اطہر نفیس کے 10 منتخب شعر

نئی غزل کے ممتاز پاکستانی شاعر۔ اپنی غزل ’وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا۔۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور جسے کئی گلوکاروں نے آواز دی ہے

دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے

اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ہو

اطہر نفیس

ہمارے عشق میں رسوا ہوئے تم

مگر ہم تو تماشا ہو گئے ہیں

اطہر نفیس

اے مجھ کو فریب دینے والے

میں تجھ پہ یقین کر چکا ہوں

اطہر نفیس

بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن

جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ہے

اطہر نفیس

یہ دھوپ تو ہر رخ سے پریشاں کرے گی

کیوں ڈھونڈ رہے ہو کسی دیوار کا سایہ

اطہر نفیس

اک شکل ہمیں پھر بھائی ہے اک صورت دل میں سمائی ہے

ہم آج بہت سرشار سہی پر اگلا موڑ جدائی ہے

اطہر نفیس

لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں

میں اپنے وجود کی سزا ہوں

اطہر نفیس

اطہرؔ تم نے عشق کیا کچھ تم بھی کہو کیا حال ہوا

کوئی نیا احساس ملا یا سب جیسا احوال ہوا

اطہر نفیس

با وفا تھا تو مجھے پوچھنے والے بھی نہ تھے

بے وفا ہوں تو ہوا نام بھی گھر گھر میرا

اطہر نفیس

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا

کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

اطہر نفیس