وارث

MORE BYاسد محمد خاں

    قصبائی پولیس لائنز تھی، جس کے سامنے میدان میں جیسے چھوٹا موٹا بازار لگ گیا تھا۔ سارہ بانوں نے اپنے جانوروں پر بندھے کجاوے، کاٹھیاں، رسے کھولنا اور انھیں چارے پانی کے لیے آزاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ ہم دو انسان، مویشیوں کے اس دائرے کے بیچ زنجیریں پہنے رسیوں سے بندھے پڑے تھے۔ ان لوگوں کی قید میں آئے ہو ئے گیارہ گھنٹے ہو گئے تھے، مگر ان کم نصیبوں نے دو تین بار پانی پلانے کے سوا ہمیں کھانے کو کچھ نہیں دیا تھا۔ ان سے اچھے تو بیگار میں ساتھ آنے والے سار بان تھے، جو اپنے جانوروں کو چارا تو دے رہے تھے۔

    میرے قریب زنجیریں بجیں ۔ میں سر گھما کر دیکھا، میرا ساتھی، کھوسا، کھسکتے کھسکتے میرے برابر آ گیا تھا۔ اس نے سر گوشی میں پوچھا، ’’ہا کامریڈ! کیسا ہے؟‘‘

    ’’ٹھیک ہوں ۔ کم زوری ہو گئی ہے۔‘‘

    ’’کم زوری بروبر ہوئیں گا۔ کھانے کا کچھ بی نئیں دیا حرام خور لوگوں نے۔‘‘

    ’’پیاس بھی لگ رہی ہے۔‘‘

    ’’ابی دیکھو، ہم ان کا ایسی تیسی کرتا ؤں۔ یہ بے غیرت ایسا نئیں سمجھیں گا۔ ہم کو رولا ڈالنا پڑیں گا۔‘‘ پھر اس نے پولیس لائنز کی طرف منہ کر کے آواز لگائی، ’’سنو ڑے! او بدنصیب! ہم لوگ کو بھوکا پیاسا کیوں مارتے ہو۔ او جہنم کے کیڑے! اڑے ہم لوگ کو مردوں کی طرح جان دینا آتا ہے، ایکی بار میں گولی مار کے خلاص کرو نئیں۔ ابی جو مارنے کا پلان نئیں ہے تو پانی دیو، کچھ کھانے کو دیو۔ کافر کی اولاد!‘‘ پھر میری طرف جھک کے وہ آہستہ سے کہنے لگا، ’’ہم ان لوگ کی دم پہ پاؤں رکھ دیاؤں ۔ کافر بولو تو یہ لوگ ایک دم گرمی کھا جاتائے، کوئی اور بات بولو تو سنتائی نئیں ہے سالا، کم ظرف!‘‘ اور وہ راز داری سے ہنسنے لگا۔

    کھوسا کی اس حکمت علمی کا واقعی اثر ہوا۔ ایک گارڈ نے مٹی میں ٹھوکر مار کے بہت سی ریت مٹی اس کے منہ پر پھینکی اور اسے گالی دی۔ ’’لے، مٹی کھا، بے دین سالے! سب کو کافر بولتائے۔ بے شرم کتا!‘‘

    کھوسا نے منہ پر لگی مٹی کو جھاڑتے ہوئے مزے سے کہا، ’’ہم کیا بولتاؤں بچہ۔ دنیا جانتائے تم کافر سے بی بدتر ہے، سالا! قیدی کا راشن کھا جاتائے تم لوگ۔ بھوکا پیاسا مارتائے۔ ہم کافر کی قید میں رہ کے آیاؤں۔ وہ لوگ بھی انسان ہے، تم نئیں ہے۔۔۔ تم گھدا ہے سالا! ہاں نا۔ بلکہ تم سُوَر، کتا ہے۔‘‘

    گارڈ جو مٹی میں ٹھوکر مار کر نکلا چلا گیا تھا، پلٹ پڑا، ’’تیری تو۔۔۔ کہہ کے وہ جھپٹا۔

    اس نے اپنی بندوق کاکندا حملے کے لیے سیدھا ہی کیا تھا کہ کھوسا نے بھیانک آواز میں ڈکرانا شروع کر دیا۔ ’’صاب! زنجیر سے بندھے قیدی کو بٹ مارتائے۔ صاب! گارڈ پاگل ہو گیائے۔ صاب! بچاؤ ہم لوگ کو۔‘‘

