ADVERTISEMENT

اقوال پرفلم

میں ادب اور فلم کو ایک ایسا میخانہ سمجھتا ہوں، جس کی بوتلوں پر کوئی لیبل نہیں ہوتا۔

سعادت حسن منٹو

جو بات مہینوں میں خشک تقریروں سے نہیں سمجھائی جا سکتی، چٹکیوں میں ایک فلم کے ذریعے سے ذہن نشین کرائی جا سکتی ہے۔

سعادت حسن منٹو

پبلک ایسی فلمیں چاہتی ہے جن کا تعلق براہ راست ان کے دل سے ہو۔ جسمانی حسیات سے متعلق چیزیں زیادہ دیرپا نہیں ہوتیں مگر جن چیزوں کا تعلق روح سے ہوتا ہے، دیر تک قائم رہتی ہیں۔

سعادت حسن منٹو

فلموں کو کامیاب بنانے اور ستارے پیدا کرنے کے لئے ہمیں ستارہ شناس نگاہوں کی ضرورت ہے۔

سعادت حسن منٹو
ADVERTISEMENT

اگر ڈائریکٹروں کا اپنا اپنا اسٹائل نہ ہوگا تو فلم متحرک تصاویر کے یک آہنگ فیتے بن کر رہ جائیں گے۔

سعادت حسن منٹو