انگریزوں کی سازش اور 'اردو' نام کی تاریخ
اردو زبان کا اصل نام 'ہندی' تھا، جسے انگریزوں نے اپنی 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی کے تحت 'اردو' یا 'لشکری زبان' کا نام دے دیا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
اردو زبان کا اصل نام 'ہندی' تھا، جسے انگریزوں نے اپنی 'تقسیم کرو اور حکومت کرو' کی پالیسی کے تحت 'اردو' یا 'لشکری زبان' کا نام دے دیا۔
شمس الرحمن فاروقی ان نقادوں کی سختی سے تردید کرتے ہیں جو میر کی غزلوں کو ان کی خود نوشت سوانح حیات یا اٹھارویں صدی کے سماجی حالات کا سیدھا سیدھا عکس قرار دیتے ہیں۔
یہ مضمون اس عام غلط فہمی کا ازالہ کرتا ہے کہ میر تقی میر محض روزمرہ اور بول چال کی زبان کے شاعر تھے۔ درحقیقت انہوں نے عام زبان کو بنیاد بنا کر ایک عظیم اور پیچیدہ شعری اسلوب تخلیق کیا۔
اردو شاعری میں روزمرہ کی اشیا کے استعمال کے حوالے سے میر تقی میر، نظیر اکبر آبادی اور اکبر الہ آبادی کے اسالیب کا تقابلی جائزہ۔
میر تقی میر کی شاعری میں معشوق کا کردار یک سطحی یا محض روایتی نہیں، بلکہ وہ ایک انتہائی پیچیدہ، بااختیار اور متضاد نفسیاتی پہلوؤں کا حامل کردار ہے۔
غالب نے میر سے جو استفادہ کیا وہ محض تقلید نہیں، بلکہ یہ دونوں عظیم شاعروں کی ذہنی ساخت اور طرزِ فکر کی گہری مماثلت کا ثبوت ہے۔
میر تقی میر کی مثنویوں میں بارش، سردی، ٹوٹے ہوئے مکان اور گاؤں کے کتوں کی حقیقت پسندانہ اور جاندار منظر کشی کا جائزہ۔
یہ مضمون فراق گورکھپوری کی غزل میں ہندوستانی لہجے کی شمولیت اور خدائے سخن میر تقی میر کی کلاسیکی روایت کے احیاء پر روشنی ڈالتا ہے۔
میر تقی میر کا سب سے بڑا لسانی کارنامہ فارسی تراکیب اور پراکرت (ہندوستانی) الفاظ کا وہ نامیاتی ملاپ ہے جس نے اردو غزل کو ایک نیا اور بے ساختہ آہنگ بخشا۔
محمد حسین آزاد کی پھیلائی ہوئی اس غلط فہمی کا ازالہ کہ میر تقی میر ایک دنیا بیزار اور گوشہ نشین شاعر تھے، اور ان کے کلام کی روشنی میں ان کی سماجی وابستگی کا ثبوت۔
میر تقی میر کی مثنویوں میں جانوروں کی نفسیات، ان کے جذبات اور ان کے ساتھ میر کی غیر معمولی یک دردی (Empathy) کا تنقیدی مطالعہ۔
اٹھارویں صدی کے اردو شاعر میر تقی میر اور انیسویں صدی کے فرانسیسی شاعر چارلس بودلیئر کی بلیوں پر لکھی گئی نظموں کا حیرت انگیز تقابلی مطالعہ۔
غزل کی شعریات میں 'کیفیت' فوری جذباتی اثر پیدا کرتی ہے جبکہ 'معنی آفرینی' فکری گہرائی کی غماز ہے، اور ان دونوں کا توازن ہی بڑے شاعر کی پہچان ہے۔
ولی دکنی کو شاہ گلشن کی جانب سے ریختہ گوئی میں فارسی مضامین باندھنے کے مشورے کی کہانی دراصل دہلی کے تذکرہ نگاروں کی اختراع ہے۔
غزل بنیادی طور پر عشقیہ اور غنائی شاعری ہے، جس میں حسن کی ظاہری مصوری سے زیادہ عاشق کے جذبے کی سچائی، سوز و گداز اور رمز و ایما کو اہمیت حاصل ہے۔
میر تقی میر کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عام بول چال اور روزمرہ کی زبان کو استعارے اور رعایت کے ذریعے عظیم شاعری کی زبان میں بدل دیا۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر تقی میر نے فصاحت پر بلاغت کو ترجیح دی اور زبان کے استعمال میں وہ اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ بے باک اور مہم جو تھے۔
یہ مضمون اس تنقیدی حقیقت پر بحث کرتا ہے کہ ایک عظیم شاعر اپنے پیچھے مقلدین کا کوئی اسکول نہیں چھوڑتا، بلکہ اس کے فوراً بعد آنے والے شعرا اس کے اسلوب سے شعوری یا غیر شعوری طور پر فرار اختیار کرتے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر اور غالب دونوں اردو غزل کے روایتی عاشق سے انحراف کرتے ہیں، لیکن میر کا عاشق ایک جیتا جاگتا انسان ہے جبکہ غالب کا عاشق ایک تجریدی اور مثالی پیکر ہے۔