    گارڈ نے اور میں نے اپنی طرف بڑھتے اس افسر کو نہیں دیکھا تھا، کھوسا نے دیکھ لیا تھا۔ اسی لیے اس نے گارڈ کو راز داری سے گالی دینا اور پھر افسر کو سنا کے فریاد کرنا شروع کر دیا تھا۔ کھوسا کی فریاد اور شور شرابے کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ افسر نے جیسے کاشن دیتے ہوئے اپنے گارڈ کو للکارا، ’’کیا کرتا ہے؟ ہٹو پیچھے! بیک، بیک‘‘

    گارڈ کی رائفل کا بٹ دھیرے دھیرے زمین پر ٹک گیا۔ اس نے اپنے افسر کی طرف دیکھا اور غصے سے پھنستی آواز میں بولا، ’’گالی نکالتا ہے صاب! کافر بولتا ہے۔‘‘

    کھوسا نے فریاد اور دل لگی کے ملے جلے انداز میں کہا، ’’سر، کیا کرے ہم لوگ؟ ہمارے کو بھوکا مار دیا۔ خود ہمارا سامنے بسکٹ دودھ کھاتائے۔ ہم لوگ کو چائے بھی نئیں دیا یہ لوگ نے، دو دفعہ پانی پلایا ہے، بس۔ کافر نئیں بولے تو کیا کرے صاب!‘‘

    افسر نے ڈپٹ کر کہا، ’’بکواس بند کرو!‘‘ پھر گارڈ سے بولا، ’’میرے ساتھ آؤ۔‘‘ وہ دونوں چلے گئے۔ مجھے دیکھتے ہوئے کھوسا آہستہ سے ہنسا، کہنے لگا، ’’دیکھا کامریڈ؟ ابی کھانا آئیں گا۔ اپنا کام صئی ہو گیائے۔‘‘

    کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد جب ہم دونوں مایوس ہو چکے تھے، تین گارڈ اسی میدان میں ہمارے لیے کھانے پینے کی چیزیں لے آئے۔ ابلے ہوئے چاول، چنے کی دال، کٹا ہوا کھیرا اور موٹے موٹے دو کباب تھے، دیکھنے میں مچھلی کے لگتے تھے۔ کھوسا نے ہنستی ہوئی آنکھوں سے ٹین کی پلیٹ میں رکھے ان کبابوں کو دیکھا اور ساتھ آنے والے گارڈ سے، جو بٹ مارنے لپکا تھا، پوچھا، ’’یہ کیسا کباب ہے بئی ایسا موٹا موٹا؟‘‘

    گارڈ ابھی تک جھلسا ہوا تھا، اس نے حرام جانور کا نام لیا کہ یہ اس کے کباب ہیں۔

    کامریڈ کھوسا میری طرف دیکھ کے تعریفی انداز میں بولا، ’’ دیکھو بئی دوست! ابی کیسا خیال رکھتا ہے یہ جوان ہم قیدی لوگ کا، اپنا پیٹ کاٹ کے، اپنی خاص ڈش میں سے ہمارے کو کھلاتا ئے۔ شاباش ہے! سخی مردار!‘‘

    ساتھ کے دونوں گارڈ ہنسنے لگے۔ جھلسے ہوئے گارڈ نے کھوسا سے تو کچھ نہ کہا، اپنے ساتھیوں سے بولا، ’’ادھر کھڑے ہو کے دانت مت نکالو، سالا حرام خور! بہت کام پڑا ہے۔ چلو، نہیں میں رپورٹ کر دوں گا۔‘‘

    گارڈ چلے گئے تو ہم دونوں نے کھانا شروع کیا۔ گرفتاری کے وقت ہونٹ پر زخم آنے کی وجہ سے اسے کھانے میں دقت ہو رہی تھی مگر اس نے ہنستے ہنساتے کھانا پورا کیا۔

