بسنت پر اشعار

بہاریوں توایک موسم ہے

جواپنی خوشگوارفضا اورخوبصورتی کی بنا پرسب کیلئے پسندیدہ ہوتا ہے لیکن شاعری میں بہار محبوب کے حسن کا استعارہ بھی ہے اورزندگی میں میسرآسانی والی خوشی کی علامت بھی ۔ کلاسیکی شاعری کےعاشق پریہ موسم ایک دوسرے ہی اندازمیں وارد ہوتا ہے کہ خزاں کے بعد بہار بھی آکرگزرجاتی ہے لیکن اس کے ہجرکی میعاد پوری نہیں ہوتی ۔ احتجاجی اورانقلابی شاعری میں بہارکی استعاراتی نوعیت ایک اور رخ اختیارکر لیتی ہے ۔ ہمارا یہ انتخاب ان تمام جہتوں کو محیط ہے۔

ساقی کچھ آج تجھ کو خبر ہے بسنت کی

ہر سو بہار پیش نظر ہے بسنت کی

افق لکھنوی

اب کے بسنت آئی تو آنکھیں اجڑ گئیں

سرسوں کے کھیت میں کوئی پتہ ہرا نہ تھا

بمل کرشن اشک

آیا بسنت پھول بھی شعلوں میں ڈھل گئے

میں چومنے لگا تو مرے ہونٹ جل گئے

کمار پاشی

قدرت کی برکتیں ہیں خزانہ بسنت کا

کیا خوب کیا عجیب زمانہ بسنت کا

جتیندر موہن سنہا رہبر

یا رب ہزار سال سلامت رہیں حضور

ہو روز جشن عید یہاں جاوداں بسنت

منیرؔ  شکوہ آبادی

تو نے لگائی اب کی یہ کیا آگ اے بسنت

جس سے کہ دل کی آگ اٹھے جاگ اے بسنت

انشا اللہ خاں انشا

دل کو بہت عزیز ہے آنا بسنت کا

رہبرؔ کی زندگی میں سمانا بسنت کا

جتیندر موہن سنہا رہبر

پتے نہیں چمن میں کھڑکتے ترے بغیر

کرتی ہے اس لباس میں ہر دم فغاں بسنت

انشا اللہ خاں انشا

ہر شاخ زرد و سرخ و سیہ ہجر یار میں

ڈستے ہیں دل کو آن کے جوں ناگ اے بسنت

انشا اللہ خاں انشا

گر شاخ زعفراں اسے کہیے تو ہے روا

ہے فرح بخش واقعی اس حد کوہاں بسنت

انشا اللہ خاں انشا

پیغام لطف خاص سنانا بسنت کا

دریائے فیض عام بہانا بسنت کا

جتیندر موہن سنہا رہبر

ٹیسو کے پھول دشنۂ خونی ہوے اسے

برہن کے جی کوں ہے یہ کسائی بسنت رت

آبرو شاہ مبارک

کرتا ہے باغ دہر میں نیرنگیاں بسنت

آیا ہے لاکھ رنگ سے اے باغباں بسنت

منیرؔ  شکوہ آبادی

آتے نظر ہیں دشت و جبل زرد ہر طرف

ہے اب کے سال ایسی ہے اے دوستاں بسنت

انشا اللہ خاں انشا

بسنت آئی ہے موج رنگ گل ہے جوش صہبا ہے

خدا کے فضل سے عیش و طرب کی اب کمی کیا ہے

ماہ لقا چندا

جام عقیق زرد ہے نرگس کے ہاتھ میں

تقسیم کر رہا ہے مے ارغواں بسنت

منیرؔ  شکوہ آبادی

تصویر روئے یار دکھانا بسنت کا

اٹکھیلیوں سے دل کو لبھانا بسنت کا

جتیندر موہن سنہا رہبر

انشاؔ سے شیخ پوچھتا ہے کیا صلاح ہے

ترغیب بادہ دی ہے مجھے اے جواں بسنت

انشا اللہ خاں انشا

کوئل نیں آ کے کوک سنائی بسنت رت

بورائے خاص و عام کہ آئی بسنت رت

آبرو شاہ مبارک

رشک جناں چمن کو بنانا بسنت کا

ہر ہر کلی میں رنگ دکھانا بسنت کا

جتیندر موہن سنہا رہبر

مصحفیؔ اب اک غزل لکھ تو غزل کی طرح سے

تا کرے عالم کا تاراج شکیبائی بسنت

مصحفی غلام ہمدانی

جب نبی صاحب میں کوہ و دشت سے آئی بسنت

کر کے مجرا شاہ مرداں کی طرف دھائی بسنت

مصحفی غلام ہمدانی

بلبل ہوا ہے دیکھ سدا رنگ کی بہار

اس سال آبروؔ کوں بن آئی بسنت رت

آبرو شاہ مبارک

ہر سمت سبزہ زار بچھانا بسنت کا

پھولوں میں رنگ و بو کو لٹانا بسنت کا

جتیندر موہن سنہا رہبر

ہم رنگ کی ہے دون نکل اشرفی کے ساتھ

پاتا ہے آ کے رنگ طلائی یہاں بسنت

منیرؔ  شکوہ آبادی

جوبن پر ان دنوں ہے بہار نشاط باغ

لیتا ہے پھول بھر کے یہاں جھولیاں بسنت

منیرؔ  شکوہ آبادی

غنچے نیں اس بہار میں کڈوایا اپنا دل

بلبل چمن میں پھول کے گائی بسنت رت

آبرو شاہ مبارک

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے