بے خبری پر اشعار

ہوش مندی کے مقابلے میں بے خبری شاعری میں ایک اچھی اور مثبت قدر کے طور پر ابھرتی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ بےخبری انسانی فطرت کی معصومیت کی علامت ہے جو حد سے بڑھی ہوئی چالاکی اور ہوش مندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرات سے بچاتی ہے ۔ ہماری عام زندگی کے تصورات تخلیقی فن پاروں میں کس طرح ٹوٹ پھوٹ سے گزرتے ہیں اس کا اندازہ اس شعری انتخاب سے ہوگا ۔

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

سراج اورنگ آبادی

ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہو

یہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیں

قلق میرٹھی

ہوشمندی سے جہاں بات نہ بنتی ہو سحرؔ

کام ایسے میں بہت بے خبری آتی ہے

ابو محمد سحر

اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اک شے کے

خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے

اسد ملتانی

خبر کے موڑ پہ سنگ نشاں تھی بے خبری

ٹھکانے آئے مرے ہوش یا ٹھکانے لگے

عبد الاحد ساز

کچھ کمایا نہیں بازار خبر میں رہ کر

بند دکان کریں بے خبری پیشہ کریں

معین نجمی

سہو اور سکر میں رہتے ہیں تبھی تو فقرا

کیونکہ عالم ہے عجب بے خبری کا عالم

مصحفی غلام ہمدانی