انور دہلوی کے 10 منتخب شعر

مابعد کلاسکی شاعر،ذوق اور غالب کے شاگرد،اپنے ضرب المثل اشعار کے لیے مشہور

نہ میں سمجھا نہ آپ آئے کہیں سے

پسینہ پوچھیے اپنی جبیں سے

انور دہلوی

مٹی خراب ہے ترے کوچے میں ورنہ ہم

اب تک تو جس زمیں پہ رہے آسماں رہے

انور دہلوی

وہ جو گردن جھکائے بیٹھے ہیں

حشر کیا کیا اٹھائے بیٹھے ہیں

انور دہلوی

کچھ خبر ہوتی تو میں اپنی خبر کیوں رکھتا

یہ بھی اک بے خبری تھی کہ خبردار رہا

انور دہلوی

حشر کو مانتا ہوں بے دیکھے

ہائے ہنگامہ اس کی محفل کا

انور دہلوی

ہر شے کو انتہا ہے یقیں ہے کہ وصل ہو

عرصہ بہت کھنچا ہے مری انتظار کا

انور دہلوی

نظر آئے کیا مجھ سے فانی کی صورت

کہ پنہاں ہوں درد نہانی کی صورت

انور دہلوی

اللہ رے فرط شوق اسیری کی شوق میں

پہروں اٹھا اٹھا کے سلاسل کو دیکھنا

انور دہلوی

کیسی حیا کہاں کی وفا پاس خلق کیا

ہاں یہ سہی کہ آپ کو آنا یہاں نہ تھا

انور دہلوی

انورؔ نے بدلے جان کے لی جنس درد دل

اور اس پہ ناز یہ کہ یہ سودا گراں نہ تھا

انور دہلوی