ADVERTISEMENT

افسانے پرجادوئی حقیقت پسندی

فرشتہ

سعادت حسن منٹو

زندگی کی آزمائشوں سے پریشان شخص کی نفسیاتی کیفیت پر مبنی کہانی۔ بستر مرگ پر پڑا عطاء اللہ اپنے اہل خانہ کی مجبوریوں کو دیکھ کر خلجان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نیم غنودگی کے عالم میں دیکھتا ہے کہ اس نے سب کو مار ڈالا ہے یعنی جو کام وہ اصل میں نہیں کر سکتا اسے خواب میں انجام دیتا ہے۔ 

لال چیونٹیاں

صدیق عالم

یہ مذہب، روحانیت اور انسانیت کی ناگوار حالات کی کہانی ہے۔ یہ ایک ایسے دور افتادہ گاؤں کی کہانی ہے جہاں کے زیادہ تر لوگ غریب ہیں۔ اس گاؤں میں کھپریل کی ایک مسجد ہے۔ کہانی مسجد کے دوپیش اماموں کے گرد گھومتی ہے۔ پہلا امام نوکری چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو دھول کے غبار سے ایک دوسرا امام نمودار ہوتا ہے۔ شروع میں تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہتا ہے، پھر گاؤں میں عجیب و غریب واقعات پیش آنے لگتے ہیں۔ نیا امام جو کچھ بھی پیشن گوئی کرتا ہے وہ سچ ثابت ہوتا ہے، اور اس کی بد دعاؤں سے سارا گاؤں پریشان ہو جاتا ہے ۔دوسری طرف خود پیش امام معاشی بدحالی کا شکار ہے۔اس کی بیوی کے مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور متواتر بھوک سے پریشان ہو کر بیوی پیش امام کو چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے۔ ایک دن لوگ دیکھتے ہیں کہ پیش امام نے مسجد کے چھپر کو آگ لگا دی ہے۔

جانور

صدیق عالم

یہ نسائی ڈسکورس اور انسان کے رد تشکیل کی کہانی ہے۔ وہ شہر کے قدیم علاقے میں ایک پرانی عمارت کےتین کمروں والے ایک فلیٹ میں اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ بچہ جوان تھا اور اب بیس برس کا ہو چکا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کی جسمانی عمر بیس برس سہی، ذہنی طور پر وہ ابھی صرف دو سال کا بچہ ہے۔ ایک دن بازار میں سڑک پر ٹیکسی کا انتظار کر تے ہوئے جانوروں سے بھری ایک وین اس کے سامنے آ کر رکی۔ اس وین کے مالک نے ایک عجیب و غریب جانور اسے دیا جو بہت سارے جانوروں کا مرکب تھا۔ وہ جانور اس شرط پر اپنے بچے کے لئے لے لیتی ہے کہ اگر پسند نہ آئے تو وہ اسے واپس لوٹا دے گی۔ جانور کو گھر لاتے ہی اچانک اس گھر کے لوگوں میں عجیب سی تبدیلیاں دکھائی دینے لگیں، یہاں تک کہ اس عورت کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا کہ آخر جانور کون ہے، وہ عجیب چوپایہ یا خود وہ لوگ؟

ڈھاک بن

صدیق عالم

یہ افسانہ جدید سماج کے ساتھ قبائلی تصادم کی جادوئی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ وہ لوگ کانا پہاڑ کے باشندے تھے۔ اسے کانا پہاڑ اس لئے کہتے تھے کیونکہ جب سورج اس کی چوٹی کو چھو کر ڈوبتا تو کانی آنکھ کی شکل اختیار کر لیتا۔ کانا پہاڑ کے بارے میں بہت ساری باتیں مشہور تھیں۔ اس پر بسے ہوے چھوٹے چھوٹے قبائلی گاؤں اب اپنی پرانی روایتوں سے ہٹتے جا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ پر عیسائی مشنری حاوی ہوگئے ہیں اور کچھ نے ہندو دیوی دیوتاؤں کو اپنا لیا ہے۔ مگر جو افواہ سب سے زیادہ گرم تھی اور جس نے لوگوں کو مضطرب کر رکھا تھا وہ یہ تھی کہ اب کانا پہاڑ سے روحیں منتقل ہو رہی ہیں۔ وہ یہاں کے لوگوں سے ناخوش ہیں اور ایک دن آئے گا جب پہاڑ کے گربھ سے آگ اْبلے گی اور پیڑ پودے گھر اور پرانی اس طرح جلیں گے جس طرح جنگل میں آگ پھیلنے سے کیڑے مکوڑے جلتے ہیں۔

ADVERTISEMENT

لیمپ جلانے والے

صدیق عالم

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی حقیقت کی تلاش میں ہے۔ وہ اس شہر میں پیدا ہوا ، بڑا ہوا، نوکری کی، بچے پیدا کیے اور اب پنشن یافتہ ہے۔ اسے اس بات کا پتہ ہے کہ اس کے بہی خواہوں اور بدگوئی کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو ایک لمبی زندگی کا لازمی نتیجہ ہے۔ ان لوگوں سے انھیں بچنا بھی پڑتا ہے اور گاہے بہ گاہے اسے ان کی ضرورت بھی پڑتی رہتی ہے۔ مگر زندگی کے آخری موڑ پر کھڑے ہو کر اس نے محسوس کیا تھا کہ آپ کے ساتھ نیا کچھ بھی نہیں ہوتا، سارے رشتے ناتے، واقعات و حادثات خود کو دہراتے رہتے ہیں۔ حافظے کا دیو آپ کو اپنے چنگل میں لیے اڑتا رہتا ہے۔

فور سیپس

صدیق عالم

یہ جدید تکنیک میں بیان کی گئی ایک جدید کہانی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار سندیپن کولے، جس کی پیدائش فورسیپس کی مدد سے ہوئی تھی، کہانی کے مصنف صدیق عالم سے نالاں ہے جو اپنی کہانی اپنے ڈھنگ سے بیان کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات اسے پسند نہیں۔ وہ اپنی زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتا ہے۔ وہ بار بار مصنف سے قلم چھین لیتا ہے، مگر لاکھ کوشش کے باوجود اس کی زندگی اسی لیک پر چل پڑتی ہے جس پر اس کا مصنف اسے چلانا چاہتا ہے۔ آخرکار وہ مصنف سے ٹکر لینے کا فیصلہ کرتا ہے اور ایک ایسے نہج پر چل پڑتا ہے جو اس کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ کہانی کے اختتام سے قبل مصنف اس سے کہتا ہےکہ تم نے سوچا تھا کہ تم صفحات سے باہر بھی سانس لے سکتے ہو، دیکھو، تم نے اپنا ستیاناس کر لیا نا؟

خدا کا بھیجا ہوا پرندا

صدیق عالم

یہ حقائق اور خیالی تصورات پر مبنی بنی نوع انسان کی اصل دنیا سے متعارف کراتی کہانی ہے۔ انگریز ملک چھوڑ کر جا چکے تھے۔ مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی مشرقی پاکستان کا رخ کر چکی تھی۔ بستی میں چند ہی مسلمان رہ گئے تھے جو اب تک راوی کے دادا کی دو منزلہ عمارت سے آس لگائے بیٹھے تھے اور جب بھی شہر میں فساد کا بازار گرم ہوتا پناہ لینے کے لئے آ جاتے۔ اس کے دادا کو اس بات کا دکھ تھا کہ آئے دن انھیں پاکستانی جاسوس ہونے کے الزام کا سامنا کرنے کے لئے تھانہ جانا پڑتا۔ پھر ایک دن فسادیوں نے انھیں اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر مار ڈالا۔ اس کے دادا کے گھر میں کئی کرایہ دار رہتے تھے جن میں ایک کرایہ دار بدھ رام تھا جو دادا کے ساتھ لمبے عرصے تک ریلوے میں نوکری کر چکا تھا۔ اس کی ساری زندگی کا اثاثہ ایک ٹرنک کے اندر بند تھا جس پر بیٹھے بیٹھے وہ کھڑکی سے باہر آسمان پر نظریں ٹکائے رہنے کا عادی تھا۔ ان ہی تنہائی کے دنوں میں ایک دن اس نے ایک طوطے کی کہانی سنائی جس کے جسم پر اللہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ طوطا ایک ادھیڑ عمر کی عورت اس کے پاس بیچنے آئی تھی، جسے دیکھتے ہی بدھ رام نے محسوس کیا کہ اب یہاں برا وقت آنے والا ہے۔

مرے ہوئے آدمی کی لالٹین

صدیق عالم

اس کہانی میں زندگی کو ایک ایسے تھیٹر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو ناجائز ہے۔ وہ ایک سال بعد گاؤں لوٹ رہا تھا کہ اس کی شادی ہونے والی تھی۔ اس کے گھر والوں نے اس کے لئے دور کے ایک گاؤں میں ایک لڑکی دیکھ رکھی تھی۔ لڑکی والے بہت غریب تھے مگر لڑکی بلا کی خوبصورت تھی۔ وقت ضائع کئے بغیر ان کی شادی کر دی گئی۔ جب اس کے سارے پیسے ختم ہو گئے تو اسے شہر لوٹنا پڑا۔ مگر اب شہر میں اس کا دل نہیں لگتا تھا۔ وہ صبح شام اور کبھی کبھی دن میں بھی اپنی بیوی سے موبائل پر بات کر لیا کرتا تھا۔ یہ موبائل چوری کی تھی جسے اس نے بہت سستی قیمت پر خرید کر اپنی بیوی کو دی تھی۔ اس کی بیوی نے کبھی اس سے گھر آنے کی فرمائش نہیں کی۔ صرف ایک بار اس نے دبے لفظوں میں کچھ کہنا چاہا مگر کچھ سوچ کر چپ ہو رہی۔ اس نے بار بار کریدنے کی کوشش کی مگر وہ ٹال گئی۔ پھر ایک دن اسے اپنی بیوی کی موبائل بند ملی۔

ADVERTISEMENT

بین

صدیق عالم

یہ بارہ برس کے ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہےجو اپنی چچا زاد بہن انگورا جو عمر میں اس سے کئی سال بڑی تھی کو پسند کرتا تھا اور جس کے لیے اس کے اندر جنسی خواہشات کے جراثیم کلبلانے لگے تھے۔ چچا ریلوے میں انجن چلایا کرتے تھے۔ ان دنوں اس کی پوسٹنگ ایک دور استادہ اسٹیشن میں تھی جو پہاڑوں سے گھرا ہوا تھا۔ ایک دن انگورا نے اسے اس لڑکے کے بارے میں بتایا جس سے وہ ریلوے کے ایک متروک کوارٹر میں ملا کرتی تھی اور اب وہ کچھ ہی دنوں میں اس لڑکے کے ساتھ بھاگنے والی ہے۔ اس کا چچازاد اس سے کہتا ہے کہ وہ اپنے باپ کو اس لڑکے کے بارے میں بتا دے، ممکن ہے وہ دونوں کی شادی کے لیے راضی ہو جائیں۔ انگورا نے بتا یا کہ اس کا باپ اس کے لیےکبھی راضی نہ ہوگا کیونکہ اس لڑکے پر کئی خون کے الزام ہیں اور پولس ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتی ہے۔ چچازاد اس لڑکے سے ملنے سے منع کرتا ہے تو انگورا نےجواب دیا کہ وہ ایک ایسے باپ کی بیٹی ہے جس کے بازو پر اس کی رکھیل کا نام گدا ہوا ہے۔

چور دمِسکو

صدیق عالم

ایک بے تکی دنیا میں رہنے کے ڈھونگ کے طور پر جرم کرنے کی کہانی ہے۔ دمسکو ایک سترہ برس کا نوجوان تھا جسے آسان کام کی تلاش تھی گرچہ اس کےخبتی باپ نے اسے بتایا تھا کہ اس دنیا میں آسان کام سے زیادہ مشکل کام کچھ نہیں ہوتا۔ اس کے دوست پھلندر نے اس کی پریشانی دور کر دی۔ پھلندر نے ٹرام ڈپو کے پچھواڑے مردہ گھر کے راستے پر ایک سنسان گلی کا پتہ لگایا تھا جہاں ایک بہت ہی بوڑھا بنگالی جوڑا رہتا تھا جو آنکھوں سے اندھے تھے۔ وہ اس گھر کا سارا سامان صاف کرنا چاہتا تھا مگر وہ یہ کام اکیلا نہیں کر سکتا تھا۔ اسے ایک ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو دمسکو کی طرح تیز اور بہادر ہو۔ میں کسی مصیبت میں تو نہیں پڑوں گا؟ دمسکو نے شبہے کا اظہار کیا تو اس کے دوست نے کہا کہ جتنی جلد ہو سکے مصیبت میں پڑنا سیکھ لو۔ تمہاری دنیا بدل جائے گی۔ زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے اس سے بہتر نسخہ اور کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس طرح دمسکو کو اس کا آسان کام مل گیا۔

رکی ہوئی گھڑی

صدیق عالم

یہ ٹائم فریم توڑنے اور انسانی محرکات کو ختم کرنے کی کہانی ہے۔ اس کی ٹرین کی آمدکے مقررہ وقت کو گھنٹوں گذر چکے تھے مگر وہ گاڑی آ رہی تھی نہ ہی اس کا اعلان ہو رہا تھا۔ وہ اکتایا اکتایا سا ایک سائبان سے لٹکتی بند گھڑی کے نیچے بنچ پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قلی نےاسے بتایا کہ اس کی ٹرین کا تعلق ایک قصہ سے ہے جس کا پتہ صرف سگنل مین کو ہے۔ جب تک وہ یہ قصہ سن نہیں لیتا اس کی ٹرین آ نہیں سکتی۔ قلی ایک دوسرے مسافر کا بھی ذکر کرتا ہے جس نے اس قصے کو سننے سے انکار کر دیا تھا اور وہ کبھی اپنی منزل تک پہنچا ہی نہیں۔

اچھا خاصا چیروا

صدیق عالم

یہ ایک فنتاسی ہے۔ جاڑے کی ایک صبح ایک قبائلی اپنے سور کے ساتھ پہاڑ سے اُتر کر اسے بیچنے کے لئے قصبہ کی طرف جارہا تھا ۔ حالانکہ یہ اتنا آسان کام نہ تھا۔ اس قصبہ میں دوسرے چوپایوں کی طرح سوروں کا کوئی ہفتہ وار ہاٹ نہیں لگتا تھا اور سور کو کسی چوراہے پر کھڑے ہوکر بیچنے کے لئے آواز لگانا کچھ عجیب سا عمل تھا۔ وہ مایوس ہو کر واپس آ رہا تھا کہ پہاڑی ڈھلان پر ایک تین جھونپڑوں والے گاؤں کے پاس رات ہوگئی۔ یہ تینوں جھونپڑیاں دراصل تین چڑیلوں کی تھیں جو سورج ڈوبتے ہی پیڑوں پر جابستی تھیں۔ چڑیلوں نے قبائلی سے سور چھیننے کی بھرپور کوشش کی کہ اسلیے ان سے بچنے کے لیے ایک مقامی کسان کے گھر میں پناہ لینی پڑی۔ قبائلی کے لئے وہ رات بد روحوں والی رات ثابت ہوئی۔ صبح ہوتے ہی قبائلی نے فیصلہ کیا کہ وہ سور کے ساتھ ان راستوں سے گزر کر کبھی اپنے گھر نہیں پہنچ سکتا۔ لہذا اس نے کسان کو وہ سور تحفے کے طور پر دے دیا جسے اس کی بیٹی نے فوراً ایک نام دے ڈالا اور سرسوں کے کھیت میں سیر کرانے چل دی۔

ADVERTISEMENT