ADVERTISEMENT

افسانہ پرشہری زندگی

ننگی آوازیں

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں شہری زندگی کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ بھولو ایک مزدور پیشہ آدمی ہے۔ جس بلڈنگ میں وہ رہتا ہے اس میں سارے لوگ رات میں گرمی سے بچنے کے لیے چھت پر ٹاٹ کے پردے لگا کر سوتے ہیں۔ ان پردوں کے پیچھے سے آنے والی مختلف آوازیں اس کے اندر جنسی ہیجان پیدا کرتی ہیں اور وہ شادی کر لیتا ہے۔ لیکن شادی کی پہلی ہی رات اسے محسوس ہوتا ہے کہ پوری بلڈنگ کے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں۔ اسی ادھیڑ بن میں وہ بیوی کی توقعات پوری نہیں کر پاتا اور جب بیوی کی یہ بات اس تک پہنچتی ہے کہ اس کے اندر کچھ کمی ہے تو اس کا ذہنی توازن بگڑ جاتا ہے اور پھر وہ جہاں ٹاٹ کا پردہ دیکھتا ہے اکھاڑنا شروع کر دیتا ہے۔

اوپر نیچے اور درمیان

سعادت حسن منٹو

طبقہ اشرافیہ کے نفاق اور ان کے تکلفات پر مبنی ایک ایسی کہانی ہے جس میں عمر دراز میاں بیوی کے خواب گاہ کے معاملات کو دل چسپ پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔

میرا نام رادھا ہے

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ عورت کے will power کا احاطہ کرتا ہے۔ راج کشور کے رویے اور تصنع آمیز شخصیت سے نیلم واقف ہے اسی لیے فلم اسٹوڈیو کے ہر فرد کی زبان سے تعریف سننے کے باوجود وہ اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ ایک روز سخت لہجے میں بہن کہنے سے بھی منع کر دیتی ہے اور پھر آخر کار رکشا بندھن کے دن مشتعل ہو کر اسے بلیوں کی طرح نوچ ڈالتی ہے۔

ADVERTISEMENT

ممد بھائی

سعادت حسن منٹو

ممد بھائی بمبئی میں اپنے علاقے کے لوگوں کے خیرخواہ ہیں۔ انھیں اپنے پورے علاقے کی خبر ہوتی ہے اور جہاں کوئی ضرورت مند ہوتا ہے، وہ اس کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں۔ کسی عورت کے اکسانے پر ممد بھائی ایک شخص کا خون کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس خون کا کوئی چشم دید گواہ نہیں ہے پھر بھی اسے اپنی مونچھوں کی وجہ سے شناخت ہو جانے کا ڈر ہے۔ اسے صلاح دی جاتی ہے کہ اپنی شناخت چھپانے کے لیے وہ اپنی مونچھیں صاف کرادے۔ ممد بھائی ایسا ہی کرتا ہے پھر بھی عدالت اسے قتل کرنے کے جرم میں سزا دیتی ہے۔

جانکی

سعادت حسن منٹو

جانکی ایک زندہ اور متحرک کردار ہے جو پونہ سے ممبئی فلم میں کام کرنے آتی ہے۔ اس کے اندر مامتا اور خلوص کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجزن ہے۔ عزیز، سعید اور نرائن، جس شخص کے بھی قریب ہوتی ہے تو اس کے ساتھ جسمانی خلوص برتنے میں بھی کوئی تکلف محسوس نہیں کرتی۔ اس کی نفسیاتی پیچیدگیاں کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس وقت وہ ایک شخص سے جسمانی رشتوں میں منسلک ہوتی ہے ٹھیک اسی وقت اسے دوسرے کی بیماری کا بھی خیال ستاتا رہتا ہے۔ جنسی میلانات کا تجزیہ کرتی ہوئی یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔

عشق حقیقی

سعادت حسن منٹو

اخلاق نامی نوجوان کو سنیما ہال میں پروین نامی ایک ایسی لڑکی سے عشق ہو جاتا ہے جس کے گھر میں سخت پابندیوں کا پہرا ہے۔ اخلاق ہمت نہیں ہارتا اور بالآخر ان دونوں میں خط و کتابت شروع ہو جاتی ہے اور پھر ایک دن پروین اخلاق کے ساتھ چلی آتی ہے۔ پروین کے گال کے تل پر بوسہ لینے کے لئے جب اخلاق آگے بڑھتا ہے تو بدبو کا ایک تیز بھبھکا اخلاق کے نتھنوں سے ٹکراتا ہے اور تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ پروین کے مسوڑھوں میں گوشت خورہ ہے۔ اخلاق اسے چھوڑ کر اپنے دوست کے یہاں لائل پور چلا جاتا ہے۔ دوست کے غیرت دلانے پر واپس آتا ہے تو پروین کو موجود نہیں پاتا۔

شاردا

سعادت حسن منٹو

’’یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو طوائف کو طوائف کی طرح ہی رکھنا چاہتا ہے۔ جب کوئی طوائف اس کی بیوی بننے کی کوشش کرتی تو وہ اسے چھوڑ دیتا ۔ پہلے تو وہ شاردا کی چھوٹی بہن سے ملا تھا، پر جب اس کی شاردا سے ملاقات ہوئی تو وہ اسے بھول گیا۔ شاردا ایک بچہ کی ماں ہے اور دیکھنے میں قابل قبول ہے۔ بستر میں اسے شاردا میں ایسی لذت محسوس ہوتی ہے کہ وہ اسے کبھی بھول نہیں پاتا۔ شاردا اپنے گھر لوٹ جاتی ہے، تو وہ اسے دوبارہ بلا لیتا ہے۔ اس بار گھر آکر شاردا جب بیوی کی طرح اس کی دیکھ بھال کرنے لگتی ہے تو وہ اس سے اکتا جاتا ہے اور اسے واپس بھیج دیتا ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

دس روپے

سعادت حسن منٹو

ایک ایسی کم سن لڑکی کی کہانی ہے جو اپنے امڈتے ہوئے شباب سے بے خبر تھی۔ اس کی ماں اس سے پیشہ کراتی تھی اور وہ سمجھتی تھی کہ ہر لڑکی کو یہی کرنا ہوتا ہے۔ اسے دنیا دیکھنے اور کھلی فضاؤں میں اڑنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک دن جب وہ تین نوجوانوں کے ساتھ موٹر میں جاتی ہے اور اپنی مرضی کے مطابق خوب تفریح کر لیتی ہے تو اس کا دل خوشی سے اس قدر سرشار ہوتا ہے کہ وہ ان کے دیے ہوئے دس روپے لوٹا دیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ روپے میں کس لیے لوں؟

سو کینڈل پاور کا بلب

سعادت حسن منٹو

اس افسانہ میں انسان کی جبلی اور جذباتی پہلووں کو گرفت میں لیا گیا ہے جن کے تحت ان سے اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک طوائف ہے جسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ کس کے ساتھ رات گزارنے جا رہی ہے اور اسے کتنا معاوضہ ملے گا بلکہ وہ دلال کے اشارے پر عمل کرنے اور کسی طرح کام ختم کرنے کے بعد اپنی نیند پوری کرنا چاہتی ہے۔ آخر کار تنگ آکر انجام کی پروا کیے بغیر وہ دلال کا خون کر دیتی ہے اور گہری نیند سو جاتی ہے۔

ADVERTISEMENT

نفسیات شناس

سعادت حسن منٹو

’’یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو اپنے گھریلو خادم کا نفسیاتی مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے یہاں پہلے دو سگے بھائی نوکر ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک بہت چست تھا تو دوسرا بہت سست۔ اس نے سست نوکر کو ہٹاکر اس کی جگہ ایک نیا نوکر رکھ لیا۔ وہ بہت ہوشیار اور پہلے والے سے بھی زیادہ چست اور تیز تھا۔ اس کی چستی اتنی زیادہ تھی کہ کبھی کبھی وہ اس کے کام کرنے کی تیزی کو دیکھ کر جھنجھلا جاتا تھا۔ اس کا ایک دوست اس نوکر کی بہت تعریف کیا کرتا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر ایک روز اس نے نوکر کی حرکتوں کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کا ارداہ کیا اور ۔۔۔ پھر‘‘

ADVERTISEMENT

یہ پری چہرہ لوگ

غلام عباس

ہر انسان اپنے مزاج اور کردار سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ سخت مزاج بیگم بلقیس طراب علی ایک دن مالی سے بغیچے کی صفائی کرا رہی تھیں کہ وہ مہترانی اور اس کی بیٹی کی بات چیت سن لیتی ہیں۔ بات چیت میں ماں بیٹی بیگموں کے اصل نام نہ لے کر انھیں مختلف ناموں سے بلاتی ہیں۔ یہ سن کر بلقیس بانو ان دونوں کو اپنے پاس بلاتی ہیں۔ وہ ان ناموں کے اصلی نام پوچھتی ہیں اور جاننا چاہتی ہیں کہ انھوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ مہترانی ان کے سامنے تو منع کر دیتی ہے لیکن اس نے بیگم بلقیس کا جو نام رکھا ہوتا ہے،وہ اپنے شوپر کے سامنے لے دیتی ہے۔

ADVERTISEMENT

مس ٹین والا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک نفسیاتی مریض کی ذہنی الجھنوں اور پریشانیوں پر مبنی کہانی ہے۔ زیدی صاحب ایک تعلیم یافتہ شخص ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے وہ ایک بلے کی اپنے گھر میں آمد ورفت سے پریشان ہیں۔ وہ بلا اتنا ڈھیٹ ہے کہ ڈرانے، دھمکانے یا پھر مارنے کے بعد بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ کھانے کے بعد بھی وہ اسی طرح اکڑ کے ساتھ زیدی صاحب کو گھورتا ہوا گھر سے باہر چلا جاتا ہے۔ اس کے اس رویئے سے زیدی صاحب اتنے پریشان ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مصنف دوست سے ملنے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنے دوست کی اپنی کیفیت اور اس بلے کی شرارتوں کی پوری داستان سناتے ہیں تو پھر دوست کے یاد دلانے پر انہیں یاد آتا ہے کہ بچپن میں اسکول کے باہر مس ٹین والا آیا کرتا تھا، جو مسٹر زیدی پر عاشق تھا۔ وہ بھی اس بلے کی ہی طرح ضدی، اکڑ والا اور ہر طرح کے زد و کوب سے بے اثر رہا کرتا تھا۔

ADVERTISEMENT

مسٹر معین الدین

سعادت حسن منٹو

’’سماجی رسوخ اور ساکھ کے گرد گھومتی یہ کہانی معین نامی ایک شخص کی شادی شدہ زندگی پر مبنی ہے۔ معین نے زہرہ سے اس کے ماں باپ کے خلاف جاکر شادی کی تھی اور پھر کراچی میں آ ن بسا تھا۔ کراچی میں اس کی بیوی کا ایک ادھیڑ عمر کے شخص کے ساتھ تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔ معین کو یہ بات معلوم ہے۔ لیکن اپنی محبت اور معاشرتی ذمہ داری کا پاس رکھنے کے لیے وہ بیوی کو طلاق نہیں دیتا اور اسے اس کے عاشق کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد جب عاشق کی موت ہو جاتی ہے تو معین اسے طلاق دے دیتا ہے۔‘‘

مجید کا ماضی

سعادت حسن منٹو

’’عیش وآرام کی زندگی بسر کرتے ہوئے اپنے ماضی کو یاد کرنے والے ایک ایسے دولت مند شخص کی کہانی ہے جس کے پاس کوٹھی ہے، اچھی تنخواہ ہے، بیوی بچے ہیں اور ہر طرح کی عیش و عشرت ہے۔ ان سب کے درمیان اس کا سکون نہ جانے کہاں کھو گیا ہے۔ وہ سکون جو اسے یہ سب حاصل ہونے سے پہلے تھا، جب اس کی تنخواہ کم تھی، بیوی بچے نہیں تھے، کاروبار تھا اور نہ ہی دوسرے مسایل۔ وہ سکون سے تھوڑا کماتا تھا اور چین و سکون کی زندگی بسر کرتا تھا۔ اب سارے عیش و آرام کے بعد بھی اسے وہ سکون نصیب نہیں ہے۔‘‘

ADVERTISEMENT

خورشٹ

سعادت حسن منٹو

یہ افسانہ معاشرہ کے ایک نازک پہلو کو سامنے لاتا ہے۔ سردار زور آور سنگھ، ساوک کاپڑیا کا لنگوٹیا یار ہے۔ اپنا اکثر وقت اس کے گھر پہ گزارتا ہے۔ دوست ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی خورشید سے بھی بے تکلفی ہے۔ سردار ہر وقت خورشید کی آواز کی تعریف کرتا ہے اور اس کے لیے مناسب اسٹوڈیو کی تلاش میں رہتا ہے۔ اپنے ان حربوں کے ذریعہ وہ خورشید کو رام کر کے اس سے شادی کر لیتا ہے۔

ستاروں سے آگے

قرۃ العین حیدر

کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ طلبا کے ایک گروپ کی کہانی جو رات کی تاریکی میں گاؤں کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ سبھی ایک بیل گاڑی میں سوار ہیں اور گروپ کا ایک ساتھی ماہیا گا رہا ہے دوسرے اسے غور سے سن رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں کوئی ٹوک دیتا ہے اور تیسرا اس کا جواب دینے لگتا ہے۔ دیا گیا جواب فقط ایک جواب نہیں ہے بلکہ انکے احساسات بھی اس میں شامل ہیں۔

ADVERTISEMENT

کوٹ پتلون

سعادت حسن منٹو

معاشی بدحالی سے جوجھ رہے ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے جسے ’اخلاقی‘ اور ’غیر اخلاقی‘ کی کشمکش کھل کھیلنے کا موقع نہیں دیتی۔ ناظم ایک ایسی بلڈنگ میں رہتا ہے جہاں ایک عورت کی پسندیدگی کا معیار ’’کوٹ پتلون‘‘ ہے۔ قرض بڑھنے کی وجہ سے اسے اپنا کوٹ پتلون بیچنا پڑتا ہے اور بلڈنگ خالی کرنی پڑتی ہے۔ ناظم جس دن مکان چھوڑ کر جا رہا ہوتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ زبیدہ کی نگاہوں کا مرکز ایک اور نوجوان ہے جو کوٹ پتلون میں ملبوس ہے۔ 

سونے کی انگوٹھی

سعادت حسن منٹو

میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی مزاحیہ افسانہ ہے جس میں بیوی شوہر کو بڑے بالوں کی وجہ سے لعنت ملامت کرتی ہے۔ جب شوہر سیلون جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو کہتی ہے اگر پیسے ہوں تو ذرا ایک سونے کی انگوٹھی لے آئیے گا، مجھے ایک سہیلی کی سال گرہ میں جانا ہے۔

مسز ڈی کوسٹا

سعادت حسن منٹو

یہ ایک ایسی عیسائی عورت کی کہانی ہے، جسے اپنی پڑوسن کے حمل سے بہت زیادہ دلچسپی ہے۔ حاملہ پڑوسن کے دن پورے ہو چکے ہیں، پر بچہ ہے کہ پیدا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ مسز ڈکوسٹا ہر روز اس سے بچہ کی پیدائش کے بارے میں پوچھتی ہے۔ ساتھ ہی اسے پورے محلے کی خبریں بھی بتاتی جاتی ہے۔ ان دنوں دیش میں شراب بندی قانون کی مانگ بڑھتی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے مسز ڈکوسٹا بہت پریشان تھی۔ اس کے باوجود وہ اپنی حاملہ پڑوسن کا بہت خیال کرتی ہے۔ ایک دن اس نے پڑوسن کو گھر بلایا اور اس کا پیٹ دیکھ کر بتایا کہ بچہ کتنے دنوں میں اور کیا (لڑکا یا لڑکی) پیدا ہوگا۔

مائی جنتے

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں گھر میں کام کرنے والی ایک آیا کا مالکوں کا اعتماد حاصل کرنے، ان کی خیر خواہ بننے اور پھر اس اعتماد کا غلط استعمال کرنے کے دوہرے کردار کی عکاسی کی گئی ہے۔ خواجہ کریم بخش کی موت کے بعد ان کی بیوہ حمیدہ نے اپنی دو بیٹیوں کی ساری ذمہ داری مائی جنتے کو دے دی تھی۔ وہی لڑکیوں کے سارے کام کیا کرتی تھی۔ انہیں کالج لے جاتی اور لاتی ۔ ان میں سے جب ایک لڑکی کی شادی ہوئی تو نکاح کے بعد پتہ چلا کہ وہ ان کی لڑکیوں سے دھندا بھی کرواتی تھی۔

شلجم

سعادت حسن منٹو

اس کہانی میں رات کو دیر سے گھر آنے والے شوہروں کی بیویوں کے ساتھ ہونے والی بحث کی عکاسی کی گئی ہے۔ شوہر رات میں تین بجے گھر آیا تھا۔ گھر آنے پر جب اس نے بیوی سے کھانا مانگا تو بیوی نے کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ اس بات پر دونوں کے درمیان بحث ہونے لگی۔ دونوں اپنی اپنی دلیلیں دینے لگے اور کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوا۔ بحث ہو ہی رہی تھی کہ اندر سے نوکر آیا اور کہنے لگا کہ کھانا تیار ہے۔ کھانے کے بارے میں سنتے ہی میاں بیوی کے درمیان صلح ہو گئی۔

مونا لسا

قرۃ العین حیدر

اس کہانی میں واقعات کو کم، ذہنی کیفیت اور دلی احساسات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان احساسات میں ملن ہے، محبت اور جدائی ہے۔ وقت کی مناسبت سے کئی کردار ابھرتے اور ماند پڑ جاتے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی کہانی ہے، مگر جو کہانی کہتا ہے، اس کی خود کی کہانی کہیں دھندلی پڑ جاتی ہے۔

بکی

راجندر سنگھ بیدی

کلکتہ کے ایک سینما کی کھڑکی پر ٹکٹ فروخت کرتی ایک ایسی لڑکی کی کہانی جو زائد چونی لے کر نوجوانوں اور کنواروں کو لڑکیوں کی بغل والی سیٹ دیتی ہے۔ اس روز اس نے آخری ٹکٹ ایک کالے اور گنوار سے دکھتے لڑکے کو دیا تھا۔ شو کے بعد جب اس نے اس سے بات کی تو پتہ چلا کہ وہ کسی دیہات سے کلکتہ دیکھنے آیا ہے۔ بات چیت میں اسے احساس ہوتا ہے وہ واقعی کچھ بھی نہیں جانتا ہے۔ وہ اسے بتاتی ہے کہ کلکتہ ایک عورت کی طرح ہے اور وہ اسے سمجھانے کے لیے اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