وہ اور میں

انتظار حسین

وہ اور میں

انتظار حسین

MORE BYانتظار حسین

    کہانی کی کہانی

    تشکیک، بے یقینی اور کشمکش کا قصہ ایک کردار کے ذریعہ سامنے لایا گیا ہے۔ جو ریستوران میں بیٹھ کر ایک شخص پر پیچ و تاب کھاتا ہے، پوچھنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس آدمی پر انجانا سا شک تھا اس لیے اس پر غصہ آرہا ہے۔ جب بیرا بل لے کر آتا ہے تو حیرت سے پوچھتا ہے کہ یہ بل کس چیز کا ہے ۔ بیرا بتاتا ہے کہ کچھ دیر پہلے آپ سامنے کی میز پر تھے۔ وہ کشمکش کے عالم میں کہتا ہے کہ اچھا وہ میں ہی تھا۔

    اب اس میز پربس چائے کے باسی برتن تھے اور بجھے ہوئے سگریٹوں کے ٹکڑے، سگریٹ کی راکھ کچھ میز بکھری ہوئی، کچھ ایش ٹرے میں پڑی ہوئی، اس نے میز کا جائزہ لیا، پھر کاؤنٹر پہ گیا، منیجر سے پوچھا، ’’وہ زینے کے برابر والی جو میز ہے اس پر ایک شخص بیٹھا تھا وہ چلا گیا؟‘‘ منیجر نے زینے کے برابر والی میز پر جو کاؤنٹر سے خاصے فاصلے پر تھی، ایک نظر ڈالی پھر بولا، ’’مجھے تو دھیان نہیں وہاں کون صاحب بیٹھے تھے۔‘‘

    ’’عجب بات ہے۔‘‘ وہ بڑبڑایا، ’’میں باتھ روم گیا ہوں، واپس آکر دیکھتا ہوں تو غائب۔‘‘

    ’’آپ کے ساتھ تھا؟‘‘ منیجر نے سوال کیا۔

    ’’نہیں۔‘‘

    ’’آپ اسے جانتے تھے؟‘‘

    ’’میں؟ اسے؟ اس منحوس صورت آدمی کو؟ نہیں۔‘‘ اس نے نفرت بھرے لہجہ میں کہا۔

    ’’پھر کیا مسئلہ ہے؟‘‘

    ’’مسئلہ تو کوئی نہیں ہے۔‘‘

    ’’پھر بھی۔‘‘

    ’’بس مجھے اس پر کچھ شک تھا۔‘‘

    یہ سن کر منیجر سوچ میں پڑ گیا، اس نے صدیق بیرے کو، کہ درمیان میں پڑی ہوئی میز کو صاف کر رہا تھا، آواز دی۔ ’’صدیق۔‘‘ جب صدیق قریب آیا تو پوچھا، ’’اس کونے والی میز پر کونسا بیرا ہے؟‘‘ صدیق نے زینے کے پاس والی میز پر نظر ڈالی، بولا، ’’اس پر تو اکبر ہے۔‘‘

    ’’کہاں ہے اکبر؟‘‘

    ’’مارکیٹ گیا ہے۔‘‘

    منجیر اس سے مخاطب ہوا، ’’اکبر آجائے، اسے پتہ ہوگا، ویسے کیا شک ہوا آپ کو؟‘‘

    ’’بس یونہی کچھ شک سا ہوا تھا۔‘‘ اس نے ٹالتے ہوئے کہا اور کاؤنٹر سے چلنے لگا تھا کہ مجید نے اسے آواز دی، ’’زیدی صاحب کیا قصّہ ہے؟‘‘

    ’’قصّہ کچھ بھی نہیں۔‘‘ وہ مجید کی میز کی طرف بڑھتے ہوئے بولا، ’’کچھ عجیب سی بات ہے۔‘‘

    ’’کیا؟‘‘ مجید نے تجسس آمیز لہجہ میں پوچھا اور ساتھ ہی اسے بیٹھنے کو کہا، وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھا اور بولا، ’’وہ زینے کے قریب جو میز ہے وہاں ایک شخص بیٹھا تھا، تم نے دیکھا تھا اسے؟‘‘ مجید نے مڑ کر زینے کے قریب والی خالی میز پر نظر ڈالی۔ ’’نہیں یار میں نے تو اس طرف دھیان ہی نہیں کیا تھا۔ کون تھا وہ؟‘‘

    ’’جانے کون تھا، مجھے تو وہ غلط ہی آدمی نظر آتا تھا، میں باتھ روم گیا ہوں۔ واپس آیا تو غائب۔‘‘

    مجید نے سوچا، پھر کہا، ’’اچھا۔۔۔؟ لیکن اگر وہ جاتا تو آخر اسی دروازے سے جاتا، اور میں یہاں بیٹھا ہوں، میں نے کسی کو جاتے نہیں دیکھا۔‘‘

    ’’پھر تو یہ اور بھی عجیب بات ہے۔‘‘

    ’’ہاں واقعی اگر وہاں کوئی تھا اور اب نہیں ہے تو عجیب سی بات ہے اور اس وقت تو ایسا رش بھی نہیں ہے۔‘‘ مجید کے یہ کہنے پر اس نے اِرد گرد کی خالی میزوں پر نظر ڈالی اور بولا، ’’ہاں واقعی اس وقت تو ایسا رش بھی نہیں ہے۔‘‘

    ’’چھوڑو یار، ہوگا کوئی، تم چائے پیو۔‘‘ اور مجید نے خالی رکھی ہوئی پیالی میں چائے بنائی اور اس کے آگے سرکا دی۔ اس نے چائے پی، اِدھر اُدھر کی باتیں کیں، پھر کہنے لگا، ’’بعض صورتیں عجب ہوتی ہیں کہ آدمی کو شک میں ڈال دیتی ہیں۔‘‘ پھر جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو، ’’ایک دفعہ میرے ساتھ ایسا واقعہ ہو چکا ہے۔‘‘

    ’’کیا؟‘‘

    ’’بس ایسا ہی، اور اسی ریستوران میں، یہ جنگ کے دنو ں کی بات ہے، کاؤنٹر کے برابر والی جو میز ہے نا، وہاں ایک شخص بیٹھا تھا عربوں والا لباس پہنے ہوئے۔ گھنی ڈاڑھی مونچھیں اور پٹے رکھے ہوئے، مگر پتہ نہیں کیوں وہ آدمی مجھے اچھا نہیں لگا، پھر میں نے ایک دفعہ اسے غور سے جو دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کی لبیں ترشی ہوئی نہیں ہیں، میرا ماتھا ٹھنکا، سوچا کہ یہ شخص مسلمان تو نہیں ہو سکتا، یہی سوچتے سوچتے میں نے سامنے میز پر پڑے ہوئےاخبار اٹھائے، انہیں الٹنے پلٹنے لگا، نظر اٹھا کر جو دیکھا تو وہ غائب، میں چونکا، لپک کر باہر نکلا، کیا دیکھتا ہوں کہ تیز قدم اٹھاتا ہوا مارکیٹ کی طرف جا رہا ہے۔

    میں بھی تیز تیز اس کے پیچھے چلا گیا مگر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہوتے وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ اِدھر دیکھا اُدھر دیکھا کہیں دکھائی نہ دیا۔ یا اللہ آدمی تھا یا چھلاوا، خیر مارکیٹ سے نکلا، سونگھتا سونگھتا ایک گلی میں نکل گیا، یکایک مجھےاحساس ہوا کہ میرے پیچھے کوئی آرہا ہے۔ اور جیسے کچھ کُھسر پھسر ہو رہی ہے، میں نے مڑ کر دیکھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک ٹولی میرے پیچھے لگی ہوئی ہے، کچھ بچّے کچھ بڑے اور وہی آدمی، گھنی ڈاڑھی مونچھیں مگر لبیں بڑھی ہوئیں، اب میں آگے آگے اور وہ پیچھے پیچھے، مگرپھر میں نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ موڑ آیا تو جلدی مڑا اور ایک گلی میں سٹک گیا۔‘‘

    مجید نے اسے حیرت سے دیکھا اورکہا، ’’مگر پہلے تو تم اس کا تعا قب کر رہے تھے۔‘‘

    ’’ہاں مگر اب وہ میرا تعاقب کر رہا تھا۔‘‘

    مجید کھکھلا کر ہنسا، ’’کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے۔‘‘

    ’’ہاں کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے۔‘‘ وہ بولا، ’’اور وہ تو جنگ کا زمانہ تھا، پتہ نہیں تمہارا تجربہ کیا ہے، مجھے تو ان دنوں یوں لگتا تھا جیسے اچانک کچھ اجنبی چہرے ہمارے درمیان ذاخل ہوگئے ہیں۔‘‘ مجید جو ابھی تک ہنس رہا تھا یہ سن کر کچھ سنجیدہ ہو گیا، کہنے لگا، ’’اس وقت تو نہیں مگر اب مجھے واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم اجنبی اور نامانوس چہروں میں گِھر گئے ہیں۔‘‘ اور یہ کہتے کہتے مجید کے لہجے میں بھی ایک تشویش کا رنگ پیدا ہوگیا۔

    ’’ٹھیک کہتے ہو، میرا بھی یہی احساس ہے۔‘‘ مجید پھر بولا، ’’پہلے تو ہر آدمی ہر آدمی کو پہچانتا تھا، مگر ایسا گھپلا ہوا ہے کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانتا۔‘‘

    ’’آخر کیوں؟‘‘

    ’’بس دھاگا ٹوٹ گیا ہے اور ہم بکھر گئے ہیں۔‘‘

    مجید چپ ہو گیا، وہ بھی چپ ہوگیا، دونوں خاموشی سے چائے پینے لگے ۔ اس کا ذہن پھر بھٹکنے لگا تھا، وہ اجنبی جس کی لبیں ترشی ہوئی نہیں تھیں، اس کا مارکیٹ کی طرف جانا اور اوجھل ہو جانا، مارکیٹ سے گلی میں، پیچھے اٹھتے ہوئے قدموں کی ہلکی آہٹ، سرگوشیاں، کچھ بچّے، کچھ بڑے اور وہ اجنبی نامانوس چہرہ۔

    ’’یہ بل ہے جی۔‘‘

    ’’بل؟‘‘ اس کے خیالوں کا دھاگا اچانک ٹوٹ گیا، ’’یہ کون سا ہے؟‘‘

    ’’چائے کا۔‘‘

    ’’کون سی چائے کا؟‘‘

    ’’ابھی جب آپ اس میز پر بیٹھے تھے۔‘‘ اکبر نے زینے والی میز کی طرف اشارہ کیا۔

    ’’وہاں میں بیٹھا تھا؟‘‘ اس نے حیرت سے اکبر کو دیکھا۔

    ’’ہاں جی۔‘‘

    ’’میں۔۔۔؟ اچھا۔‘‘

    ’’ہاں جی آپ۔۔۔‘‘ اکبر بولا۔

    ’’اچھا۔‘‘ اس نے یہ کہتے کہتے بل ادا کیا، پھر سکتہ میں آگیا، کچھ خوف، کچھ افسردگی، ڈھئی ہوئی آواز میں بڑ بڑایا، ’’مجھے بھی شک سا ہوا تھا۔‘‘

    ’’کیا؟‘‘ مجید نے پوچھا۔

    ’’یہی کہ وہ کہیں میں ہی تو نہیں تھا!‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY