چند تصویرِبُتاں

مشتاق احمد یوسفی

چند تصویرِبُتاں

مشتاق احمد یوسفی

MORE BY مشتاق احمد یوسفی

    سِیکھے ہیں مۂ رُخوں کے لئے۔۔۔۔۔

    رئیس المتغزلین مولانا حسرت موہانی نے اپنی شاعری کے تین رنگ بتائے ہیں۔فاسقانا،عاشقانہ اور عارفانہ۔مولانا کی طرح چکی کی مشقت تو بڑی بات ہے، مرزا عبدالودود بیگ نے تو مشق سخن سے بھی ذہن کو گراں بار نہیں کیا۔ تاہم وہ بھی اپنے فن (فوٹو گرافی) کو انھیں تین موہلک ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کے یہاں یہ ترتیب بالکل الٹی ہے۔ رہا ہمارا معاملہ، تو ابھی ہم رُوسو کی طرح اتنے بڑے آدمی نہیں ہوئے کہ اپنے اوپرعلانیہ فسق وفجور کی تہمت لگانے کے بعد بھی اپنے اور پولیس کے درمیان ایک با عزت فاصلہ قائم رکھ سکیں۔ لیکن یہ واقعہ ہے کہ مرزا کی طرح ہم بھی ہلاک فن ہیں اور ہمارا ناتا بھی اس فن سے اتنا ہی پرانا ہے۔ کیونکہ جہاں تک یاد پڑتا ہے، تختی پر ‘‘قلم گوید کی من شاہ جہانم’’لکھ لکھ کر خود کو گمراہ کرنے سے پہلے ہم ڈک براؤنی کیمرے کا بٹن دبانا سیکھ چکے تھے۔ لیکن جس دن سے مرزا کی ایک ننگی کھلی تصویر (جسے وہ فیگر اسٹڈی کہتے ہیں) کو لندن کے ایک رسالے نے زیور طباعت سے آراستہ کیا، ہماری بےہنری کے نئے نئے پہلو ان پر منکشف ہوتے رہتے ہیں۔

    مرزا جب سے بولنا سیکھے ہیں،اپنی زبان کو ہماری ذات پر ورزش کراتے رہتے ہیں۔اوراکثر تلمیح و استعارے سے معمولی گالی گلوج میں ادبی شان پیدا کر دیتے ہیں۔ابھی کل کی بات ہے۔ کہنے لگے،یار! برا نہ ماننا۔ تمہارے فن میں کوئی کروٹ، کوئی پیچ، میرا مطلب ہے، کوئی موڑ نظر نہیں آتا۔ ہم نے کہا،پلاٹ تواردوناولوں میں ہوا کرتا ہے۔زندگی میں کہاں؟بولے ہاں، ٹھیک کہتے ہو۔ تمہاری عکاسی بھی تمہاری زندگی ہی کا عکس ہے۔ یعنی اول تا آخر خواری کا ایک نہ قابل تقلید اسلوب!

    ہر چند کہ یہ کمال نے نوازی ہمارے کچھ کام نہ آیا۔ لیکن یہی کیا کم ہے کہ مرزا جیسے فرزانے کان پکڑتے ہیں اور ہماری حقیر زندگی کو اعلٰی تعلیمی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی اسے سامنے رکھ کر اپنی اولاد کو عبرت دلاتے ہیں،تنبیہ وفہمائش کرتے ہیں۔ان صفحات میں ہم اپنے اسلوب حیات کی توجیہ وتشریح کر کے پڑھنے والوں کے ہاتھ میں کید ناکامی نہیں دینا چاہتے۔البتہ اتنا ضرورعرض کریں گے کہ مرزا کی طرح ہم اپنی نالائقی کو ارتقائی ادوار میں تقسیم تو نہیں کر سکتے ہیں، لیکن جو حضرات ہمارے شوق منفل کی داستان پڑھنے کی تاب رکھتے ہیں، وہ دیکھیں گے کہ ہم صدا سے حاجیوں کے پاسپورٹ فوٹو اور تاریخی کھنڈروں کی توکریں ہی نہیں کھینچتے رہے ہیں۔

    گزرچکی ہے یہ فل بہارہم پربھی

    لیکن ہم کس شمارقطارمیں ہیں۔مرزا اپنے آگے بڑے بڑے فوٹوگرافروں کو ہیچ سمجھتے ہیں۔ ایک دن ہم نے پوچھا، مرزا! دنیا میں سب سے بڑا فوٹو گرافر کون ہے؟یوسف کا رش یاسیسل بیٹن؟ مسکراتے ہوئے بولے،تم نے وہ حکایت نہیں سنی کسی نادان نے مجنوں سے پوچھا،خلافت پرحق حضرت حسین کا ہے یا یزیدلینف کا؟ اگر سچ پوچھو تو لیلیٰ کا ہے!

    ادھر چند سال سے ہم نے یہ معمول بنا لیا ہے کہ ہفتہ بھر کی اعصابی شکست وریخت کے بعد اتوار کو مکمل ‘‘سبت’’مناتے ہیں۔ اور سنیچر کی مرادوں بھری شام سے سوموار کی منحوس صبح تک ہر وہ فعل اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں،جس میں کام کا ادنٰی شائیبہ یا کمائی کا ذرا بھی اندیشہ ہو۔چھ دن دنیا کے،ایک دن اپنا۔(مرزا تو اتوار کے دن اتنا آزاد اور کھلا کھلا محسوس کرتے ہیں کہ فجر کی نماز کے بعد دعا نہیں مانگتے۔اورپیرکے تصور سے ان کا جی اتنا الجھتا ہے کہ ایک دن کہنے لگے،اتوار اگر پیر کے دن ہوا کرتا تو کیا ہی اچھا ہوتا!) یہ بات نہیں کہ ہم محنت سے جی چراتے ہیں۔جس شغل(فوٹو گرافی)میں اتوارگزرتا ہے،اس میں تو محنت اتنی ہی پڑتی ہے جتنی دفتری کام میں۔ لیکن فوٹوگرافی میں دماغ بھی استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اور‘ماڈل’ اگر نچلے نہ بیٹھنے والے بچے ہوں تو نہ صرف زیادہ بلکہ بار بار استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے مرزا نے اب ہمیں چند استادانہ گر سکھا دیئے ہیں۔ مثلاً ایک تو یہی کہ پرندوں اور بچوں کی تصویر کھینچتے وقت صرف آنکھ پر فوکس کرنا چاہئیے۔ کہ ان کی ساری شخیت کھنچ کر آنکھ کی چمک میں آ جاتی ہے۔ اور جس دن ان کی آنکھ میں یہ چمک نہ رہی، دنیا اندھیر ہو جائیگی۔ دوسرے یہ کہ جس بچے پر تمہیں پیار نہ آئے اس کی تصویر ہرگز نہ کھینچو۔ فرانس میں ایک نفاست پسند مصور گزرا ہے جو نجیب الطرفین گھوڑوں کی تصویریں پینٹ کرنے میں ید طولیٰ رکھتا تھا۔ نشاط فن اسے اس درجہ عزیزتھا کہ جو گھوڑا دوغلا یا بیس ہزار فرینک سے کم قیمت کا ہو،اس کی تصویر ہرگز نہیں بناتا تھا، خواہ اس کا مالک بیس ہزارمنتا نہ ہی کیوں پیش کرے۔

    مہینہ یاد نہیں رہا۔غالباً دسمبرتھا۔دن البتہ یاد ہے،اس لئے کہ اتوار تھا۔ اور مذکورہ بالا زریں اصولوں سے لیس، ہم اپنے اوپر ہفتہ وار خود فراموشی طاری کےر ہوئے تھے۔گھرمیں ہمارے عزیز ہم سایے کی بچی ناجیہ،اپنی سیفو (سیامی بلی) کی قدآدم تصویر کھنچوانے آئی ہوئی تھی۔ قدآدم سے مراد شیر کے برابر تھی۔ کہنے لگی،“انکل! جلدی سے ہماری بلی کا فوٹو کھینچ دیجیے۔ ہم اپنی گڑیا کو اکیلا چھوڑ آئے ہیں۔ کل صبح سے بے چاری کے پیٹ میں درد ہے۔ جبھی تو کل ہم اسکول نہیں گئے۔” ہم نے جھٹ پٹ کیمرے میں تیز رفتار فلم ڈالی۔ تینو“فلڈ لیمپ” ٹھکانے سے اپنی اپنی جگہ رکھے۔ پھر بلی کو دبوچ دبوچ کے میز پر بٹھایا۔ اور اس کے منھ پر مسکراہٹ لانے کے لئے ناجیہ پلاسٹک کا چوہا ہاتھ میں پکڑے سامنے کھڑی ہوگئی۔ہم بٹن دبا کر 1/100 سیکنڈ میں اس مسکراہٹ کو بقاٴے دوام بخشنے والے تھے کہ فاٹک کی گھنٹی اس زور سے بجی کی سیفو اچھل کر کیمرے پر گری اور کیمرہ قالین پر۔ ہردو کو اسی حالت میں چھوڑ کر ہم نا وقت آنے والوں کے استقبال کو دوڑے۔

    حج کا ثواب نذرکُروں گا حضُور کی

    پھاٹک پر شیخ محمد شمس الحق کھڑے مسکرا رہے تھے۔ ان کے پہلو سے روئی کے دگلے میں ملفوف ومستور ایک بزرگ ہویدا ہوئے،جن پر نظر پڑتے ہی ناجیہ تالی بجا کے کہنے لگی

    ‘‘ہائے! کیسا کیوٹ سینٹا کلاز ہے!’’

    یہ شیخ محمد شمس الحق کے مامو جان قبلہ نکلے،جو حج کو تشریف لے جا رہے تھے اور ہمیں ثواب دارین میں شریک کرنے کے لئے موضع چاکسو (خورد) سے اپنا پاسپورٹ فوٹو کھنچوانے آئے تھے۔

    ‘‘مامو جان تو بضد تھے کہ فوٹوگرافر کے پاس لے چلو۔ بلا سے پیسے لگ جائیں، تصویر تو ڈھنگ کی آئے گی۔ بڑی مشکلوں سے رضا مند ہوئے ہیں یہاں آنے پر’’ انہوں نے شان نزول اجلال بیان کی۔

    ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی شیخ محمد شمس الحق صاحب کے ماموں جان قبلہ دیواروں پر قطار اندر قطار آویزاں تو یربتاں کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھنے لگے۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد مڑکر ایک دفعہ ہماری صورت ضرور دیکھتے۔پھر دوسری تصویر کی باری آتی۔اورایک دفعہ پھر ہم پر وہ نگاہ ڈالتے،جو کسی طرح غلط انداز نہ تھی۔جیسی نظروں سے وہ یہ تصویریں دیکھ رہے تھے، ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ صاحب نظر کا تلقا اُس نسل سے ہے جس نے کدتار روپے پر بنی ہوئی ملکہ وکٹوریہ کے بعد کسی عورت کی تصویرنہیں دیکھی۔ ایک بانکی سی تصویر کو ایک ذرا قریب جاکر دیکھا۔ لاحول پڑھی۔ اور پوچھا، یہ آپ کے لڑکے نے کھینچی ہے؟عرض کیا،جی،نہیں! وہ توتین سال سےساتویں میں پڑھ رہا ہے۔بولے ہمارا بھی یہی خیال تھا، مگر احتیاطاً پوچھ لیا۔

    شیخ محمد شمس الحق صاحب کے ماموں جان قبلہ (اپنی اور کاتب کی سہولت کے مد نظر آئندہ انہیں فقط ‘مامو’ لکھا جائے گا۔ جن قارئین کو ہمارا اختامر ناگوار گزرے، وہ ہر دفعہ‘مامو’کے بجائے شیخ محمد شمس الحق صاحب کے ماموجان قبلہ،پڑھیں) ہماری رہر ی کے لئے اپنےتایا ابا مرحوم کی ایک مٹی مٹائی تصویر ساتھ لائے تھے۔ شیشم کے فریم کو حنائی انگوچھے سے جھاڑتے ہوئے بولے‘‘ایسی خینچ دیجیے’’۔ ہم نے تصویر کو غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ مامو کے عمّ بزرگوار بھی وہی روئی کا دگلا پہنے کھڑے ہیں،جس پر الٹی کر یا ں بنی ہوئی ہیں۔ تلوار کو بڑی مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔جھاڑو کی طرح۔عرض کیا،قبلہ!پاس پورٹ فوٹو میں تلوار کی اجازت نہیں۔ فرمایا،آپ کو ہمارے ہاتھ میں تلوار نظر آرہی ہے؟ہم بہت خفیف ہوئے۔اس لئے کہ ماموں کے ہاتھ میں واقعی کچھ نہ تھا۔ بجزایک بے ضررگلاب کے،جسے سونگھتے ہوئے وہ پاسپورٹ فوٹو کھنچوانا چاہتے تھے۔

    ماموں کے کان‘ط’کی مانند تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر کو نکلے ہوئے۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم جسمانی عیوب کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ در حقیقت اس تشبیہ سے ہمیں کانوں کی افادیت دکھانی مقصود ہے۔ کیوں کہ خدا نخواستہ کانوں کی ساخت ایسی نہ ہوتی تو ان کی ترکی ٹوپی سارے چہرے کو ڈھانک لیتی۔ابتدائی تیاریوں کے بعد بڑی منتوں سے انہیں فوٹو کے لئے کرسی پربٹھایا۔ کسی طرح نہیں بیٹھتے تھے۔ کہتے تھے ‘‘بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کھڑے رہیں اور میں بیٹھ جاؤں۔’’خدا خدا کر کے وہ بیٹھے تو ہم نے دیکھا کہ ان کی گردن ہلتی ہے۔ظاہرہے،ہمیں فطری رعشے پر کیا اعتراز ہو سکتاتھا۔ اصل مصیبت یہ تھی کہ گردن اگر دو سیکنڈہلتی تو ٹوپی کا پھندنا دو منٹ تک ہلتا رہتا۔ہردوعمل کےایک نایاب وقفے میں ہم نے‘‘ریڈی’’کہا تو گویا عالم ہی کچھ اور تھا۔ ایک دم اکڑ گئے اور ایسے اکڑے کہ جسم پر کہیں بھی ہتھوڑی مار کر دیکھیں تو ٹن ٹن آواز نکلے۔ ڈیڑھ دومنٹ بعد تیسری دفعہ‘ریڈی’کہہ کرکیمرے کے دید بان (VIEW-FINDER) سے دیکھا تو چہرے سے خوف آنے لگا۔ گردن پرایک رسّی جیسی رگ نہ جانے کہاں سے ابھر آئی تھی۔ چہرہ لال۔ آنکھیں اس سے زیادہ لال۔یکلخت ایک عجیب آواز آئی۔ اگر ہم ان کے منہ کی طرف نہ دیکھ رہے ہوتے تو یقیناً یہی سمجھتے کہ کسی نے سائیکل کی ہوا نکال دی ہے۔

    ‘‘اب تو سانس لیلوں؟’’سارے کمرے کی ہوااپنی ناک سے پمپ کرتے ہوئے پوچھنے لگے۔ اب سوال یہ نہیں تھا کہ تصویر کیسی اور کس پوز میں کھینچی جائے۔ سوال یہ تھا کہ ان کا عمل تنفّس کیوں کر برقرار رکھّا جائے کہ تصویر بھی کھنچ جائے اور ہم قتل عمد کے مرتکب بھی نہ ہوں۔ اپنی نگرانی میں انہیں دو چار ہی سانس لوائے تھے کہ مسجد سے مؤذّن کی صدا بلند ہوئی۔ اور پہلی‘اللہ اکبر’کے بعد، مگر دوسری سے پہلے، ماموں کرسی سے ہڑبڑا کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ شیشے کے جگ سے وضو کیا۔ پوچھا، قبلہ کس طرف؟ ہمارے منہ سے نکل گیا مغرب کی طرف۔ فرمایا، ہمارا بھی یہی خیال تھا، مگر احتیاطاً پوچھ لیا۔ اس کے بعد جا نماز طلب کی۔

    ماموں نے پلنگ پوش پرظہر کی نماز قائم کی۔آخر میں بآوازبلند دعامانگی،جسےوہ لوگ،جن کا ایمان قدرے ضعیف ہو،فرمائشوں کی فہرست کہہ سکتے ہیں۔ نماز سے فارغ ہوئے توہمیں مخاطب کر کے بڑی نرمی سے بولے‘‘چار فرضوں کے بعد دو سنّتیں پڑھی جاتی ہیں۔تین سنّتیں کسی نماز میں نہیں پڑھی جاتیں۔ کم از کم مسلمانوں میں!’’

    دوسرے کمرے میں تعام وقیلولہ کے بعد چاندی کی خلال سے حسب عادت قدیم اپنے منوکئی دانتوں کی ریخیں کریدتے ہوئے بولے،‘‘بیٹا! تمہاری بیوی بہت سگھڑ ہے۔ گھر بہت ہی صاف ستھرا رکھتی ہے۔ بالکل ہسپتال لگتا ہے۔’’اس کے بعد ان کی اور ہماری مشترکہ جاننی‘ پھر شروع ہوئی۔ ہم نے کہا‘‘اب تھوڑارلیکس (RELAX) کیجئے۔’’بولے،‘‘کہاں کروں؟’’کہا،‘‘میرامطلب ہے،بدن ذرا ڈھیلا چھوڑ دیجیے۔ اور یہ بھول جائےم کہ آپ کیمرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔’’بولے،‘‘اچھا! یہ بات ہے!’’فوراً بندھی ہوئی مٹھیاں کھول دیں۔ آنکھیں جھپکائیں اورپھپھڑبوں کو اپنا قدرتی فلی پھر شروع کرنے کی اجازت دی۔ ہم نے اس ‘‘نیچرل پوز’’سے فائدہ اٹھانے کی غرض سے دوڑ دوڑ کر ہر چیز کو آخری ‘‘ٹچ’’ دیا، جس میں یہ بندھا ٹکا فقرہ بھی شامل تھا،‘‘ادھر دیکھییے۔ میری طرف۔ ذرا مسکرائےا!‘‘بٹن دباکر ہم‘‘شکریہ’’کہنے والے تھے کہ یہ دیکھ کر ایرانی قالین پیروں تلے سے نکل گیا کہ وہ ہمارے کہنے سے پہلے ہی خدا جانے کب سے رلیکس کرنے کی غرض سے اپنی بتّیسی ہاتھ میں لے ہنسے چلے جا رہے تھے۔ ہم نے کہا ‘‘صاحب!اب نہ ہنسیے!بولے‘‘توپھرآپ سامنے سے ہٹ جائیے!’’

    ہمیں ان کے سامنے سے ہٹنے میں زیادہ سوچ بچار نہیں کرنا پڑا۔ اس لئے کہ اُسی وقت ننھی ناجیہ دوڑی دوڑی آئی اور ہماری آستین کا کونہ کھینچتے ہوئے کہنے لگی‘‘انکل!ہری اپ!پلیز!جا نماز پہ بلّی پنجوں سے وضو کر رہی ہے! ہائے اللہ! بڑی کیوٹ لگ رہی ہے!’’

    پھر ہم اس منظرکی تصویرکھینچنےاورماموں لاحول پڑھنے لگے۔

    اگلےاتوارکوہم پروفیسرقاضی عبدالقدوس کے فوٹوکی‘‘ری ٹچنگ’’میں جٹے ہوئے تھے۔ پتلون کی پندرھویں سلوٹ پر کلف استری کر کے اب ہم ہونٹ کا مسّا چھپانے کے لےد صفر نمبر کے برش سے مونچھ بنانے والے تھے کہ اتنے میں ماموں اپنی تصویریں لینےآ دھمکے۔ تصویریں کیسی آئیں،اس کے متلقّا ہم اپنے منہ سے کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ مکالما خودچٹاخ پٹاخ بول اٹھے گا:

    ‘‘ہم ایسے ہیں؟’’

    ‘‘کیا عرض کروں!’’

    ‘‘تمہیں کس نے سکھایا تصویر کھینچنا؟’’

    ‘‘جی! خود ہی کھینچنے لگ گیا۔’’

    ‘‘ہمارا بھی یہی خیال تھا مگر احتیاطاً پوچھ لیا۔’’

    ‘‘آخر تصویر میں کیا خرابی ہے؟’’

    ‘‘ہمارے خیال میں یہ ناک ہماری نہیں ہے۔’’

    ہم نے انہیں مطّلع کیا کہ اُن کے خیال اور ان کی ناک میں کوئی متابقت نہیں ہے۔ اس پر انہوں نے یہ جاننا چاہا کہ اگر تصویر کو خوب بڑاکیا،تب بھی ناک چھوٹی نظر آئےگی کیا؟

    پندِ سُود مند

    دوسرے دن مرزا ایک نئی طرز کے ہوٹل‘‘مانٹی کارلو’’کے بال روم میں اتاری ہوئی تصویریں دیکھانے آئے۔اورہر تصویر پر ہم سے اس طرح داد وصول کی جیسے مرہٹے چوتھ وصول کیا کرتے تھے۔ یہ اسپین کی ایک اسٹرپ ٹنریڈانسر(جسے مرزااندولسی رقاصہ کہے چلے جا رہے تھے)کی تصویریں تھیں،جنہیں برہنہ تو نہیں کہا جا سکتا تھا۔ اس لئے کہ سفید دستانے پہنے ہوئے تھی۔ گرم کافی اور تحسین نہ شناس سے ان کی طبیعت میں انشراح پیدا ہونے لگا تو موقع غنیمت جان کر ہم نے ماموں کی زیادتیاں گوش گزارکیں اورمشورہ طلب کیا۔اب مرزامیں بڑی پرانی کمزوری یہ ہے کہ ان سے کوئی مشورہ مانگے توہاں میں ہاں ملانے کے بجائے سچ مچ مشورہ ہی دینے لگ جاتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ ہماری صورت میں کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ ہر شخص کا بے اختیار نصیحت کو جی چاہتا ہے۔ چنانچہ پھر شروع ہو گئے:

    ‘‘صاحب! آپ کو فوٹو کھینچنا آتا ہے، فوٹو کھچوپانے والوں سے نمٹنا نہیں آتا۔ سلامتی چاہتے ہو تو کبھی اپنے سامنے فوٹو دیکھنے کا موقع نہ دو۔ بس دبیز لفافے میں بند کر کے ہاتھ میں تھما دو اور چلتا کرو۔ وکٹوریہ روڈ کے چوراہے پر جو فوٹو گرافر ہے۔ لہسنیا داڑھی والا۔ارے بھئی! وہی جس کی ناک پر چاقو کا نشان ہے۔ آگے کا دانت ٹوٹا ہوا ہے۔ اب اس نے بڑا پیارا اصول بنایا ہے۔ جو گاہک دوکان پر اپنی تصویر نہ دیکھے،اسے بل میں 25 فیصد نقد رعایت دیتا ہے۔ اور ایک تم ہو کہ مفت تصویر کھینچتے ہو۔اورشہربھرکے بد صورتوں سے گالیاں کھاتے پھرتے ہو۔ آج تک ایسا نہیں ہوا کہ تم نے کسی کی تصویر کھینچی ہو اوروہ ہمیشہ کے لےاتمہاراجانی دُشمن نہ بن گیا ہو۔’’

    کریتِ اَولاد اور یہ فقیرِ پُرتیرُ

    نصیحت کی دھن میں مرزا یہ بھول گئے کہ دُشمنوں کی فہرست میں اضافہ کرنے میں خود انہوں نے ہمارا ہاتھ بٹایا ہے۔ جس کا اندازہ اگر آپ کو نہیں ہے تو آنے والے واقعات سے ہو جائیگا۔ ہم سے کچھ دورپی۔ڈلیو۔ڈی کے ایک نامی گرامی ٹھیکیدارتین کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔مارشل لاءکے بعد سےبچارے اتنے رقیق القلب ہو گئے ہیں کہ برسات میں کہیں سے بھی چھت گرنے کی خبر آئے، ان کا کلیجہ دھک سے رہ جاتا ہے۔ حُلیہ ہم اس لئے نہیں بتائیں گے کہ اسی بات پر مرزا سے بری طرح ڈانٹ کھا چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ناک فلپس کے بلب جیسی، آواز میں بنک بلنیس کی کھنک، جسم خُوبصورت صراحی کے مانند۔۔۔۔۔۔۔یعنی وسط سے پھیلا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ ہم نے آؤٹ لائن ہی بنائی تھی کہ مرزا گھایل لہجے میں بولے،‘‘بڑے مزاح نگار بنے پھرتے ہو۔تمہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ جسمانی نقائص کا مذاق اڑانا طنز ومزاح نہیں۔’’کروڑ پتی ہیں،مگرانکم ٹیکس کے ڈر سے اپنے آپ کو لکھ پتی کہلواتے ہیں۔ مبدئ فیاّض نے ان کی طبیعت میں کنجوسی کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے۔ روپیہ کمانے کو تو سبھی کماتے ہیں۔ وہ رکھنا بھی جانتے ہیں۔ کہتے ہیں، آمدنی بڑھانے کی سہل ترکیب یہ ہے کہ خرچ گھٹا دو۔ مرزا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو اس وجہ سے جہیز نہیں دیا کہ اس کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی، جو خود لکھ پتی تھا۔ اور دوسری بیٹی کو اس لئے نہیں دیا کہ اس کا دولہا دوالیہ تھا۔ سال چھ مہینے میں ناک کی کیل تک بیچ کھاتا۔ غرض لکشمی گھر کی گھر میں رہی۔

    ہاں،توانہی ٹھیدییارصاحب کاذکرہے، جن کی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ،منکوحہ وغیرمنکوحہ کا نقشہ شاعر شیوہ بیاں نے ایک مصرع میں کھینچ کر رکھ دیا ہے:

    ایک اک گھر میں سو سو کمرے،ہرکمرےمیں نار

    اس حسین صورت حال کا نتائج اکثر ہمیں بھگتنے پڑتے ہیں۔ وہ اس طرح کہ ہر نو مولود کے عقیقہ اور پہلی سال گرہ پر ہمیں سے یاد گار تصویر کھنچواتے ہیں۔ اور یہی کیا کم ہے کہ ہم سے کچھ نہیں لیتے۔ ادھر ڈھائی تین سال سے اتنا کرم اور فرمانے لگے ہیں کہ جیسے ہی خاندانی منودبہ شکنی کی شبھ گھڑی قریب آتی ہے تو ایک نوکر،دائی کو اور دوسرا ہمیں بلانے دوڑتا ہے،بلکہ ایک آدھ دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ‘‘وہ جاتی تھی کہ ہم نکلے’’جن حضرات کو اس بیان میں شرارت ہمسایہ کی کار فرمائی نظر آئے، وہ ٹھیکیدار صاحب کے البم ملاحضہ فرما سکتے ہیں۔ ہمارے ہاتھ کی ایک نہیں، درجنوں تصویریں ملیں گی، جن میں موصوف کیمرے کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر نو مولود کے کان میں اذان دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    آئے دن کی زچگیاں جھیلتے جھیلتے ہم ہلکان ہو چکے تھے، مگر بوجہ شرم وخوش اخلاقی خاموش تھے۔عقل کام نہیں کرتی تھی کہ اس کاروبار شوق کو کس طرح بند کیا جائے۔مجبوراً (انگریزی محاورے کے مطابق)مرزاکواپنےاعتماد میں لیناپڑا۔احوال پُرملال سن کر بولے،صاحب! ان سب پریشانیوں کا حل ایک پھولدار فراک ہے۔ ہم نے کہا، مرزا! ہم پہلے ہی ستائے ہوئے ہیں۔ ہم سے یہ ابسٹریکٹ گفتگو تو نہ کرو۔ بولے،تمہاری ڈھلتی جوانی کی قسم!مذاق نہیں کرتا۔ تمہاری طرح ہمسایوں کے لخت ہائے جگر کی تصویریں کھینچتے کھینچتے اپنا بھی بُھرکس نکل گیا تھا۔ پھر میں نے تو یہ کیا کہ ایک پھول دار فراک خریدی اور اس میں ایک نوزائید بچے کی تصویر کھینچی۔ اوراس کی تین درجن کاپیاں بنا کراپنے پاس رکھ لیں۔ اب جو کوئی اپنے نو مولود کی فرمائش کرتا ہے تو یہ شرط لگا دیتا ہوں کہ اچھی تصویر درکار ہے تویہ خوبصورت پھولدارفراک پہنا کر کھنچواؤ۔ پھر کیمرے میں فلم ڈالے بغیربٹن دباتا ہوں۔ اور دو تین دن کا بھلاوا دے کر اسی امّ التصاویر کی ایک کاپی پکڑا دیتا ہوں۔ ہر باپ کو اس میں اپنی شباہت نظر آتی ہے!

    حادثات اور اِبتدائی قانونی اِمداد

    ہمارے پرانے جاننے والوں میں آغا واحد آدمی ہیں، جن سے ابھی تک ہماری بول چال ہے۔ اس کی واحد وجہ مرزا یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے کبھی ان کی تصویر نہیں کھینچی،گوکہ ہماری فنکارانہ صلاحیتوں سے وہ بھی اپنے طورپرمستفید ہو چکے ہیں۔ صورت استفادہ یہ تھی کہ ایک اتوار کو ہم اپنے‘‘ڈارک رُوم’’(جسے پیر سے سنیچر تک گھر والے غسل خانہ کہتے ہیں) میں اندھیرا کے ایک مارپیٹ سے بھرپور سیاسی جلسے کے پرنٹ بنا رہے تھے۔ گھپ اندھیرے میں ایک مناّ سا سرخ بلب جل رہا تھا،جس سے بس اتنی روشنی نکل رہی تھی کہ وہ خود نظرآجاتا تھا۔ پہلے پرنٹ پر کالی جھنڈیاں صاف نظر آنے لگیں تھیں،لیکن لیڈر کا چہرہ کسی طرح ابھر کے نہیں دیتا تھا۔ لہٰذا ہم اسے بار بار چمٹی سے تیزابی محلول میں غوطے دیے جا رہے تھے۔ اتنے میں کسی نے پھاٹک کی گھنٹی بجائی اور بجاتا ہوا چلا گیا۔ ہم جس وقت چمٹی ہاتھ میں لےب پہنچے ہیں، تو گھر والے ہی نہیں، پڑوسی بھی دوڑ کر آ گئے تھے۔ آغا نے ہتھیلی سے گھنٹی کا بٹن دبا رکھا تھا اور لرزتی کپکپاتی ہوئی آواز میں حاضرین کو بتا رہے تھے کہ وہ کس طرح اپنی سدھی سدھائی مرنجاں مرنج کار میں اپنی راہ چلے جا رہے تھے کہ ایک ٹرام دندناتی ہوئی‘‘رانگ سائڈو’’سے آئی۔ اور ان کی کار سے ٹکرا گئی۔ ہمارے منھ سے کہیں نکل گیا، ‘‘مگر تھی تو اپنی ہی پٹری پر؟’’ تنتناتے ہوئے بولے ‘‘جی، نہیں! ٹیک آف کر کے آئی تھی!’’یہ موقع ان سے الجھنے کا نہیں تھا،اس لےد وہ جلدی مچا رہے تھے۔ بقول ان کے رہی سہی عّزت خاک کراچی میں ملی جارہی تھی۔ اور اسی کی خاطر ٹکر ہونے سے ایک دو سیکنڈ پہلے ہی وہ کار سے کود کرغریب خانہ کی سمت روانہ ہو گئے تھے تاکہ چالان ہوتے ہی اپنی صفائی میں بطور دلیل 2 حادثہ کا فوٹو مع فوٹو گرافر پیش کر سکیں۔ دلیل نمبر 1 یہ تھی کہ جس لمحے کار ٹرام سے ٹکرائی، وہ کارمیں موجود ہی نہیں تھے۔

    ہم جس حال میں تھے، اسی طرح کیمرہ لے کر آغا کے ساتھ ہو لےی اور ہانپتے کانپتے موقع واردات پر پہنچے۔ دیکھا کہ آغا کی کار کا بمپر ٹرام کے بمپر پر چڑھا ہوا ہے۔ اگلا حصہ ہوا میں ملقل ہے اور ایک لونڈا پہیا گھما گھما کر دوسرے سے کہہ رہا ہے ‘‘ابے فلوم!اس کے تو پہیے بھی ہیں!’’

    آغا کا اصرار تھا کہ تولیریں ایسے زاوئیے سے لی جائیں، جس سے ثابت ہو کہ پہلے مشتل ٹرام نے کار کے ٹکر ماری۔ اس کے بعد کار ٹکرائی! وہ بھی محض حفاظت خود اختیاری میں! ہم نے احتیاطاً ملزمہ کے ہر پوز کی تین تین توہیریں لے لیں، تاکہ ان میں مبینہ زاویہ بھی، اگر کہیں ہو، تو آ جائے۔ حادثے کو فلماتے وقت ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اس پیش بندی کی چنداں ضرورت نہ تھی۔ اس لئے کہ جس زاوئیے سے مرےوبہ ملزمہ پر چڑھی تھی اور جس پینترے سے آغا نے ٹرام اور قانون سے ٹکر لی تھی، اسے دیکھتے ہوئے ان کا چالان اقدام خودکشی میں بھلے ہی ہو جائے، ٹرام کو نقصان پہنچانے کا سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ادھرہم کلک کلک تصویر پر تو یر لیے جا رہے تھے، ادھر سڑک پر تماشائیوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔ ہم نے کیمرے میں دوسری فلم ڈالی۔ اور کار کا ‘‘کلوزاپ’’ لینے کی غرض سے مرزا ہمیں سہارا دے کر ٹرام کی چھت پر چڑھانے لگے۔ اتنے میں ایک گبرو پولیس سارجنٹ بھیڑ کو چیرتا ہوا آیا۔ آ کر ہمیں نیچے اتارا۔ اور نیچے اتار کے چالان کر دیا۔۔۔۔۔۔ شارع عام پر مجمع لگا کے عمداً رکاوٹ پیدا کرنے کے الزام میں! اور بقول مرزا، وہ تو بڑی خیریت ہوئی کہ وہ وہاں موجود تھے۔ ورنہ ہمیں تو کوئی ضمانت دینے والا بھی نہ ملتا۔ کھنچے کھنچے پھرتے۔

    عقدِ ثانی اورعاجز

    یہ پہلا اور آخری موقع نہیں تھا کہ ہم نے اپنے حقیر آرٹ سے قانون اور انصاف کے ہاتھوں کو مضبوط کیا۔(معاف کیجئے۔ ہم پھر انگریزی ترکیب استعمال کر گئے۔ مگر کیا کیا جائے، انگریزوں سے پہلے ایسا بجوگ بھی تو نہیں پڑتا تھا) اپنے بے گانوں نے بارہا یہ خدمت بے مزد ہم سے لی ہے۔ تین سال پہلے کا ذکر ہے۔عائلی قانون (جسے مرزا قانون انسداد نکاح کہتے ہیں) کا نفاذ ابھی نہیں ہوا تھا۔ مگر پریس میں اس کی موافقت میں تر یریں اور تقریریں دھڑا دھڑ چھپ رہی تھیں۔ جن کے گجراتی ترجموں سے گڑ بڑا کر

    ‘‘بنولہ کنگ’’سیٹھ عبدل غفور ابراہیم حاجی محمد اسمعیل یونس چھابڑی والا ایک لڑکی سے چوری چھپے نکاح کر بیٹھے تھے۔ حُلیہ نہ پوچھیں تو بہتر ہے۔ اہل بنیش کو اتنا اشارہ کافی ہونا چاہیے کہ اگر ہم ان کا حُہیی ٹھیک ٹھیک بتانے لگیں تو مرزا چیخ اٹھیں گے‘‘صاحب! یہ طنز ومزاح نہیں ہے!’’اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔حاشا وکلّا۔ ہم نے کچھ عرصے سے یہ اصول بنا لیا ہے کہ کسی انسان کو حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس لئے کہ ہم نے دیکھا کہ جس کسی کو ہم نے حقیر سمجھا، وہ فوراً ترقی کر گیا۔ ہاں تو ہم یہ کہہ رہے تھے کہ جس دن سے تعدّدا زدواج کا قانون لاگو ہونے والا تھا،اس کی ‘‘چاند رات’’کو سیٹھ صاحب غریب خانے پر تشریف لائے۔انتہائی سراسمیگی کے عالم میں۔ان کے ہمراہ سراسمیگی بھی تھی۔جو سیاہ بُرقع میں تھی۔اوربہت خوب تھی۔

    رات کے دس بج رہے تھے۔اورکیمرہ، اسکرین اور روشنیاں ٹھیک کرتے کرتے گیارہ بج گئے۔گھنٹہ بھر تک سیٹھ صاحب ہماریCANDID FIGURE STUDIES کو اس طرح گھورتے رہے کہ پہلی مرتبہ ہمیں اپنے فن سے حجاب آنے لگا۔ فرمایا، اجُن بگڑیلی بائیوں کی فوٹو گراف لینے میں تو تم ایک نمبراستاد ہو۔ پن کوئی بھین بیٹی کپڑے پہن کر فوٹو کھچوائے تو کیا تمیرا کیمرا کام کریں گا؟ ہم نے کیمرے کی نیک چلنی کی ضمانت دی اور تپائی رکھی۔ تپائی پر سیٹھ صاحب کو کھڑا کیا۔ اور ان کے بائیں پہلو میں دلہن کو (سینڈل اُترواکر) کھڑا کر کے فوکس کر رہے تھے کہ وہ تپائی سے چھلانگ لگا کر ہمارے پاس آئے اور ٹوٹی پھوٹی اردو میں، جس میں گجراتی سے زیادہ گھبراہٹ کی آمیزش تھی، درخواست کی کہ سُرمئی پردے پر آج کی تاریخ کوئلے سے لکھ دی جائے اور فوٹو اس طرح لیا جائے کہ تاریخ صاف پڑھی جا سکے۔ ہم نے کہا، سیٹھ! اس کی کیا تُک ہے؟ تپائی پر واپس چڑھ کے انہوں نے بڑے زور سے ہمیں آنکھ ماری اور اپنی ٹوپی سے ایسی بے کسی سے اشارہ کیا کہ ہمیں ان کے ساتھ اپنی عزّت آبرو بھی مٹی میں ملتی نظر آئی۔ پھر سیٹھ صاحب اپنا بایاں ہاتھ دلہن کے کندھے پر مالکانہ انداز سے رکھ کر کھڑے ہو گئے۔ دایاں ہاتھ اگر اور لمبا ہوتا توبخدااسے بھی وہیں رکھ دیتے۔فی الحال اُس میں جلتا ہوا سگریٹ پکڑے ہوئے تھے۔ ہمارا ‘‘ریڈی’’کہنا تھا کہ تپائی سے پھر زقند لگا کر ہم سے لپٹ گئے۔ یا اللہ! خیر! اب کیا لفڑا ہے سیٹھ؟ معلوم ہوا،اب کی دفعہ بچشم خود یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ وہ کیمرے میں کیسے نظر آ رہے ہیں! خوشامد درامد کر کے پھر تپائی پرچڑھایا۔اور قبل اس کے کہ گھڑیال رات کے بارہ بجا کر نئی صبح اور قانون انسداد نکاح کے نفاذ کا اعلان کرے،ہم نے ان کے خفیہ رشتۂ منا کتک کا مزید دستاویزی ثبوت کو ڈاک فلم پر محفوظ کر لیا۔

    اصل دشواری یہ تھی کہ تصویر کھینچنے اور کھنچوانے کے آداب سے متلقو جو ہدایات سیٹھ صاحب بزبان گجراتی یا اشاروں سے دیتے رہے،انکا منشاء کم از کم ہمارے فہم ناقص میں یہ آیا کہ دلہن صرف اُس لمحے نقاب الٹے جب ہم بٹن دبائیں۔ اور جب ہم بٹن دبائیں تو عینک اتاردیں۔ان کا بس چلتا تو کیمرے کا بھی‘لینس’اترواکرتصویر کھنچواتے۔رات کی جگار سے تبیعت تمام دن کسلمند رہی۔ لہٰذا دفتر سے دو گھنٹے پہلے ہی اٹھ گئے۔ گھر پہنچے تو سیٹھ صاحب ممدُوح ومنکُوح کو برآمدے میں ٹہلتے ہوئے پایا۔ گردن جھکائے، ہاتھ پیچھے کو باندھے،بےقراری کے عالم میں ٹہلے چلے جا رہے تھے۔ ہم نے کہا ‘سیٹھ ’اسلامُ علیکُم!بولے،بالیکُم! پن پھلم کو گسل کب دیں گا؟ ہم نے کہا، ابھی لو، سیٹھ! پھر انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ ان کی شریک حیات کی تصویر کو ان کی موجودگی میں‘‘غسل’’دیا جائے ہم نے جگہ کی تنگی کا عذر کیا، جس کے جواب میں سیٹھ صاحب نے ہمیں نبولے کی ایک بوری دینے کا لالچ دیا۔ جتنی دیر تک فلم ڈویلپ ہوتی رہی، وہ فلش کی زنجیر سے لٹکے،اس گُہہ گار کی نقل وحرکت کی کڑی نگرانی کرتے رہے۔

    ہم ‘‘فکسر’’میں آخری ڈوب دے چکے تو انہوں نے پوچھا‘‘کلیر، آئی ہے؟’’عرض کیا،بالکل صاف۔ چوبی گیرہ سے ٹپکتی ہوئی فلم پکڑ کے ہم نے انہیں بھی دیکھنے کا موقع دیا۔ شارک اسکن کا کوٹ ہی نہیں بریسٹ پاکٹ کے بٹوے کا ابھار بھی صاف نظر آ رہا تھا۔ تاریخ نگیٹو میں الٹی تھی، مگر صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ چہرے پر بھی بقول اُن کے کافی روشنائی تھی۔انہوں نے جلدی جلدی دلہن کی انگوٹھی کے نگ گنے اور انہیں پورے پا کر ایسے مطمئن ہوئے کہ چٹکی بجا کر سگرٹ چھنگلیا میں دبا کے پینے لگے۔ بولے،‘‘مٹرگ! یہ تو سولہ آنے کلیر ہے۔ آنکھ، ناک، جیب پاکٹ،ایک ایک نگ چگتی سنبھال لو۔ اپنے بہی کھاتے کے مواپھک!اجُن اپنی اومیگا واچ کی سوئی بھی بروبر ٹھیک ٹیم دیتی پڑی ہے۔ گیارہ کلاک۔اوراپن کے ہاتھ میں جو ایک ٹھو سگرٹ جلتا پڑا ہے، وہ بھی سالا ایک دم لیٹ مارتا ہے۔’’یہ کہہ کر وُہ کسی گہرے سوچ میں ڈوب گئے۔ پھرایک جھٹکے سے چہرہ اٹھا کر کہنے لگے‘‘بڑے صاحب!اس سگرٹ پہ جو سالا K2 لکھے لا ہے،اس کی جگہ Player’s No-3بنا دو نی!’’

    دربارِاکبری میں باریابی

    خیر،یہاں تو معاملہ سگرٹ ہی پر ٹل گیا، ورنہ ہمارا تجربہ ہے کہ سو فی صد حضرات اور ننانوے فیصد خواتین تصویر میں اپنے آپ کو پہچاننے سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔ باقی رہیں ایک فی صد۔ سو انہیں اپنے کپڑوں کی وجہ سے اپنا چہرہ قبُولنا پڑتا ہے۔ لیکن اگراتفاق سے کپڑے بھی اپنے نہ ہوں تو پھر شوقیہ فوٹو گرافر کو چاہیے کہ اور روپیہ برباد کرنے کا کوئی اور مشغلہ تیار کرے، جس میں کم از کم مار پیٹ کا امکان تو نہ ہو۔ اس فن میں درک نہ رکھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے ہم صرف ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ پچھلے سال بغدادی جم خانہ میں تمبولا سے تباہ ہونے والوں کی امداد کے لئے یکم اپریل کو ‘‘اکبراعظم’’کھیلا جانے والا تھا اور پبلسٹی کمیٹی نے ہم سے درخواست کی تھی کہ ہم ڈریس رہلسل کی تصویریں کھینچیں تاکہ اخبارات کو دو دن پہلے مہیا کی جا سکیں۔

    ہم ذرا دیر سے پہنچے۔ چوتھا سین چل رہا تھا۔ اکبراعظم دربار میں جلوہ افروز تھے اور استاد تان سین بینجو پر حضرت فراق گورکھپوری کی سہ غزلہ راگ مالکوس میں گا رہے تھے۔جو حضرات کبھی اس راگ یا کسی سہ غزلہ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، کچھ وہی اندازہ لگا سکتے ہیں، کہ اگر یہ دونوں یکجا ہو جائیں تو ان کی سنگت کیا قیامت ڈھاتی ہے۔اکبراعظم کا پارٹ جم خانے کے پروپیگنڈا سیکریٹری صبغے (شیخ صبغتہ اللہ)اداکررہےتھے۔سرپرٹین کا منویعی تاج چمک رہا تھا،جس میں سے اب تک اصلی گھی کی لپٹیں آرہی تھیں۔ تاج شاہی پر شیشے کے پیپر ویٹ کا کوہِ نور ہیرا جگمگا رہا تھا۔ ہاتھ میں اسی دھات یعنی اصلی ٹین کی تلوار۔ جسے گھمسان کا رن پڑتے ہی دونوں ہاتھوں سے پکڑ کے وہ کدال کی طرح چلانے لگے۔آگے چل کر ہلدی گھاٹ کی لڑائی میں یہ تلوار ٹوٹ گئی تو خالی نیام سے داد شجاعت دیتے رہے۔ انجام کار، یہ بھی جواب دے گیا کہ رانا پرتاپ کا سراس سے بھی سخت نکلا۔ پھر مہابلی اسکی آخری پچّرتماشائیوں کو دکھاتے ہوئے داروغہ اسلحہ خانہ کو رائجُ الوقت گالیاں دینے لگے۔حسب عادت غصے میں آپے سے باہر ہو گئے۔ لیکن حسب عادت، محاورے کو ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ دوسرے سین میں شہزادہ سلیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سلیم ابھی انار کلی پر اپنا وقت برباد کررہا تھا۔ اسکا دورجہانگیری،بلکہ نور جہان گیری ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ دوران سرزنش ظلّ سبا نی نے دست خاص سے ایک طمانّچہ بھی مارا جس کی آواز آخری قطار تک سنی گئی۔طمانّچہ تو انار کلی کے گال پر بھی مارا تھا، مگر اس کا ذکر ہم نے ماًا نہیں کیا،کیونکہ یہ مہابلی نے کچھ اس انداز سے مارا کہ پاس سے تو کم از کم ہمیں یہی لگا کہ وہ دو منٹ تک انار کلی کا میک اپ سے تمتماتا ہُوا رُخسار سہلاتے رہے۔

    پانچوں اُنگلیوں پرگال کے نشان بن گئے تھے!

    اکبر :شیخو! انار کلی کا سر تیرے قدموں پر ہے، مگراس کی نظرتاج پر ہے۔

    سلیم: محبت اندھی ہوتی ہے،عالم پناہ!

    اکبر : مگراس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت بھی اندھی ہوتی ہے!

    سلیم : لیکن انار کلی عورت نہیں،لڑکی ہے،عالم پناہ!

    اکبر: (آستین اور تیوَری چڑھا کر) اے خاندانِ تیمُوریا کی آخری نشانی! اے نا خلف، مگر(کلیجہ پکڑ کے) اکلوتے فرزند! یاد رکھ میں تیراباپ بھی ہوں اور والد بھی!

    اس ڈرامائی انکشاف کو نئی نسل کی آگاہی کے لئے ریکارڈ از بس ضروری تھا۔ لہذا ہم کیمرے میں ‘‘فلیش گن’’ فٹ کر کے آگے بڑھے۔ یہ احساس ہمیں بہت بعد میں ہوا کہ جتنی دیر ہم فوکس کرتے رہے، مہابلی اپنا شاہی فریضہ یعنی ڈانٹ ڈپٹ چھوڑ چھاڑ سانس روکے کھڑے رہے۔ وہ جو یکلخت خاموش ہوئے تو پچھلی نشستوں سے طرح طرح کی آوازیں آنے لگیں:

    ‘‘ابے! ڈائلاگ بھول گیا کیا؟’’

    ‘‘طمانچہ مار کے بیہوش ہو گیا ہے!’’

    ‘‘مہابلی! منھ سے بولو۔’’

    اگلے سین میں فلمی تکنیک کے مطابق ایک‘‘فلیش بیک’’تھا۔مہابلی کی جوانی تھی اوران کی مُونچھوں پر ابھی پاؤڈر نہیں بُرکا گیا تھا۔ باغی اعظم، ہیمُو بُقال(تماشائیوں کی طرف منہ کر کے) سجدے میں پڑا تھا۔اورحضرت ظِلّ سُبحانی تلوار سونتے بھُٹا سا اُس کا سر اُڑانے جا رہے تھے۔ ہم بھی فوٹو کھینچنے لپکے۔ لیکن فٹ لائٹس سے کوئی پانچ گز دور ہو ں گے کہ پیچھے سے آواز آئی۔۔۔۔۔۔بیٹھ جاؤ،یوسف کا رش! اور اس کے فوراً بعد ایک نامہرباں ہاتھ نے بڑی بے دردی سے پیچھے کوٹ پکڑ کے کھینچا۔ پلٹ کے دیکھا تو مرزا نکلے۔ بولے‘‘ارے صاحب!ٹھیک سے قتل تو کر لینے دو۔ ورنہ سالا اٹھ کے بھاگ جائے گا اور پھر علم بغاوت بلند کرے گا!’’

    دوسرے ایکٹ میں کوئی قابل ذکر واقعہ یعنی قتل نہیں ہوا۔ پانچوں مناظر میں شہزادہ سلیم،انار کلی کو اِس طرح حالِ دل سُناتا رہا، گویا اِملا لکھوا رہا ہے۔ تیسرے ایکٹ میں صبغے،ہمارا مطلب ہے ظِلّ سبحانی،شاہی پیچوان کی گزوں لمبی ربر کی نےَ (جس سے دن میں جم خانہ کے لان کو پانی دیا گیا تھا) ہاتھ میں تھامے انار کلی پر برس رہے تھے اور ہم حاضرین کی ہوٹنگ کی ڈر سے ‘‘ونگ’’میں دبکے ہوئے اس سین کو فِلما رہے تھے کہ سامنے کی‘‘ونگ’’سے ایک شیرخوار اسٹیج پرگھٹنیوں چلتا ہوا آیا اور گلا پھاڑ پھاڑ کے رونے لگا۔بآبخر مامتا،عشق اوراداکاری پرغالب آئی اور اِس عفِیفہ نے تختِ شاہی کی اوٹ میں حاضرین سے پیٹھ کر کے اس کا منھ قدرتی غذا سے بند کیا۔ادھرمہابلی خُون کے سے گھونّٹ پیتے رہے۔ ہم نے بڑھ کر پردہ گرایا۔

    آخری ایکٹ کے آخری سین میں اکبراعظم کا جنازہ بینڈ باجے کے ساتھ بڑے دھوم دھڑکّے سے نکلا۔ جسے فلمانے کے بعد ہم گرین روم میں گئے اور صبغے کو مبارک باددی کہ اس سے بہتر مردے کا پارٹ آج تک ہماری نظر سے نہیں گزرا۔انہوں نے بطور شکریہ کورے کفن سے ہاتھ نکال کر ہم سے مصافحہ کیا۔ ہم نے کہا صبغے! اور تو جو کچھ ہوا،سو ہوا،مگراکبرکوہِ نور ہیرا کب لگاتا تھا؟ جبھی تو ہم نے نقلی کوہ نور لگایا تھا!

    ‘‘ڈویلپر’’کو برف سے 70 ڈگری ٹھنڈا کرکے ہم نے راتوں رات فلم ڈیولپ کی۔اوردوسرے دن حسب وعدہ تصویروں کے پروف دِکھانے جم خانہ پہنچے۔ گھڑی ہم نے آج تک نہیں رکھیّ۔ اندازاً رات کے گیارہ بج رہے ہو ں گے۔ اس لئے کے ابھی تو ڈنر کی میزیں سجائی جا رہی تھی، اور ان کو زینت بخشنے والے ممبران ‘‘رین بورم’’(بار)میں اُونچے اُونچے اسٹولوں پر ٹنگے نہ جانے کب سے ہماری راہ دیکھ رہے تھے۔ جیسے ہی ممبران ہمارے جامِ صحّت کی آخری بُوند نوش کر چُکے،ہم نے اپنے چرمی بیگ سے ‘‘رش پرنٹ’’نکال کر دکھائے۔۔۔۔۔۔ اورصاحب! وہ تو خدا نے بڑا فضل کیا کہ ان میں سے ایک بھی کھڑے ہونے کے قابل نہ تھا۔ ورنہ ہر ممبر،کیا مرد، کیا عورت، آج ہمارے قتل میں ماخوذ ہوتا۔

    ظِلّ سبا نی نے فرمایا، ہم نے انارکلی کو اس کی بے راہ روی پر ڈانٹتے وقت آنکھ نہیں ماری تھی۔ شہزادہ سلیم اپنا فوٹو ملاحہ۔ فرما کر کہنے لگے کہ یہ تو نگیٹو ہے! شیخ ابوالفضل نے کہا، نور جہاں، بیوۂ شیر افگن، تصویر میں سر تا پا مرد افگن نظر آتی ہے۔ راجہ مان سنگھ کڑک کر بولے کہ ہمارے آب رواں کے انگرکھے میں ٹوڈرمل کی پسلیاں کیسے نظرآرہی ہیں؟مُاّا دو پیازہ نے پوچھا، یہ میرے ہاتھ میں دس اُنگلیاں کیوں لگا دیں آپ نے؟ ہم نے کہا،آپ ہِل جو گئے تھے۔بولے، بالکل غلط ۔خود آپ کا ہاتھ ہل رہا تھا۔ بلہی میں نے ہاتھ سے آپ کو اشارہ بھی کیا تھا کہ کیمرہ مضبُوطی سے پکڑیے۔ انارکلی کی والدہ کہ بڑے کلّے ٹھلّے کی عَورت ہیں، تُکَھ کر بولیں، اللہ نہ کرے، میری چاند سی بنّو ایسی ہو(ان کی بنوں کے چہرے کو اگر واقعی چاند سے تشبیہ دی جاسکتی تھی،تو یہ وہ چاند تھا،جس میں بُڑھیا بیٹھی چرخا کاتتی نظر آتی ہے۔) مختصر یہ کہ ہر شخص شاکی، ہر شخص خفا۔ اکبرِ اعظم کے نَورتن تو نَورتن،خواجہ سرا تک ہمارے خُون کے پیاسے ہو رہے تھے۔

    پَیدا ہونا پَیسہ کمانے کی صُورت کا

    ہم سے جم خانہ چھوٹ گیا۔اوروں سے کیا گلا، صبغے تک کھنّچے کھنّچے رہنے لگے۔ہم نے بھی سوچا،چلو تم روٹھے، ہم چھوٹے۔ واحسر تاکہ ان کی خفگی اور ہماری فراغت چند روزہ ثابت ہوئی۔ کیوں کہ دس پندرہ دن بعد انہوں نے اپنے فلیٹ واقع چھٹی منزل پر ‘‘صبغے ایڈور ٹائزرز(پاکستان) پرائیویٹ لمٹیڈ’’کا شوخ سا سائن بورڈ لگادیا، جسے اگر بیچ سڑک پر لیٹ کر دیکھا جاتا تو صاف نظرآتا۔ دوسرا نیک کام انہوں نے یہ کیا کہ ہمیں ایک نئے صابن ‘‘اسکینڈل سوپ’’کے اشتہار کے لئے تصویر کھینچنے پر کمیشن (مامُور)کیا۔عجب اتفاق ہے کہ ہم خود کچھ عرصے سے بڑی شِدّت سے محسوس کر رہے تھے کہ ہمارے ہاں عورت،عبادت اور شراب کو اب تک کلوروفارم کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔یعنی درد ازیت کا احساس مٹانے کے لئے، نہ کہ سرور وانبساط کے خاطر۔ اسی احساس کو سن کر دینے والی پنک کی تلاش میں تھکے ہارے فنون لطیفہ تک پہنچتے ہیں۔ اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی عیاشی کو ذریعئہ مااش نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ پہلی ہی بولی پر ہم نے اپنی متاع ہنر سے پیچھا چھڑانےکا فیصلہ کر لیا۔ پھرمعاوضہ بھی معقول تھا۔ یعنی ڈھائی ہزار روپے۔ جس میں سے تین روپیے نقد انہوں نے ہمیں اسی وقت ادا کر دیئے۔ اوراسی رقم سے ہم نے گیورٹ کی 27 ڈگری کی سست رفتار فلم خریدی،جو جلد کے نکھار اور نرمی کو اپنے اندر دھیرے دھیرے سمو لیتی ہے۔‘‘چہرہ’’مایّ کرنے کی ذمہ داری اسکینڈل سوپ بنانے والوں کے سر تھی۔ تصویرکی پہلی اورآخری شرط یہ تھی کہ ‘‘سیکسی’’ہو۔اس مقصدِ جمیل کے لئے جس خاتون کی خدمت پیش کی گئیں، وہ برقعے میں نہایت بھی معلوم ہوتی تھیں۔ برقعہ اترنے کے بعد کھلا کہ

    خُوب تھا پردہ،نہایت مت کے کی بات تھی

    سیکس اپیل تو ایک طرف رہی،اس دُکھیا کے تو منہ میں مکھن بھی نہیں پگھل سکتا تھا۔البتہ دوسری ‘ماڈل’ کا با کفایت لباس اپنے ممروات کو چھپانے سے بوجُوہ قاصرتھا۔ ہم نے چند رنگین ‘‘شاٹ’’ تیکھے تیکھے زاویوں سے لئے اور تین چار دن بعد مرزا کو پروجیکٹر سے TRANSPARENCIES دکھائیں۔ کوڈک کے رنگ دہک رہے تھے۔ سرکش خطوط پکار پکارکراعلانِ جنس کر رہے تھے۔ ہم نے اس پہلو پر توجہ دلائی تو ارشاد ہوا، یہ اعلانِ جنس ہے یا کپڑے کی صنعت کے خلاف اعلان جنگ؟

    تیسری ‘‘سیٹنگ’’(نشست) سے دس منٹ پیشترمرزا حسب وعدہ ہماری کمک پرآ گئے۔سوچا تھا، کچھ نہیں تو دسراتھ رہےگی۔ پھر مرزا کا تجربہ، بسبب ان طبع زاد غلیو،ں کے،جو وہ کرتے رہے ہیں، ہم سے کہیں زیادہ وسیع گوناگوں ہے۔ لیکن انہوں نے تو آتے ہی آفت مچا دی۔ اصل میں وہ اپنے نئے ‘‘رول’’(ہمارے فنیّ مُشیر) میں پھُولے نہیں سما رہے تھے۔اب سمجھ میں آیا کہ نیا نوکر دوڑکر ہرن کے سینگ کیوں اکھاڑتا ہے اوراگر ہرن بھی نیا ہو تو

    اَسدُالہت خاں قیامت ہے!

    ویسے بھی میک اپ وغیرہ کے بارے میں وہ کچھ تباّ ت رکھتے ہیں، جنہیں اس وقت ‘ماڈل’ کے چہرے پر تھوپنا چاہتے تھے (مثلاً کالی عورتوں کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ انہیں سفید سرمہ لگانا چاہیے۔ ادھیڑ مرد کے دانت بہت اجلے نہیں ہونے چاہئیں، ورنہ لوگ سمجھیں گے کی مسنوعی ہںی۔ علیٰ ہٰذالقیاس)۔ بولے، لپ سٹک پر ویسلین لگواؤ۔ اس سے ہونٹ VOLUPTUOUS معلوم ہونے لگیں گے۔ آج کل کے مرد ابھرے ابھرے گُرداسے ہونٹ پہ مرتے ہیں۔ اور ہاں یہ پھٹیچر عینک اتار کے تصویر لو۔ ہم نے رفع شر کے لئے فوراً عینک اتار دی۔ بولے، صاحب! اپنی نہیں اس کی۔ بعد ازاں ارشاد ہوا، فوٹو کے لےی نئی اور چمکیلی ساری قطعی موزوں نہیں۔ خیر۔ مگر کم از کم سینڈل تو اتاروا دو۔ پرانا پرانا لگتا ہے۔ ہم نے کہا، تصویر چہرے کی لی جا رہی ہے، نہ کہ پیروں کی۔ بولے، اپنی ٹانگ نہ اڑاؤ۔ جیسے استاد کہتا ہے وہی کرو۔ ہم نے بیگم کا شیمپین کے رنگ کا نیا سینڈل لا کر دیا۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ اسے پہن کر اس کے‘‘ایکسپریشن’’میں ایک خاص تمکنت آ گئی۔ بولے، صاحب! یہ تو جوتا ہے۔ اگر کسی کے بنیان میں چھدی ہو تو اس کا اثر بھی چہرے کے ایکسپریشن سے پر پڑتا ہے۔ یہ نُکتہ بیان کر کے وہ ہمارے چِہرے کی طرف دیکھنے لگے۔

    آنکھیں میری باقی اُن کا

    ایڑی سے چوٹی تک اصلاح حُسن کرنے کے بعد اُسے سامنے کھڑا کیا اور وہ پیاری پیاری نظروں سے کیمرے کو دیکھنے لگی تو مرزا پھر بِین بجانے لگے ‘‘صاحب! یہ فرنّٹ پوز،یہ دوکانوں بیچ ایک ناک والا پوز صِرف پاس پورٹ میں چلتا ہے۔ آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کی گردن لمبی ہےاورناک کا کٹ یونانی۔ چہرہ صاف کہہ دیتا ہے کہ میں صرف پروفائل کےلئے بنایا گیا ہوں۔’’ہم نے کہا ‘‘اچھا،بابا! پروفائل ہی سہی۔’’

    اِس تکنیکی سمجھوتے کے بعد ہم نے تُرت پھُرت کیمرے میں ‘‘کلوزاپ لینس’’فٹ کیا۔ؤسرمئی پردے کو دو قدم پیچھے کھسکایا۔سامنے ایک سبز کانٹے دار ‘‘کیکٹس’’رکھّااوراس پر پانچ سو واٹ کی سپاٹ لائٹ ڈالی۔ اس کی اوٹ میں گُلِ رُخسار۔ ہلکا سا آؤٹ آف فوکس تاکہ خطوط اور ملائیم ہو جائیں۔ وہ دسویں دفعہ تن کر کھڑی ہوئی۔ سینہ بفلک کشیدہ، نچلا ہونٹ صوفیہ لارین کی طرح آگے کو نکالے۔ آنوھسں میں‘‘ادھردیکھو میری آنکھوں میں کیا ہے’’ والی کیفیت لےت۔ اور میٹھی میٹھی روشنی میں بل کھاتے ہوئے خطوط پھر گیت گانے لگے۔رنگ پھر کُوکنے لگے۔ آخری بار ہم نے دیدبان سے،اور مرزا نے کپڑوں سے پار ہوتی ہوئی نظر سے دیکھا۔ مُسکراتی ہوئی تصویر لینے کی غرض سے ہم نے ماڈل کو آخری پیشہ وارانہ ہدایت دی کہ جب ہم بٹن دبانے لگیں تو تم ہولے ہولے کہتی رہنا:

    چیز، چیز، چیز، چیز۔

    یہ سننا تھا کہ مرزا نے ہمارا ہاتھ پکڑ لیا اور اسی طرح برآمدے میں لے گئے۔بولے،کتنے فاقوں میں سیکھی ہے یہ ٹرک؟ کیا ریڑ ماری ہے، مسکراہٹ کی! صاحب! ہر چہرہ ہنسنے کے لئے نہیں بنایا گیا! خصوصاً مشرقی چہرہ۔ کم از کم یہ چہرہ! ہم نے کہا،جناب!عورت کے چہرے پر مشرق مغرب بتانے والا قطب نما تھوڑا ہی لگا ہوتا ہے۔ یہ تو لڑکی ہے۔ بدھ تک ہونٹ مسکراہٹ سے خم ہیں۔ لنکا میں ناریل اور پام کے درختوں سے گھری ہوئی ایک نیلی جھیل ہے، جس کے بارے میں یہ روایت چلی آتی ہے کہ اس کے پانی میں ایک دفعہ گوتم بدھ اپنا چہرہ دیکھ کر یونہی مسکرا دیا تھا۔ اب ٹھیک اسی جگہ ایک خوبصورت مندر ہے جو اس مسکراہٹ کی یاد میں بنایا گیا ہے۔ مرزا نے وہیں بات پکڑ لی۔ بولے، صاحب! گوتم بدھ کی مسکراہٹ اور ہے، مونالزا کی اور! بدھ اپنے آپ پر مسکرایا تھا۔ مونالزا دوسروں پر مسکراتی ہے۔ شاید اپنے شوہر کی سادہ لوحی پر! بدھ کی مورتیاں دیکھو۔ مسکراتے ہوئے اس کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں۔ مونالزا کی کھلی ہوئی۔ مونالزا ہونٹوں سے مسکراتی ہے۔ اس کا چہرہ نہیں ہنستا۔ اس کی آنکھیں نہیں ہنس سکتیں۔ اس کے بر عکس اجنتا کی عورت کو دیکھو۔اس کے لب بند ہیں۔ مگر خطوط کھُل کھیلتے ہیں۔ وہ اپنے سموچے بدن سے مسکرانا جانتی ہے۔ ہونٹوں کی کلی ذرا نہیں کھلتی، پھر بھی اس کا ہرا بھرا بدن، اس کا انگ انگ مسکرا اٹھتا ہے۔ ہم نے کہا، مرزا! اس میں اجنتا ایلورا کا اجارہ نہیں۔ بدن تو مارلن منرو کا بھی کھلکھلاتا تھا! بولے کون مسخرا کہتا ہے؟ وہ غریب عمر بھرہنسی اور ہنسنا نہ آیا۔ صاحب! ہنسنا نہ آیا، اس لئے کہ وہ جنم جنم کی نندا سی تھی۔ اس کا روان رواں بلا دے دیتا رہا۔ اس کا سارا وجود، ایک ایک پور، ایک ایک مسام

    انتظار صید میں اک دیدۂ بے خواب تھا

    وہ اپنے چھتنار بدن، اپنے سارے بدن سے آنکھ مارتی تھی۔ مگر ہنسی؟ اس کی ہنسی ایک لذت بھری سِسکی سے کبھی آگے نہ بڑھ سکی۔ اچھا۔آؤ۔ اب میں تمہیں بتاؤں کہ ہنسنے والیاں کیسے ہنسا کرتی ہی:-

    جات ہتی اِک نار اکیلی، سو بِیچ بازار بھیو مجرائے

    آپ ہنسی،کچھونین ہنسے ، کچُھو نینن بِیچ ہنسو کجرائے

    ہارکے بیچ ہمیل ہنسی، بازوبندن بیچ ہنسو گجرائے

    بھویں مرورکےایسی ہنسی جیسےچندرکوداب چلوبدرائے

    مرزا برج بھاشا کی اس چوپائی کا انگریزی میں ترجمہ کرنے لگے اور ہم کان لٹکائے سنتے رہے۔ لیکن ابھی وہ تیسرے مصراعہ کا خُون نہیں کر پائے تھے کہ صِبغے کے صبر وضبط کا پَیمانہ چھلک گیا۔ کیونکہ‘ماڈل’سو روپے فی گھنٹہ کے حساب سے آئی تھی اور ڈیڑھ سو روپے گُزر جانے کے با وجود ابھی پہلی کِلک کی نوبت نہیں آئی تھی۔

    توھیریں کیسی آئیں؟ تین کم ڈھائی ہزار روپے وصُول ہوئے یا نہیں؟اشتہارکہاں چھپا؟ لڑکی کا فون نمبر کیا ہے؟ا سکنڈل سوپ فیکٹری کب نیلام ہوئی؟ ان تمام سوالات کا جواب،ہم انشااللہ،بہت جلد بذریعہ مضمون دیں گے۔ سردست قارئین کو یہ معلُوم کر کے مَرّنت ہو گی کہ مرزا کے جس پالے پوسے کیکٹس کو ہم نے رُخِ رَوشن کے آگے رکّھا تھا،اُسے فروری میں پھُولوں کی نمائِش میں پہلا انعام ملا۔

    (جولائی-1964-)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY