گواہ

MORE BYرشید احمد صدیقی

    گواہ قرب قیامت کی دلیل ہے۔ عدالت سے قیامت تک جس سے مفر نہیں وہ گواہ ہے۔ عدالت مختصر نمونہ قیامت ہے اور قیامت وسیع پیمانے پر نمونہ عدالت۔ فرق صرف یہ ہے کہ عدالت کے گواہ انسان ہوتے ہیں اور قیامت کے گواہ انسانی کمزوریاں یا فرشتے۔

    بہرحال عدالت کو قیامت اور قیامت کو عدالت کی جو شان امتیاز حاصل ہے، وہ تمام تر گواہوں کے دم سے ہے۔ جیسا کہ سنتے ہیں آرٹ کی نمود عورت کی نمائش سے ہے۔ گواہ عینی ہو یا سماعی، روایتی ہو یا پیشےور، ہر حال میں گواہ ہے، اسلئے ہر حال میں خطرناک گواہ جھوٹا ہو یا سچا عدالت کے لیے اسکا وجود اتنا ہی ناگزیر ہے جتنا برطانوی اقتدار کے آئی۔سی۔ایس کا وجود، جس طرح عدالت کی کمزوری گواہ ہے اسی طرح برطانیہ کی کمزوری آئی۔سی۔ایس

    غالب نے انسان کو ’’محشر خیال‘‘ قرار دیا ہے۔ اسکے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ یہ شاید کسی گواہ ہی کے تصور سے ہوگا جسکے بیان پر غالب کو اپنے عہد شاعری کا کچھ حصہ جیل خانے میں گزارنا پڑا تھا۔ ایک گواہ کے تصور کے ساتھ ہمارے ذہن سے کتنے حالات اور حوادث گزر جاتے ہیں۔ پولس، گاؤں، تھانہ، حوالات، کچہری، جیل خانہ، جسکے مجموعے کا نام باغیوں نے ’’ہندوستان‘‘ اور وفا شعاروں نے ’’حکومت‘‘ رکھا ہے۔

    اصول یہ رکھا گیا ہے کہ ہر انسان پیدائشی جھوٹا ہے اور ہر گواہ اصولاً سچا، کوئی واقعہ کیوں نہ ہو۔ جب تک کوئی گواہ نہ ہو اسکا عدم یا وجود یکساں ہے، لیکن اسکے ساتھ یہ بھی ناممکن ہے کہ اصولاً یا قانوناً واقعہ متعلقہ کا کوئی گواہ نہ ہو لیکن جس طرح فترت خلا محض متنفر ہے، اسی طور پر زابطہ فوجداری سے متعلق جتنے حالات یا حوادث ہو سکتے ہیں انکو بھی ’’تنہائی محض‘‘ سے متنفر ہے۔ جس طرح ہر خلا کو پر کرنے کے لیے ہوا یا اسکے بعض متعلقات دوڑ پڑتے ہیں اسی طرح ہر موقعہ واردات پر پولس اور اسکے گواہوں کا پہنچ جانا بھی لازمی ہے۔ اس تگ و تاز میں اکثر ’’واردات‘‘ سے پہلے گواہ پہنچ جاتے ہیں، ٹھیک اسی طور پر جس طور پر کہ اکثر پولس واردات کے بعد پہنچنا زیادہ بہتر سمجھتی ہے۔ قومی تنزلی کی مانند گواہ بھی ہر جگہ پھیلا ہوا ہے، لیکن جس طور پر قومی تنزل کے دریافت یا اکتشاف کے لیے ایک لیڈر کی ضرورت ہے اسی طور پر گواہ پیدا کرنے کی ایک تھانیدار یا وکیل کی ضررت ہے۔