    کھانا کھا کر جان آئی تو وہ جو پہلے وردی والوں کے ساتھ مسخرا پن کر رہا تھا، اور کھل اٹھا۔ اس نے اونچی آواز میں کھانے کی تعریف شروع کر دی کہ بھئی بہت اچھا مینو ہے اور سنو تم لوگ، اب خیال رکھنا، مجھے پلا مچھلی کی بریانی پسند ہے۔ رات میں بریانی لانا اور ساتھ میں ایک بوتل اچھی انگلش وائن ضرور لیتے آنا۔ سمجھے؟ مہمان داری کرتے ہو تو اچھی طرح کرو، سالو۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد قہقہہ بھی لگا رہا تھا۔

    آخر دو وردی پوشوں کے ساتھ ان کا افسرہماری طرف آیا۔ افسر کے ہاتھ میں چھڑ ی تھی۔ وردی والے اپنی رائفلیں سیدھی کیے آئے تھے، جیسے بس گولی چلا ہی دیں گے۔ افسر نے ہنستے، شور مچاتے کھوسا کے سر پر آہستہ سے اپنی چھڑی رکھ دی اور بھاری گونجتی آواز میں پوچھا، ’’تو نے نشہ کیا ہوا ہے جو اتنا شور کرتا ہے؟‘‘

    کھوسا نے مسکر ا کرسر گھمایا، بولا، ’’خدا کا شکر ہے، آپ افسرلوگ ہماری بات سننے کے واسطے آ گیا ہے صاب! ہم لوگ نہ قتل کا ملزم ہے، نئیں ملک کے خلاپ غداری کیا ہے۔ ہم لوگ نے آپ سرکاری آدمین ہے، جیسا قاعدے قانون میں گرپتاری کا اصول ہے، وہ کرو۔ ہم لوگ کو جانو ر کے طرحے ادھر کیوں ڈال دیا ہے؟ کچھ خدا کا خوپ کرو سر۔‘‘

    افسر نے دھیرے سے پوچھا، ’’تو ہم کو قاعدہ قانون سکھاتا ہے۔ ایں، حرام خور!‘‘

    کھوسا بولا، ’’ہم کیا سکھائیں گا بئی قانون۔ ہہا! تم صاب لوگ ہے۔ قانون کا تم کو پہلے ہی پتا ہوئیں گا۔۔۔ یا نئیں بی ہووے۔ بس ایک بات یاد دلا تاؤں، ہم لوگ لا وارث نئیں ہے صاب! ہاں، یہ رستے کا آدمین، یہ اوٹھ والا ساربان، گوٹھ گاؤں قصبے کا لوگ، شہری مہری۔۔۔ یہ سب کمزور بھلے ہی ہووے، پر ان کو خبر ہے کہ بئی، تم لوگ ہم دو کو پکڑ کے لے جا رئے ہو۔ ابھی بھوک پیاس میں، بندوق کا بٹ مارنے سے، یا گولی چلانے سے ایک یا دونوں قیدی کم ہو جاوے تو بات چھپ نئیں سکیں گا سر! شہر میں دو چار اخبار والا، دس بیس کونسلر، اسمبلی کے ممبر لوگ ایک دوسرے کو پوچھتا ہوئیں گا کہ بئی اپنا یار کھوسا کدر ہے؟ اس کا کامریڈ کدر ہے؟ اور وہ اس کا معشوق جرمن بی بی وہ کدر ہے؟ یہ لوگ آخر کدر چلا گیا بئی؟‘‘

    افسر اپنے پتلون کی سائڈ پر زور زور سے بید مارتا ہوا مزے لے کر کہنے لگا، ’’اچھا تو یہ لائن ہے تیری؟‘‘

    کھوسا نے جرمن جرنلسٹ گیزل کو اپنی محبوبہ بتایا تھا جب کہ وہ اسے صورت سے بھی نہیں پہچانتا تھا۔ اس نے اپنے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے ہم دو کو اپنے ساتھ نتھی کر کے، ایک طرح سے ہمیں مضبوط اور محفوظ کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ بڑی دلیری سے سرکاری آدمی کو نتائج کی دھمکی دے رہا تھا۔ مگر، میں نے سوچا، وہ سب تو ایسی دھمکیوں کے عادی ہوں گے۔ ہرسرکا ری اہل کار کو اپنی حدوں کا اندازہ ہوتا ہے، اور نہیں بھی ہو تو پروا نہیں، وہ سمجھتا ہے کہ لوگ جب پھنس جاتے ہیں تو لمبی کہانیاں سناتے ہیں اور بلف چل کے کام نکالنا چاہتے ہیں۔

    افسر ہنسنے لگا، بولا، ’’تو کوئی بڑا یا چھوٹا سیاسی لیڈر نہیں ہے، نہ ہی این جی او والا ہے۔ تیسرے درجے کا سوشلسٹ بے دین ہے تو۔ اونٹ سے گر کے، یا سانپ کے کاٹے سے، یا فرار ہونے کی کوشش میں جان سے چلا جائے گا تو کوئی اخبار دو لائن کی خبر بھی نہیں لگائے گا۔ اور اطمینان رکھ! کسی جرمن اٹالین کے پیٹ میں تکلیف نہیں ہو گی وہ گئی اپنے گھر۔‘‘

    کھوسا ہنسنے لگا، ’’ایسا بی نئیں ہے سر! ابی آپ کو بتاوے؟ ہم لوگ کے قافلے کا آگے پیچھے دو موٹر سائیکل بروبر لگی ہوئی ہے۔ آپ کے جوانوں نے تین بار وارننگ دیا ہے، ان لوگ پر ہوائی فیر بھی کیا ہے۔‘‘

    افسر جانتا تھا یہ بلف نہیں ہے۔

    کھوسا بولا، ’’سمجھا صاب!؟ موٹر سیکل والا آگے پیچھے ٹیلی پون کرتا ہوئیں گا۔ وہ لوگ کے پاس لمبے لمبے لینس والا کیمرا ہوئیں گا۔ وہ لوگ ہم دو بندو ں کو اوٹھ پہ زنجیروں، رسیوں سے بندھا ہوا دیکھ کے تصویر کھینچ کے لے گیا ہوئیں گا۔‘‘

    افسر نے ہونٹ بھینچتے ہوئے اپنے گارڈ ز کو اشارہ کیا، انھوں نے بڑھ کر کھوسا کو بغلوں میں ہاتھ دے کے بیٹھے سے اٹھا دیا۔ افسر نے ہلکے ہاتھ سے اپنی چھڑی اس کی پیٹھ سے ٹکا دی اور کہا، ’’چلو!‘‘

    کھوسا جما کھڑا رہا بولا، ’’یہ بھائی بی ساتھ چلیں گا۔ ہمارا اپنا خون کے رشتے والا ہے، یہ بی کامریڈ ہے۔ اس کو بخار ہے سر! کوئی آس پرو، ماس پرو کی ٹکیا دے کے، چائے مائے پلا کے اس کو صئی کرنے کا ہے۔ کدری اور بیمار نئیں ہو جاوے۔ یہ اپنا بھائی۔‘‘

    کھوسا نے یہ بات افسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے اتنے طے شدہ انداز میں کہی تھی کہ اس نے فوری فیصلہ کر لیا، گارڈ کو چھڑی سے اشارہ کیا کہ اٹھاؤ۔ گارڈ نے مجھے بھی سہارا دے کے اٹھایا اور لے چلا۔

    ہمارا چھوٹا سا قافلہ پولیس لائنز میں داخل ہو گیا۔

    اور یہاں اکبر علی کھوسا کی کہانی، جتنی کہ مجھے معلوم ہے، ختم ہوتی ہے۔

    کس لیے کہ پولیس لائنز پہنچنے کے بعد مجھے، یا کسی کو، پھر اس کی کوئی خبر نہ مل سکی۔

    تاہم، بے گنتی بلوچ، اور بے شمار وہ جو بلوچ نہیں ہیں، اسے لا وارث نہیں مانتے۔

    کھوسا نے سچ کہا تھا کہ یہ رستے کا آدمی، یہ اوٹھ والا ساربان، گوٹھ گاؤں قصبے کا لوگ، شہری مہری۔ یہ سب کم زور سہی، پر یہی اس کے وارث ہیں۔

    سبھی کو یہ معلوم ہے کہ ایک اکبر علی کھوسا ابھی ہو کے گیا ہے۔ ایک کو ابھی آنا ہے۔ اور وہ اپنے نسب سے اور گدّی اور طرّے کے پیچ سے نہیں، کام سے، کٹے پھٹے اپنے ہاتھوں سے، اور اپنے دل کی اور دماغ کی مضبوطی سے پہچانا جائے گا۔

    اس کے وارث، اس کے آنے کی خبر دے چکے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY