غالب اپنے کلام کے آئینے میں

ہری چند اختر

غالب اپنے کلام کے آئینے میں

ہری چند اختر

MORE BYہری چند اختر

     

    ’’تنقید عالیہ‘‘ کا دور دورہ ہے اور تحقیق و تدقیق کی سنگلاخ زمین میں نئے نئے پھول اور پودے اگا کر ویرانوں کو گلزار بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں اس ضمن میں مصنّفوں اور شاعروں کی سوانح حیات، ان کے کلام اور تصانیف سےمرتب کرنے کا شغل عام ہو چکا ہے۔ بعض لوگوں کے خیال میں یہ حنظل سے عطر نکالنے کی کوشش کے مترادف ہے لیکن لکھنے والوں نے کتابیں لکھ ڈالیں اور ہم ابھی اظہار رائے کے گنبد سے باہر نہیں آچکے، 

    یارانِ تیزگام نے محمل کو جالیا
    ہم محوِ نالۂ جرس کارواں رہے

    پس خاک از تودۂ کلاں بردار پر عمل کرتے ہوئے مرزا غالب پر قلم صاف کرتا ہوں۔ ان کے سوانح حیات بعض حضرات بڑی تحقیق و تفتیش کے بعد کتابی صورت میں پیش کرچکے ہیں پھر بھی میرا خیال ہے کہ ان سطور میں جو کچھ مختصراً پیش کیا جارہا ہےاسے پڑھنے کے بعد آپ مصنف کو دعائے مغفرت سے یاد فرمائیں گے۔ 

    غالب کے حالات
    نام: مرزا کا نام تمام تذکرہ نویسوں نے اسداللہ خاں لکھا ہے  چونکہ آپ ایرانی النسل تھے اس لیے اسداللہ اور خاں کےدرمیان بیگ کا لفظ بھی بڑھا دیا جاتا ہے لیکن نئے محققوں نے اس نام کے معاملے کو بھی خاص تحقیقات کا مستحق سمجھا اور بڑی کاوش و تلاش کے بعد ثابت کردکھایا کہ غالب کا نام احمد شاہ ابدالی یا ماؤزے تنگ نہیں بلکہ اسد اللہ خاں تھا۔ ان کے اس انکشاف کی تائید مرزا کے اس شعر سے ہوتی ہے، 

    مارا زمانہ نےاسد اللہ خاں تمھیں
    وہ ولولے کہاں جو جوانی کدھر گئی

    مرزا کا تخلص کئی غزلوں میں اسد ہے اور اکثرمیں غالب۔ اس سے پڑھے لکھے لوگوں کو شک ہوچلا تھا کہ مرزا کادیوان دو مختلف شاعروں کے کلام کا مجموعہ ہے لیکن ہمارے نئے تذکرہ نویسوں نے بزور قلم ثابت کردیا ہے کہ غالب اور اسد دراصل ایک شخص کے دو تخلص ہیں۔ البتہ ان تذکرہ نگاروں کا یہ خیال درست نہیں ہےکہ مرزا پہلے اسد تھے پھر غالب بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا نےآخر تک اسد تخلص  ترک نہیں کیا بلکہ مرنے کے بعد بھی سب سےپہلے شعر اسی تخلص سے کہا۔ فرماتے ہیں، 

    یہ لاش بے کفن اسدخستہ جاں کی ہے
    حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

    پیدائش: نام اور تخلص کا مسئلہ یوں حل ہوگیا لیکن مرزا کے سنہ پیدائش اور عمر کے بارے میں نئے اور پرانے تمام تذکرہ نویسوں نے بری طرح ٹھوکریں  کھائیں ہیں۔ سب نے غالب کا سنہ پیدائش ۱۲۱۲ھ لکھا ہے اور عمر ۷۳ سال لیکن یہ صریحاً غلط ہے۔ مرزا خود کہتے ہیں، 

    فنا تعلیم درس بے خودی ہوں اس زمانے سے
    کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوارِ دبستاں پر

    اس سے ظاہر ہے کہ مرزا نہ صرف قیس عامری کے زمانے میں زندہ تھے بلکہ عمر میں بھی اس سے بڑے تھے کیوں کہ جن دنوں قیس ایک مبتدی چھوکرے کی حیثیت سے مکتب کی دیواروں پر لام الف لا لکھتا تھا اس وقت مرزا صاحب بے خودی کے پروفیسر ہوچکے تھے۔ 

    مجنوں کے زمانہ میں مرزا کی موجودگی کا ایک اور شعر سے بھی ثبوت ملتا ہے، 

    عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
    مجنوں کو برا کہتی ہے لیلیٰ مرے آگے

    ان دونوں شعروں کو ملاکر پڑھیں تو یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ مرزا غالب قیس عامری سے بہت زیادہ خوب صورت تھے۔ پہلا شعر بتاتا ہے کہ آپ مجنوں سے عمر میں بہت بڑے تھے لیکن دوسرا شعر کہہ رہا ہے کہ لیلیٰ جو مجنوں کی محبوبہ ہونے کے علاوہ خود بھی اس پر فریفتہ تھی۔ جب مرزا غالب کے سامنے آئی تو نوجوان مجنوں کو بہت حقیر سمجھنے لگی تھی۔ اور اس حقارت کا کھلے لفظوں میں اظہار کردیتی تھی۔ مرزا نے اگرچہ اسے اپنی معشوق فریبی کا کرشمہ ظاہر کرنا چاہا لیکن یہ ان کی کسر نفسی ہے۔ اگر مرزا مجنوں کے مقابلے میں سچ مچ یوسف نہ ہوتے تو لیلیٰ پر ان کی معشوق فریبی بھی کارگر نہ ہوسکتی۔ 

    والدین: غالب کے باپ کا نام تمام تذکروں میں عبداللہ بیگ درج ہے۔ لیکن مرزا کے کلام سے اس پر کچھ روشنی نہیں پڑتی۔ تاہم مرزا کے باپ کا کچھ نہ کچھ نام ضرور تھا کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ اب سے کئی سو سال پہلے بھی  ہندوستان میں باپوں کے نام ہوا کرتے تھے۔ مثلاً جہانگیر کے والد کا نام جلال الدین اکبر تھا اور ہمایوں کے باپ کا نام ظہیر الدین بابر بادشاہ۔ اس تاریخی انکشاف کے بعد اگر قافیہ کی رعایت سے اسد اللہ کے باپ کا نام عبداللہ تسلیم کرلیا جائے تو میرے خیال میں کوئی قباحت نہیں۔ 

    مرزا کی والدہ ماجدہ کانام کسی کو معلوم نہ ہوسکا لیکن انھوں نے اپنے ایک خط میں شکایت کی ہے کہ ایک شخص نے ان کو بڑھاپے میں ماں کی گالی دی۔ اس سے ثابت ہے کہ غالب کی کم سے کم ایک ماں ضرور تھی۔ 

    تعلیم: معلوم نہیں مرزا نے تعلیم کہاں پائی۔ مجنوں کے زمانہ میں کوئی باقاعدہ اسکول اور کالج تو تھا نہیں۔ صرف ایک دبستان تھا جس کی دیواریں مجنوں نے لام الف لکھ کر سیاہ کرڈالی تھیں۔ اس لیے کسی اور کے لیے وہاں کچھ لکھنے پڑھنے کی گنجائش ہیں نہیں رہی۔ مجنوں سے پہلے غالب نے بھی یہاں کچھ دن گزارے تھے۔ خیال ہے کہ اس مکتب کا نام ’’غم دل‘‘ تھا۔ اس میں آپ داخل تو ہوئے مگر رفت اور بود سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اس مکتب کا ذکر آپ نے اپنے ایک شعر میں واضح طور سے کردیا ہے،

    لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
    لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا

    لیکن اس کے بعد مرزا گھر پر ہی پڑھتے تھے۔ بہرحال یہ ظاہر ہےکہ وہ جاہل نہیں تھے۔ اگر ناخواندہ ہوتے تو شعر کیونکر لکھ سکتے تھے اور اتنی تصانیف کہاں سے آجاتیں؟ آب حیات والے محمد حسین آزادنے بھی صرف بہادرشاہ ظفرکے اشعار کو ذوق کی تصنیف بتایا ہے۔ غالب کے بارے میں اس حسنِ ظن کا اظہار نہیں کیا۔ 

    غالب نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے ہیں، پس وہ تھوری بہت دونوں زبانیں جانتے تھے البتہ اپنی ایک کتاب کا نام ’’عود ہندی‘‘ رکھنے سے ظاہر ہے کہ تحریر و تصنیف میں اردو کو ہندی لکھا کرتے تھے۔ چنانچہ مردم شماری کے وقت انھوں نے اپنی  مادری زبان ہندی لکھوائی تھی۔ 

    پیشہ اور شغل: مرزا کا سب سے بڑا اور مستقل پیشہ تو عاشقی تھا جس کا ثبوت ان کے دیوانوں میں جابجا ملتا ہے۔ دوسرا شغل یہ تھا کہ شعر چن چن کر رسوا ہوتے رہتے تھے، خود مانتے ہیں کہ، 

    شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

    اس کے علاوہ بعض اور اشغال بھی تھے۔ مرزا کوئی ہنرمند آدمی نہیں تھے لیکن اس کے باوجود فلک ناہنجار آپ کی دشمنی پر تل گیا تھا۔ فرماتے ہیں،

    ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
    بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

    البتہ فنِ مصورّی میں کچھ دسترس حاصل کی تھی، ایسا کیوں کیا تھا اس کا جواب خود دیتے ہیں، 

    سیکھے ہیں مہ رخوں  کے لیے ہم مصورّی
    تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

    ایک مدّت تک یہ شیوہ رہا کہ صبح سویرے ضروریات سے فارغ ہوتے ہی کان پر قلم رکھ کر نکل کھڑے ہوتے اور سارا سارا دن بلامعاوضہ لوگوں کے خط لکھتے پھرا کرتے تھے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ  وہ کسی سوشل سروس لیگ کے ممبر بن گئے تھے، مقصد یہ تھا کہ، 

    مگر لکھوائے کوئی ان کو خط تو ہم سے لکھوائے
    ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کرقلم نکلے

    ایک شعر سے پتہ چلتا ہےکہ ابنائے  روزگار کی بے مہریوں سے تنگ آکر گدا گری بھی اختیار کی لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ اس حالت میں بھی عاشقی کو ترک نہیں کیا۔ کہتے ہیں،

    چھوڑی اسدنہ ہم نے گدائی میں دل لگی
    سائل ہوئے تو عاشق اہلِ کرم ہوئے

    لڑکپن کا زمانہ گزرا جوانی آئی، سرخ سرخ اور گرم گرم خون رگوں میں ایک تلاطم پیدا کرنے لگا۔ مرزا سے نہ رہا گیا اور عشق نامی ایک شہ زور حریف پر فتح حاصل کرنے کی ٹھان لی۔ فریقین کیل کانٹے سے لیس ہوکر میدان میں اترے، گھماسان کا رن پڑا مگر افسوس کہ مرزا کے پاؤں پر ایک زخم کاری آگیا اور آپ شکست کھاگئے۔ اس وقت نہایت مایوسی کے عالم میں بے ساختہ پکاراٹھے، 

    ہوئے ہیں پاؤں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی
    نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھیرا جائے ہے مجھ سے

    آپ کا ہتھیار ڈالنا تھا کہ حریف نے آپ کو گرفتار کرلیا اور پابجولاں اپنے قلعہ کی طرف لے گیا۔ تماشائیوں کا ایک بہت بڑا مجمع  ساتھ ہولیا کیوں کہ یہ بات زبان زد خاص و عام ہوچکی تھی کہ مرزا غالب کے وہاں خوب پرزے اڑیں گے۔ اور عین مجمع میں آپ کی رسوائی ہوئی مگر وہاں کچھ بھی نہ ہوا اور تماشائی بے نیلِ مرام یہ کہتے ہوئے واپس لوٹ آئے، 

    تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
    دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

    موثق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حریف نے آپ کو جیل میں قید کردیا۔ مگر قید کا عرصہ معلوم نہیں ہوسکا البتہ جو ظلم آپ سے روا رکھے گئے ان کے متعلق آپ نے ہلکا سااشارہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں،

    بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا
    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ میری زنجیر کا

    یعنی کم بخت حریف نے آپ کے پاؤں کے نیچے آگ تک رکھنے سے دریغ نہیں کیا۔ 

    اس قید سے آپ کو کئی بار ضمانت پر رہا کیا گیا مگر آپ کا دل ہر بار ’’فراغ‘‘ سے دیرینہ دشمنی کا بنا پر کوئی شرارت کردیتا اور مع دل و دماغ دھر لیے جاتے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں، 

    سوبار بند قید سے آزاد ہم ہوئے
    پر کیا کریں کہ دل ہی عدو ہے فراغ کا

    خیال کیا جاتا ہے کہ آخری وقت فراغ سے صلح ہوگئی ہوگی۔

    مختصر حالات: آپ مرزا کے مختصر سوانح حیات سنیے، بخوفِ طوالت صرف چند واقعات کےبیان پر ہی اکتفا کروں گا جو عام محققوں اور تذکرہ نویسوں کی نظر سے اوجھل رہے۔ 

    مرزا کی زندگی اگرچہ عسرت میں گزری تھی لیکن اس کے لیے اللہ میاں ذمہ دار نہ تھے، خود مرزا کو اقرار ہے کہ خدا نے انھیں دونوں جہان دے دیے تھے، سنیے، 

    دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
    یاں آپڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

    سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ دونوں جہاں گئے کہاں؟ جواب مرزا کے اس شعر میں موجود ہے، 

    لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے
    یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

    پس دونوں جہان بھی گھر کے ساتھ ہی لٹا دیے ہوں گے۔ 

    غالب کا گھر نہ صرف ویران تھا بلکہ اس میں ویرانی سی ویرانی تھی۔ چنانچہ، 

    کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
    دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا

    لیکن یہ گھر وسیع نہ تھا اور مرزا کو ورزش کے لیے یا شاید گیند بلاّ کھیلنے کے لیے بہت کھلی جگہ کی ضرورت تھی، اس لیے جنگل میں جارہے تھے فرماتے ہیں،

    کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم
    دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں

    جنگلوں کی زندگی مرزا کو بہت عزیز تھی اور انھوں نے اپنے گھر کو طاق نسیاں پر رکھ کر قفل لگادیا تھا۔ مرزا کے پاؤں میں چکرّ تھا وہ کسی جگہ بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ جب چلتے چلتے پاؤں میں چھالے پڑجاتے تو اس وقت انھیں جھاڑ جھنکاڑ کی تلاش ہوتی تھی۔ کانٹوں کو دیکھ کر آپ کا دل مسرت و شادمانی کے جھولے میں جھولنے لگتا تھا۔ کہتے ہیں، 

    ان آبلوں سے پاؤں کے گھبرا گیا تھا میں
    جی خوش ہوا ہے راہ کو پرخار دیکھ کر

    مرزا بڑے سادہ لوح اور صاف دل انسان تھے۔ اکثر ایسی حرکتیں کر بیٹھتے جن کانتیجہ ان کے حق میں بہت برا ہوتا تھا۔ چنانچہ ایک دن محبوب کی گلی میں بیٹھے بیٹھے کسی ذرا سی غلطی پر پاسبان سے اپنی چند یا گنجی کرالی، اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے، 

    گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے
    اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے

    ایک مرتبہ خود محبوب کے ہاتھوں سے بھی پٹے مگر چوں کہ قصور اپنا تھا اس لیے نہایت ایمانداری سے اعتراف بھی کرلیا کہ، 

    دھول دھپّا اس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
    ہم ہی کر بیٹھے تھے غالب پیش دستی ایک دن

    اس سادہ لوحی کی بدولت ایک دن محبوب کی حد سے زیادہ تعریف کرکے ایک رازدار کو رقیب بنالیا، ثبوت ملاحظہ ہو، 

    ذکر اس پری وش کا اور پھر بیان اپنا
    بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا

    لیکن دیوانہ بکار خویش ہشیار کبھی کبھی رقیب کو جل بھی دے جاتے، 

    تاکرے نہ غمازی کرلیا ہے دشمن کو
    دوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا

    مرزا نجوم اور جوتش کے نہ صرف قائل تھے بلکہ محبت کے معاملوں میں بھی جوتشیوں سے پوچھ گچھ کرتے رہتے تھے، اسی لیے کہا ہے، 

    دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

    غالب کا دل عام لوگوں کی طرح خون کاقطرہ یا گوشت کا لوتھڑا نہ تھا بلکہ آفت کا ایک بڑا سا ٹکڑا تھا۔ اس میں کئی جگہ ٹیڑھ میڑھ تھے اور وہ ہروقت شوروغل مچائے رکھتا تھا۔ مرزا بھی اس کی آوارگی کے ہمیشہ شاکی رہتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے، 

    میں اور اک آفت کا ٹکڑا وہ دل وحشی کہ ہے
    عافیت کا دشمن اور آوارگی کا آشنا

    مرزا کبھی کبھی اپنے اس دل سے کام بھی لے لیا کرتے تھے۔ مثلاً ایک دفعہ محبوب کی تمنا کہیں آپ کے ہتھے چڑھ گئی آپ نے جی بھر کے انتقام لیے اور دل کے شور و غل کے ذریعے اس بے چاری کے کانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ رات دن دل میں چکر کاٹتی مگر باہر نکلنے کا راستہ نہیں ملتا۔ آخر ایک دن خود اس پر ترس کھاکر محبوب سے درخواست کی ہے، 

    ہے دل شوریدۂ غالب طلسم پیچ و تاب
    رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے

    لیکن خدا کے فضل و کرم سے مرزا کو جلد ہی اس سے رہائی مل گئی۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے سوز نہاں کادورہ ہوا اور سارے کا سارا دل بے محا باجل گیا۔ اس حادثۂ فاجعہ کا ذکر مرزا نےیوں کیا ہے، 

    دل مرا سوز نہاسے بے محابا جل گیا
    آتش خاموش کی مانند گویا جل گیا

    بدقسمتی سے مرزا کے ناخن بہت جلد جلد بڑھتے تھے۔ چنانچہ دل کا زخم ابھی بھرنے بھی نہ پاتا تھاکہ ناخنوں کے کھرپے پھر تیز ہوجایا کرتے تھے، فرماتے ہیں، 

    دوست غم خواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا
    زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ آئیں گے کیا

    غالب کا زمانہ: غالب کے زمانے میں دلی میں غم الفت کاقحط پڑگیا تھا، فرماتے ہیں، 

    ہے اب اس معمورہ میں قحط غم الفت اسد
    ہم نے یہ مانا کہ دلیّ میں رہیں کھائیں گے کیا

    افسوس کے سارے دیوان میں یہ کہیں وضاحت نہیں کی گئی کہ غمِ الفت بادشاہ کے توشہ خانہ میں موجود تھا یا وہاں بھی جھاڑو پھر گئی تھی۔ نیز یہ کہ راشن کی دکانوں پر کس بھاؤ بکتاتھا۔ البتہ یہ صاف ظاہر ہے کہ مرزا کی خوراک غمِ الفت تھی یا کم از کم غمِ الفت ان کی خوراک کاجزوِ اعظم تھا۔ 

    لیکن اس قحط سالی میں بعض چیزوں کی ارزانی بھی تھی۔ مثلاً دل اور جان بازار میں بکاکرتے تھے اور ہر شخص جب اور جتنے چاہے خریدسکتا تھا۔ مرزا کو اعتراف ہے، 

    تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
    لے آئیں گے بازار سےجاکر دل و جاں اور

    غالب کے زمانے میں پورے سات آسمان تھے۔ آج کل نو آسمان بتائے  جاتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ باقی دو آسمان ۱۸۵۷ء کے بعد انگریزی عہد میں ولایت سے بن کر آئے۔ مرزا کے زمانے کے ساتوں آسمان ایک لحظہ بھی سکون و قیام کی لذت سے آشنا نہ ہوتے بلکہ رات دن گھومتے رہتے تھے۔ مرزا لکھتے ہیں،

    رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
    ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

    اس زمانے کی ایک عجیب و غریب خصوصیت یہ تھی کہ کسی کو محبوب کا منہ معلوم نہ ہوسکے تو اس کی ہیچمدانی  کھل جاتی تھی۔ ایک مرتبہ مرزا پر بھی یہ کیفیت گزر گئی۔ اعتراف فرماتے ہیں، 

    دہن اس کا جو نہ معلوم ہوا
    کھل گئی ہیچمدانی میری

    مرزاغالب خوبصورت مجنوں کے مقابلے میں تو تھے جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہےمگر کچھ زیادہ خوبصورت نہ تھے، یعنی قضا و قد ر کی طرف سے انھیں حسن کا کوئی وافر حصہ نہیں ملا تھا۔ اس کا احساس خود انھیں بھی تھا۔ اپنی صورت اور  حسینوں کی چاہت کےبارے میں فرماتے ہیں، 

    چاہتے ہیں خوبرو یوں کو اسد
    آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے

    لیکن کسی مصلحت کے تحت ایک عدد محبوب کے عاشق بن بیٹھے تھے۔ 
    مرزا کا محبوب بین الاقوامی شہرت کامالک تھا۔ اس کا نام سارے جہان کو معلوم تھا لیکن کسی ملک کسی شہر اور کسی تھانے میں کوئی شخص اس کا نام ستمگر کہے بغیر نہ لیتا تھا، 

    کام اس سے آپڑا ہے کہ جس کا جہان میں
    لیوے نہ کوئی نام ستمگر کہے بغیر

    اس محبوب کے عادات و خصائل بھی عجیب تھے۔ مثلاً گالیاں بہت دیتا تھا۔ مرزاپوچھتے ہیں، 

    واں گیا میں بھی تو ان کی گالیوں کاکیا جواب
    یاد تھیں جتنی دعائیں صرف درباں ہوگئیں

    اسی طرح اگر مرزا کبھی شکوہ شکایت کریں تو وہ فوراً اٹھ کر بھاگتا اور بلی ماران سے باڑہ ہندو راؤ تک مرزا کے جتنےرقیب ہوتے ان سب کو جمع کرلیتا۔ مرزا جھنجھلا کر کہتے ہیں، 

    جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو
    اک تماشا ہوا گلہ نہ ہوا

    جب کبھی وہ رقیب کی بغل میں سوتا تو مرزا کے خواب میں آکر پنہاں تبسم کیا کرتا، اسی لیے کہا ہے، 

    بغل میں غیر کی آپ سوئے ہیں کہیں ورنہ
    سبب کیا خواب میں آکر تبسم ہائے پنہاں کا

    یہ معشوق تخت کرسی مونڈھے یا چارپائی پر بیٹھنا پسند نہ کرتاتھا۔ ہمیشہ بوریے پر بیٹھتا اور اگر بوریا نہ ملے تو کھڑے کھڑے چل دیتا، مرزا رو رہے ہیں کہ

    ہے خبر گرم ان کے آنے کی
    آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

    یوں بھی وہ اچھا خاصا احمق تھا، عشق و محبت کے سیدھے سادے معاملات بھی نہ سمجھ سکتا تھا۔ مرزا شاکی ہیں کہ

    ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
    وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

    آخر میں وہ بے طلب بو سے بھی دینے لگا تھا، مرزا کی بدگمانی بھری شہادت حاضر ہے، 

    صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو
    دینے لگا ہے بو سے بغیر التجا کیے

    معشوق کی صحبت اچھی نہ تھی اکثر رعشہ وغیرہ کا شاکی رہتا تھا۔ ایک دن بڑی منتوں کے بعد مرزا کے قتل پر راضی ہوا۔ نوکِ شمشیر سے دوچار کچوکے دینے کے بعد کاری زخم لگانے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ فالج گرا اور بھلاچنگا ہاتھ پیر تسمہ پاکی ٹانگ بن کر لٹکنے لگا۔ مرزا کی رنج و غم کے مارے چیخ نکل گئی، 

    ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہا
    دل پہ اک لگنے نہ پایا زخم کاری ہائے ہائے

    لیکن کچھ عرصے کے بعد فالج کااثر ختم ہوگیا اور ہاتھ پہلے کی طرح کام کرنے لگا۔ 

    اس کے مذہب کے متعلق صرف یہ پتہ چلا ہے کہ غیرمسلم تھا، جبھی تو کہا ہےکہ

    دل دیا جان کے کیوں اس کو وفا دار اسد
    غلطی کی کہ جو کافر کو مسلماں سمجھا

    بین الاقوامی شہرت کے باوجود شروع شروع میں اس کا گھرگھاٹ کہیں نہیں تھا بلکہ ایک خیمہ میں زندگی کے دن کاٹ رہاتھا۔ مرزا فرماتے ہیں، 

    کہاں تک روؤں اس کے خیمے کے پیچھے قیامت ہے
    مری قسمت میں یارب کیا نہ تھا دیوار پتھر کی

    لیکن بعد میں اسے کوئی مکان الاٹ کردیا گیا تھا جس میں سنگ درودیوار تھے اور ایک پاسبان بھی۔ 

    مرزا کی بڑی خواہش تھی کہ آپ کو بھی محبوب کے دروازے پر تھوڑی بہت جگہ مل جائے۔ چنانچہ ایک دن باتوں ہی باتوں میں نہایت مایوسی کے عالم میں محبوب سےکہا، 

    دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
    خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

    محبوب نے کمالِ نوازش سے آپ کو دروازے پر رہنے کی اجازت دے دی لیکن اس کے بعد فوراً ہی جب کہ آپ اپنا بستر کھول رہے تھے صاف انکار کردیا اور اپنی زبان واپس لے لی۔ ہوسکتا ہے کہ مرزا نے کوئی چبھتی ہوئی شرارت کردی ہو۔ اس واقعہ کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے، 

    در پہ رہنے کو کہااور کہہ کے کیسا پھر گیا
    جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا

    لیکن مرزا ایسے نہ تھے کہ اٹھ جاتے۔ آپ دھرنا دے کر بیٹھ گئے اور تماشائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، 

    اس فتنہ خو کے در سے تو اٹھتے نہیں اسد
    اس میں ہمارے سر پر قیامت ہی کیوں نہ ہو

    اس پر محبوب نے ظلم و تشدد میں اضافہ کردیا اور نئے طریقوں سے درپے آزاد ہوگیا یہاں تک کہ آپ کی قوت برداشت نے جواب دے دیا۔ اپنا بستر لپیٹا اور محبوب کے راستے پر ڈیرا جما دیا۔ مگر وہاں بھی اس ظالم نے پیچھا نہ چھوڑا اور اٹھ جانے پرمصر ہوا۔ چونکہ معاملہ اب نازک صورت اختیار کرگیا تھا، لہٰذا آپ محلہ کی پنچایت کا طرف رجوع ہوئے اور بڑی انکساری کے ساتھ پوچھا، 

    دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
    بیٹھے ہیں رہگذر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں

    قرائن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنچایت نےنہایت ستم ظریفی سے کام لیا اور اس معاملے میں آپ کے محبوب کی طرفداری کی۔ اس طرح آپ کو وہاں سے بسترا گول کرتے ہی بنی۔ روتے دھوتے اٹھے اور سنگ دل محبوب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، 

    ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقام
    قدرت حق سے یہی حوریں اگر واں ہوگئیں

    اس کے بعد آپ گھر لوٹ آئے مگر گھر میں بھلا جی کب لگتا  اور اس پر طرہ یہ کہ ہمسایوں نے تنگ کرنا شروع کردیا۔ واقعہ دراصل یہ ہے کہ اکیلے آدمی کو کوئی شریف اپنے ہمسایہ میں بھی نہیں رہنے دیتا۔

    بڑی ٹوہ لگائی گئی مگر یہ پتہ نہ چل سکا کہ مرزا کا پری زاد بھی خلد میں حور بنا، یا نہ بنا؟

    چند متفرق واقعات: ایک مرتبہ مرزا نے اڑنے کی بھی کوشش کی لیکن ہوائی جہاز وغیرہ سے کام نہیں لیا کسی اور طریقے سے اڑے جس کا نسخہ اور ترکیب استعمال وغیرہ سینہ بہ سینہ ان تک پہنچ کر ان کے ساتھ ہی دفن ہوگئے۔ بہرحال اڑے تو سہی لیکن پھر زمین پر آرہے۔ کچھ عرصے کے بعد برے اعمال کی پاداش میں انھیں جانور بنادیا گیا۔ اس زمانہ میں آپ کو اپنا آبائی گھر بار چھوڑ کر لہلہاتے اشجار پر گھونسلہ بنانا پڑا۔ مگر شومیِ قسمت سے آپ کے گھونسلے کے قریب ہی صیاد نے جال بچھائی۔ مرزا گھونسلہ بناتے بناتے تھک گئے تھے اور کئی دن سے ایک کھیل بھی منہ میں اڑ کر نہیں گئی تھی۔ اس لیے بھوکے اور پیاسے نڈھال تو تھے ہی، دانے کو دیکھ کر جھٹ نیچے اترے اور اترنے کے ساتھ ہی گرفتار ہوئے اور پھڑپھڑاکر وہیں رہ گئے۔ پھر مضمحل سی آواز میں کہا، 

    پنہاں تھا دام سخت قریب آشیانے کے
    اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

    صیاد نے آپ کو پکڑا اور گھر لاکر پنجرہ میں قید کردیا۔ نہ معلوم کتنے عرصے تک وہاں اکیلے ہی گلتے سڑتے رہے کہ ایک دن صیاد ایک اور جانور پکڑ لایا اور مرزا کے ساتھ ہی قفس میں بند کردیا۔ معمولی علیک سلیک کے بعد آپ نے اس سے چمن کا حال احوال دریافت کیا۔ وہ بیچارہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور رندھی ہوئی آواز میں بہاروں کی داستان بیان کرنے لگا اور مرزا صاحب بڑے انہماک سے سنتے رہے۔ آخر وہ کہنے لگا کہ گلشن میں ایک آشینے پر بجلی۔ ۔ ۔ اس سے آگے وہ کچھ نہ بول سکا اور اس کے الفاظ ہچکیوں میں تبدیل ہوکر رہ گئے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو اس طرح جاری تھے جیسے ساون بھادوں کی جھڑی لگی ہوئی ہو۔ کافی زاروقطار رونے کے بعد جب اسے ذرا کچھ ہوش آیا تو مرزا نے اس سے کہانی جاری رکھنے کو فرمایا مگر وہ سہم گیا اور اپنی نظریں مرزا کے چہرے پر گاڑدیں۔ آپ سارا معاملہ سمجھ گئے اور اسے دلاسہ دیتے ہوئے بولے، 

    قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
    گری ہے جس پہ  کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

    مرزا کا ایک دربان بھی تھا۔ جب مرزا کا گھر ویران ہوگیا تو اس کے لیے کوئی کام نہ رہامگر تھا وفادار۔ مرزا کا ساتھ نہ چھوڑا اور گھر میں گھاس کھود کھود کر گزر اوقات کرتا رہا۔ مرزا فرماتے ہیں، 

    اگاہے گھر میں ہر سو سبزہ ویرانی تماشا کر
    مداراب کھود نے پر گھاس کے ہے میرے درباں کا

    غالب نے کئی مرتبہ بہشت کی بھی سیر کی۔ ایک مرتبہ وہاں سے واپس آئے تو محبوب سے کہنے لگے، 

    کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت
    یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں

    خواجہ خضر سے بھی مرزا کی اکثر ملاقاتیں ہوئیں۔ نصرت الملک کے قصیدے میں ارشاد ہوتا ہے، 

    تو سکندر ہے مرا فخر ہے ملنا تیرا
    گو شرف خضر کی بھی مجھ  کو ملاقات سے ہے

    لیکن دوسرے مصرعہ میں شرف کا لفظ محص دوستانہ مروت کے بارے میں کہا ہے ورنہ دراصل وہ خضر کو رہنمائی کے قابل نہ سمجھتے تھے۔ ثبوت حاضر ہے، 

    لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں
    مانا کہ اک بزرگ ہمیں ہمسفر ملے

    مرزا بزدل بھی بہت تھے۔ ایک مرتبہ سڑک پر راہزن کا سامنا ہوگیا تو اسے دیکھتے ہی دم دبا کر بھاگ نکلے۔ لیکن دوڑ دھوپ کے باوجود پکڑے گئے۔ اب ستم ظریف بٹ مار نے ڈانٹ کر کہا، ’’کمبخت ہمیں اس قدر دوڑایا ہے، لے اب ذرا پاؤں داب۔‘‘ اس واقعہ کو یوں نظم کیا ہے، 

    بھاگے تھے ہم بہت سو اسی کی سزا ہے یہ
    ہو کر اسیر دابتے ہیں راہزن کے پاؤں

    جب ان کی تھکاوٹ دور ہوگئی تو انھوں نے مرزا سے کہا کہ ہمیں اپنے گھر لے کر چل۔ مرزا نے ایسا ہی کیا۔ وہاں پہنچ کر ان لوگوں نے مرزا کا سارا اثاثہ اڑالیا اور چمپت ہوگئے۔ مرزا ان کے اس برتاؤ سے بہت خوش ہوئے اور چادر میں منہ لپیٹ کر سو رہے۔ صبح بستر سے اٹھتے ہی یہ شعر گنگنانے لگے، 

    نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتا
    رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو

    مرزا  اپنے رقیب کے دروازے پر ایک کم نہ ایک زیادہ پورے ہزارمرتبہ گئے۔ شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ محبوب بھی اتنی ہی بار وہاں گیا، 

    جانا پڑا رقیب کے در پرہزار بار
    اےکاش جانتا نہ تری رہگذر کو میں

    کچھ مدت مرزا کی عسرت نے یہ شدت اختیار کر رکھی تھی کہ بے چارے دلی کی گلیوں میں بالکل ننگ دھڑنگ پھرتے رہے۔ ایک دن اسی حالت میں بادشاہ بہادر شاہ کے دربار میں جاپہنچے اور بہادرشاہ ظفر سےشکوہ کیا، 

    آپ کا بندہ اور پھروں ننگا
    آپ کا نوکر اور کھاؤں  ادھار

    اس پر بادشاہ نے آپ کو ایک بڑا سا کرتا سلوادیا جس کا دامن اتنا بڑا تھا کہ اس کا ایک سر ادھونے میں ہی پورا دریا خشک ہوگیا۔ اس پر ارشاد ہوا، 

    دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک
    میرا سر دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

    اس زماےمیں دریائے جمنا کا نام دریائے معاصی تھا اور مرزا وہیں کپڑے دھونے جایا کرتے تھے۔ 

    دریائے گنگا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلے یہ سورگ لوک میں بہتا تھا اور سری رام چندر جی کے ایک بزرگ مہاراجہ بھاگیرتھ تپسّیا کے زور سے اسے زمین پر لائے تھے۔ اب دریائے جمنا کے ظہور کاحال مرزا سے سُن لیجیے۔ کہتے ہیں کہ میری وحشت کے لیے عرصہ آفاق بھی تنگ ہوگیا تو زمین کو بڑی شرم آئی حتی کہ اس کی پیشانی پر بڑے زور کاپسینہ آگیا، بس وہی دریا بن گیا، 

    وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا
    دریا زمین کو عرق انفعال ہے

    مرزا کامحبوب کہیں کعبہ کے گردونواح میں سکونت پذیر تھا۔ چنانچہ جب کبھی مرزا کو درِیار پر ڈانٹ ڈپٹ ہوئی تو وہ کعبے کی جانب چل دیتے، کہا ہے، 

    اپنا نہیں یہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیں
    اس درپہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہوآئے

    اس طرح آئے دن محبوب کے گھر اور کعبۃ اللہ جانے آنے سے ثابت ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں کعبہ دلّی سے بہت قریب تھا۔ بعد میں گرمی کی شدت سے زمین پھیل گئی تو دہلی اور مکے کا درمیانی فاصلہ بھی بڑھ گیا  یا پھر مرزا کو کوئی بہت ہی تیز رفتار سواری مل گئی ہوگئی۔ 

    مجنوں عمر میں تو مرزا سے چھوٹا تھا ہی مگر اس کا انتقال بھی مرزا کے سامنے ہی ہوا۔ مرزا مجنوں کے مرنے کے بعد کانقشہ اس طرح کھینچتے ہیں، 

    ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد
    مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے

    مرزا کی موت کامعاملہ ذرا پیچیدہ ہے مختلف لوگوں نے ان کے اشعار سے مختلف مطالب اخذ کیے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ آخر میں مرزا کے دوستوں نے انھیں مشورہ دیا کہ اب جینے سے کیا حاصل؟ بہتر یہی ہے کہ آپ مرجائیں اور اس دارالمحن کے جھمیلوں سے نجات پائیں، لیکن مرزا نے الٹا ان کو بیوقوف بنایا اور  فرمایا، 

    ناداں ہیں جو کہتے ہیں کہ کیوں جیتے ہو غالب
    قسمت میں ہے مرنےکی تمنا کوئی دن اور

    مگر نہ جانے ایک دن کیا سر میں سمائی کہ خودبخود اس کارِخیر کے لیے کمر بستہ ہوگئے اورباوجود مفلسی کے ایک تلوار اور کفن بھی خرید لیا۔ کفن کو سرپر باندھ لیا اور تلوار بغل میں لٹکائی اور دہلیز سے باہر قدم رکھتے ہوئے فرمانے لگے، 

    آج واں تیغ و کفن باندھے ہوئے جاتا ہوں میں
    عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لایئں گے کیا

    اس مجاہدانہ شان سے جب محبوب کی بارگاہ میں داخل ہوئے اور اپنی عرضداشت پیش کی تو وہ بہت برہم ہوا۔ پیچ و تاب کھاکر تالی بجائی، فوراً مسلح سپاہی حاضر ہوگئے، حکم ہوا نکال دو اسے۔ کہیں اور جاکر قسمت آزمائی کرے۔ کیونکہ ہم نے آج کل تلوار اٹھانا چھوڑا ہوا ہے۔ (شاید محرم کامہینہ ہوگا) مسلح سپاہی مرزا پر پل پڑے اور دھکے دے دے کر دربار بدر کریا۔ آپ محبوب کی طرف مخاطب ہوئے اور دونوں ہاتھ باندھ کر گڑگڑانے لگے، 

    ہم کہاں قسمت آزمانےجائیں
    تو ہی جب خنجر آزمانہ ہوا

    مگر وہ ایسا سنگ دل انسان واقع ہوا تھا کہ مرزا کی ایک نہ سنی۔ آپ کے لیے یہ کوئی کم صدمہ نہیں تھا۔ سوچاسارے شہرمیں دھوم مچی ہوئی ہے کہ مرزا غالب آج محبوب  کے ہاتھوں قتل ہونے کو گئے ہیں۔ واپس جاکر انھیں کیا منہ دکھاؤں گا۔ چنانچہ محبوب کی محل سرا کی دیواروں کےساتھ (جہاں آپ پہلے بھی اکثر آبیٹھتے تھے) ٹکریں مارنا شروع کردیں اور اسی طرح اپنی جان شیریں جاں آفریں کے سپرد کردی۔ 

    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ واقعہ غلط ہے کیونکہ مرزا بیچارے کی موت تو غریب الوطنی کی حالت میں ہوئی تھی۔ انھوں نے خود کہا ہے،

    مارا دیارِ غیر میں مجھ کو وطن سے  دور
    رکھ لی مرے خدا نے مری بیکسی کی شرم

    مرضِ موت کے بارے میں خیال ہے کہ آخر عمر میں وحشت کے دورے پڑنےلگے تھے اور اسی حالت میں ایک دن سر پھوڑ پھوڑ کر مرگئے، مرتے ہی یہ ارشاد ہوا، 

    مرگیا پھوڑ کےسر غالب وحشی ہے ہے
    بیٹھنا آکے وہ اس کا تری دیوار کے پاس

    مرزا کی روح کے پرواز کرنےسے پہلے ہی ان کے رقیبوں نے جاکر معشوق سے کہہ دیا کہ مرزا جاں کنی کے عالم میں ہیں۔ اس کو جب یہ حال معلوم ہوا تو مروّت نے جوش مارا اور وہ دوڑا ہوامرزا کے پاس آیا۔ لیکن اس غریب میں ایک نظر دیکھنےکی سکت بھی باقی نہیں رہی تھی۔ چنانچہ یہ شعر پڑھا اور ہمیشہ کی نیند سوگئے، 

    مند گئیں کھولتے ہی کھولتے آنکھیں غالب
    خوب وقت آئے تم اس عاشق بیمار کے پاس

    انا للہ وانا الیہ  راجعون

    یہ خبر آگ کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔ لوگ بازاروں اور گلیوں میں ایک دوسرے سےکہتے جارہے تھے، 

    اسد اللہ خاں تمام ہوا
    اے دریغا وہ رند شاہد باز

    یہ ’’رند شاہد باز‘‘ ہونے ہی کی وجہ تھی کہ نعش کئی گھنٹے تک بےگور و کفن پڑی رہی۔ کسی نے تجہیز و تکفین کا انتظام نہ کیا۔ آخر آپ کے محبوب کو ترس آگیا اور وہ پوری تمکنت سے اٹھا اور نعش کے پاس کھڑے ہوکر کہا، 

    یہ نعش بے کفن اسدخستہ جاں کی ہے
     حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

    کفن دفن کا انتظام کرکے جب مرزا کو کفنایا گیا تو آپ جھٹ بول اٹھے،

    ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی
    میں ورنہ ہر لباس میں ننگ وجود تھا

    محبوب نےاپنی گلی کے عین درمیان آپ کی قبر کھدوانا شروع کردی لیکن آپ بھی کوئی کچی گولیاں کھیلے ہوئے نہیں تھے۔ جھٹ بآواز بلند اس نامعقول حرکت پر پرزور احتجاج کرتے ہوئے فرمانے لگے، 

    اپنی گلی میں دفن نہ کر مجھ کو ’’بعد مرگ‘‘
    میرے پتے سےخلق کو کیوں تیرا گھر ملے

    محبوب بہت سٹپٹایا اور اسے خدا جھوٹ نہ بلوائے مرزا پر غصہ آگیا۔ کہنے لگاعجیب قسم کا آدمی ہے۔ زندگی میں بھی آرام کا سانس نہیں لینے دیاا ور اب مرنے پر بھی اس کے وہی طور اطوار ہیں۔ لیکن چونکہ مرزا صاحب مرنےکے بعد وصیت فرماگئے تھے اس لیے ان کی بات کو رد کرنا مناسب نہ سمجھا اور قبرستان میں لے جاکر دفنا دیا۔ 

    مرزا کے بعد شہر والوں کی عجیب حالت تھی۔ وہ آٹھ آٹھ آنسو روتے تھے اور سردیواروں سے پٹختے تھے، ہائے ہائے کی صداؤں سےکانوں کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ مگر یکایک ان میں کچھ ایسی تبدیلی ہوئی کہ وہ سب کےسبب کہنے لگے، 

    غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
     روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں

    مگر خدا لگتی  تو یہ ہے کہ مرزا غالب کو یہ لوگ ہزاروں کوشش کے بعد بھی نہ بھول سکے اور آپ کی ہنسنےہنسانے والی باتیں انھیں اکثر یاد آتیں، اس وقت وہ بول اٹھے، 

    ہوئی مدّت کہ غالب مرگیا پریاد آتا ہے
    وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

    مرزا نے مرنے کے بعد بھی بہت سے شعر کہے اور کسی نہ کسی طرح اپنے شاگردوں کو پہنچاتے رہے جو انھوں نے دیوان میں شامل کرلیے۔

    ’’حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعد‘‘

    یہ ساری غزل مرنے کے بعد لکھی گئی، اس سے قبل کے دو شعر اور حاضر ہیں، 

    اللہ رے ذوق دشت نوردی کہ بعد مرگ
    ہلتے ہیں خودبخود مرے اندر کفن کے پاؤں
    آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
    مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ

    مرزاغالب کے کلام پر سیکڑوں بلکہ ہزاروں تبصرے ہوچکے ہیں۔ مگر یہ بات آج تک کسی کےذہن میں نہیں آئی کہ مرزا کے کلام میں گرمی بہت ہے اور یہ گرمی آپ اس لیے پیدا کرتے تھے کہ جو شخص آپ کے شعر پرانگلی رکھے فوراً شعر کی حدّت سے انگلی جل جائے اور دوبارہ اسے جرأت نہ ہوسکے۔ چنانچہ خود ارشاد فرمایا ہے، 

    لکھتاہوں اسد سوزشِ دل سےسخنِ گرم
    تا رکھ نہ سکے کوئی مرے حرف پہ انگشت

    آپ کے کلام کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہےکہ اس میں مزا بہت ہے اور یہ مزا اس لیے پیدا ہوگیا تھا کہ آپ ایک ’’خسر و شیریں سخن‘‘ نامی شخص کے پاؤں کی میل دھو دھو کر پیاکرتے تھے جس کاانھیں خود اعتراف ہے۔ فرماتےہیں، 

    غالب مرے کلام میں کیونکر مزا نہ ہو؟
    پیتا ہوں دھو کے خسر وشیریں سخن کے پاؤں

              

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے