ADVERTISEMENT

اشعار پرخود_اذیتی

یوں تو بظاہر اپنے آپ

کو تکلیف پہنچانا اور اذیت میں مبتلا کرنا ایک نہ سمجھ میں آنے والا غیر فطری عمل ہے ، لیکن ایسا ہوتا ہے اور ایسے لمحے آتے ہیں جب خود اذیتی ہی سکون کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن ایسا کیوں ؟ اس سوال کا جواب آپ کو شاعری میں ہی مل سکتا ہے ۔ خود اذیتی کو موضوع بنانے والے اشعار کا ایک انتخاب ہم پیش کر رہے ہیں ۔

مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہوگا کوئی زخم

تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

مصحفی غلام ہمدانی

ایسا کروں گا اب کے گریباں کو تار تار

جو پھر کسی طرح سے کسی سے رفو نہ ہو

شیخ ظہور الدین حاتم

سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی دیتے

بہر صورت ہمیں ان آبلوں کو پھوڑ دینا تھا

انجم عرفانی

رفو نہ کر اسے اے بخیہ گر خدا کے لیے

کہ چاک دل سے ہوا خوش گوار آتی ہے

جلیل مانک پوری
ADVERTISEMENT

نہ رہا کوئی تار دامن میں

اب نہیں حاجت رفو مجھ کو

اقبال سہیل

کیا ہے چاک دل تیغ تغافل سیں تجھ انکھیوں نیں

نگہ کے رشتہ و سوزن سوں پلکاں کے رفو کیجے

آبرو شاہ مبارک