صیاد پر شاعری

تخلیقی زبان ترسیل اور بیان کی سیدھی منطق کے برعکس ہوتی ہے ۔ اس میں کچھ علامتیں ہیں کچھ استعارے ہیں جن کے پیچھے واقعات ، تصورات اور معانی کا ایک پورا سلسلہ ہوتا ہے ۔ صیاد ، نشیمن ، قفس جیسی لفظیات اسی قبیل کی ہیں ۔ شاعری میں صیاد چمن میں گھات لگا کر بیٹھنے والا ایک شخص ہی نہیں رہ جاتا بلکہ اس کی کرداری صفت اس کے جیسے تمام لوگوں کو اس میں شریک کرلیتی ہے ۔ اس طور پر ایسی لفظیات کا رشتہ زندگی کی وسعت سے جڑ جاتا ہے ۔ یہاں صیاد پر ایک چھوٹا سا انتخاب پڑھئے ۔

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے

گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی مرے صیاد کی ہے

شاد لکھنوی

صیاد تیرا گھر مجھے جنت سہی مگر

جنت سے بھی سوا مجھے راحت چمن میں تھی

ریاضؔ خیرآبادی

آج کچھ مہربان ہے صیاد

کیا نشیمن بھی ہو گیا برباد

اثر لکھنوی

کچھ اس انداز سے صیاد نے آزاد کیا

جو چلے چھٹ کے قفس سے وہ گرفتار چلے

مبارک عظیم آبادی

تجھ کو اے صیاد کاوش ہی اگر منظور ہے

تو چمن میں چھوڑ دے مجھ کو مرے پر توڑ کر

مصحفی غلام ہمدانی

متعلقہ موضوعات