گزیدہ سحر نمودار ہوگی۔‘‘

    یہ کہہ کر دودھیا لیمپ بھی خاموش ہو گیا۔

    اِسی لمحے بے بس سرخ، پیلی اور سبز بتیاں احکامات بجا لانے کو دوبارہ جل اٹھیں۔

    دور کہیں صبح بے نور کی سفیدی افق سے جھانک رہی تھی۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY