یہاں غریب کو سب کچھ تو دے دیا اس نے
زمیں بچھائے ہے اور آسمان اوڑھے ہے
خدا کے نام پہ دیتے نہ تھے سو تنگ آ کر
قمیض پھاڑ لی تھوڑی سی اک بھکارن نے
طوائف مر گئی فاقہ کشی سے
نگر سارا نمازی ہو چکا تھا
ہمیں بھی فاقہ کشی نے کافر بنا دیا ہے
خیال روٹی کے آج سجدے میں آ گئے تھے