ADVERTISEMENT

اقوال پرفلم انڈسٹری

میں ادب اور فلم کو ایک ایسا میخانہ سمجھتا ہوں، جس کی بوتلوں پر کوئی لیبل نہیں ہوتا۔

سعادت حسن منٹو

جو بات مہینوں میں خشک تقریروں سے نہیں سمجھائی جا سکتی، چٹکیوں میں ایک فلم کے ذریعے سے ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

پبلک ایسی فلمیں چاہتی ہے جن کا تعلق براہ راست ان کے دل سے ہو۔ جسمانی حسیات سے متعلق چیزیں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں مگر جن چیزوں کا تعلق روح سے ہوتا ہے، دیر تک قائم رہتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو

ایکٹرس بننے سے پیشتر عورت کو عشق و محبت کی تلخیوں اور مٹھاسوں کے علاوہ اور بہت سی چیزوں سے آشنا ہونا چاہیئے۔ اس لئے کہ جب وہ کیمرے کے سامنے آئے تو اپنے کریکٹر کو اچھی طرح ادا کر سکے۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

ایکٹرس چکلے کی ویشیا ہو یا کسی باعزت اور شریف گھرانے کی عورت، میری نظروں میں وہ صرف ایکٹرس ہے۔ اس کی شرافت یا رذالت سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ اس لئے کہ فن ان ذاتی امور سے بہت بالاتر ہے۔

سعادت حسن منٹو

فلموں کو کامیاب بنانے اور ستارے پیدا کرنے کے لئے ہمیں ستارہ شناس نگاہوں کی ضرورت ہے۔

سعادت حسن منٹو

اگر ڈائریکٹروں کا اپنا اپنا اسٹائل نہ ہوگا تو فلم متحرک تصاویر کے یک آہنگ فیتے بن کر رہ جائیں گے۔

سعادت حسن منٹو