    جس طرح مولوی وعظ کہنے سے پہلے ’’کلوا و اشربو‘‘ کے مسئلے پر غور کرتا ہے، اسی طرح ایک تھانیدار یا وکیل کسی واقعہ یا حادثے کی تفتیش شروع کرنے سے پہلے گواہ کے ملنے یا نہ ملنے کے امکان پر غور کرنے لگتا ہے۔ گواہ کا ملنا یا پیدا کرنا نہایت آسان ہے، اتنا ہی آسان جتنا بعض حضرات کے لیے اولاد پیدا کرنا لیکن اولاد کی پرورش اور نگہداشت کی مانند گواہ کا نباہ اور رکھ رکھاؤ بھی کافی مشکل اور ذمہ داری کا کام ہے۔ کھانا پینا، کپڑا لتا، تعلیم و تربیت دونوں کے لیے از بس لازمی ہے۔

    کوئی واقعہ بجائے خود کوئی اہمیت نہیں رکھتا، اسکی تمام تر حیثیت گواہ پر ہے۔ ایک گواہ ڈکیتی کو صرف سرکا میں تبدیل کرا سکتا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح بے حیائی کو آرٹ میں منتقل کی جا سکتی ہے۔ ضرورت صرف اسکی ہے کہ مدعی مکتدر ہو اور حاکم عدالت اعلانات نوروز یا سالگرہ کا منتظر یا اگر آرٹ کا مسئلہ ہے تو پھر بیوی روشن خیال ہو اور میاں تہذیب یافتہ۔

    جنگ یورپ کے زمانہ وزراء حرب یا دول متحارب کا مقولہ تھا کہ ’’آدمی اور سامان فراہم کر دو ہم فریق مخالف کی دھجیاں بکھیر دینگے۔‘‘ انکے مورث اعلیٰ ایک بزرگ آرشمیدش گزرے ہیں جن کا مقولہ تھا کہ مجھے ’’مرکز توازن‘‘ مل جائے تو تخت عرض الٹ دوں لیکن ان سب کے وارث آخری یا استاد اولیں پولس والوں کا دعویٰ ہے کہ ہم کو گواہ ملنے چاہئیں، پھر ہندوستان میں کوکین فروش ملیں گے اور نہ نان کوآپریٹر۔ ہر بلندی پر ’’یونین جیک‘‘ ہوگا اور ہر پستی پر ’’سلام علیک۔‘‘

    ہر فعل کے حسن وقبح کا مدار زمانہ حال کے معیار کے مطابق کرنے والے کے ستوت اقتدار پر منحصر ہے۔ ایک مقتدر شخص ایک بادشاہ کی مانند کسی جرم کا مرتکب نہیں ہو سکتا۔ شاید اسکا سبب صرف یہ ہو کہ اس پر جرم ثابت کرنے کے لیے گواہ نہیں مل سکتے لیکن بفرض محال ایسا ممکن بھی ہوا تو پھر اسی جرم کا مرتکب نہیں بلکہ آرٹ کا محسن و مفسر قرار دینگے۔ صرف گواہوں کی نوعیت بدل جائیگی۔ اکثر پولس کا کسی کو چالان کر دینا ہی ثبوت جرم کے لیے کافی ہے۔ اکثر ہندوستانی عدالت پولس کو وحی حیثیت دینے پر آمادہ ہوتی ہے جو حیثیت آئی۔سی۔ایس کو برطانوی حکومت تفویض کر چکی ہے یعنی دونوں عیب و کمزوریوں سے بالا و برتر ہیں۔

    ہندوستانی افلاس و امراض کی مانند ہندوستانی گواہ بھی دنیا میں منفرد ہے۔ اگر اس صورتحال پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ فی الحقیقت ہندوستانی گواہ کوئی دوسری چیز نہیں ہے بلکہ جس طور پر انگریزی اقتدار اور انگریزی تجارت ایک ہی چیز ہے اسی طور پر ہندوستانی گواہ ہندوستانی افلاس اور امراض بھی ایک ہی چیز ہے جس طور پر ہر یورپین پیدائشی فاتح ہے اسی طور پر ہر ہندوستانی پیدائشی سرکاری گواہ ہوتا ہے، ضرورت صرف اسکی ہے کہ بال بچوں کے بھوکے مرنے یا پولس والوں کی انتظامی دراز دستیوں کا نقشہ اسکے سامنے کھینچ دیا جائے۔ سرکاری گواہ اس منصف کی ہے جو ہر قسم کے قبہ اور متعفن خیالات کا اظہار کرتا ہے اور محض اس بنا پر قابل مواخذہ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ قابل تحسین سمجھا جاتا ہے کہ اس نے آرٹ کی ترجمانی کی یا ہندوستان اور ہندوستانیوں کی توہین۔

    لیکن جس طور پر ہندوستان پر حکمرانی کرنے کے لیے صرف ایک قوم بنائی گئی ہے، اسی طور پر گواہ بننے کی صلاحیت بھی صرف ایک طبقے میں خصوصیت کے ساتھ پائی جاتی ہے یعنی پٹواری جسکو گاؤں کا آئی۔سی۔ایس کہنا بھی بےمحل نہیں ہے، فرق صرف یہ ہے کہ پہلا کھاتا ہے اور گراتا ہے اور دوسرا صرف کھاتا ہے اور لکھتا جاتا ہے۔ پٹواری کو گاؤں میں وحی حیثیت حاصل ہے جو وکیلوں کی عدالت میں یا مجرموں کی آفس میں ہوتی ہے یعنی یہ جو چاہیں کر سکتے ہیں، بشرطہ کہ یہ جو چاہیں انہیں ملتا بھی جائے۔

    گواہ کی حیثیت سے ایک پٹواری کی حیثیت کسی طرح نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ جس طور پر بادشاہ سے کوئی جرم نہیں سرزد ہو سکتا اسی طور پر ایک پٹواری کی توہین نہیں ہو سکتی۔ پٹواری اسے خوب سمجھتا ہے، اور اسکے بعد اس حقیقت کو صرف ایک قومی لیڈر ہی سمجھ سکا ہے کہ جب تک حلوہ مانڈا ملتا جائے اس وقت تک توہین اور توقیر دونوں بے معنی الفاظ ہیں۔ جس طور پر ہندوستانی شادی اور اولاد ناگزیر سمجھتا ہے، اسی طرح ایک پٹواری اس امر کا قائل نہیں ہے کہ کسی نہ کسی وقت اسکو گواہی دینی پڑے گی۔ اسلئے وہ اپنے گندے بستے کے رجسٹروں میں ایسے اندراجات کرتا جاتا ہے ’’جو بوقت ضرورت کام آئیں۔‘‘ اس کے اندراجات صوفیانہ کلام کے مانند ایسے ہوتے ہیں جن کی تعبیر جس طرح چاہے کر لی جائے ہر حال میں مفید مطلب ہے۔

    لالہ چرونجی لعل ایک گاؤں کے پٹواری اور گنگا دین ایک غریب کسان تھا۔ ایک مقدمے میں گنگا دین کو لالہ جی کی گواہی کی ضرورت پیش آئی۔ گنگا دین کی ملکیت ایک بوسیدہ چھپر تھا جسکی سیاہی اور فلاکتزدگی کی پردہ پوشی کاشی پھل اور کدو کی ہری ہری بیل، اور زرد و سفید پھول تھی اور صبح کی نئی نرم نرم کرنیں، چھپر کی پشت پر ارہر کا کھیت تھا اور سامنے گاجر گوبھی کی متعدد کیاریاں، ایک طرف اپلوں کا منڈپ تھا اور دوسری طرف کھاد اور کوڑے کرکٹ کا ایک گڈھا ، گاؤں کا زمیندار کسانوں پر اتنا ہی جری تھا جتنا لالہ چرونجی لالہ سے خائف۔ گنگا دین کے پاس چند مویشیاں بھی تھیں جن میں اسکے گائے بیل، اور بیوی بچہ بھی شامل تھے۔

    جہاں تک ہندوستانی کسانوں کا تعلق ہے یہ تمیز کرنا مشکل ہے کہ اسکے بال بچہ، مویشیاں ہیں یا مویشیاں بال بچہ۔ جب سے مقدمہ شروع ہوا تھا گنگا دین کی اپنی تمام آراضی، مقبوضات لالہ جی کے لیے وقف تھیں۔ ترکاری اور دودھ دہی لالہ جی کی مطبخ میں جاتی تھیں، گنگا دین چلم بھرتا تھا، بیوی للائن کی خدمت گزار تھیں اور گنگا دین کے لڑکے لڑکیاں لالہ جی کے بچوں کو کھلاتے تھے۔ یوں تو ہر پٹواری عدالت کا کیڑا ہوتا ہے جب تک وہ عدالت کی زیارت نہ کرلے اس کی زندگی بے کیف رہتی ہے لیکن گنگا دین کے مقدمے میں لالہ جی قطعاً بے نیاز معلوم ہوتے تھے۔ گنگا دین جب کبھی اس مسئلے کو چھیڑتا تو کہتے، بھائی دن برے ہیں اور تھانہ عدالت سے دور ہی رہنا اچھا ہے۔ پتا جی کا حال تو معلوم ہے، سچی بات پر جیل خانہ کاٹنا پڑا، کوئی سسرا آڑے نہ آیا۔ گنگا دین لالہ جی کے قدم پکڑ لیتا اور دبانا شروع کرتا۔ لالہ جی بھی پاؤں ڈھیلا رکھتے لیکن زبان سے ’’ہائیں ہائیں‘‘ کرتے جس طور پر ڈاکٹر یا وکیل جیب ڈھیلی کرتا جاتا ہے اور زبان سے اکثر مصنوعی اخلاق سے کہتا رہتا ہے، ’’ارے رے یہ آپ کیا کرتے ہیں۔”اصل یہ ہے کہ لالہ جی کی نگاہیں گنگوا کی چھپر اور کھیت پر تھیں اور گنگوا کی اپنی بیوی بچوں پر۔ بالآخر لالہ جی کی فتح ہوئی اور گنگوا دستاویزی غلام ہوا۔ مقدمے کی تاریخ آئی اور لالہ جی اور گنگا دین عدالت کی طرف روانا ہوئے۔

    عدالت کا راستہ شہر سے گزرتا تھا۔ اب لالہ جی کے قدم سست پڑنے لگے تھے۔ سامنے جوتے والے کی دوکان نظر آئی، لالہ جی کھڑے ہو گئے۔ فرمایا جوتا پرانا ہو گیا، ایک قدم چلنا دوبھر ہے۔ مہنگے سمے میں روز روز آنا تھوڑے ہی ہوتا ہے۔ گنگوا سمجھ گیا۔ لالہ جی نے جوتا خریدا، گنگوا نے دام دیے، اور دونوں دوست آگے بڑھے۔ ابھی کچھ دور ہی چلے تھے کہ بزازے کی دوکان آئی۔ لالہ جی یک لخت کھڑے ہوگئے اور اس طور پر گویا جوتے میں کنکری آگئی تھی اور اسے نکالنا چاہتے ہیں۔ پھر بولے، بھائی گنگو اس پگڑی کے ساتھ عدالت میں گئے تو حاکم جلاد ہے، کھڑے کھڑے نکال دے گا اور تمہارا سارا کام کھٹائی میں پڑ جائیگا۔ گنگوا گھبرایا، کہنے لگا، لالہ جی دیر ہو رہی ہے، عدالت میں پکار ہوتی ہوگی۔ حرج کیا ہے واپسی میں لے لینا۔

    لالہ جی نے غضبناک ہو کر کہا، خوب کہی، تمہاری کوڑیوں کی خاطر اپنی لاکھ روپے کی عزت تھوڑے ہی خاک میں ملا دینگے۔ جاؤ، ہم نہیں جاتے۔ ڈاکٹر گوکل پرشاد سے سارٹیفکیٹ لکھواکر داخل کر دینگے کہ مسمی لالہ چرونجی لعل کو ہیضہ ہو گیا اسلئے عدالت میں حاضر نہ ہو سکا۔ گنگوا ہیضے کے خوش آیند امکان پر ابھی مسرور بھی نہیں ہوا تھا کہ لالہ چرونجی لعل بزاز کی دوکان کے بورڈ پر اس طور پر لیٹ گئے گویا ہیضہ کے جراثیم کا انتظار کر رہے ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک تھان ململ کا خرید گیا۔

    ابھی کچھ ہی دور گئے تھے کہ حلوائی کی دکان نظر آئی۔ لالہ جی کچھ اس طرح رکے گویا کوئی نہایت اہم چیز یاد آگئی تھی۔ فرمایا، وہ دیکھو، درگا جی کی پرساد لینا بھول گیا تھا۔ کسان عقیدتاً توہم پرست ہوتا ہے جیسے ہم آپ انسان پرست۔ ایک طرف تو اسکی نظر کے سامنے بیوی بچوں کا نقشہ پھر گیا دوسری طرف مقدمے کی کامیابی یا ناکامیابی کا منظر سامنے آیا۔ اسنے کچھ نہیں کہا۔ کچھ غم و غصے سے کچھ عقیدت و مجبوری سے لالہ جی کو سیر بھر جلیبی دلوا دی۔ یہ مرحلہ بھی طے ہوا۔ دو قدم ساتھ ساتھ کچھ دیر تک چلتے رہے۔ گنگوا کو یہ فکر تھی کہ لالہ جی کی سخت گیری کا یہی حال رہا تو دوپہر کے چبینے کے لیے بھی بہ مشکل چند پیسے بچیں گے۔ لالہ جی اس پر غور کر رہے تھے کہ گنگوا کے آخری پیسوں اور انکی حرص کا کیسے سدباب ہونا چاہیئے۔

    معلوم نہیں اب تک گنگوا اپنے مسئلے پر صحت و قطعیت کے ساتھ غور بھی کر چکا تھا یا نہیں۔ لالہ جی کے ذہن رسا نے اپنے مسئلے کو غور و فکر کی کشاکش سے آزاد کر لیا۔ کہنے لگے اس پرواہوا نے ناک میں دم کر رکھا ہے، مہینے بھر سے گٹھیا کا زور ہے، اگر تمہارا بیچ نہ ہوتا تو پرمیشور جانے اس حال میں کبھی گھر دوار نہ چھوڑتا۔ یہ کہتے کہتے انگوچھا بچھا ایک سایہ دار درخت کے نیچے لیٹ کر اس چلم کا انتظار کرنے لگے جو ایک گندہ خوانچہ والا بھر کر پینے والا ہی تھا۔ خوانچے والے نے معزز مہمان کی توجہ کو لڈو، اور مرمروں کی طرف مائل کرنا چاہا۔

    جل کھاوا ہو جائے۔ ذرا دم لے لو۔ اس سمے کہاں چل پڑے۔ گنگوا کا یہ حال کہ بس چلتا تو لالہ جی، خوانچے والے اور خوانچہ سب کو پاس کے کنویں میں جھونک دیتا، لیکن مجبوری وہ بلا ہے جو شاہ و گدا دونوں کے غصہ و غضب کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ کسان نے کہا، لالہ جی، ہم پر دیا کرو سورج دیوتا کہاں آئے، عدالت کب تک پہنچیں گے۔ لالہ جی نے بیرخی کے ساتھ کراہ کر جواب دیا، ’’بھیا اپنی جان کی سیوا نہ کریں تو کون بھڑوا بال بچوں کو پالے گا۔ تم عدالت جاؤ، ہمارا تو پران نکسا جات ہے۔‘‘

    ’’ارے، باپ رے۔‘‘ خوانچہ والا بولا، ’’ارے بھائی کا جی اچھا نہیں ہے، دھیرج دھرو، یہ لو چلم پیو۔ کچھ جل کھاوا ہو جائے، عدالت میں بیان حلفی داخل کر دینا۔‘‘ لالہ جی پکارے، ارے دروغ حلفی میں جیل خانے کاٹے ہوت ہے۔ اس درمیان میں ایک خالی یکہ گزرا۔ خوانچہ والا بولا، ارے بھائی، لالہ جی کو اس میں کیوں نہیں بٹھا لیتا۔ ابھی گنگوا خوانچے والے کو دل ہی دل میں پوری گالیاں بھی نہ دے پایا تھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کھائے جاتا تھا کہ دوسری طرف لالہ جی نے کروٹ بدلی۔ خوانچہ والا بولا، لالہ جی یہ لڈو، اور مرمرے کھاکر ٹھنڈا پانی پی لو۔ عدالت کا معاملہ ہے معلوم نہیں کب کھانے پینے کی نوبت آئے۔لالہ جی نے خوانچہ والے کی فرمائش پوری کی۔ گنگوا چاہتا تھا کہ لالہ جی مرمرے کے بجائے خوانچہ والے ہی کو کھا جاتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ چار و ناچار چند پیسے خوانچہ والے کی نظر کیے اور دونوں احاطۂ عدالت میں پہنچ گئے۔

    لالہ جی کی پکار ہوئی، انہوں نے پگڑی اور بستہ سنبھالا۔ چپراسی گردن میں ہاتھ دیکر ایک دشنام گلوگیر کے ساتھ جھونکا دیا تو لالہ جی گواہوں کے کٹہرے میں داخل تھے۔ شام تک سوال جواب ہوتے رہے۔ لالہ جی نے موافقت میں گواہی دی اور نہ مخالفت میں، اس دوران میں خود عدالت، وکلاء، فریقین، چپراسی، حاضرین، سب نے باری باری لالہ جی کو صلواتیں سنائیں، دھمکی دی، مارنے اور نکلوا دینے پر آمادہ ہوئے۔ جیل خانے بھیج دینے کی بھی بشارت دی گئی لیکن لالہ جی کے سامنے کسی کی پیش نہیں گئی۔

    کچہری برخاست ہوئی، لالہ جی باہر نکلے۔ یکہ والوں کا ہجوم تھا۔ کسی پر ایک سواری تھی، وہ دو اور کی فکر میں تھا۔ کسی پر دو تھیں، وہ ایک کا منتظر تھا۔ اس دارو گیر میں لالہ جی برآمد ہوئے۔ سر پر نئی پگڑی، ایک بغل میں غیر فانی لیکن ہلاکت آفریں بستہ، دوسرے میں آج کا سارا مال غنیمت۔ چاروں طرف سے چابک بدست یکہ والوں نے گھیر لیا۔ ایک نے بستہ چھین اپنے یکہ پر رکھ لیا، دوسرے نے پشتارہٴ غنیمت اپنے قبضہ میں کیا۔ تیسرے نے خود لالہ جی کو پکڑ کر کھینچنا شروع کیا اور کچھ دور تک گھسیٹتا ہوا لے ہی گیا۔ اس رستخیز میں پگڑی نے سر سے مفارقت کی جسے چوتھے یکہ بان نے اپنے یکے پر رکھ لیا۔ یہ سب کچھ چشم زدن میں ہو گیا۔

    اب جو دیکھتے ہیں تو میدان صاف تھا۔ سارے یکے والے چل دیئے تھے اور لالہ جی بیک بینی و دو گوش اس مسئلے پر غور کر رہے تھے کہ دنیا کا آئندہ آشوب کون ہوگا۔ پٹواری یا یکہ بان۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY