ادب

زمانے کے جس دور سے ہم اس وقت گزر رہے ہیں اگر آپ اس سے ناواقف ہیں تو میرے افسانے پڑھیئے۔ اگر آپ ان افسانوں کو برداشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ زمانہ ناقابل برداشت ہے۔۔۔ مجھ میں جو برائیاں ہیں، وہ اس عہد کی برائیاں ہیں۔۔۔ میری تحریر میں کوئی نقص نہیں۔ جس نقص کو میرے نام سے منسوب کیا جاتا ہے، در اصل موجودہ نظام کا نقص ہے۔

سعادت حسن منٹو

میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔۔۔ میں اسے کپڑے پہنانے کی کوشش بھی نہیں کرتا، اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں درزیوں کا ہے۔ لوگ مجھے سیاہ قلم کہتے ہیں، میں تختہ سیاہ پر کالی چاک سے نہیں لکھتا، سفید چاک استعمال کرتا ہوں کہ تختہ سیاہ کی سیاہی اور بھی زیادہ نمایاں ہو جائے۔ یہ میرا خاص انداز، میرا خاص طرز ہے جسے فحش نگاری، ترقی پسندی اور خدا معلوم کیا کچھ کہا جاتا ہے۔ لعنت ہو سعادت حسن منٹو پر، کم بخت کو گالی بھی سلیقے سے نہیں دی جاتی۔

سعادت حسن منٹو

اگر میں کسی عورت کے سینے کا ذکر کرنا چاہوں گا تو اسے عورت کا سینہ ہی کہوں گا۔ عورت کی چھاتیوں کو آپ مونگ پھلی، میز یا استرا نہیں کہہ سکتے۔۔۔ یوں تو بعض حضرات کے نزدیک عورت کا وجود ہی فحش ہے، مگر اس کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

میں ادب اور فلم کو ایک ایسا میخانہ سمجھتا ہوں، جس کی بوتلوں پر کوئی لیبل نہیں ہوتا۔

سعادت حسن منٹو

میں تہذیب و تمدن اور سوسائٹی کی چولی کیا اتاروں گا جو ہے ہی ننگی۔

سعادت حسن منٹو

چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے، میرے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ میری ہیروئن چکلے کی ایک ٹکھیائی رنڈی ہو سکتی ہے جو رات کو جاگتی ہے اور دن کو سوتے میں کبھی کبھی ڈراؤنا خواب دیکھ کر اٹھ بیٹھتی ہے کہ بڑھاپا اس کے دروازے پر دستک دینے آ رہا ہے۔۔۔ اس کے بھاری بھاری پپوٹے جن پر برسوں کی اچٹی ہوئی نیندیں منجمد ہو گئی ہیں، میرے افسانوں کا موضوع بن سکتے ہیں۔ اس کی غلاظت، اس کی بیماریاں، اس کا چڑچڑاپن، اس کی گالیاں یہ سب مجھے بھاتی ہیں۔۔۔ میں ان کے متعلق لکھتا ہوں اور گھریلو عورتوں کی شستہ کلامیوں، ان کی صحت اور ان کی نفاست پسندی کو نظر انداز کر جاتا ہوں۔

سعادت حسن منٹو

میں افسانہ اس لئے لکھتا ہوں کہ مجھے افسانہ نگاری کی شراب کی طرح لت پڑ گئی ہے۔ میں افسانہ نہ لکھوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے کپڑے نہیں پہنے، یا میں نے غسل نہیں کیا، یا میں نے شراب نہیں پی۔

سعادت حسن منٹو

کوئی افسانہ یا ادب پارہ فحش نہیں ہو سکتا۔ جب تک لکھنے والے کا مقصد ادب نگاری ہے۔ ادب بحیثیت ادب کے کبھی فحش نہیں ہوتا۔

سعادت حسن منٹو

زبان میں بہت کم لفظ فحش ہوتے ہیں۔ طریق استعمال ہی ایک ایسی چیزہے جو پاکیزہ سے پاکیزہ الفاظ کو بھی فحش بنا دیتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

ہمیں اپنے قلم سے روزی کمانا ہے اور ہم اس ذریعے سے روزی کما کر رہیں گے۔ یہ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ہم اور ہمارے بال بچے فاقے مریں اور جن اخباروں اور رسالوں میں ہمارے مضامین چھپتے ہیں، ان کے مالک خوشحال رہیں۔

سعادت حسن منٹو

ادب کی رونق ہمارے دم سے ہے۔ ان لوگوں کے دم سے نہیں ہے جن کے پاس چھاپنے کی مشینیں، سیاہی اور ان گنت کاغذ ہیں۔ لٹریچر کا دیا ہمارے ہی دماغ کے روغن سے جلتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

آخر کب تک ادیب ایک ناکارہ آدمی سمجھا جائے گا۔ کب تک شاعر کو ایک گپیں ہانکنے والا متصور کیا جائے گا، کب تک ہمارے لٹریچر پر چند خود غرض اور ہوس پرست لوگوں کی حکمرانی رہے گی۔ کب تک؟

سعادت حسن منٹو

جب تک عورتوں اور مردوں کے جذبات کے درمیان ایک موٹی دیوار حائل رہے گی، عصمت چغتائی اس کے چونے کو اپنے تیز ناخنوں سے کریدتی رہے گی، جب تک کشمیر کے حسین دیہاتوں میں شہروں کی گندگی پھیلی رہے گی، غریب کرشن چندر ہولے ہولے روتا رہے گا۔ جب تک انسانوں میں اور خاص طور پر سعادت حسن منٹو میں کمزوریاں موجود ہیں، وہ خوردبین سے دیکھ دیکھ کر باہر نکالتا اور دوسروں کو دکھاتا رہے گا۔۔۔

سعادت حسن منٹو

جب تک انسانوں میں اور خاص طور پر سعادت حسن منٹو میں کمزوریاں موجود ہیں، وہ خوردبین سے دیکھ دیکھ کر باہر نکالتا اور دوسروں کو دکھاتا رہے گا۔۔۔

سعادت حسن منٹو

زبان اور ادب کی خدمت ہو سکتی ہے صرف ادیبوں اور زبان دانوں کی حوصلہ افزائی سے اور حوصلہ افزائی صرف ان کی محنت کا معاوضہ ادا کرنے ہی سے ہو سکتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

ہمارے افسانہ نگاروں کی سب سے مضحکہ خیز تخلیق ولن ہے۔ جس کی ساری عمر گناہ میں بسر کرائی جاتی ہے اور آخر میں اسے نیکی کے سمندر میں غوطہ دے دیا جاتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

ہندوستان میں ابھی تک آرٹسٹ کے صحیح معانی پیش نہیں کئے گئے۔ آرٹ کو خدا معلوم کیا چیز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں آرٹ ایک رنگ سے بھرا ہوا برتن ہے جس میں ہر شخص اپنے کپڑے بھگو لیتا ہے، لیکن آرٹ یہ نہیں ہے اور نہ وہ تمام لوگ آرٹسٹ ہیں جو اپنے ماتھوں پر لیبل لگائے پھرتے ہیں۔ ہندوستان میں جس چیز کو آرٹ کہا جاتا ہے، ابھی تک میں اس کے متعلق فیصلہ ہی نہیں کر سکا کہ وہ کیا ہے؟

سعادت حسن منٹو

میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی زندگی کا ہر دن ادب کی آغوش میں گزارا ہے۔

مشرف عالم ذوقی

ہندوستان میں جس چیز کو آرٹ کہا جاتا ہے، ابھی تک میں اس کے متعلق فیصلہ ہی نہیں کر سکا کہ وہ کیا ہے؟

سعادت حسن منٹو

سچی خوشی ہمیشہ لکھنے سے ہوتی ہے۔ میں ہر نئی تخلیق پر بچوں کی طرح خوش ہو جاتا ہوں۔

مشرف عالم ذوقی

ادب میرے لیے زندگی سے زیادہ اہم ہے۔

مشرف عالم ذوقی

میں پیدائشی ادیب ہوں، ادب کے علاوہ کچھ اور سوچ بھی نہیں سکتا۔

مشرف عالم ذوقی

ادب کی تخلیق کے تین محرک ہو سکتے ہیں۔ لکھنے والے کی اپنی انفرادیت اور خودی، اس کے ا پنے جذباتی تجربات و حادثات اور اس کا سماجی، اقتصادی اور سیاسی ماحول۔

خواجہ احمد عباس